نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: ریمنڈ ڈیوس اور حکومت پاکستان

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    ریمنڈ ڈیوس اور حکومت پاکستان

    [align=center] [/align]


    لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثا کی جانب سے معاف کیے جانے کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

    پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قتل کے مقدمے میں بریت کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا ہے -جبکہ غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں وہ ضمانت پر ہیں۔ بدھ کو ریمنڈ ڈیوس پر دوہرے قتل کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جانی تھی-

    تاہم میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مقتولین کے ورثا نے عدالت میں پیش ہو کرانہیں معاف کر دیا جس کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صلح میں پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور ملزم کو معاف کرنا ورثا کا شرعی اور قانونی حق ہے۔

    صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان کا کہنا تھا کہ یہ بات بے بنیاد ہے کہ مقتولین کے ورثا سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کروائے گئے ہیں۔ ان کے بقول مقتولین کے تمام شرعی ورثا عدالت میں پیش ہوئے تھے اور اگر مقتولین کے وکیل کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ اس ضمن میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

    اس سوال پر کہ رہائی کے بعد ریمنڈ ڈیوس کہاں ہیں صوبائی وزیرِ قانون نے کہا کہ وہ ایک آزاد امریکی شہری ہیں وہ جہاں بھی چاہیں جا سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق ڈیوس کو افغانستان کے بگرام ائر بیس روانہ کردیا گیا ہے جہاں سے وہ امریکہ جائیں گے۔

    ادھر مقتولین کے وکیل اسد منظور بٹ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بدھ کو جیل کے اندر ہونے والی کارروائی میں شامل نہیں ہونے دیا گیا اور انہیں ان کے ایک ساتھی وکیل سمیت ساڑھے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔

    ریمنڈ ڈیوس کے خلاف دوہرے مقدمے پر کارروائی سینٹرل جیل کے اندر ہو رہی تھی اور ایڈیشنل سیشن جج یوسف اوجلا اس مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔ ریمنڈ پر الزام تھا کہ انہوں نے ستائیس جنوری کو لاہور میں فیضان اور فہیم نامی دو نوجوانوں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

    ان کی گرفتاری کے بعد امریکی حکام نے انہیں سفارتی استثنی حاصل ہونے کا معاملہ اٹھایا تھا جبکہ حکومتِ پاکستان نے کہا تھا کہ اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے کو حل کرنے میں پاکستان کی وفاقی اور پنجاب حکومت کے علاوہ ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سعودی حکام نے بھی کردار ادا کیا۔
    ......
    سماعت سے قبل فیضان اور فہیم کے ورثا کو گھروں سے اٹھا کر عدالت میں لایا گیا

    وکلا کو بھی گن پوائنٹ پر روکا گیا اور کوئی بات میڈیا کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔

    وکیل کے مطابق ورثا سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے.



    .لاہور میں فائرنگ کر کے دو پاکستانی نوجوانوں کو شہید کرنے والے امریکی ملزم ریمنڈ ڈیوس کو مقامی عدالت نے بری کر دیا،وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے ملزم کو معاف کرنے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔

    ملزم ریمنڈ ڈیوس نے ڈیڑھ ماہ قبل27 جنوری کو لاہور کے مزنگ چوک میں دو افراد فیضان اور فہیم کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا،واقعے کے بعد اسے مقامی پولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا،ابتدائی طور پر یہ کیس مقامی عدالت میں چلا تاہم اس پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے رویے امریکی دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد حساس نوعیت اختیار کرنے پر اس کی سماعت سنٹرل جیل لاہور میں کی جاتی رہی۔

    کیس کی سماعت کے دوران سفارتی اسثنا سمیت کئی قانونی معاملات زیربحث اور زیرغور آتے رہے اور مختلف نوعیت کے نشیب و فراز کے بعد بالآخر آج اسے رہائی مل گئی،مقتولین کے ورثا کے وکیل اسد منظور بٹ نے الزام عائد کیا کہ آج سنٹرل جیل میں کیس کی سماعت تھی،سماعت سے قبل فیضان اور فہیم کے ورثا کو گھروں سے اٹھا کر عدالت میں لایا گیا ،وکلا کو بھی گن پوائنٹ پر روکا گیا اور کوئی بات میڈیا کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔وکیل کے مطابق ورثا سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے.

