نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: سوچ میں انقلاب ؟

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    13
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    سوچ میں انقلاب ؟

    [align=center][size=xx-large]سوچ میں انقلاب ؟[/size]
    [/align]

    [align=justify][size=large]کچھ سال پہلے ٹی وی پر عراق وار کا پرانا پروگرام دکھا رھے تھےـ جس مین پہلا منظر تھا صدام حسین کے حامی تالیاں پیٹ پیٹ کر سپر پاور کو للکار رھے تھے جوتے دکھا رھے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے ہاتھوں کی زنجیر بنا کے اسکو اپنی مضبوطی کا اتحاد کا پیغام دے رہے تھے ـ لوگ پُرجوش تھے عرصہ دراز سے اقتصادی پابندیوں کی زد میں یہ ملک دوائیوں سے محروم غذائی اجناس کی شدید قلت کا شکار بیروز گاری میں مبتلا لیکن چمکتے دمکتے پُرجوش چہروں سے ٹپکتے سرخ سرخ جزبات ایسے طوفانی اور منہ زور نظر آ رھے تھے جیسے ان کے سامنے جو بھی آیا وہ خاک و خون میں نہلا دیا جائے گا ـ مجھے ذہنی کوفت سی ہوئی کیونکہ عراق کی بد تر صورتحال کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں تھی ـ بچوں کی طرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی طرف سے بار بار نمایاں طور پے بتائےجا رھے تھے ـ یہ لوگ پاگل ہیں؟ یہ پہلی سوچ تھی جو میرے زہن میں انکو دیکھ کے ابھری گھر میں کھانے کو ہے کچھ نہیں اور یہ چیلنج کر رہے ہیں سپر پاِور کو کہ آؤ تو دیکھو تمہیں کیا مزا چکھاتے ہیں ـ
    احمق لوگ بے وقوف ہاتھ میں کچھ ہے نہی پیروں تلے بنیاد ہے نہیں نہ ہی کوئی مضبوطی اور بڑکیں ایسے مار رہے جیسے واقعی کتنے بڑے طرم خاں ہیں ـ انکی ذہنی پسماندگی اور کھوکھلے جزباتی نعرے مجھے مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہے تھے کیا یہ احمق لوگ نہی جانتے کہ امریکہ کا کیا بلند قد وققامت ہےاسکے جدید ترین اسلحے کے انبار ہیں اور وہ انہیں ایک چٹکی میں تہس نہس کر سکتا ہے ـ یہ کیوں نہی سوچ رھے ان معصوم بچوں کا جو آگ میں جھلسیں گے اور گولوں کی خوراک بنیں گے ـ
    سامنے ہی میرے بچے کھیل رہے تھے پُرسکون صاف ستھرے اجلے لباس میں ملبوس ایک لمحہ کو انکو میں نے عراق میں تصور کیا تو خود ہی جھرجھری سی آگئی اور اس خیال کو ہی جھٹک دیا ـ
    پھر جنگ شروع ہو جاتی ہے تباہی ہر طرف کیا شہر کیا قصبہ الامان الحفیظ کہیں جائے اماں نہیں تھی کسی بشر کو ـ نوادارات کی تاریخی چوریوں میں ملوث بڑے بڑے نامی گرامی اخباروں کے مالکان سر عام عجائب گھروں سے نوادارات کو لوٹتے ہوئے دکھائے گئے اور ڈھٹائی سے بے شرمی سے انکو اپنے ممالک میں ان سب نے چوری بھجوائےیہ مناظر ان کے اپنے ہی معروف ٹی وی چینل نے دکھائے ـ
    پھر شیطانیت کا ابلیسی رقص شروع ہوتاہے عراق کے پاس انتہائی خطرناک نیو کلئر ہتھیار موجود ہیں یہ الزام لگانے کے بعد اس خوبصورت ملک کو جس بری طرح سے ادھیڑا گیا ہے وہ تاریخ کی بد ترین داستان ہے ـ
    جنگ مظالم کے ساتھ بربریت کے ساتھ سفاکی مثالیں رقم کرتی ہوئی جاری رہتی ہے اور پھر ایک اور فلم دکھائی جاتی ہے ـ

