نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: پیمانہ

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    13
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    پیمانہ

    [align=center][size=xx-large]پیمانہ[/size][/align]

    [align=center][/align]

    [size=large]آجکل ہر طرف سچائی ا ور انصاف کے نعروں کی گونج ہے ـ
    سچائی کیا ہے؟
    سچائی ہے صاف شفاف ایک ہی رخ جو آپکو کسی بھی جانب سے دیکھنے پر وہی صورت بنتی دکھائی دے ـ
    یہ ہے سچائی کہ آپکے خد وخال وہی رہیں اوہ آپکو سامنے سے دیکھا جائے یا پیچھے سے دائیں سے یا بائیں سے
    آپکی شخصیت اور نقوش میں فرق نظر نہ آئے ـ
    لیکن
    بد نصیبی ہماری یہ ہے کہ جیسے ہر تبلیغ پر ہر جدوجہد پر جغرافیائی اثرات نمایاں نظر آتے ہیں ویسے ہی ہماری سچائی بھی اب رنگ بدلتی ہے ـ
    مثال یوں دیتی ہوں کہ اسلام جب اللہ کے حکم سے پوری دنیا میں پھیلا تو بنیادی پیغام
    وہی رہا لیکن تبلیغ پر جغرافیائی اثرات نمایاں نظر آج بھی آتے ہیں جیسے
    ہندوستان میں چونکہ بتوں کی پوجا عام تھی اور جاپ منتر اور بھجن گائے بجائے جاتے تھے ـ
    اسلام کی وہاں آمد کے بعد جب پاک اور اُجلی روشنی پھیلی اور وہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو تو ان بھجنوں کو ایک نئی توجیح کے ساتھ قوالی کی صورت اسلام کے پیغام کو پھیلایا گیا ـ
    آج بھی بزرگان دین صوفیائے کرام کے مزاروں پر قوالوں کے گرد صوفیانہ کلام سننے والوں کا ہجوم گواہی دیتا ہے کہ یہ صدیوں پرانا فن آج بھی زندہ ہےـ