    جس کے بعد پہلے امریکی قونصلیٹ کی چار گاڑیاں روانہ ہوئیں اور بعد میں وکلا کو نکلنے کی اجازت دی گئی۔پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے امریکی ملزم ریمنڈ ڈیوس کو بری کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ساری کارروائی قانون کے مطابق انجام دی،عدالت میں پہلے ملزم پر فرد جرم عائد ہوئی،جس کے بعد ورثا بھی عدالت میں پیش ہوئے ،جن کی طرف سے دیت کے کاغذات پیش کیے گئے،رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ دیت کے معاملے سے حکومت پنجاب کا کوئی تعلق نہیں ،عدالت کو ملزم کو معاف کرنے کا حق ہے ،حکومت یا پراسیکیوٹر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔
    ..........
    امریکا پاکستان سے اپنے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایک اہلکار دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔اس کی رہائی کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنے کی غرض سے لاہور کی ایک مقامی عدالت میں مقدمے کی سماعت کی گئی جس کے دوران نہ صرف انصاف کا خون کیا گیا ہے بلکہ قانون بھی دیکھتا رہ گیا ہے کہ اس کے ساتھ کیا مذاق ہوا ہے۔

    متاثرہ خاندانوں کے وکیل نے بتایا ہے کہ وارثوں خون بہا لینے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ان پر گذشتہ کئی دنوں سے نادیدہ قوتوں کی جانب سے خون بہا لینے کے لیے دباو ڈالا جارہا تھا۔صوبہ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دیت کی رقم مقتولین کے وارثوں کو ادا کردی گئی ہے جس کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو امریکی قونصل جنرل کے حوالے کردیا گیا ہے۔

    وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے موقف اختیار کیا کہ مقتولین کے ورثا کی طرف سے ملزم کو معاف کرنے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔27 جنوری کو لاہور کے مصروف علاقے مزنگ چونگی میں واقع قرطبہ چوک کے قریب ایک گاڑی میں سوارامریکی قونصل خانے کے اس ملازم نے موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں فیضان اور فہیم کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ اس کی مدد کو آنے والی دوسری کار نے مخالف سمت سے آنے والے ایک اور موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا اور وہ موقع پرجاں بحق ہوگیا تھا۔

    واقعے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو لاہورپولیس نے گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا،ابتدائی طور پر یہ کیس مقامی عدالت میں چلا تاہم امریکی دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد حساس نوعیت اختیار کرنے پر اس کیس کی سماعت سنٹرل جیل لاہور میں کی جاتی رہی۔

    کیس کی سماعت کے دوران سفارتی اسثنا سمیت کئی قانونی معاملات زیربحث آئے اور مختلف نوعیت کے نشیب و فراز کے بعد بالآخر بدھ کو ڈیڑھ ماہ کے بعد قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہا کردیا گیا ہے۔مقتولین کے ورثاء کے وکیل اسد منظور بٹ نے الزام عاید کیا ہے کہ آج سنٹرل جیل میں کیس کی سماعت سے قبل فیضان اور فہیم کے ورثاء کوان کے گھروں سے اٹھا کر عدالت میں لایا گیا۔

    وکلاء کو بھی گن پوائنٹ پر روکا گیا اور کوئی بات میڈیا کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔وکیل کے مطابق ورثاء سے زبردستی دیت کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے ،جس کے بعد پہلے امریکی قونصلیٹ کی چار گاڑیاں روانہ ہوئیں اور بعد میں وکلاء کو نکلنے کی اجازت دی گئی۔

    پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ عدالت نے ساری کارروائی قانون کے مطابق انجام دی ہے۔عدالت میں پہلے ملزم پر فردجرم عاید ہوئی،جس کے بعد ورثا بھی عدالت میں پیش ہوئے ،جن کی طرف سے دیت کے کاغذات پیش کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ دیت کے معاملے سے حکومت پنجاب کا کوئی تعلق نہیں ،عدالت کو ملزم کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے ،حکومت یا پراسیکیوٹر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔

    واضح رہے کہ چھتیس سالہ ریمنڈ ایلن ڈیوس کا تعلق ورجینیا سے ہے۔وہ امریکا سابق خصوصی فوجی ہے اور امریکی فوج میں دس سال تک رہا ہے۔اگست 2003ء میں اس نے فوج کو چھوڑ دیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں اس کے کردار کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہا تھا کہ وہ سفارت خانے کے انتظامی اور ٹیکنیکل اسٹاف کا رکن تھا۔