    جس میں ایک ایک منظر ایسا تھا کہ ہر غیرت مند دل اور ہر حیا والی آنکھ امت مسلمہ کے ساتھ ہونے والے دردناک مناظر کو دیکھ کر ایک بار تو ضرور بھر آئی ہو گی ـ
    کہیں سپاہیوں کو ہتھیار ڈالتے ہوئے دکھایا گیا اور انکی جیب کی تلاشی کے دوران کیا نکلتا ہے چند ریوڑیاں ؟
    کہیں لاشوں کے انبار کو کوڑا کرکٹ کی طرح بڑے بڑے ٹرکوں میں اس بے حرمتی سے کوڑے کرکٹ کی طرح پھینکا جا رہا تھا نہ خواتین کا احترام تھا کہ انکی لاشوں کی یوں کھلے عام بے حرمتی نہ کی جاۓ ـ کم سے کم انکو الگ ٹرک میں رکھوا دیا جائے ـ لیکن مادی سوچ کے حامل یہ لوگ نسوانیت کا احترام کیا جانیںـ
    دوسری طرف لق ودق صحراووں میں تپتے سورج کے نیچے سلگتی ریت پر آنکھوں پر کالی پٹیاں باندے ایک قطار میں سارا سارا دن شیر جوانوں کو کسی نہ کسی شبہ میں باعث عتاب بنایا جاتا ـ
    میں یہ سب مناظر دیکھ رہی تھی اور آنکھیں نم بھی تھیں پھر وہ پروگرام بدل گیا دوسرا پروگرام شروع ہو اتو اسکی شدت اسکا دکھ بھی بھول کے دوسرا پروگرام دیکھنے میں منہک ھو گئی ـ
    دوسرے کے بعد تیسرا اور پھر شائد ٹی وی بند اسکے بعد زندگی کا دوسرا دن شروع ھو گیا ـ رات کیا دیکھا تھا زہن کے کسی کونے میں گم ہو کے سمٹ گیا ـ اور میں بظاہر مصروف اپنا گھر ہے اپنے بچے ہیں ہر وہ نعمت ہر وہ سہولت موجود ہے جو کوئی بھی انسان خواہش کر سکتا ہے بھوک کا اندازہ نہیں افلاس کا مزا چکھا نہیں افراط زیادتی کی حد تک ہے تو ایسے میں میں اپنی ہی دنیا میں مگن کیا کھانا ہے کیا پکانا ہے کیا لینا ہے کیا دینا ہے بس یہی سب کچھ دنیا داری اپنے حصار میں لئے رواں دواں تھی ـٹی وی پر چلنے والے ایسے پروگرامز کو دیکھنا ہماری مجبوری اس لئے ہوتی ہے تاکہ
    سامنے والے کو علم ہو سکے کہ ہماری حالات حاضرہ پر مضبوط گرفت ہے ـ میں خوش مصروف اپنے دنیاوی مسائل میں کہیں بچوں کے سکول کے پرابلمز تو کہیں بچوں کے تعلیمی اتار چڑہاؤ کونسا عراق کیسا عراق کس کے بچے شہید ہوئے کتنے ہوئے سب وقت کی گرد نے مٹی تلے دبا دیے ـ وہ تھی شائد پہلی بے حسی جو معاشرتی بے حسی تھی ایک دو سے بات ہونے بھی لگی تو جواب ملا چھِوڑو جی اندر سے یہی امریکہ سے بھیک لیتے ہیں سب ٹوپی ڈرامہ ہے لہٰذا ٹوپی ڈرامے پر اتنا ِوقت ضائع کرنا ہمیں بھی مناسب نہیں لگا اور ہم بھی خاموش ـ
    اللہ کی ہر نعمت کو حق سمجھ کر خوب استعمال کیا ٹھنڈے کمروں میں بھی سوئے اور سرد ترین دنوں میں گرم گھروں میں خواب خرگوش کے مزے بھی لوٹے کچھ نہی ہوتا تھا کھانا بھی بنتا تھا ملبوسات بھی اندھی فیشن کی تقلید میں دھڑا دھڑ بنوائے جا رھے تھے زہن میں سکون تھا کوئی اپنے آپ پر گلہ نہیں تھا شکوہ نہیں تھا ہر کام اپنے دائرے میں بظاہر ایک مخصوص انداز میں رواں دواں تھا ـ
    پھر
    ایک اور قیامت ٹوٹتی ہے اقتدار کے اندھے حکمرانوں کی حریص نگاہیں عراق کے بعد افغانستان میں اس طمطراق سے داخل ہوتی ہیں کہ انکے غرور پر ایک بار تو قدرت بھی حیران ہوئی ہو گی ـ یہاں بھی وہی المناک مناظر وہی چیخ و پکار وہی حکمرانوں کے سیاسی بُودے بیان وہی غربت وہی مٹی پر بنے مٹی کے گھر مکینوں کی زبوں حالی پر نوحہ کناں اتنے قیمتی بموں سے تباہ کیا کیا جا رہا جو چند توپ کے گولوں سے مٹی میں مٹی ہو جاتے انکے لئے صرف اپنی دہشت بڑہانے کیلیۓ قیمتی بموں کو ""بی باون"" کے زریعے ٹافیوں کی طرح بے حساب پھینک کر اپنی فرعونیت کا ثبوت دیا گیا ـ
    اب یہ مناظر آہستہ آہستہ میرے دل و دماغ میں اثر پذیر ہو رھے تھے اب ٹی وی کو بند کر کے میں اپنے کچن میں مگن نہی ہوتی تھی اب کھانا بناتے ہوئےمعصوم زخموں سے نڈہال بچوں کی چیخ وپکار میرے اعصاب پر حاوی ہونے لگی تھی اب ٹی کا چینل بدل کر س پروگرام اور ان بچوں کے چہرے میری نگاہوں سےا ٴوجھل نہی ہوتے تھے بلکہ سوتے ہوئے بھی انکی تصاویر نگاہوں میں آویزاں رہتیں ان چاند چہروں کی سوچ ساتھ ساتھ رلاتی تھی جو خون آلود گرد آلود تھے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا ـ اب تکلیف احساس اور بڑھنے لگا اب زہن سوچنے لگا ـ
    پھر وقت اور آگے بڑہا بات پاکستان کے شہروں اور شہریوں تک بڑھ کے آگئ تو تمام وہ تبصرے جو 2001 میں کئے گئے تھے کہ بظاہر نشانہ عراق ہے اصل ہدف شام اور اسکے بعد نشانہ ایران ہےـ
