صفحہ 2 از 2 اوليناولين 12
نتائج کی نمائش 11 تا: 14 از: 14

موضوع: اللہ یا خدا

  1. #11
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    30
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: اللہ یا خدا

    [size=x-large][align=justify] جی ہاں ! بہت اچھی شیئرنگ ہے ... ناصر بھائی حسب معمول ایسے موضوعات لے کر آ رہے ہیں جن کے بارے میں ہم سے قبر میں کچھ نہ پوچھا جائے گا . . . بھائی امت مسلمہ اس جن مسائل میں گھری ہوئی ہے ان کو فوکس کریں .......آپس میں لڑانے والی باتیں کیوں کرتے ہیں . . . مسلمان اکابرین کم از کم تیرہ سو سال سے لفظ خدا کا استعمال کرتے آ رہے ہیں . . . حیرت ہے ان کو یہ بات معلوم نہ ہوسکی . . . اور آج کے چند لوگوں کو یہ باتیں معلوم ہونے لگیں .. . عقل بسوخت ز حیرت کہ این چہ بوالعجبی است . . .
    اصل میں یہ ایک تحریک ہے . . . کہ مسلمانوں کا اپنے بڑوں پر سے اعتماد ختم ہوجائے . . .جب اعتماد ختم ہوجائے گا تو وہ ان کی مانیں گے ہی کب .... . . . . جب مانیں گے نہیں تو ہر شخص خود ہی مجتہد بننے لگے گا . . . اور خود رائی سے جو حال ہوگا . . . الامان والحفیظ . . . لوگ اپنی سمجھ کو شریعت کا فیصلہ سمجھنے لگیں گے اور اکابرین کو غلط کار یا کم از کم فریب خوردہ تو سمجھنیں گے ہی . . . اس کے بعد کیا ہوگا . . . وہ حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے . . . [/align]
    [/size]

    [size=x-large][align=center]حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہ صَلَّى اللَّہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ إِذَا لَعَنَ آخِرُ ھذہ الامۃ أَوَّلَہا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللّہ .
    ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اس امت کے بعد میں آنے والے لوگ اپنے پیش روؤں کو لعن طعن کرنے لگیں گے تو اس وقت جس نے دین کی بات چھپائی تو اس نے گویا اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپایا . (او کما قال علیہ الصلاۃ والسلام) [/align]
    [/size]

    [size=x-large][align=justify] بہرحال یہ سوال اس سے پہلے بھی پوچھا جاتا رہا ہے لہذا اس کو آپ کے مسائل اور ان کا حل سے پیش کرتا ہوں تاکہ . . . صحیح صورت حال واضح ہوجائے ...
    سوال: صورت حال یہ ہے کہ میرے ایک چچا انڈیا میں رہتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ایک خط میں لفظ خدا کا استعمال کیا تھا ( میرا خیال ہے خدا حافظ لکھا تھا) جس پر انہوں نے مجھے لکھا کہ لفظ خدا کا استعما ل غلط ہے۔ اللہ کیلئے لفظ خدا ستعمال نہیں ہو سکتا ۔ جس کے جواب میں میں نے لکھا تھا کہ میرے خیال میں خدا لکھنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ بس ہمارے ذہن میں اللہ کا تصور پختہ ہونا چاہئے ۔اور اگر لفظ خدا غلط ہے تو تاج کمپنی جس کے قرآن پاک تمام دنیا میں پڑھے جاتے ہیں کے تر جموں میں لفظ خدا استعمال نہ ہوتا ۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ آپ قرآن وسنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ کیا لفظ خدا کا
    استعمال غلط ہے ؟۔
    جواب : اللہ تعالیٰ کیلئے لفظ خدا کا استعمال جائزہے اورصدیوں سے اکا برین اس کو استعمال کرتے آئیں ہیں اور کبھی کسی نے اس پر نکیر نہیں کی۔ اب کچھ لوگ پید اہو ئے ہیں جن کے ذہن پر عجمیت کا وہم سوار ہے۔
    انہیں با لکل سیدھی سادھی چیزوں میں ،،عجمی سازش،، نظرآتی ہے یہ ذہن غلام احمد پرویز اور اس کے ہمنواؤں نے پیدا کیا اور بہت سے پڑھے لکھے شعوری وغیر شعوری طور پر اس کا شکار ہو گئے۔اسی کا شاخسانہ یہ بحث ہے جو آپ نے کی ہے ۔عربی میں لفظ رب مالک، اور صاحب کے معنیٰ میں ہے (رب البیت ادریٰ بما فیہ عربی کا محا ورہ ہے۔ناقل) اسی کا ترجمہ فارسی میںلفظ خدا کے ساتھ کیا گیا ہے ۔چنانچہ جس طرح لفطِ رب کا اطلاق بغیر اضافت کے غیر اللہ پر نہیں کیا جاتا ۔ اسی طرح لفظ خدا بھی جب مطلق بولا جائے تو اس کا اطلاق صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کسی دوسرے کو خدا کہنا جائز نہیں ۔
    غیاث اللغات میں ہے۔ خدا با لضم بمعنیٰ مالک ،صاحب ،چوں لفظ خدا مطلق باشد بر غیر ذاتِ باری تعالیٰ اطلاق نہ کنند مگر در صورتے کہ بچیزے مضاف شود، چوں کد خدا ودہ خدا ۔
    ٹھیک یہی مفہوم اور یہی استعمال عربی میں لفظ رب کا ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی نام ہے جس کا نہ کوئی ترجمہ ہو سکتا ہے نہ کیا جاتا ہے ۔ دوسرے اسمائے الٰہیہ صفاتی نام ہیں جن کا ترجمہ دوسری زبانوں میں ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے ۔اب اگر اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں میں سے کسی با برکت نام کا تر جمہ غیر عربی میں کر دیا جائے او ر اہل زبان اس کو استعمال کر نے لگیں تو اس کے جائز نہ ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہو نے کی آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟اور جب ،،لفظ خدا،، صاحب اور مالک کے معنیٰ میں ہے اور لفظ ،، رب،، کے مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے تو آپ ہی بتا ئیے کہ اس میں مجو سیت یا عجمیت کا کیا دخل ہوا کیا انگریزی میں لفظ ،،رب،، کا کوئی اور ترجمہ ٰ کیا جائے گا ؟اور کیا اس ترجمے کا استعمال یہودیت یا نصرانیت بن جائیگی ؟افسوس ہے کہ لوگ اپنی ناقص(در ناقص،ناقل) معلومات کے بل بوتے پر خود رائی میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انھیں اسلام کی پوری تاریخ سیا ہ نظرآنے لگتی ہے اور وہ چودہ صدیوں کے تمام اکابر کو گمراہ یا کم سے کم فریب خوردہ تصور کر نے لگتے ہیں ۔یہی خود رائی انہیں جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے ۔
    آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد ۱ ص ۳۸۴۔۳۸۵