    پاکستان کے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ لاہور میں دوشہریوں کے قتل کے الزام میں زیرحراست ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ''انہیں دفتر خارجہ نے31 جنوری کو ایک بریفنگ دی تھی جس میں انہیں بتایا گیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے''۔

    سابق وزیرخارجہ کے اس بیان سے باوجود بعض حکومتی عہدے دار امریکا کو خوش کرنے کے لیے ریمنڈ ڈیوس کو سفارت کار ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زورلگا تے رہے تھے تاکہ اسے ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ دیا جاسکے۔

    امریکا اپنے قاتل مبینہ اہلکار یا سفارتکار کی رہائی کے لیے پاکستان کی کم زور حکومت پرمسلسل دباو ڈالتا رہا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں سردمہری آئی تھی اور دوسرے عہدے داروں کے علاوہ خود امریکی صدربراک اوباما نے پاکستان سے دوشہریوں کے قاتل مبینہ سفارت کارکو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسے ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے کوششوں کے ضمن امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ان سے ملاقات میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملہ کو پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے،کیس زیرسماعت ہے اور سفارتی استثنیٰ کا فیصلہ عدالت کرے گی۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ مقتولین کے ورثاء اورپاکستانی عوام ریمنڈ ڈیوس کیس میں بنیادی فریق ہیں۔

    عدالت عالیہ لاہور نے اس کیس کے فوری بعد پاکستانی حکومت کو دو نوجوانوں کے قاتل کو امریکا کے حوالے نہ کرنے کا حکم دیا تھااوراس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد اس کانام اس لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔عدالت نے قراردیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو اس کے خلاف مقدمے کی سماعت تک پاکستان سے بیرون ملک منتقل نہیں کیا جاسکتا۔عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں قراردیا تھا کہ ڈیوس کو حاصل سفارتی استثنیٰ کے حوالے سے فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے لیکن اب عدالت عالیہ میں یہ معاملہ جانے سے پہلے ہی نمٹا دیا گیا ہے۔

    پاکستان کی دینی اور سیاسی جماعتیں صدر آصف زرداری کی قیادت میں حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کو امریکا کے حوالے کرنے سے باز رہے ورنہ اس کے خلاف تحریک چلائی جائے گی جبکہ اس واقعے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئی تھیں۔اب اس کی مقتولوں کے ورثا پر دباو ڈال کر رہائی کے بعد پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے اور قاتل ڈیمنڈ کی اس طرح اچانک رہائی سے امریکا مخالف جذبات میں مزید شدت آئے گی۔[size=large]
    .................................................. .....................
    اہم سوالات:
    ..............
    1:قاتل کو مقتولین کے وارثین نے معاف کر دیا اسلیے ریمنڈ ڈیوس رہا ہو گیا ،مگر حکومت پاکستان کا کیس کہاں ہے اور کدھر ہے ،؟؟؟؟؟؟؟ جاسوسی ،دھشت گردوں کے نیٹ ورک سے اس کے تعلقات اور اس پر زبردست تحقیق ، نیٹ ورک دریافت ہوئے ؟؟؟؟؟؟؟ کیا کیس درج کرتے ہوئے جاسوسی کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا ، کیا پاکستان مخالف دھشت گرد رابطوں پر اس کے خلاف دھشت گردی کا مقدمہ قائم ہوا تھا ؟؟؟؟ بار بار حکومت
    یہ کہتی رہی جو فیصلہ عدالت کرے گی وہی سب کو منظور ہو گا ، عدالت کے سامنے ریمنڈ کے خلاف صرف دو کیس تھے ، ایک اس کے پاس غیر قانونی اسلحہ تھا ، دوسرا اس نے دو پاکستانیوں کو قتل کر دیا ،، پہلے کیس میں اس کی ضمانت ہو گئی ، اب رہ گیا دوسرا کیس ،، اس میں انہوں نے بیس کروڑ یا پچاس کروڑ وارثین کو ادا کر دیا ،..جتنا کیس لایا گیا ، عدالت نے اس کیس کی بنیاد پر ہی فیصلہ دینا تھا .. اس کیس میں مدعی صرف مقتولین کے لواحقین تھے ، نہ کہ حکومت ،،،حکومت نے حکومت پاکستان اور پاکستان کی سلامتی کے لیے کیا رول ادا کیا؟؟؟؟ ملک کو فروخت کر دیا ،اورخود اپنے لیے ڈالر لے لیے؟؟؟؟