    بظاہر حملہ افغانستان پر ہواہے لیکن اصل ہدف پاکستان ہے اور پاکستان کو توڑ موڑ کر اتنا توڑنا ہے کہ اپنے پیروں پر کئی دہائیوں تک کھڑا نہ ہو سکے ـ
    بم بلاسٹ ایک کے بعد ایک حملے سیکورٹی جوانوں پے سرکاری عمارتوں پر بم دھماکے فوج کی چھاونیوں کے باہر حملے انٹرنیشل ہوٹلز کی تباہیاں ہر روز ایک نیا پیغام طاغوتی طاقتوں کی طرف سے انتشار ہیجان غصہ جھنجھلاہٹ حکمرانوں کی ملی بھگت عوام کی ہلاکتیں بے بسی مہنگائی کا طوفان افسرِ شاہی کی شاہی خرچیاں خودکشیاں مایوسیاں سوچ کی زہن کی مایوسی عوام کو شدید ذہنی خلجان میں مبتلا کرتی جا رہی تھی ـ لیکن سب کچھ ٹھیک ہے یہ تھا ہر آنے والے حکمراں کا بیان
    میں جو عام سی خاتون خانہ تھی اپنے ہم وطنوں کی ذلت ہر روز انکےساتھ ہونے والا جانوروں سے بد تر سلوک بھوکے ننگے آنسووں سے تر رخسار آنسوں کےنشان گالوں پر اور سوتے میں بھی بھوک سے سکتے یہ معصوم کس سے روٹی کا سوال کریں والدین ایک دن گذار چکے بھوکے لیکن کا سورج ان بچوں کیلیۓ اور کیا امتحان لائے گا یہی سوچ سوچ کر بھوک سے کم اور بچوِں کے رونے کا سوچ کر نیند کوسون دور ہو گئی ـ
    کل میں سوچتی تھی راستہ بڑی طاقتوں کے سامنے درمیانہ ہونا چاہیۓ کیونکہ ہم کمزور ہیں ہمیں للکارنا نہین چاہیۓ کیونکہ اسکی سکت ہمارے کمزور وجود میں نہیں ہے ـ
    اس لئے اپنی حدود کا تعین کرتے ہوئے اپنی اوقات کو دیکھتے ہوئے مذھبی جوش جزبے کے زیر اثر عراقیوں کی طرح حماقت نہی کرنی کہ آجاؤ نمٹ لیں گے اور تباہ و بربا د ہو جائیں
    لیکن
    وقت نے حالات نے ذلت نے افلاس نے خودی کے قتل نے انسانیت کی ذلت نے کتوں کی طرح بار بار زلیل کر کر کے آئی ایم اییف کی صورت تو کبھی کیری لوگر بل کی طرح جتلا کر بتا کر خوار کر کے جو ہڈیاں ڈالی جا رہی ہیں وہ اب زہن کو جھنجھوڑنے لگا ہے ایسی زندگی جس میں حمیت نہ ہو غیرت نہ ہو ترلے کرتے رہو انکے تب بی زلیل اور قسمت میں قید وبند کی صعوبتیں یا پھر سزائے موت
    للکارو تو بھی قید وبند کی صعوبتیں ابو غریب جیل کی شرمناکیاں اور عافیہ کی طرح سسکتی زندی اور موت
    کیسے گذاری جائے زندگی ؟
    اب ہر آسائش کانٹوں کا بستر بن گئی ہے ہر مرغن اور کانٹینینٹل کھانا زہر آلود محسوس ہو رہا ہے ایک فریب کی دنیا ہے جس کی چکا چوند نے ہمیں اپنے اصل سے اپنی سادگی سے اپنی تعلیمات سے دور بہت دور کر دیا ہے ہر وہ پیغام جو ہمیں احساس دے سکے سبق پڑھا سکے سوچ عطا کر سکے ان تعیشات نے ہم سے چھین لیا اور بدلے میں دیا منافقانہ غلامانہ نظام اب زہن چیختا ہےـ بے بسی
    بے کسی سے بات آگے چلی گئی"" بے حسی تک ""
    کہاں تک بے حس بنیں گے ـ اب تو دل چاہتا ھے ـ کہ اپنی ذات کا تعین ہو ہی جائے کون ہوں میں کون ہیں آپ ؟ کون ہیں ہم سب؟
    ہمیں کیسے رہنا ہے ہمیں تو رب کریم نے اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا تھا ـکسی سپر پاور کو خاص یہ نام نہی دیا گیا تھا لیکن آج ہم درجوں میں حیثیتوں میں امتیازی ناموں میں بانٹ دیے گئے ہیں ـ یہ درجہ بندی ہم سب نے قبول کر لی بغیر کسی پس وپیش کے
    لیکن
    وقت جوں جوں گذر رہا ہے اب سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے کل تک کی یہ سوچ کہ کہ نظر انداز کر دو اور مصالحت پسندی کو اختیار کیا جائے اب اسکی جگہ کہیں سے کوئی چنگاری ہولے ہولے سُلگ رہی ہے ـ آنچ محسوس ہو رہی ہے جس دن اس چنگاری نے آگ پکڑ لی سوچ کا انقلاب آئے گا ـ اور یہ آکے رہے گاـ
    سبق وہی ہے جو 1400 سال پہلے ملا جو مجھ سمیت ہم سب نے دنیاوی آلائشوں میں مدغم کرنے کی ناپاک جسارت کی اور آج یوں رسوائی ہر سِمت سے ہماری جانب بڑہی چلی آ رہی ہے حل ایک ہی ہے ـ واپسی اپنے اصل کی جانب اپنے عمل کی جانب اپنے اسلام کی جانب منحرف ہو کے بھی لیا سوائے ذلت کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگا حالات کی سختی اور ماحول کی تنگی نے
    ایک عام سی سادہ سیگھریلو سوچ کو تبدیل اگر کر دیا ہے تو یقینا جو اعلیٰ سوچ کے حامل افراد ہیں وہ جتنے مرضی بےحس بن جائیں ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی شمائلہ نے انکے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا ضرور ھے ـ
    یہ لوح محفوط پر لکھا جا چکا ہے
    جب جاگو تب سویرا انشاءاللہ
    [/size]
    [/align]

