نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

  1. #1
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    754
    شکریہ
    148
    74 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

    [align=center][size=xx-large]ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے[/size][/align]

    [size=large]
    دو نوجوان سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل ميں داخل ہوتے ہی محفل ميں بيٹھے ايک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہيں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہيں يا عمر رضی اللہ عنہ يہ ہے وہ شخص!

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہيں ، کيا کيا ہے اس شخص نے؟

    يا امير المؤمنين، اس نے ہمارے باپ کو قتل کيا ہے?

    کيا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کيا ہے؟ سيدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہيں?

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہيں، کيا تو نے ان کے باپ کو قتل کيا ہے؟

    وہ شخص کہتا ہے : ہاں امير المؤمنين، مجھ سے قتل ہو گيا ہے انکا باپ،

    کس طرح قتل کيا ہے؟ سيدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہيں?

    يا عمر رضی اللہ عنہ ، انکا باپ اپنے اونٹ سميت ميرے کھيت ميں داخل ہو گيا تھا، ميں نے منع کيا، باز نہيں آيا تو ميں نے ايک پتھر دے مارا جو سيدھا اس کے سر ميں لگا اور وہ موقع پر مر گيا،

    پھر تو قصاص دينا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا، سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہيں.

    نہ فيصلہ لکھنے کي ضرورت، اور فيصلہ بھي ايسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہيں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے ميں کوئی سوال کيا گيا ہے، نہ ہی يہ پوچھا گيا ہے کہ تعلق کسقدر شريف خاندان سے ہے، نہ ہی يہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبيلے سے تو نہيں، معاشرے ميں کيا رتبہ يا مقام ہے، ان سب باتوں سے بھلا سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کيا ہے!! کيوں کہ معاملہ اللہ کے دين کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہيں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شريعت کی تنفيذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے، حتی کہ سامنے عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا بيٹا ہی کيوں نہ قاتل کي حيثيت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی ليا جائے گا.

    وہ شخص کہتا ہے ا ے امير المؤمنين: اس کے نام پر جس کے حکم سے يہ زمين و آسمان قائم کھڑے ہيں مجھے صحراء ميں واپس اپنی بيوی بچوں کے پاس جانے ديجيئے تاکہ ميں انکو بتا آؤں کہ ميں قتل کر ديا جاؤں گا،ان کا اللہ اور ميرے سوا کوئی آسرا نہيں ہے، ميں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا،

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہيں: کون تيری ضمانت دے گا کہ تو صحراء ميں جا کر واپس بھی آ جائے گا.

    مجمع پر ايک خاموشی چھا جاتی ہے. کوئی بھي تو ايسا نہيں ہے جو اسکا نام تک بھي جانتا ہو، اسکے قبيلے، خيمےيا گھر وغيرہ کے بارے ميں جاننے کا معاملہ تو بعد کي بات ہے.

    کون ضمانت دے اسکی؟ کيا يہ دس درہم کے ادھار يا زمين کے ٹکڑے يا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے، ادھر تو ايک گردن کی ضمانت دينے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا ديا جانا ہے.

    اور کوئی ايسا بھی تو نہيں ہے جو اللہ کی شريعت کی تنفيذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے، يا پھر اس شخص کی سفارش کيلئے ہی کھڑا ہو جائے، اور کوئی ہو بھی نہيں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے.

    محفل ميں موجود صحابہ پر ايک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہيں، کيوں کہ اس شخص کي حالت نے سب کو ہی حيرت ميں ڈال کر رکھ ديا ہے، کيا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر ديا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کيلئے چھوڑ ديئے جائيں، يا پھر اسکو بغير ضمانتی کے واپس جانے ديا جائے، واپس نہ آيا تو مقتول کا خون رائيگاں جائے گا!

    خود سيدنا عمر رضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بيٹھے ہيں ہيں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف ديکھتے ہيں، معاف کر دو اس شخص کو،

    نہيں امير المؤمنين، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ ديں، يہ تو ہو ہی نہيں سکتا، نوجوان اپنا آخری فيصلہ بغير کسی جھجھک کے سنا ديتے ہيں.

    عمر رضی اللہ عنہ ايک بار پھر مجمع کی طرف ديکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہيں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم ميں سے جو اس کی ضمانت دے؟

    ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہيں ميں ضمانت ديتا ہوں اس شخص کي!

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہيں ابوذر رضی اللہ عنہ ، اس نے قتل کيا ہے،

    چاہے قتل ہي کيوں نہ کيا ہو، ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فيصلہ سناتے ہيں،

    عمر رضی اللہ عنہ : جانتے ہو اسے،

    ابوذر رضی اللہ عنہ : نہيں جانتا اسے،

    عمر رضی اللہ عنہ : تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو،

    ابوذر رضی اللہ عنہ : ميں نے اس کے چہرے پر مومنوں کي صفات ديکھي ہيں، اور مجھے ايسا لگتا ہے يہ جھوٹ نہيں بول رہا، انشاء اللہ يہ لوٹ کر واپس آ جائے گا.