    2:تیسرے مقتول عباد الرحمن کو جو اس حادثے میں مارا گیا ، اس کے بارے کیا پیش رفت ہوئی ، اس کے وارثوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ، اس بارے کیا پیش رفت ہوئی ؟؟؟؟؟؟ اس کا بھی اسی معاملے میں تعلق تھا ،اسی کیس کے ساتھ وہ کیس بھی منسلک تھا ،وہ مقدمہ نامعلوم افراد کے متلعق کیوں درج کیا گیا ؟؟؟؟؟؟ اور اس کو داخل دفتر کیوں کر دیا گیا .؟؟؟؟؟

    3:وہ اہم آدمی یا رھنما کون تھا ؟؟؟؟ جو اسوقت ریمنڈ ڈیوس کی گاڑی میں موجود تھا ،جس کو بچانے کے لیے دوسری گاڑی میں امریکن کمانڈوز آئے تھے اور عبادالرحمن مارا گیا تھا ،جو ریمنڈ سے زیادہ اہم تھا ؟؟؟؟ اس بارے کیوں چپ سادھ لی گئی ؟؟؟

    4:انٹرنیشل سطح پر کسی حکومت کی قیمت اس کے کاموں کی وجہ سے بنتی ہے ، امریکہ نے اپنے شہری یا اپنے سی آئی اے کے سٹاف کے لیے جو دباؤ ،جو ذرائع استعمال کیے ، کیا حکومت پاکستان نے عافیہ صدیقی کے لیے استعمال کیے؟؟؟؟ یا اپنے کسی بھی بندے کے لیے استعمال کیے ؟؟؟؟ ہماری وقعت عزت اور وقار کو چند ڈالروں کے عوض کیوں فروکت کیا جاتا ہے؟؟؟، ہمیں کیوں دنیا بھر میں ذلیل کیا جاتا ہے کہ پاکستانی وہ قوم ہیں جو چند ٹکوں کے عوض ملک کیا اپنی ماں تک بیچ سکتے ہیں ،؟؟؟؟؟
    ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ جج یوسف اوجلہ صاحب نے اس اہم ترین کیس کا فیصلہ کیا تھا ، انہوں نے فیصلہ سنانے سے پہلے اپنے تحفظات دور کر لیے تھے اور ساتھ ہی انہوں نے چھٹی بھی طلب کی ہوئی تھی اور وہ فیصلہ سنانے کے فورا بعد چھٹی پر روانہ ہو گئے ، کیا حکومت پاکستان اس سارے واقعے میں معصوم نظر آ رہی ہے ؟؟؟؟
    اسکو کتنےکروڑ میں خریدا گیا ہے؟؟؟؟

    5: اس معاملے میں جو اچھل کود گورنمنٹ نے کی . استعفے لیے گیےاور پبلک میں جو ھیجان برپا کیا گیا ، اور اب ان کو لڑنے مارنے اور توڑ پھوڑ کرنے کے لیے کیوں موقع دیا گیا ؟؟؟؟ کیوں حکومت نے پاکستان کے عوام کو ذھنی ھیجان ، کرب اور عذاب میں ڈالا اور اس قوم میں مایوسی طاری کی اس کا کون حساب دے گا ؟؟ کیوں لوگ خود کشیاں کرتے ہیں ؟؟؟؟؟

    6: حکومت پاکستان کے منہ پر تماچے مارے جا رہے ہیں ،خود پاکستان ، امریکا اور بڑے سے بڑا آدمی کھلم کھلا جھوٹ بول رہا ہے، ہیلری کلنٹن اور وزارت خارجہ امریکا کھلے عام کہہ رھے ھیں کہ انہوں نے کسی کو کوئی رقم ادا نہیں کی ،، تو جو رپورٹیں اور معائدہ دیت جو جج صاحب کے سامنے رکھا تھا اس پر کیا امریکا کی حکومت کے دستخط ہیں ،کیا سفارت خانہ نے اس کی ادائیگی کی ، یا یہ ادائیگی بھی خود حکومت پاکستان نے کی ہے؟؟؟؟؟؟
    [/size]





  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: ریمنڈ ڈیوس اور حکومت پاکستان

