اسلام خواتین کے لئے کن حقوق کا قائل ہے؟

ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جوپہلے مراحل سے بہت مختلف تھی، یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے فیض یاب ہوئی، عورت کے سلسلہ میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا ذکر قرآنی آیات میں ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہوتا ہے: <لَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوف> ” عورتوں کے لئے ویسے ہی حقوق بھی ہیں جیسی ذمہ داریاں ہیں“۔
اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح ،ارادہ اور اختیار کا حامل سمجھتا ہے اور اسے سیرِ تکامل اور ارتقا کے عالم میں دیکھتا ہے جو مقصد خلقت ہے، اسی لئے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں قرار دیتا ہے اور دونوں کو ”یا ایہا الناس“ اور ”یا ایہا الذین آمنوا“ کے ذریعہ مخاطب کرتا ہے، اسلام نے دونوں کے لئے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دئے ہیں، ارشاد الٰہی ہوتا ہے:
<وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنْثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاٴُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ>
”اور جو نیک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان بھی ہو اسے جنت میں داخل کیا جائے گا“۔
ایسی سعادتیں دونوں صنف حاصل کرسکتی ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
< مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَکَرٍ اٴَوْ اٴُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاةً طَیِّبَةً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ اٴَجْرَہُمْ بِاٴَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ>
”جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے“۔
مذ کورہ آیات اس بات کو واضح کردیتی ہیں کہ مرد ہو یا عورت اسلامی قوانین و اعمال پر عمل کرتے ہوئے معنوی اور مادی کمال کی منزلوں پر فائز ہوسکتے ہیں اور ایک طیب و طاہر زندگی میں قدم رکھ سکتے ہیں جو آرام و سکون کی منزل ہے۔
اسلام عورت کو مرد کی طرح مکمل طور پر آزاد سمجھتا ہے ، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے:
<کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِینَةٌ > ”ہر نفس اپنے اعمال کا رہین ہے“۔
یا ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
<مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ اٴَسَاءَ فَعَلَیْہَا>”جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو بُرا کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا“۔
اسی طرح یہ آیت بھی مرد اور عورت دونوں کے لئے ہیں، اسی لئے سزا کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
<الزَّانِیَةُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِاٴةَ جَلْدَةٍ>
”زنا کار عورت اور زنا کار مرد دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جا ئیں“۔
اس کے علاوہ دیگر آیات میں بھی ایک جیسے گناہ پردونوں کے لئے ایک جیسی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔
ارادہ و اختیار سے استقلال پیدا ہوتا ہے، اور اسلام یہی استقلال اقتصادی حقوق میں بھی نافذ کرتا ہے، اسلام بغیر کسی رکاوٹ کے عورت کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مالی معاملات انجام دے اور عورت کو اس سرمایہ کا مالک شمار کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
<ٍ لِلرِّجَالِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ>
”مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انھوں نے کمایا ہے“۔
لغت میں ”اکتساب“ کے معنی کسب اور حاصل کرنے کے ہیں،اسی طرح ایک دو سرا قانون کلی ہے:
”النَّاسُ مُسَلِّطُونَ عَلَی اٴمْوَالِھِمْ“ یعنی تمام لوگ اپنے مال پر مسلط ہیں۔
اس قانون کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کے اقتصادی استقلال کا احترام کرتا ہے اور عورت مرد میں کسی فرق کا قائل نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلام کی نظر میں عورت؛ معاشرہ کا ایک بنیادی رکن ہے اسے ایک بے ارادہ، محکوم ، سر پرست کا محتاج سمجھنا خیال خام ہے۔
مساوات کے معنی میں غلط فہمی نہ ہو:
اسلام نے مساوات کی طرف خاص توجہ دی ہے اور ہمیں بھی متوجہ ہونا چاہئے لیکن خیال رہے کہ بعض لوگ بے سوچے سمجھے جذبات میں آکر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں اور مرد و عورت کے روحانی و جسمانی فرق اور ان کی ذمہ داریوں کے اختلاف تک سے انکار کر بیٹھتے ہیں۔
ہم جس چیز کا چاہیں انکار کریں تاہم اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ دو صنفوں میں جسمانی اور روحانی طور پر بہت فرق ہے، مختلف کتابوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں ،یہاں اس کی تکرار کی ضرورت نہیں، خلاصہ یہ کہ عورت وجودِ انسانی کی پیدائش کا ظرف ہے، نونہالوں کا رشد اسی کے دامن میں ہوتا ہے، جیسے وہ جسمانی طور پر آنے والی نسلوں کی پیدائش ،تربیت اور پرورش کے لئے پیدا کی گئی ہے اسی طرح روحانی طور پر بھی اسے عواطف ،احساسات اور جذبات کا زیادہ حصہ دیا گیا ہے ۔
ان وسیع اختلافات کے باوجود کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرد عورت کو تمام حالات میں ہم قدم ہونا چاہئے اور تمام کاموں میں سو فیصد مساوی ہونا چاہئے ؟!
