نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: بچے کی بہترین تربیت

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,859
    شکریہ
    949
    877 پیغامات میں 1,102 اظہار تشکر

    بچے کی بہترین تربیت

    اپنا بچہ کس کو پیار انہیں ہوتا ، پیار و محبت کی شدت ہی کاایک پہلو یہ ہے کہ ہم اس کی ضرور ت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچے ، جسمانی طور پر بھی وہ تندرست رہے اور ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ۔ اس کا کردار ، اس کی عادات اچھی رہیں اور وہ بڑاہو کر ایک مہذب ، متوازن اور کا میا ب انسان بنے۔ شاید اس شدت ِ آرزو ہی کا نتیجہ ہو تا ہے کہ ہم بچے کو متوازن بنانے کی کو شش میں خود متوازن نہیں رہتے اور اکثر و بیشتر تنبیہ و تحدید میں حد سے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں او ر زیادہ تر منفی پہلو ہی اختیار کر تے ہیں ۔ غالبا ً تصور یہ ہوتا ہے کہ اگر بچے کو بری عادات سے بچا لیا جا ئے تو سمجھئے اس کی تربیت کا حق ادا ہو گیا ۔ چنا نچہ ہماری تربیت کا انداز عموماً یہ ہوتا ہے کہ ”یہ نہ کرو ! وہ نہ کر و !“ ” یہ کام نہیں کرتے ! وہ کام اچھا نہیں ہے ! “ ” یو ں نہیں کرتے ! “ ” یہ کا م اس طر ح نہ کرو !“ ” یہ کیو ں کیا !“ ” یہ کیا کر دیا !“ اس انداز تخاطب و تا د یب کا تجزیہ کیجئے تو صرف دو اجزا آپ کو نظر آئیں گے ، ایک ” نفی “ دوسرا ”تحکم“ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ دونو ں اجزا تعمیر کے نہیں ، تخریب کے ہیں ، اور تربیت کے لیے سخت مضر ۔ آپ کا مقصد تو نہایت نیک ہے یعنی آپ چاہتے ہیں کہ اپنے بچے کو انسان بنائیں ، لیکن معا ف کیجئے آپ کا طریقہ موزو ں نہیں ہے آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کے لیے طریقہ بھی وہی اختیار کیجئے جو کامیا ب ہو ، آپ تعمیر چاہتے ہیں ، انداز بھی تعمیری ہو ں ۔ جہاں تک ممکن ہو بچے کو تعمیری مشورے دیجئے۔