    بالکل اسی طرح عربوں کی یاداشت اور زہانت کا ایک عالم گواہ ہے ایک عام مثال ہے کہ دنیا کی زہین ترین عورتیں عرب خواتین ہیں ـ
    کیونکہ
    ابکے آبا و اجداد آلات فن و حرب کے ساتھ ساتھ شاعری کے بھی دلدادہ تھے ـ
    اور ہر قبیلے کو اپنے اپنے شعراء پر ناز ہوتا تھا جو اپنے اپنے قبیلے کا ماضی اور جنگی فتوحات کو شاعرانہ کلام کی صورت اکثر و بیشتر سناتے اور داد وصول کرتے
    میدان جنگ میں بھی یہی جنگجوانہ شاعری مجاہدوں کا لہو گرم کرتی اور موت کے خوف سے بیگانہ ہو کے اپنے بزرگوں کی طرح بہادری کے کارنامے مورخ کے حوالے کر دیتے ـ
    یہی وجہ ہے عرب ممالک میں اسلام کو شاعرانہ صورت میں زیادہ مؤثر اور سمجھنے کیلیۓآسان مانا گیا ـ
    جس میں اللہ پاک کی حمد وثنا اور آپﷺ کی نعت گوئی آج بھی روح کو مہکا دیتی ہے اور قلب میں نور اور سرور بھر دیتی ہے ـ
    اسی طرح
    افریقی ممالک میں جب اسلام کی آمد ہوئی تو جہالت اور گمراہی دنیا سے دور ایک تاریک دور میں رہنے والے یہ لوگ جادو ٹونے اورمنتروں پر اندھا دھند یقین رکھنے والے لوگ تھے ـ
    جب اسلام کی صبیح کرنیں یہاں موجزن ہوئیں تو اللہ کے کلام کے طفیل جن لوگوں نے ہدایت حاصل کی اسلام کو آسان بنا کرعام انسان تک جس طرح پہنچایا وہ تھا
    ورد کا طریقہ پہلے منترپڑھنے والی زبان اسلام کے پیغام سے آشناہوئی تو ورد
    کی صورت اسلام کو کونے کونے تک پہنچانے لگی ـ
    یہ ہوتا ہے کسی بھی پیغام کو روشنی کو پھیلاتے ہوئے جغرافیائی تبدیلی ـ
    اب آتے ہیں ـ
    ہمارے نکتہ نظر کی
    کوئی بھی بات ہو کوئی بھی پیغام کوئی بھی علم ہو جب کلاس روم میں 30 یا 40 بچوں کو ایک ہی سبق پڑہایا جاتا ہے تو یہ آج تک کہیں نہیں سنا کہ وہ چالیس بچے یا بڑے بالکل ایک جیسی کارکردگی شو کرتے ہیں ـ
    وہ لیکچر یا سبق
    کسی کو سو فیصد سمجھ آجاتا ہے اور وہ نمایاں کارکردگی دکھا دیتا ہے ـ
    تو کسی کو آدھا سمجھ آتا ہے اور آدھا سر کے اوپر سے ہی گذر جاتا ہے ـ
    کسی کو بالکل ہی نہیں سمجھ آتا ـ
    یعنی
    ہر دماغ دوسرے دماغ سے الگ سوچ اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے کسی بھی چیز کو اپنے اندر جذب کرنے کی ـ اور پھر اسکو واپس سمجھ کر ٹیسٹ یا امتحان کی صورت واپس لوٹانے کی ـ
    ہم نے دیکھا کہ بات کوئی بھی ہو سوچ کوئی بھی ہو اس پر معاشرتی زمینی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں ـ
    اسی طرح ہر جگہ ہے آپکی پرورش کس ماحول میں ہوئی اچھے یا برے خوشحال یا درمیانے یا پسماندگی میں
    وہ تمام آپکی زندگی کے سابقہ تجربات آپکے دماغ کی نشو ونما کرتے ہیں ـ
    یہی وجہ ہے جب بات سچائی کی کی جاتی ہے یا حق سچ کی کی جاتی ہے تو ہر
    طرح کے ماحول میں پلنے والا اس کو اپنے انداز میں سوچتا اور مستحکم کرتا ہے ـ
    اس کیلئے وہی بہترین سچائی ہے جو اسکی سوچ میں ہے جو اسکے ماحول نے اسکے زہن کو تربیت دے کر سمجھائی ہے ـ
    وہی انصاف افضل ترین ہے جو اسکا اپنا خیال ہےـ
    اور پھر وہ اپنے اسی فلسفے کو دوسروں پر ٹھونسنے کی ناکام کوشش کرتا ہے ـ
    اچھے خوشحال گھروں کا ماحول خوشحالی کی وجہ سے اس گھر کے ماحول سے بہت فرق ہوتا ہے جہاں کمانے والا ایک اور کھانےوالے 10 ہو وہ ایک دوسرے سے الجھیں گے لڑیں گے اور پھر ایک ساتھ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ جیب اجازت نہیں دیتی کہیں دوسری جگہ جا کر بار اٹھانے کی ـ
    لیکن
    دوسری طرف خوشحال گھرانے اکثر ہی دیکھا ہے کہ افراد کا دباؤ بڑہتا دیکھ کر انکو الگ کر دیتے ہیں ـ کیونکہ وہ افورڈ کر سکتے ہیں ـ اس طرح سے رشتوں میں الجھاؤ اور تناؤ بھی کم ہی ہوتا ہے ـ
    جبکہ پہلی صورت میں ساتھ رہتے ہوئے لبوں پر مجبوری کی مسکراہٹ سجائے وہئے موقعہ ملتے ہی بھائی بھائی کی برائی اور بہن دوسری بہن کی برائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ـ
    ایسے گھرانے زہنی طور پے گھٹن کا شکار ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ
    یہی لڑائی جھگڑے اور زہنی تنفر سوچ میں جب لاوا بن کر پھٹتا ھے تو پھر بہت ہی خطرناک صورتحال بھی نظر آتی ہے ـ
    ہر پارٹی اپنے آپ کو مظلوم اور دوسرے کو غاصب سمجھتی ہے ـ
    انکی باتوں کو سنو تو سمجھ ہی نہی آتی کہ ان میں اصل مظلوم اور مجبور کون ہے ـ
    سچائی وہاں دھند میں لپٹی ہوئی منہ چھپائے ہوئی ایک طرف سہمی کھڑی نظر آتی ہے کیونکہ ہر روتی آنکھ سچی ہے اور ہر چیختا حلق سچا ہے ـ
    جو جو احتجاج کرے وہ ظاہر ہے کہ کسی پریشانی کسی مسئلے میں الجھا ہے اور جب اسکی مطلوبہ خواہش یا اسکا سوچا ہوا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا تو اس نے صدائے احتجاج اور انصاف کا نعرہ بلند کیا ـ
    لیکن یہ نعرہ یہ سوچ سچائی کی تلاش شور مچا کر باہر کرنے کی بجائے کاش ایک بار ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں نظر دوڑا لیں تو شائد دور بہت دور ایک ضمیر نامی چیز بھی ضرور نظر آجائے گی ـ
    سب کچھ چھوڑ کر ایک منٹ کیلیۓ رکئے اور اسکے سامنے خاموشی سے گھٹنے دوزانو کر کے بیٹھ جائیۓ ـ
    مکمل خاموشی
    اور دہرائیے
    ایک فلم کی طرح جب سے آپ یہاں ہیں کیا کیا ہوا آپکے ساتھ؟
    کیا کیا کیا آپ نے کسی کے ساتھ ؟
    کیا کیا کسی نے آپکے ساتھ بھلائی کی؟
    اور بدلے میں آپ نے اسکو کیا کیا دیا ؟
    کس کس سے آپ ناراض تھے کس کس نے آپکو ناراض کیا؟
    اور کون آپکو منا کرلایا جب کوئی آگے نہیں بڑہتا تھا ؟
    اور وقت حالات نے آپکو دوبارہ پھر سے ضرورتوں نے آپکو ان کے ساتھ پر مجبور کیاـ
    ضرورتیں آپکی مجبوریاں آپکی اور پیسیں آپ دوسروں کو ؟ یہ کہاں کا انصاف ہے
    کسی سے جواب نہیں ـ
    کسی سے سوال نہیں
    میزان بھی خود تھامیئے اور جواب بھی خود لکھئے ـ
    مگر مکمل سکوت مکمل خاموشی میں آنکھیں بند کر کے اپنے ضمیر کا میزان آج تھام لیجیۓ ـ
    [/size]


