مبلغِ اسلام، حضرت علامہ مولانا
شاہ محمد عبد العلیم صدیقی قادری میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک
انگریزی تقریر کا اردو ترجمہ
بنام
”دینِ اسلام اور عورت کا مقام“



ترجمہ وتحقیق
فیصل احمد علیمی


بسم اللہ الرحمن الرحیم
نَحْمَدُہُ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَO

مختلف اقوام میں عورت کا مقام:
تاریخ اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا مرد وعورت میں امتیاز، انسانی تہذیب کے ابتداء سے ہے۔ مگر بعد کے دنوں میں کوئی شک نہیں کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جانے لگا اور عورتوں کو کمتر سمجھنے کا خیال اس حد تک پروان چڑھا کہ مرد ذات نے نہ صرف عورتوں پر مکمل افضلیت کا دعویٰ کیا بلکہ اپنی خواہش کے مطابق عورت کواستعمال کرنے اور کام کرانے کا ناجائز دعویٰ بھی کیا۔

تاریخ عالم کا اِس وقت (1936ء) سروے کرتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ یونان،ماقبل عیسائیت یورپ جو ایک طویل المیعاد مدت تک علم وروشنی کا مرکز بنا رہا اور جس نے یورپ کو فلسفیانہ اور سائنسی نظریات فراہم کئے وہ (یونان)بھی عورتوں کو قطعی طور پر مردوں کے مقابلے میں ایک ذلیل وحقیر شے تصور کرتا تھا۔ (ان کے نظریات کے مطابق) وہ ایک ماتحت مخلوق تھی جو صرف اس لئے اس دنیا میں آئی کہ وہ ریاست کو شہری اور فوج کو سپاہی پیدا کر کے دے۔ایک مشہور ڈرامہ نگار یوریپڈس(Euripides) میڈیا کے سامنے عورتوں سے متعلق اپنے خیال کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے:
“Women are impotent for good, but clever contrivers of all evil.”
”عورتیں نیکیوں کے لئے کمزور ہیں لیکن تمام برائیوں کی چالاک موجد (ایجاد کرنے والی) ہیں۔“

ایسے تحقیر آمیز تصورات اخلاقی انحطاط کا سبب بنے جس نے بالآخر یونانی معاشرے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔پروفیسر لیکی(Lecky) کہتے ہیں:
The names of virtuous women scarcely appear in Greek history. 1]]
”یونانی تاریخ میں نیک خواتین کے نام بمشکل ہی نظر آتے ہیں۔“

عیسائیت کی آمد سے بھی یورپ کی حالت بہتر نہیں ہوئی۔”گناہ کا آغاز عورت کی وجہ سے ہوا اور اسی کی وجہ سے ہم سب مرتے ہیں“۔یہ وہ عقیدہ ہے جو عورت کو انسانیت کی تباہی وبربادی اور مرد کی بدکاری کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔اسی لئے عیسائی چرچ کے اعلیٰ پادری پال نے اعلان کیا کہ عورت کو تمام رعایا کے ساتھ خاموشی سے تعلیم حاصل کرنے دی جائے، لیکن میں نہ تو عورت کو تعلیم دینے کا وبال لیتا ہوں نہ ہی مرد کی حاکمیت غصب کرتا ہوں مگر خاموشی سے کیونکہ آدم (علیہ السلام)حوّا (علیھاالسلام)سے پہلے تخلیق کئے گئے تھے اور آدم نے دھوکہ نہ کھایا بلکہ حوا نے دھوکہ کھایا اور وہ گناہ میں مبتلا ہوئی۔دوسرے پادری اس سے بھی زیادہ سفاک ثابت ہوئے اور عورتوں پر کچھ اس طرح کے الزامات لگائے کہ اسے ”آلہ عفریت، برائی کا دروازہ، راہِ گناہ، بچھوکاڈنک، جھوٹ کی بیٹی، دوزخ کی نگہبان، امن دشمن، جنگلی جانور اور سب سے زیاہ خطرناک“ قرار دیا۔اور صرف یہی نہیں،بلکہ وہ مزید آگے بڑھے کہ آرتھوڈوکس گریک چرچ نے اس بات کا انکار کر دیاکہ عورت میں روح نام کی بھی کوئی چیز ہے اور کونسل آف میکن کے موقع پر ایک پادری نے شدت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ عورت انسانی مخلوق سے تعلق نہیں رکھتی۔ Auxiesre2 میں ایک اجلاس منعقد کیاگیا جس میں عورتوں پر یہ پابندی لگائی گئی کہ وہ اپنے ننگے ہاتھوں میں عشائے ربانی (Eucharist) کو لیں اور عشائے ربانی کی دعاکی تقریب کے دوران Altar (قربان گاہ) کے قریب آئیں کیونکہ وہ (عورت) ایک ناپاک شے ہے۔پرنسپل ڈونلڈ کہتے ہیں:

