تحریر حسینہ عارف کاظمی
خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہےے ہیں۔ کتنے آسان پیرائے میں یہ بات سمجھا دی گئی کہ جس سے نہ کسی کی اہمیت کم ہوئی اور نہ ہی ضرورت سے زائد بڑھ گئی۔ قرآن مجید نے اکثر انبیاءعلیھم السلام کے ساتھ انکے رشتوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ان میں سے کچھ مردانہ رشتوں کے بارے میں تو بتایا گیا کہ وہ اپنے غلط عقائد کے باعث ان پراﷲتعالٰی کی ناراضگی نازل ہوئی لیکن نبیوں سے منسوب کوئی نسوانی رشتہ ایسا نہیں ملتا جواﷲ تعالی کے غضب کا شکار ہوا ہو، بلکہ ایک برگزیدہ نبی کو گود لینے کے عوض فرعون جیسے دشمن خدا کی بیوی بھی دولت ایمان سے مالا مال کر دی گئی۔جبکہ زمانہ جاہلیت میں جزیرة العرب میں عورت کے لئے کوئی قابل ذکر حقوق نہ تھے، عورت کی حیثیت کو ماننا تو درکنار اسکومعاشرے میں زندہ بھی رہنے کاحق تک نہ تھا، معاشرے میں عورت کا مرتبہ و مقام ناپسندیدہ تھا، وہ مظلوم اور ستائی ہوئی تھی، اور ہر قسم کی بڑائی اور فضیلت صرف مردوں کے لئے تھی۔ حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی مرد اچھی چیزیں خود رکھ لیتے اور بے کارچیزیں عورتوں کو دیتے، زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے اس طرزِ عمل کو قرآن حکیم یوں بیان کرتا ہے۔
(سور ة الانعام، 6 : 139)”اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کردیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے“
اس آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ زمانہ جہالت میںعورتوں اور مردوں کے درمیان چیزوں کی تقسیم اور لین دین کے معاملات میں نہ صرف تفریق کی جاتی بلکہ عورت کو مرد کے مقابلے میں نسبتاً کمتر سمجھا جاتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عورت کی حیثیت کا اقرار کرنا تو درکنار وہاں تو عورت سے اس کے جینے کا حق تک چھین لیا جاتاتھا۔ اس لئے لڑکی کے پیدا ہونے پر غصہ میں ہوتے اور انہیں زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں ان قوموں کے اس طرزِ عمل کی عکاسی یوں کی گئی ہے :
(سورة النحل، 16 ،58، 59)”اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے وہ لوگوں سے چ ±ھپا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں
© © © © © © ©اس آیت مبارکہ میں اﷲتعالیٰ نے دورِ جاہلیت کی اس غلط رسم کو بیان فرمایا ہے اور اسکی مذمت کی ہے۔اسی طرح اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا بھی جائزہ لیاجائے تو ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی، اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا، یونانی، رومانی، ایرانی اور زمانہ جاہلیت کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کمتر درجہ دیا جاتا تھا۔ مگر عورت کی عظمت، احترام اور اس کی صحیح حیثیت کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔اسلام نے بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی ممانعت کرکے دورِ جاہلیت کی اس رسم بد کا قلع قمع کیا۔اور عورت کو وہ بلند مقام عطا کیا جس کا وہ مستحق تھی۔
دین اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ
اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان کے عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا، اسلام کے علاوہ باقی تمام تہذیبوں نے خصوصاً مغرب جو آج عورت کی آزادی، عظمت اور معاشرے میں اس کو مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔ لیکن اس معاشرے نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو سبوتاژ کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لئے سینکڑوں قانون بنائے مگر یہ قدر ت کا کرشمہ ہے کہ عورت نے اسلام کے سوا اپنے حقوق کی کہیں داد نہ پائی۔الغرض یونانی تہذیب سے لے کر روم، فارس، ہندوستان، یہودی اور عیسائی تہذیب نے عورت کو معاشرے میں کمتر درجہ دے رکھا تھا،انہوں نے دنیا میں برائی اور موت کی ذمہ دار اور اصل وجہ عورت کو قرار دیا، حتیٰ کہ انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ (Henry-8) کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ اس نے اپنے دور میں پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کیا گیا تھاکہ عورت اپنی مقدس کتاب انجیل کی تلاوت تک نہیں کرسکتی کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی۔