    [align=center][/align]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر

    RE: سوچ میں انقلاب ؟

    وقت جوں جوں گذر رہا ہے اب سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے کل تک کی یہ سوچ کہ کہ نظر انداز کر دو اور مصالحت پسندی کو اختیار کیا جائے اب اسکی جگہ کہیں سے کوئی چنگاری ہولے ہولے سُلگ رہی ہے ـ آنچ محسوس ہو رہی ہے جس دن اس چنگاری نے آگ پکڑ لی سوچ کا انقلاب آئے گا ـ اور یہ آکے رہے گاـ
    سبق وہی ہے جو 1400 سال پہلے ملا جو مجھ سمیت ہم سب نے دنیاوی آلائشوں میں مدغم کرنے کی ناپاک جسارت کی اور آج یوں رسوائی ہر سِمت سے ہماری جانب بڑہی چلی آ رہی ہے حل ایک ہی ہے ـ واپسی اپنے اصل کی جانب اپنے عمل کی جانب اپنے اسلام کی جانب منحرف ہو کے بھی لیا سوائے ذلت کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگا حالات کی سختی اور ماحول کی تنگی نے
    ایک عام سی سادہ سی گھریلو سوچ کو تبدیل اگر کر دیا ہے تو یقینا جو اعلیٰ سوچ کے حامل افراد ہیں وہ جتنے مرضی بےحس بن جائیں ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی شمائلہ نے انکے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا ضرور ھے ـ
    یہ لوح محفوط پر لکھا جا چکا ہے
    جب جاگو تب سویرا انشاءاللہ
    انشاء اللہ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے ، سوچ میں انقلاب ایک زبردست مضمون ہے، ایک انقلابی سوچ ہے ، بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ
    [align=center]
    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کا م دنیا کی امامت کا
    [/align]