”’میں مرد کی تعریف کچھ اس طرح سے کر سکتا ہوں کہ وہ ایک ”مذکر انسان“ ہے اور عورت ایک ”’مونث انسان“۔اب پہلے کے عیسائیوں نے جو کیا وہ یہ تھا کہ انھوں نے مرد کی تعریف میں ”مذکر“سے تصادم کیا جب کہ عورت کی تعریف میں ”انسان“ سے۔ آدمی وہ مخلوق ہے جسے ایک عظیم اور نیک مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے جب کہ عورت کو صرف اس کی خدمت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔عورت اس زمین پر ہر بُرے جذبے کے ساتھ مرد کا دل بہلانے کے لئے ہے۔وہ (عورت) ایک آگ کی کشتی تھی جو مسلسل مرد کے پہلوبہ پہلو آنے اور اسے مختلف ٹکڑوں میں کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔“[3]

ایشیائی تہذیب میں بھی عورت کی حالت اچھی نہ تھی۔ ہندومت ،جو آج موجودہ دنیا کے مذاہب میں سب سے زیادہ پرانا مذہب (سمجھا جاتا) ہے اس کے نزدیک ”عورت بچپن میں اپنے باپ کے ماتحت ہونی چاہئے،جوانی میں اپنے شوہر کے اور جب اس کا شوہر مر جائے تو پھر اس کے بیٹوں کے ما تحت۔مگر ایک عورت کو کبھی بھی خود مختار نہیں ہونا چاہئے۔“ [4]

ہندو اسکالر سر آر ۔جی۔بھنڈارکر کہتا ہے:
”قانون دان منو عورتوں پر یکساں بھاری ہے۔اس بات کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ عام طور پر عورتوں کی فطرت کا قدیم آریائی تصور ان کی خوشامد کرنا نہیں ہے وہ ویداس پڑھنے سے محروم تھیں اور ایسی تمام مذہبی رسومات جن کو انھیں ادا کرنا تھا انھیں حکم تھا کہ وہ انھیں ویداس منتراکے بغیر ہی انجام دیں۔یہاں تک کہ بھگوت گیتا بھی اس عام عقیدہ کا اظہار کرتا ہے کہ صرف عورت ہی اکیلی وہ گناہگار روح ہے جو وائسا اور سُدرا کے روپ میں پیداہوئی ہے۔“ [5]

بدھی اسکالر ،یو۔مے۔اونگ کہتاہے:
“(بدھ مت میں) اعلیٰ مقصد کے حصول کے لئے نکاح کے تصور اور اس کے دنیاوی حصول کی مخالفت کی جاتی ہے۔۔۔۔۔اسی طرح خواہشات کو فناکرنا۔۔۔۔۔ ایسی کوشش کے لئے مجردانہ (بغیر شادی کے) زندگی گزارنا ایک لازمی شرط ہے۔“ [6]

اسی طرح بدھی نظریات میں مورخ ویسٹرمارک کے مطابق:
”عورتیں مردوں کو اپنے جال میں پھانسنے والی ہیں جو کہ سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔عورتوں میں مدہوش کردینے والی ساری قوتیں ڈالی گئیں ہیں جو دنیا کے دماغ کو اندھاکردیتی ہے۔“

عرب میں اسلام سے قبل عورت کے وجود کا عام تصور اس حدتک گراہواتھا کہ اس کے وجود کو خاندان کے لئے باعث رسوائی سمجھاجاتا۔بچیوں کا قتل عام بڑے پیمانے پر کیا جاتا تھا اور وہ عورتیں جوغلطی سے بچپن میں قتل ہونے سے بچ جاتیں توانھیں برداشت کی زندگی گذارنی پڑتی۔”ایک عرب عورت کے بھی کوئی حقوق نہ تھے نہ وہ جائیداد کی وارث ہوسکتی تھی بلکہ اس کے افراد اس عورت کے شوہر کی وراثت کے حصہ دار بن جاتے۔اور اپنی مرضی کے خلاف شادی کرنا اس کی قسمت تھی۔یہاں تک کہ بیٹوں کی اپنی سوتیلی ماؤں کے ساتھ شادی کافاجر طوفان امنڈکر سامنے آیااور ان میں سے بعض اس سے بھی زیادہ برے کردار کے مالک تھے۔۔۔کثیرالازدواجی (Polygamy) عالمی تھی اور ہرقسم کی پابندی سے آزاد، طلاق کا بھی یہی معاملہ تھا۔ [7]