    اللہ تعالی غلط افکار و خیالات سے محفوظ فرمائیں .[/align]
    [/size]

  2. #12
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: اللہ یا خدا

    اللہ تعالیٰ کے ننانوے 99معلوم اسماء حسنیٰ میں لفظ خدا شامل نہیں ۔لفظ خدا آتش پرست لوگ اپنے خود ساختہ خیر و شر کے خداؤں یعنی یزداں اور اہر من کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ لفظ ایرانی آتش پرستوں کا باطل تصورات کا مظہر ہے۔مزید یہ کہ عیسائی اس لفظ کوبطورضداللہ کی جگہ استعمال کرتے ہیں بائبل کے تراجم پڑھ لیں کہیں بھی لفظ اللہ لکھا نہیں ملے گا بلکہ خدا ہی ملے گا۔اردوزبان میں عیسائی لٹریچر میں خدا اور خداوند ہی لکھا جاتا ہے.
    کسی بھی جگہ،چیزیاشخصیت کے نام کو اسم کہتے ہیں۔اس کی دو قسمیں ہیں۔معرفہ اور نکرہ۔معرفہ خاص نام کواورنکرہ عام نام کو کہتے ہیں۔معرفہ کی چھ اقسام ہیں جن میں ایک اسم علم ہے اسم علم کسی کے ذاتی نام کو کہتے ہیں جیسے ابو بکر،عمر،زید وغیرہ۔مالک کائنات اور سارے جہانوں کے رب کا اسم ذات اللہ ہے۔باقی سارے نام صفاتی ہیں۔اسم ذات کا ترجمہ نہیں کیا جات
    اپ نے اپنے چچاکادین میں کوئی اہمیت نہیں رکھتابلکہ اگرقرآن یا آحادیث نبوی میں سے کوئی ثبوت ہے توارسال کریں.
    قبرمیں کیوں نہیں پوچھاجائے گا.اس آیت کوغورسے پڑھو.
    قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ کاارشادہے.
    اللہ کے لیے ہیں سب اسماء حسنیٰ سو اس کو انہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کوچھوڑ دو جو اس کے ناموں میں الحاد (کج روی)اختیار کرتے ہیں۔ان کو اس کی سزامل کر رہے گی۔الاعراف 18

    لفظ اللہ کاکوئی بھی نعم البدل نہیں ہوسکتا.(لفظ خدا، بھگوان،پریمیشور،گاڈ کواللہ سے منسوب کرکے اس عظیم ہستی کی توہین مت کریں.جب اس نے اپنا نام خود بتادیاتم کون ہواس کونام دینے والے.)

  3. #13
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jul 2011
    پيغامات
    12
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: اللہ یا خدا

    جزاک اللہ خیر بہت ہی عمدہ شئیرنگ۔ شکریہ

  4. #14
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jun 2015
    پيغامات
    1
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: اللہ یا خدا

    اسلام علیکم،
    میں اس پوسٹ سے اتفاق نہیں کرتا کیوںکہ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ
    [17:110] تُو کہہ دے کہ خواہ اللہ کو پکارو خواہ رحمان کو۔ جس نام سے بھی تُم پکارو سب اچھے نام اُسی کے ہیں۔ اور اپنی نماز نہ بہت اُونچی آواز میں پڑھ اور نہ اُسے بہت دھیما کر اور اِن کے درمیان کی راہ اختیار کر۔
    خدا کوئی نام نہیں ہے بلکہ فارسی میں معبود کو خدا کہتے ہیں، اور اردو زبان میں فارسی اور عربی کے کئی الفاظ موجود ہیں اسی لحاظ سے معبودکی جگہ خدا تعالی کہا جاتا ہے،یہ کوئی شرک نہیں، انگریزی میں گارڈ کوئی نام نہیں بلکہ معبود کو ہی گارڈ کہا جاتا ہے۔
    اس لئے خدا تعالی سے نفیوز ہونے کی ضرورت نہیں، یہ کوئی شرک نہیں۔


صفحہ 2 از 2 اوليناولين 12

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University