    [align=center][size=large]میں اپ کے جواب کی منتظر رہونگی [/size][/align]


  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,149
    شکریہ
    2,109
    1,222 پیغامات میں 1,594 اظہار تشکر

    RE: پیمانہ

    سب کچھ چھوڑ کر ایک منٹ کیلیۓ رکئے اور اسکے سامنے خاموشی سے گھٹنے دوزانو کر کے بیٹھ جائیۓ ـ
    مکمل خاموشی
    اور دہرائیے
    ایک فلم کی طرح جب سے آپ یہاں ہیں کیا کیا ہوا آپکے ساتھ؟
    کیا کیا کیا آپ نے کسی کے ساتھ ؟
    کیا کیا کسی نے آپکے ساتھ بھلائی کی؟
    اور بدلے میں آپ نے اسکو کیا کیا دیا ؟
    کس کس سے آپ ناراض تھے کس کس نے آپکو ناراض کیا؟
    اور کون آپکو منا کرلایا جب کوئی آگے نہیں بڑہتا تھا ؟
    اور وقت حالات نے آپکو دوبارہ پھر سے ضرورتوں نے آپکو ان کے ساتھ پر مجبور کیاـ
    ضرورتیں آپکی مجبوریاں آپکی اور پیسیں آپ دوسروں کو ؟ یہ کہاں کا انصاف ہے
    کسی سے جواب نہیں ـ
    کسی سے سوال نہیں
    میزان بھی خود تھامیئے اور جواب بھی خود لکھئے ـ
    مگر مکمل سکوت مکمل خاموشی میں آنکھیں بند کر کے اپنے ضمیر کا میزان آج تھام لیجیۓ ؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت خوب شاہ بانو میر صاحبہ ،موضوع جاندار ہے ،
    ایک گہری سوچ ۔ اور ایک گہرا محاسبہ ،
    کون کرے گا ، سب انا پرست ہیں ، اپنی اپنی ذات کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں ،اور قصور وار دوسروں کو ،
    ان حالات کا تجربہ اپنی ذات پر کر چکا ہوں ، اور اس کی حقیقت بھی دیکھ چکا ہوں ، کہ اپنے آپ کو محاسبہ کے لیے پیش کرنے والے اس دنیا میں بہت کم ، اپنی خرابیوں کا ذمہ دار اپنے ارد گرد ماحول اور حالات کو ہی سمجھتے ہیں اور ہمیں اس کی عادت ہو چکی ہے ، اپنے آپ کو تبدیل کرنا مشکل امر ہے ۔ اور یہی پیمانے نے مجھے بتایا ہے ،

  3. #3
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: پیمانہ

    یہ سب کچھ اب ایک عادت بن چکا اور عادت کبھی ختم نہیں ہوتی. ہمارے بزرگوں نے اس عادت کو نہیں اپنایا تھا مگر ہم نے اس کو کچھ کچھ اپنایا اور اب نئی نسل میں سے اکثریت اسی عادت کو مکمل طور پر اپنا رہی ہے. اور کوئی بتانے والا نہیں کہ یہ عادت درست نہیں. اپنا محاسبہ کرنا مشکل تو نہیں مگر عادت بگڑ جائے تو کاہلی کے سبب آسان کام بھی مشکل بلکہ ناممکن لگتا ہے.

    بہر حال ایک اچھے مضمون کے لئے بے حد شکریہ.......

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 0
    آخری پيغام: 10-20-2012, 09:17 AM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-16-2012, 04:47 PM
  3. الف پیما
    By ابوسفیان in forum متفرقات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 10-12-2012, 08:09 PM
  4. بھیگی ہوئی رات
    By ناصرتونسوی in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 09-09-2012, 03:05 AM
  5. کھیل ہی کھیل میں
    By تانیہ in forum کھیل ہی کھیل میں
    جوابات: 11
    آخری پيغام: 12-18-2011, 03:01 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University