دنیا میں عورتوں کی ایسی حالت تھی جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے نجات دہندہ،عرب میں جلوہ افروز ہوئے اور رب العالمین جس نے مرد وعورت دونوں کو تخلیق فرمایااور جودونوں سے برابرمحبت کرتاہے(ایسے رب العالمین)کے احکامات کے ذریعے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیاکوتبلیغ کی کہ عورتیں حقوق کے معاملے میں بالکل مردوں کی طرح ہیں۔ جن کے زندگی میں حقوق، عزت اور مرتبہ مساوی ہیں۔انھیں کسی بھی موقع پر مردوں کا کھلونا نہیں بننے دیا۔جس طرح مردوں کو اپنی جائیداد کی ملکیت کا حق ہے اسی طرح عورتوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی جائیداد کی حقدار بنیں ۔اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم محنت کے اصول کے مطابق عورت کی کچھ خاص ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو انھیں اپنی زندگی میں ادا کرنی ہوتی ہیں۔جیسے مردوں کی بھی کچھ خاص ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

بیٹی کے حقوق:
اسلام،زمانہ جاہلیت کی غیر انسانی طفل کشی کی رسم کی بڑے غیرمبہم انداز میں ملامت کرتاہے اور لوگوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ محبت کریں اور پرورش کریں۔قرآن کریم کہتاہے کہ جو بچی زندہ دفن کی گئی تھی اس سے بروز قیامت سوال کیا جائے گا:
وَإِذَا الْمَوْؤُوْدَۃُ سُئِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ 8
ترجمہ: ”اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے ،کس خطاپر ماری گئی۔“
پس اس طرح وہ مظلوم خود اس قابل ہوگی کہ اللہ رب العزت کے سامنے ان کے خلاف گواہی دے جنھوں نے اللہ کی اس معصوم مخلوق کو صرف اپنی خود نمائی کی تسلی کے لئے قتل کیا تھا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ ایک بارپھر انسانیت کو حکم دیتاہے:
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُم انَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْاءً کَبِیْراً9
ترجمہ: ”اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرومفلسی کے ڈر سے ،ہم انھیں بھی رزق دیں گے اور تمھیں بھی، بے شک ان کا قتل بڑی خطا ہے۔“

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا ،حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پیاری صاحبزادی تھیں جن کے ساتھ حسن سلوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پدرانہ محبت کی ایسی مثال قائم کی جوتمام بنی نوع انسان کے لئے ایک نمونہ ہے۔آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرمایاکرتے تھے۔
( فَاطِمَۃُ بُضْعَۃ مِنِّیْ فَمَنْ اَغْضَبَھَا اَغْضَبَنِیْ )۔[10]
ترجمہ: ”فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ،جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا“۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے لڑکیوں کے ساتھ ترجیحی سلوک کی بھی تاکید فرمائی اورفرمایا: جب تم کوئی چیز بانٹنے کے لئے اپنے بچوں کے لئے لاؤ توسب سے پہلے لڑکیوں سے ابتداء کروکیونکہ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں اپنے والدین سے زیادہ محبت کرتی ہیں”۔ [11]
بیوی کے حقوق:
شادی درحقیقت اسلامی قانون میں ایک معاہدہ ہے جس طرح دوسرے معاشرتی معاہدے فریقین کے درمیان ہوتے ہیں ۔جہاں تک معاہدہ (نکاح)کی شرائط کا معاملہ ہے تودونوں فریقین ،مرد وعورت ایک ہی مقام پہ کھڑے ہوتے ہیں جس میں ہر فریق کے کچھ حقوق و فرائض ہوتے ہیں۔اسلام ہر معاملے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتاہے اور اسی لئے شادی کے معاہدے میں بھی عدل و انصاف کا مظاہرہ کرناچاہئے۔قرآن حکیم کہتاہے :
وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ 12
ترجمہ: ”اور عورتوں کا بھی حق ایساہی ہے جیساان پر ہے شرع کے موافق۔“

کوئی شک نہیں،تقسیم محنت کے اصول کے مطابق کام دونوں فریقین کے درمیان بانٹنا چاہئے۔فطری طور پر عورتوں کواپنی اولاد کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے یہاں تک کہ اس کی اولاد جوان ہوجائے۔انھیں اپنے آپ کو اپنی اولاد کی پرورش میں مصروف رکھناپڑتاہے اسی لئے وہ اس قابل نہیں ہوتیں کہ اپنے ذریعہ معاش کی طرف کوئی توجہ دے سکیں۔لہذا ،مردوں کوبیوی سمیت خاندان کی پرورش کرنے کا ذمہ دار بنایاگیا ہے اور گھر کی تمام ضروریات پوراکرنے کافرض سونپاگیاہے۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مسلم گھرانے میں شوہر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وزیر برائے امورخارجہ کی حیثیت سے کام کرے اور بیوی بحیثیت وزیر برائے امورداخلہ کے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(اَلْمَراۃُ سَیِّدَۃُ بَیْتِھَا) [13] ”عورت اپنے گھرکی ملکہ ہے”۔