    عمر رضی اللہ عنہ : ابوذر رضی اللہ عنہ ديکھ لو اگر يہ تين دن ميں لوٹ کر نہ آيا تو مجھے تيری جدائی کا صدمہ ديکھنا پڑے گا.

    امير المؤمنين، پھر اللہ مالک ہے، ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فيصلے پر ڈٹے ہوئے جواب ديتے ہيں.

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تين دن کي مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تياريوں کيلئے، بيوي بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ ديکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئيگی کيلئے قتل کئے جانے کي غرض سے لوٹ کر واپس آنے کيلئے.

    اور پھر تين راتوں کے بعد، عمر رضی اللہ عنہ بھلا کيسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ايک ايک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر ميں (الصلا جامعہ) کي منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لينے کيلئے بے چين اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شريعت کی تنفيذ ديکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے.

    ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشريف لاتے ہيں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بيٹھ جاتے ہيں.

    کدھر ہے وہ آدمی، سيدنا عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہيں.

    مجھے کوئی پتہ نہيں ہے يا امير المؤمنين، ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب ديتے ہيں.

    ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف ديکھتے ہيں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی ميں معمول سے سے زيادہ تيزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے.

    محفل ميں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہيں جانتا کہ آج کيا ہونے جا رہا ہے؟

    يہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل ميں بستے ہيں، عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگيں تو عمر رضی اللہ عنہ دير نہ کريں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر ديں، ليکن ادھر معاملہ شريعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھيل تماشہ نہيں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حيثيت يا صلاحيت کی پيمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہيں اور نہ ہی زمان و مکان کو بيچ ميں لايا جانا ہے رضی اللہ عنہ قاتل نہيں آتا تو ضامن کي گردن جاتي نظر آ رہی ہے.

    مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ايک بھرپور نعرہ لگاتا ہے.

    عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہيں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھي آتا تو ہم نے تيرا کيا کر لينا تھا، نہ ہی تو کوئی تيرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تيرا پتہ جانتا تھا!

    امير المؤمنين، اللہ کي قسم، بات آپکی نہيں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشيدہ کے بارے ميں جانتا ہے، ديکھ ليجئے ميں آ گيا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کي طرح صحراء ميں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سايہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان، ميں قتل کر ديئے جانے کيلئے حاضر ہوں، مجھے بس يہ ڈر تھا کہيں کوئی يہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں ميں سے وعدوں کا ايفاء ہی اُٹھ گيا ہے.

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضي اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر رضی اللہ عنہ ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی.

    ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا، اے عمر رضی اللہ عنہ ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہيں کوئی يہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خير ہی اٹھا لی گئی ہے.

    سيد عمر رضی اللہ عنہ نے ايک لمحے کيلئے توقف کيا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کيا کہتے ہو اب،

    نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب ديا، اے امير المؤمنين، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہيں، ہميں اس بات کا ڈر ہے کہ کہيں کوئی يہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں ميں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا ليا گيا ہے.

    سيدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نيچے گر رہے تھے،

    اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہيں جزائے خير دے،

    اے ابو ذر رضی اللہ عنہ ! اللہ تجھے اس شخص کی مصيبت ميں مدد پر جزائے خير دے،

    اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خير دے،

    اور اے امير المؤمنين، اللہ تجھے تيرے عدل و رحمدلی پر جزائے خير دے،

    محدثين ميں سے ايک يوں کہتے ہيں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے ميں ميری جان ہے، اسلام اور ايمان کی سعادتيں تو عمر رضی اللہ عنہ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھيں.
    [/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

    زبردست شیئرنگ...دل خوش ہوا سچی ....جزاک اللہ

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Mar 2011
    پيغامات
    217
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: ایسے لوگ پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

    [size=xx-large]جزاک اللہ [/size]
    [size=large]یا اللہ . . . . . .
    کس سے مانگیں\' کہاں جائیں\' کس سے کہیں . . .
    میرا دنیا میں\' تیرے سوا کون ہے ! ! ! !
    [/size]

    [size=x-large] بلاگ : نون - میم . . . . . نورمحمد کا بلاگ [/size]

متشابہہ موضوعات

  1. ایسے لوگ پھر کبھی نہیں لوٹ کر آئیں گے
    By گلاب in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 10-30-2012, 12:03 PM
  2. کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
    By ایم-ایم in forum امجد اسلام امجد
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:03 AM
  3. جوابات: 0
    آخری پيغام: 04-05-2012, 09:03 PM
  4. کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
    By تانیہ in forum شعر و شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-01-2012, 06:24 PM
  5. جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو
    By تانیہ in forum شعر و شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-07-2010, 04:05 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University