جدید تہذیب بھی عورت کو وہ حیثیت نہ دے سکی جس کی وہ مستحق تھی ۔ارتقائے تہذیب نے عورت و مرد کے درمیان فاصلوں کو اتنا بڑھا دیا کہ عورت کی حیثیت کو اور زیادہ پست کردیا۔ علاوہ ازیں مذہب اور خصوصاً بڑی بڑی تہذیبوں نے صنفِ نازک کو ناپاک بتا کر اس کا رتبہ اور بھی کم کردیا۔ مگر اسلامی تہذیب نے عورت کو عظیم مقام دیا، بلکہ کائنات کا اہم ترین جز قرار دیا۔
عصر حاضر کی جدید علمی تہذیب نے اسے ایک اٹل حقیقت تسلیم کر لیا ہے۔لیکن جہاں عورت کا وجود مرد کی زندگی کے نشو و ارتقاءمیں ایک حسین اور مو ¿ثر محرک تھا، وہاں مردوں نے عورت کو ہمیشہ اپنی عیش کوشی اور عشرت پرستی کا ادنیٰ حربہ اور ذریعہ تصور کیا اور یوں معاشرے میں اس کی حیثیت ایک زر خرید کنیز کی سی بن کر رہ گئی، اقوام عالم کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی تہذیب کی تباہی ایسے حالات میں ہوئی جب عورت اپنی صحیح حیثیت کھو بیٹھی اور مرد کے ہاتھوں میں آلہ کار بن گئی۔اسلام کی آمد عورت کے لئے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کاپیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور عورت کو وہ حیثیت عطا کی جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔اﷲ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدائ) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا پھر
ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا“
اﷲ تعالیٰ کے ہاں نیک عمل کا اجر دونوں کے لئے برابر قرار پایا ہے، کہ جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا اسے پوری اور برابر جزاءملے گی، اس کو پاکیزہ زندگی اور جنت میں داخلے کی خوش خبری ملے گی، ارشاد ربانی ہے : (النحل، 16 : 97)
”جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے،اور انہیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے اﷲ تعالیٰ نے اپنی رضا اور پاکیزہ زندگی دنیا و آخرت میں عطا کئے جانے کی خوشخبری کو عمل صالحہ کے ساتھ مشروط کیا، جس طرح دوسرے مقام پر عملِ صالحہ کو جنت کے داخلے اور رزقِ کثیر کے ساتھ مشروط کیا، ارشاد فرمایا : (سورة المومن، 40 : 40)
”جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا ۔اسی طرح ارشاد باری ہے :
(آل عمران،3 : 195)”پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا) یقینا میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت“
اس طرح دین اسلام نے مرد و عورت کو برابر کا مقام عطا فرمایا بلکہ عورت کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی بھی قدیم اور جدید تہذیب نے نہیں دیا۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا، اور ایک بیٹی کو احترام و عزت کا مقام عطا کیا، اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت میں حقدار ٹھہرایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں عورت کے تمام روپ اور کردار کو اپنی زبانِ مبارک سے یوں بیان فرمایا کہ جس دور میں عورت ہو، جس مقام پر ہو اور اپنی حیثیت کا اندازہ کرنا چاہے تو وہ ان کرداروں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کو پہچان سکتی ہے ۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دونوں جہانوں کی عورتوںمیں بہترین عورتیں چار ہیں، حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام، (ا ±م المو ¿منین) حضرت خدیجہ علیھما السلام،حضرت سیدہ فاطمہ الزہراءسلام اﷲ علیہا اور فرعون کی بیوی آسیہ علیہاالسلام۔“
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عورتوں کی طرف اشارہ فرما کر حقیقت میں چار بہترین کرداروں کی نشاندہی فرمادی، اور وہ کردار جس سے اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوئے اور اس مقام سے سرفراز فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا، وہ کردار کیا ہے۔