کیا عدالت اور مساوات کے حامیوں کو معاشرے کے تقاضوں کے حوالے سے بات کرنا چاہئے ؟کیا یہ عدالت نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کرے اوراپنے وجود کی نعمتوں اور خوبیوں سے فیض یاب ہو؟اس لئے کیا عورت کا ایسے کاموں میں دخل اندازی کرنا جو اس کی روح اورجسم سے مناسبت نہیں رکھتے ،خلاف ِعدالت نہیںہے!
یہی وہ مقام ہے جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام جو عدالت کا طرفدار ہے کئی ایک اجتماعی کاموں میں سختی یا زیادہ دقتِ نظروالے کاموں مثلاً گھر کے معاملات کی سر پرستی وغیرہ میں مرد کو مقدم رکھتا ہے اور معاونت وکمک کا مقام عورت کے سپرد کر دیتا ہے ۔
ایک گھر اور ایک معاشرے کومنتظم ہونے کی ضرورت ہو تی ہے اور نظم و ضبط کا آخری مرحلہ ایک ہی شخص کے ذریعہ انجام پانا چاہئے ورنہ کشمکش اور بے نظمی پیدا ہوگی۔
اگر تمام تعصبات سے بے نیاز ہو کر غور کیا جائے تو یہ واضح ہو جا ئے گا کہ مرد کی ساخت کے پیش نظر ضروری ہے کہ گھر کی سر پرستی اس کے ذمہ کی جائے اور عورت اس کی معاون ہو، اگر چہ کچھ لوگ ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنے پرمُصر ہیں۔
آج کی دنیا میں بھی بلکہ ان اقوام میں بھی جو عورتوں کو مکمل آزادی ومساوات دینے کا دعویٰ کرتے ہیں،خارجی حالات زندگی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عملی طور پر وہی بات ہے جوہم بیان کر چکے ہیں اگر چہ باتیں اس کے برخلاف بناتے ہیں۔
عورت اور مرد کے معنوی اقدار قرآن مجید نے مرد و عورت کو بارگاہ خداوندی اور معنوی مقامات کے لحاظ سے برابر شمار کیا ہے، اور جنس و جسمانی اختلاف ، نیزاجتماعی ذمہ داریوں کے اختلاف کو ترقی و کمال کی منزل حاصل کرنے کے لئے دلیل شمار نہیں کیا ہے بلکہ اس لحاظ سے دونوں کو بالکل برابر قرار دیا ہے، اسی وجہ سے دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے، قرآن مجید کی بہت سی آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جس زمانہ میں متعدد اقوام و ملل عورت کو انسان سمجھنے میں شک کرتی تھیں اور اس کو نفرت و ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا نیز عورت کو گناہ ، انحراف اور موت کا سر چشمہ سمجھا جاتا تھا!!
بہت سی گزشتہ اقوام تو یہاں تک مانتی تھی کہخداوندعالم کی بارگاہ میں عورت کی عبادت قبول نہیں ہے، بہت سے یونانی عورت کے وجود کو پست و ذلیل اور شیطانی عمل جانتے تھے، رومیوں اور بعض یونانیوں کایہ بھی عقیدہ تھا کہ عورت میں انسان کی روح نہیں ہوتی بلکہ انسانی روح صرف اور صرف مرد میں ہوتی ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ انھیں آخری صدیوں میں اسپین کے عیسائی علمااس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرتے تھے کہ کیا عورت؛ مرد کی طرح انسانی روح رکھتی ہے یا نہیں یا مرنے کے بعد اس کی روح جاویداں ہوجاتی ہے یا نہیں؟ اور بحث و گفتگو کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے : چونکہ عورت کی روح؛ انسان و حیوان کے درمیان برزخ ہے (یعنی ایک حصہ انسانی روح ہے تو ایک حصہ حیوانی روح) لہٰذا اس کی روح جاویدانی نہیں ہے سوائے جناب مریم کے۔
یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تہمتیں جیسا کہ اسلام کو صحیح طور پر نہ سمجھنے والے افراد اعتراض کردیتے ہیں کہ اسلام تو صرف مردوں کا دین ہے ، عورتوں کا نہیں، واقعاً یہ بات کس قدر بیہودہ ہے، اصولی طور پر اگر عورت مرد کے جسمی اور عاطفی اور اجتماعی ذمہ داری کے فرق کے پیش نظر اسلامی قوانین پر غور و فکر کیا جائے تو عورت کی اہمیت اور عظمت پر ذرا بھی حرف نہیں آئے گا، اور اس لحاظ سے عورت مرد میں ذرا بھی فرق نہیں پایا جاتا، سعادت و خوشبختی کے دروازے دونوں کے لئے کھلے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: <بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ> (سب ایک جنس اور ایک معاشرہ سے تعلق رکھتے ہیں)