نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

    [size=x-large]محترم عرفان صدیقی

    مولانا غازی احمد صاحب پہلے ہندو تھے، پھر مسلمان ہوئے ، دارالعلوم دیوبند سے بھی انہوں نے کسب فیض کیا، انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کی داستان”من الظلمات الی النور“ کے نام سے لکھی ہے جو بڑی ایمان افروز ہے اور دنیا کی کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ہے ، عربی زبان میں اس کا ترجمہ”رجل ھندوسي اعتنق الاسلام“ کے نام سے مصر سے چھپا ہے۔ مولانا غازی احمد صاحب نے ہدایہ کا اردو زبان میں مطلب خیز ترجمہ کیا ہے، جو متداول ہے ، مولانا کا اس سال رمضان کے آخری عشرے میں انتقال ہوا، ان پرلکھا گیا عرفان صدیقی کا کالم نذر قارئین ہے۔ (مدیر)

    ہر ذی نفس کو ایک نہ ایک دن اپنے الله کی طرف پلٹ کے جانا ہے۔ وہ بھی چلا گیا، لیکن کیا بخت لے کر آیا تھا کہ ایک عالم رشک کرتا رہے گا!

    راولپنڈی سے سرگودھا جاتے ہوئے چکوال سے کوئی چالیس کلو میٹر دور سطح مرتفع کا وہ علاقہ ہے، جسے ” علاقہ ونہار“ کہا جاتا ہے ۔ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے جب اس سر سبز وشاداب علاقے پر نگاہ ڈالی تو اس کے منھ سے نکلا۔ ” ونہاربچہ کشمیراست“ ونہار کا یہ تمغہ امتیاز آج بھی تزک بابری کا حصہ ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل اس علاقے میں خاصے، ہندوآباد تھے، جو معاشی طور پر مسلمانوں سے کہیں زیادہ آسودہ حال تھے۔ ستائیس دیہات پر مشتمل اس علاقے کا بڑا قصبہ بوچھال کلاں تھا۔ بوچھا ل کلاں کے شما ل میں تین چار کلو میٹر دو رایک چھوٹا سا گاؤں ہے ” میانی“۔ او رکہانی اسی میانی کے ایک خوش بخت شخص کی ہے۔

    میانی میں مسلمان غالب اکثریت میں تھے ۔ ہندوؤں کی آبادی صرف ایک چوتھائی تھی لیکن گاؤں کی ساری دکانیں انہیں کی تھی اور مسلمان سود درسود قرضوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ لالہ جوالاسہائے کا شمار میانی کے انتہائی با اثر ہندو شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان کے تین بیٹوں میں سے ایک کا نام لالہ بھیم سین تھا ،جو کشمیر میں لکڑی سپلائی کرنے والی ایک بڑی کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔ ان کا گھر میانی کا نہایت ہی خوش حال گھر تھا۔ لالہ بھیم سین کے ہاں یکے بعد دیگرے چار بچے پیدا ہوئے، جو نوعمری ہی میں فوت ہو گئے۔ بڑی منتوں کے بعد جون1924ء میں ان کے ہاں ایک بیٹے نے جنم لیا۔ ایک پنڈت کی ہدایت پر بچے کا نام ”کرشن لعل“ رکھا گیا۔

    کرشن لعل میانی کے اسکول میں دو جماعتیں پڑھنے کے بعدمڈل اسکول بوچھال کلاں میں داخل ہو گیا۔ بیس بائیس طلبا میں ہندو بچوں کی تعداد صرف چار تھی ۔ کرشن لعل کا تعلق کٹر مذہبی گھرانے سے تھا۔ مسلمان بچوں سے بات چلتی تو وہ کم ہی مات کھاتا، لیکن اس کے دل کے اندر نامعلوم سی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھا کہ ایک مسلمان دوست نے اسے مولانا عبیدالله مالیر کوٹلوی کی کتاب ”تحفة الہند“ پڑھنے کو دی ۔ کتاب پڑھ کر اندر کی ٹوٹ پھوٹ زلزلے میں بدل گئی اور کرشن لعل خوف زدہ سا ہو کر ہندودھرم کی آغوش میں سمٹ گیا۔ ماں باپ حیران اور خوش ہوئے کہ بیٹا اتنی شدت کے ساتھ مذہبی ہو گیا ہے۔ لیکن اندر کا جوار بھاٹاختم نہ ہوا۔ مسلمان بچوں سے اس نے شب برات کا ذکر سنا تو رات بھر جاگ کر روشنی اور درختوں کے سربسجود ہونے کا انتظار کرتا رہا ۔ اگلے دن اس نے شب بیداری کی روداد اپنے ساتھی ریشم خان کو سنائی ۔ جب کرشن لعل کا تجسس بڑھنے لگا تو ایک دن ریشم خان اسے ایک نیک اور بزرگ شخصیت مولانا عبدالرؤف کے پاس لے گیا۔ مولانا نے کرشن لعل سے کچھ باتیں کیں او رکہا ۔ ” میں تمہیں اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہوں گا، البتہ یہ دعا مانگتے رہو کہ اے اس عالم کے پروردگار! مجھے سیدھا راستہ دکھا دے ۔“