ایک ماں کا کردار حضرت مریم بنت عمران علیھما السلام
ایک عظیم بیوی کا کردار حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما السلام
ایک عظیم بیٹی کا کردار حضرت فاطمہ الزہراءسلام اﷲ علیہا
ایک عظیم عورت کا کردار حضرت آسیہ علیہا السلام
ان چاروں کرداروں پر نظر دوڑا کر ہر عورت اپنی حیثیت کو پہچان کر اپنے کردار کو متعین کرسکتی ہے،کہ وہ کون سے راز تھے جنہوں نے ان ہستیوں کو خیر النساءکے لقب سے سرفراز کیا؟
حضرت مریم بنت عمران علیھما السلام
حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام حضرت مریم علیھا السلام کو بہترین عورت قرار دیا، اس میں کونسا راز اور حکمت تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ مقام ملا؟ اگر ہم حضرت مریم علیھا السلام کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ہو کر اﷲ کی بہت بڑی ولیہ کاملہ، شاکرہ اور صابرہ تھیں۔ اﷲ کی ذات پر اول و آخر اعتماد رکھتی تھیں۔ انہوں نے اﷲ کی رضا کے لئے خاندان کے طعنوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ وہ ایک ایسے عظیم بیٹے کی ماں بننے والی تھیں جو اﷲ کا نبی اور رسول تھا۔ وہ بہت پاکدامن اور پاکباز تھیں کہ جن کی پاکیزگی کی شہادت اﷲ نے خود اپنے شیر خوار نبی کی زبان سے پنگھوڑے میں دلوائی۔یہ وہ صفات تھیں جن کی وجہ سے سے اﷲ تعالیٰ نے آپ کو یہ مقام عطا فرمایا کہ عورتوں میں آپ کو منتخب فرمایا اور اس کا ذکر اپنی ابدی کتاب میں یوں فرمایا کہ (آل عمران، 3 : 42)
”اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور تمہیں آج سارے
جہان کی عورتوں پر برگزیدہ کر دیا ہے ©۔
پتہ چلا کہ جو کوئی اپنے آپ کو اپنے خدا کے سپرد کردیتا ہے، اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردیتا ہے، تو اﷲاس کو وہ مقام عطا کردیتا ہے کہ وہ جس جگہ رہتا ہے اﷲ اس کو متبرک کردیتا ہے اور دوسروں کی دعاو ¿ں کی قبولیت کی جگہ بنا دیتا ہے، کیونکہ حضرت مریم علیھاالسلام کی والدہ نے اﷲ سے وعدہ کیا تھا کہ مولا مجھے جو اولاد (لڑکا یا لڑکی) عطا کرے گا اس کو میں تیرے لئے وقف کر دوں گی۔ یہ ہے وہ ماں کا کردار جس نے عظیم ہستی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا، اور آج بھی ضرورت ہے کہ جو ماں چاہتی ہے اپنی اولادوں کو عظیم بنائے وہ اﷲ کی محبت کو اپنے من میں پیدا کرے، اپنے آپ کو اس کے دین کی سربلندی کے لئے وقف کردے، دین کی دعوت کے فروغ کے لئے گھر سے باہر نکلنے پر عار محسوس نہ کرے، تو پھر آج کے دور میں عظیم انقلابی جوان پیدا ہو سکتے ہیں۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما اسلام
سلا م کا آغاز حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھما السلام کی لازوال اور بے مثل قربانیوں سے ہوتا ہے۔حضرت خدیجہؑ مکہ کی بہت بڑی تاجرہ تھیں۔نیک سیرت اور بہترین نسب و شرف کی مالکہ، مگر جب ایک مثالی بیوی کے روپ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد زوجیت میں آئیں تواس وقت ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنف نازک عزم و ہمت کا کوہ گراں اورحوصلہ افزائی کا سرچشمہ بن کرنبوت محمدی کا سہارا بن جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا وقت اور اپنا سارا مال و دولت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں دین اسلام کی خدمت کے لئے وقف کردیا، وہ اعلانِ نبوت سے پہلے ہی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و بلندمرتبہ کی قائل ہو گئی تھیں، حضرت خدیجہ ؑ کو نہ صرف زوجیّت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم شرف حاصل ہوا، بلکہ ا ±مّ المو ¿منین ہونے کے ساتھ ساتھ خیر النساءکے عظیم لقب سے بھی سرفراز ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، گویا ایک عظیم بیوی کاکردار اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ دین کی جدوجہد کرنے والے اپنے شوہروں کا ساتھ دیں۔ یہاں تک کہ وقت آنے پر اپنا مال و دولت بھی دین کی سربلندی کے لئے خرچ کردیں۔ تب اﷲ کی طرف سے خوشخبریاں ملتی ہیں۔
سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اﷲ علیہا :