    [size=large]چھوڑیں بے باک جی کسی سوال کا کوئی جواب نہیں ملے گا..... میں خود یہ خبر سننے کے بعد سے انتہائی کرب کی حالت میں ہوں. یہ سب بہت بالا بالا ہوا.غیرملکی حکومتیں بھی اس ڈیل میں ملوث ہیں بہر حال میرا سر شرم سے جھک گیا ہم بکاؤ مال ہیں آج اس کا صرف احساس ہی نہیں بلکہ یقین ہو گیا.[/size]

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: ریمنڈ ڈیوس اور حکومت پاکستان

    [size=x-large]ٔجس چیز کا ڈر تھا وہ تو ہوگیا، سوالات جو بے باک بھائی نے اٹھائے ہیں وہ ہم سب کے ذہن میں ہیں لیکن اس کا جواب دینے والا کون ہے؟؟؟
    کوئی نہیں ہے؟؟ میرا تو دل خون کے آنسو رورہا ہے، ایک طرف یہ خوشی ہوئی کہ کوئی تو ایسا پکڑا گیا جو بمع تمام ثبوت کے اور تمام واقعات کی فلم بندی کے ساتھ، لیکن ہوا کیا؟؟؟ مضمون سے بہت حد تک واضح ہے۔
    اللہ ہی ہمارے حال پر رحم فرمائے، اللہ ہمیں اچھا کردے نیک بنادے اور اپنی محبت نصیب فرمادے ۔ حکمران عوام کی حالت کے مطابق آتے ہیں، اب جیسی ہماری حالت ویسے ہی حکمران ۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دینی حمیت سے نوازے تو یقینا ہمارے حکمران بھی غیرت مند آئیں گے۔
    باقی اس کے سوا کیا کہہ سکتا ہوں کہ:
    اب پچھتائے کیا ہوت
    جب چڑیا چُگ گئیں کھیت
    [/size]

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    350
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    RE: ریمنڈ ڈیوس اور حکومت پاکستان

    [size=x-large]کل سنا صبح کے اس پر دفع 302 کے تحت فرد جرم عائد کر دی گی ہے جس کی سزا اسے سزاے موت یا عمر قید ہو گی لیکن جب یہ بات پتا چلی کہ ریمنڈ رہا ہو گیا ہے بس!!!!
    اتنا دکھ تب نہین ہوا تھا جب وہ لوگوں کو قتل کیا تھا اس نے جتنا اس بات پر ہوا کے وہ رہا ہو گیا ہے
    اسلام میں اجازت ہے اس بات کی کہ اگر ورثا معاف کر دیں تو معافی ہے کسی بھی چیز کے بدلے یا ویسے معافی
    لیکن وہ قتل تو معاف کر دیے ان کے ورثا نے پتا نہین کیے بھی کہ نہین
    دکھ اس بات کا ہے کہ پیسے لے کر معاف کیا امریکہ کہتا ہے کہ پیسے نہی دیے اس نے ہم نے مطلب ہم خود ہی ایسے ہیں ؟
    اور جیسے اپ نے لکھا کہ باقی جو پاکستان حکومت کی طرف سے اس پر کیس تھے وہ کہاں گے ؟
    وہ بھی ورثا نے معاف کرنے تھھے کیا؟
    اصل میں ہم اسی وجہ سے ترقی نہین کر سکتے کہ جو چیز سامنے ہے اس کو بھی چھوڑ دیا گیا جان بوجھ کر
    تو ترقی خاک کرنی ہے جیسے حکمران ہوں گے ویسی ہی عوام ہو گی
    مطلب کے میری تو ایک بار پھر سے یہ ہی راے ہے کہ ہمارے حکمران نہین چاہتے کہ ہمارا ملک کچھ کرے یا پھر یہ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ امریکہ کے ہی تلوے چاٹتے رہیں
    وہی بات کہ پیسہ ہی دنیا میں سب سے زیادہ عزیز چیز ہو گی
    ایک ارب روپے کا معاہدہ ہوا جس میں سے بیس کڑور روپے دیے گے مطلب کے پیسہ ہضم بات ختم!
    میرا تو دل کر رہا ہے اپنے سیگنیچر ہی چینج کر لوں اب تو ان کو دیکھ کر بھی ہنسی آتی ہے
    [/size]:@

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-14-2013, 11:40 PM
  2. جوابات: 1
    آخری پيغام: 08-30-2012, 11:46 AM
  3. جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-14-2012, 12:37 PM
  4. جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-31-2010, 10:57 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University