    یہ دعا کرشن لعل کا وظیفہ بن گئی ۔ اور یہ فروری1938ء کی ایک سرد رات تھی، جب کرشن لعل کے لیے خوش بختی کا نورانی دریچہ آپ ہی آپ وا ہو گیا۔ وہ معمول کی دعامانگ کر سو گیا۔ پھر اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے دوست لال خان کے ساتھ حج کو جارہا ہے ۔ اچانک ایک ہندوسادھو راستے میں ملا، جو دونوں لڑکوں کو بھٹکا کر سانپوں، بچھوؤں اور درندوں سے بھرے جنگل کی طرف لے گیا۔ خواب ہی میں دونوں بھاگتے ہوئے گاؤں پہنچے۔ لال خان گھر چلا گیا۔ کرشن لعل گھر میں داخل ہو رہا تھا۔ ایک اور دوست محمد صادق اسے مل گیا۔ محمد صادق نے بتایا کہ وہ حج کرنے جارہا ہے۔ کرشن لعل بولا: ”ارادہ تو میرا بھی ہے، لیکن صبح روشنی ہو گی تو چلوں گا“۔ محمد صادق کے حوصلہ دینے پر وہ بھی چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ حرم کعبہ میں داخل ہو گئے ۔ حرم کے چار سو ایک ریتیلا میدان تھا۔ دونوں بچوں نے دیکھا کہ لاتعداد صحابہ کرام اجلا، شفاف لباس پہنے ادب سے بیٹھے ہیں ۔ خانہ کعبہ کی دیوار سے پشت لگائے سرور کونین حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ دونوں چلتے چلتے حضور صلی الله علیہ وسلم کے قریب جا پہنچے۔ محمد صادق نے ہاتھ بڑھایا، حضور صلی الله علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے مصافحہ کیا۔ کرشن لعل ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا تو سر کار صلی الله علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے ۔ آپ نے کرشن لعل کو گلے لگا لیا او راپنے پاس بٹھاتے ہوئے بولے۔ ” کیسے آئے ہو ؟ “ کرشن لعل بولا۔ ”مسلمان ہونے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔“ حضور صلی الله علیہ وسلم نے کرشن لعل کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھا م لیا۔ کچھ دیر تک آپ صلی الله علیہ وسلم پڑھتے رہے اور پھر فرمایا۔ ” جاؤ! اب تم مسلمان ہو ۔“ کچھ ہی دنوں بعد اسے ایک بار پھر خواب میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ، جب آپ صلی الله علیہ وسلم کرشن لعل کی مدد کو آئے۔

    دوسرے خواب کے فوراً بعد کرشن لعل مولانا عبدالرؤف کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد کی کہانی آلام ومصائب اورمشکلات کی ایسی داستان ہے جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ با اثر ہندو خاندان نے ہر حربہ استعمال کیا، لیکن کرشن لعل اب ”غازی احمد “ بن چکا تھا۔ اسے یہ شرف حاصل ہوا تھا کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر اس سے بیعت لی تھی۔ نو عمر غازی احمد ایک فولادی چٹان کی طرح ڈٹ گیا۔ اس نے دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دنیوی تعلیم سے آراستہ ہوا۔ دارالعلوم دیوبند سے کسب فیض کیا۔ عربی زبان میں ایم اے کیا۔ گورنمنٹ کالج بوچھال کلاں میں پروفیسر ہوئے۔ حج وعمرے کی سعادت حاصل کی۔ علاقے کی مختلف مساجد میں خطیب رہے۔ قرآن وحدیث کے درس میں ایک عرصہ گزارا۔ مئی1982ء میں گورنمنٹ کالج بوچھال کلاں کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہو گئے۔ اس رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ جاری تھا کہ 25 اگست کو مجھے اپنے سیل فون پر ڈاکٹر طاہر جمیل کا ایک مختصر سا پیغام ملا۔ ” آج صبح سات بج کر پچاس منٹ پر میرے والد گرامی غازی احمد انتقال فرماگئے۔ ان کی نمازجنازہ آج شام ڈھائی بجے میانی میں میری رہائش گاہ پر ادا کی جائے گی۔“

    الله اس مردورویش کے درجات بلند فرمائے۔ مجھے غازی احمد مرحوم سے ملاقات کا شرف حاصل ہے۔ کیا عشق رسول صلی الله علیہ وسلم میں گندھا شخص تھا! سائیکل پر گھر سے کالج پڑھانے جاتے، جس مقام پر حضور رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تھا، عمر بھر وہاں سائیکل سے اتر کر پیدل چلتے اور درود پڑھتے ہوئے گزرتے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ بخت آوری کا وہ نورانی دریچہ کیوں کر کھلتا ہے، جو کسی کرشن لال کو غازی احمد بنا دیتا ہے!
    شائع ہواالفاروق, صفر المظفر ۱۴۳۲ھ, Volume 27, No. 2
    [/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,871
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

    نائس شیئرنگ، اچھا لگا....تھینکس

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

    کیا عشق رسول صلی الله علیہ وسلم میں گندھا شخص تھا! سائیکل پر گھر سے کالج پڑھانے جاتے، جس مقام پر حضور رسالت مآب صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تھا، عمر بھر وہاں سائیکل سے اتر کر پیدل چلتے اور درود پڑھتے ہوئے گزرتے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ بخت آوری کا وہ نورانی دریچہ کیوں کر کھلتا ہے، جو کسی کرشن لال کو غازی احمد بنا دیتا ہے!
    اللہ اکبر ، یہ سعادت خؤش قسمت کو ہی نصیب ہو سکتی ہے ،
    یا رب العالمین ، ہم پر بھی اپنی رحمت فرما ، آمین

  4. #4
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    4
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

    السلام علیکم
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
    یہ بڑے نصیب کی بات ہے
    بلا شک انسان جیسا گمان رکھتا ہے
    اللہ تعالی ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے
    جزاک اللہ خیراء سرحدی جی

  5. #5
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: جب نورانی دریچہ کھلتا ہے

    اچھا لگا....تھینکس

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University