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: سوچ میں انقلاب ؟

    [size=x-large]وقت نے حالات نے ذلت نے افلاس نے خودی کے قتل نے انسانیت کی ذلت نے کتوں کی طرح بار بار زلیل کر کر کے آئی ایم اییف کی صورت تو کبھی کیری لوگر بل کی طرح جتلا کر بتا کر خوار کر کے جو ہڈیاں ڈالی جا رہی ہیں وہ اب زہن کو جھنجھوڑنے لگا ہے ایسی زندگی جس میں حمیت نہ ہو غیرت نہ ہو ترلے کرتے رہو انکے تب بی زلیل اور قسمت میں قید وبند کی صعوبتیں یا پھر سزائے موت
    للکارو تو بھی قید وبند کی صعوبتیں ابو غریب جیل کی شرمناکیاں اور عافیہ کی طرح سسکتی زندی اور موت
    کیسے گذاری جائے زندگی ؟ [/size]
    [size=x-large]جزاک اللہ خیراً بہت خوب
    [/size]

  4. #4
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    754
    شکریہ
    148
    74 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    RE: سوچ میں انقلاب ؟

    [size=medium]کاش ہم اپنے ضمیر کو جگا لیں
    تو انقلاب دور نہیں
    جزاک اللہ شاہ بانو میر صاحبہ[/size]

  5. #5
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: سوچ میں انقلاب ؟

    امیرکہ سپر پاور ہے ایسا نہیں ہے ایسا ہم سوچتے ہیں ایسا ہمارے دل مین ہے کہ وہ طاقتور ہے تارخ اٹھا کر دیکھ لیں کیسے کیسے طاقتوار لوگوں کو چھوٹی چھوٹی قوموں نے غرق کردیا جنگ ہمیشہ جذبے سے جیتی جاتی ہے نہ کہ طاقت سے ہارنے کی کوئی نہ کوئی وجوہات ہوتی ہیں امریکہ بزدل اور ڈرپوک ہے اس نے ایسے ہی عراق پر حملہ نہیں کیا پہلے دنیا کو یہ یقین دلایا کہ یہ قصور وار ہے اور سب کو اپنے ہم خیال بنایا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر ایک بھی مسلمان ملک اسکے خلاف کھڑا ہوگیا تو کیا ہوگا اسکو خوف ہے اسلیے وہ سب کو دوست بنا کر رکھتا ہے اور جسکو توڑنا ہوتا ہے توڑ دیتا ہے اگر اتنا ہی طاقتور ہے حملے سے پہلے اس نے کتنے ممالک سے رابطے کیے کیا کیا ترتیب بنائیں اور جب دیکھا حالات ،وافق ہیں تو حملہ کیا اتنا نڈر ہوتا تو وارننگ دیتا اور حملہ کردیتا افغانستان کا حال بھی اس سے الگ نہیں پاکستان کی تو بات ہی چھوڑ دیں امریکہ اس سے لڑتا ہے جو اس کے خلاف ہوتا ہے ہم تو ہے ہی امریکہ کے غلام ہم سے اسے ابھی ڈر نہیں اب باری ہے اس مسلم ملک کی جہاں دینی سرگرمیاں زیداہ تیز ہیں اب اسکی پلاننگ کی جارہی ہے اخر میں ہمارا میں کام تمام ھاھاھا

متشابہہ موضوعات

  1. اس وقت کیا سوچ رہے ہیں
    By تانیہ in forum گپ شپ
    جوابات: 471
    آخری پيغام: 07-12-2013, 12:42 AM
  2. سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ناکام سوفٹ ویر
    By بےباک in forum پاکستان کے مجرم
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 01-13-2013, 04:47 PM
  3. جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-13-2012, 05:38 PM
  4. رکودک(پاکستان کی سونے کی کانیں)
    By سقراط in forum قلم و کالم
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 05-03-2012, 08:33 PM
  5. بنگلہ دیش میں سولر سیلز کی مانگ
    By این اے ناصر in forum جدید دنیا اور سائنس
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-25-2011, 01:12 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University