آپ ایک عظیم ہمہ گیر کردار ہیں جو ایک بیٹی کے روپ میں، ایک ماں کی شکل میں اور ایک بیوی کے کردار میں قیامت تک آنے والی ماو ¿ں،بہنوں اور بیٹیوں کے لئے نمونہ حیات ہے جس کو آج کے دورِ جدید میں آئیڈیل بنانے کی ضرورت ہے۔ آج کا معاشرہ اور جدید تہذیب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک خیر النساءالعالمین سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اﷲ علیہاکی سیرت طیبہ سے رنگ نہ لے، اپنے آپ کو حضرت سیدہ فاطمہ سلام ا ﷲ علیہاکے نقش قدم پر چلائیں۔ آپ کو اگر بیٹی کے روپ میں دیکھو تو اپنے بابا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتی نظر آتی ہیں، اگر بیوی کے روپ میں دیکھو تو اطاعت شعاری کے ساتھ اپنے خاوند حضرت مولا علی شیر خداؑ کی خدمت کے ساتھ اﷲکی بارگاہ میں سجدہ ریز بھی نظر آتی ہیں۔ ماں کے روپ میں دیکھو تو ایسے عظیم تربیت یافتہ دو شہزادے حضرات حسنین ؑ تیار کئے کہ جنہوں نے دین مصطفی (ص) کے چراغ کو اپنے مقدس لہو سے روشن کر دیا۔ آج کی تہذیب میں ایک عورت کو اپنی حیثیت کا اندازہ حضرت سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی سیرت کی روشنی میں کرنا ہوگا۔
حضرت آسیہ زوجہ فرعون
حضرت آسیہ زوجہ فرعون کونسا کردار، عمل اور فعل ایسا تھا کہ جس نے اس خاتون کو جو ایک کافر و جابر اور ظالم بادشاہ کی بیوی ہونے کے باوجود وہ عظیم عزت اور مرتبہ سے سرفراز کیا کہ خیر النساءکا لقب عطا ہوا۔ یہ عظیم کردار ایک عورت کو اس کی حیثیت کی راہ دکھلاتا ہے۔ اور ظاہری عیش و عشرت، بناو ¿ سنگھار، شاہانہ زندگی کو اﷲ کی رضا کی خاطر، اس کی محبت کے لئے قربان کر دینے کا درس دیتا ہے۔ یہ کردار بتاتا ہے کہ کس طرح عورت اپنے کردار کو پاکیزہ بنا کر کافر بادشاہ جو اپنے آپ کو خدا کہلاتا ہے، کی ایک عظیم عورت بن سکتی ہے۔ تو پھر اﷲوہ مقام عطا فرماتا ہے کہ وہ نبیوں اور رسولوں کی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ ملا دیتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ انسان اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے دین کی خاطر دنیا کی ظاہری عیش و عشرت سے کنارہ کش ہو جائے۔
اسی طرح اگر ہم ایک اور خاتون کا ذکرخیر کرنا چاہیں تو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فرمانبردار بیوی حضرت حاجرہ کی یاد بھی آتی ہے کہ جنہوںنے اللہ اور اپنے خاوند کے حکم کی تعمیل میں بے آب وگیاہ وادی میں رہنا قبول کرلیا تھا۔پھر جب وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے ،پانی کی تلاش میں دیوانہ وار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں تو اللہ نے ان کی فرمانبرداری اور خلوص کی قدر کرتے ہوئے، ان کے اس عمل کی تقلید قیامت تک کے لیے تمام مردوں اور عورتوں پر لازم کردی۔
المختصراگردنیا کی معلوم تاریخ پر نظر ڈالیں یا دوسرے مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان میںہمیں عورت کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ ہر دور میں خواتین کی حیثیت مردوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تر نظر آتی ہے۔ ان کو معاشرے میں نہایت گھٹیا مقام دیا جاتا تھا۔ اہل مذہب ان کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتے تھے اور ان سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے تھے۔ اور اگران سے کچھ رابطہ یا تعلق ہوتا بھی تو ایک ناپاک او ر دوسرے درجے کی مخلوق کی حیثیت سے ہوتا جوصرف مردوں کی ضروریات کو پورا کرنے لیے پیدا کی گئی تھی۔ یونانی اساطیر میں ایک خیالی عورت پانڈورا کو تمام انسانی مصائب کا ذمہ دار ٹھرایا گیا تھا۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کی مذہبی خرافات میں حضرت حوا علیہا السلام کوحضرت آدم علیہ السلام کے جنت سے نکالے جانے کا باعث قرار دیا گیا تھا۔چنانچہ عورت پر بہت طویل عرصہ ایسا گزرا کہ وہ کوئی قابل لحاظ مخلوق نہ تھی۔ یہ اسلام ہی کا کارنامہ ہے کہ حواءکی بیٹی کو عزت و احترام کے قابل تسلیم کیا گیا اور اس کومرد کے برابر حقوق دیے گئے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا ہی عورت کے عظیم الشان کردار سے ہوتی ہے۔