    ایک غلط کا م سے ، ایک غلط لفظ سے روکنا ہوتو بجائے یہ کہنے کے کہ ” یو ں نہ کر و ! یا ” صحیح لفظ یہ ہے “ آپ کے اس کہنے میں بھی تحکم نہ ہو بلکہ مشورہ کا انداز ہو ۔ بچہ بھی ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے ۔ اس شخصیت کو سمجھنے اور تلا ش کرنے کی کوشش کیجئے ۔ بچے کو منا سب آزادی دیجیے تا کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کر سکے ۔ آپ اس کی اپنی شخصیت کو دبائیے نہیں ، پچکائیے نہیں ، توڑئیے موڑئیے نہیں ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ اپنی شخصیت کو اس پر مسلط نہ کیجئے ۔ آپ سے بھی مختلف شخصیت ہو سکتی ہے۔ آپ سے بھی اچھی ۔ اگر اس کی شخصیت گول ہے تو اس کو چوکور بنانے کی کو شش نہ کیجئے اور چوکور ہے تو گول نہ کیجئے ۔ ہا ں تراش خرا ش ضرور کیجئے اور پالش بھی کر دیجئے ۔ جہا ںتک ممکن ہو اپنے ’ ’ بڑے پن “کو کا م میں نہ لائیے۔ بچے سے معمولی ( نارمل ) لہجے میں بات کیجئے بات چیت اور روتے میں غصے ، جھنجھلا ہٹ ، اکتاہٹ ، چڑچڑے پن اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیجئے ۔ بچہ آپ ہی سے سیکھتا ہے ، آپ ہی کی نقل کر تا ہے اور ہر بات میں ویسا ہی رد عمل ظاہر کرنے کی کو شش کرتا ہے جیسا آپ کرتے ہیں ۔ اس کے اقوال و اعمال کے لیے نمونہ آپ ہی ہیں۔ جیسا دیکھے گا ویسا ہی کرے گا ۔ جیسا سنے گا ویساہی کہے گا ۔ آپ کے لہجے ، آپ کے رویے میں درشتی کے ساتھ ساتھ ضرورت سے زیادہ نرمی اور لجاجت اور گراوٹ بھی نہ ہو نی چاہیے ، کیوں کہ بچے کو متوا زن بنانا ہے ۔ اخلاق اور گفتگو میں بھی افراط و تفریط نہیں ہونی چاہیے ۔
    بعض والدین بچوں کو منفی ہدایات دیتے ہیں ۔ ہر بات سے روکتے ہیں ، حالانکہ وہی کام کوئی بڑا آدمی کرے تو وہ ہر گز نہیں روکیں گے ۔ بچو ں کو ہر بات پر روکنے ، ٹوکنے ، منع کرنے ، انکار کرنے سے ان کی شخصیت گھٹ کے رہ جا تی ہے ۔ انکی قوت عمل گھٹ جا تی ہے ۔ ان کی اناٹھٹھرجاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ بڑا ہو کر بھی ہر بات سے ڈرنے لگتا ہے ، ہر کام کرنے میں جھجھکتا ہے۔ اس کی قوت عمل سرد ، اس کی قوت ِ فکر مفلوج اور اس کی قوت ِ فیصلہ مفقود ہو جاتی ہے ۔ وہ ہر بات میں دوسرے کے مشورے ، دوسرے کے سہارے اور دوسرے کے اکسانے کا محتاج ہوجا تا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کایہ انجام آپ کو گوارا نہ ہوگا ۔ آپ ہر گز پسند نہیں کریں گے کہ وہ تابعِ مہمل بن کر زندگی گزارے ، وہ مقلد محض رہے۔ قائد نہ بنے ۔ شرم ، جھجک ، تامل ، تذبذب ، تکلف ، تساہل ، گومگو میں مبتلا ، تمیز اور فےصلہ کی قوت سے محروم انسان کو کون پسند کر ے گا؟
    اپنے بچے کو ہمیشہ تعمیری مشورے دیجئے ۔ دوستانہ رہنمائی کاانداز اختیار کیجئے ۔ اگر ایک کام کو آپ غلط یا برا بتائیں تو صحیح اور اچھے کام کی بھی نشاندہی کر دیجئے ۔ اس طرح ایک مثبت ذہن تیار ہو گا ، ذہنی صحت و توازن کی بنیاد پڑے گی اور بچہ ذہنی طور پر زیادہ توانا ہو گا ۔
    بچے کی اپنی شخصیت کو ابھر نے کا موقع دیجئے ۔ اس کی اپنی صلاحیتوں ، اسکے رجحانات اور جوہروں کو جلا کا موقع ملنا چاہئے ۔ آپ اپنے رجحانات کو اس پر زبردستی نہ تھوپئے ۔ وہ اپنی شخصیت میں جس طر ح اور جس حد تک آپ کی شخصیت کو جذب کر سکے گا ، غیر ارادی طور پر جذب کر لے گا ۔ پھر انسان کی اپنی شخصیت ہوتی ہے ۔ آپ اپنی تربیت سے اس کی مدد کیجئے ۔ اس کی اصلی شخصیت کا گلا نہ گھونٹیے ۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کو پوری آزادی دیں ۔ اس کو کسی جائز اور ضروری بات سے محض اس لیے نہ روکیں کہ وہ آپ کے مزاج کے خلا ف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے۔ اس کو اپنی دنیا آپ بنانے ، اپنے جو ہروں کو اجاگر کرنے ، کش مکش حیا ت کا مقابلہ کر نے اور مسائل کا فےصلہ کر نے اور اقدام کرنے ( initiative ) کی صلاحیت بخشئے۔ آپ کے بچے کی یہی بہترین تربیت اور انسان کی بہترین خدمت ہے

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    RE: بچے کی بہترین تربیت

    بہت خؤب ،زبردست
    لیکن اب پچھتائے کیا ہوت ،جب چڑیاں چگ گئی کھیت ،
    اب تو میرے بچے بڑے ہو گئے ،مضمون بہت لیٹ شائع ہوا، چلو آئیندہ آنے والی نسلوں کے کام آئے گا،
    شکریہ ، زبردست

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 241
    آخری پيغام: 07-05-2014, 12:05 AM
  2. بہائیت اور قادیانیت میں مماثلت
    By محمداشرف يوسف in forum دیگر مذاہب
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 02-07-2013, 08:54 AM
  3. پاکستانی جمہوریت اور سیاست ملوکیت پر مبنی ہے
    By سید انور محمود in forum سیاسیات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 11-17-2012, 03:26 AM
  4. جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-30-2010, 11:45 PM
  5. جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-03-2010, 12:48 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University