جب کہ قرآن کریم بیوی کے مقام کو ایک خوبصور ت آیت میں بیان کرتاہے :
خَلَقَ لَکُم مِّنْ اَنفُسِکُمْ اَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً 14
ترجمہ: ”تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی۔“
رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والاوہ ہے جس کے اخلاق بہترین ہیں اور تم میں بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ مہربان ہیں“۔[15] اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع میں بھی آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے عورتوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تاکید کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! تمہارے کچھ حقوق ہیں تمہاری بیویوں پر اور اسی طرح تمہاری بیویوں کے بھی کچھ حقوق ہیں تم پر۔۔یہ سب اللہ کی امانت ہیں تمہارے ہاتھوں میں ،دیکھو تم ان کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا“۔ [16]

کثیر الازدواجی (Polygamy):
عورتوں کے نجات دہندہ ،حضور اکرم علیہ الصلوۃ والسلام سے قبل مردوں کے لئے اپنی بیوی کی تعداد کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں تھی۔یہاں تک کہ آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ افریقہ کے نیگرو اورد نیا کی دیگر غیر مہذب اقوام میں بھی بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔در حقیقت اسلام نے ایک حد مقرر کی ہے اور کثیر الازدواجی (Polygamy) کی اجازت دی ہے(یعنی ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرنا جس کی تعداد اسلام نے چار تک مقرّر کی ہے۔) اس تصور کے ساتھ کہ اس سے زنا(فحاشی)کا خاتمہ ہوگا ۔اسی لئے ناجائز تعلقات کے بجائے کثیر الازدواجی کی اجازت دی گئی ہے۔اگر کسی معاملے میں یہ مشکل یاناممکن ہوجائے تومعاشرے کی فلاح وبہبود کے لئے کثیر الازدواجی کے بجائے صرف ایک ہی شادی (Monogamy) کے لئے پابند کیا جاتاہے۔انسانی زندگی میں دو مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کثیر الازدواجی ضرورت بن جاتی ہے۔مثال کے طورپر اگر پہلی شادی بے ثمر ثابت ہو تو شوہر اپنے آپ کو نیکی اور سیدھی راہ پر اسی وقت قائم رکھ سکتاہے جب کہ اسے دوسری شادی کی اجازت دی جائے۔دوسری صورت یہ ہے کہ جب معاشرے میں عورتوں کی کثرت ہو ۔جیسا کہ عموماجنگوں کے بعد ہوتاہے ،آج کے جرمنی کی مثال ہمارے سامنے ہے،چنانچہ انسانی معاشرے کوبدعنوانی اور معدوم ہونے سے صرف ایک سے زیادہ بیوی سے شادی کرنے کی اجازت دینے سے ہی بچایاجاسکتاہے۔

قرآن کریم بیویوں کی تعداد کو چارتک مقید(پابند)کرتاہے اور دونوں کے درمیان مکمل عدل وانصاف کاحکم دیتاہے :
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِیْ الْیَتَامَی فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ذَلِکَ أَدْنَی أَلاَّ تَعُولُواْ ۔[17]
ترجمہ: ”اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کروگے تونکاح میں لاؤ جو عورتیں تمھیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار پھر اگر ڈرو کہ دوبیویوں کو برابرنہ رکھ سکوگے تو ایک ہی کرو۔“

شادی کے معاہدے کی شرائط فریقین کے ذریعے طے کئے جاتے ہیں۔اگر ایک طرف اسلامی تعلیمات کے مطابق شوہروں کو طلاق کے حقوق تفویض کئے جاتے ہیں توعورتوں کو بھی اپنا حق مہر اور نان و نفقہ حاصل کرنے کا اختیار ہے اور انھیں یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ (بحالت مجبوری) وہ اپنے شوہروں سے علیحدگی (خلع)حاصل کرلیں جب وہ ایساکرنے کو بہت ضروری سمجھیں۔اگر شادی کے وقت معاہدہ مکمل توجہ کے ساتھ کیا جائے تودونوں فریقین عملی طور پر ایک ہی مقام پر نظرآتے ہیں(یعنی حقوق وفرائض کے معاملے میں) اور اس طرح عورتوں کو کسی پریشانی میں مبتلا ہونے کا امکان نہیں رہتا۔

دین اسلام عدل و مساوات اور صراط مستقیم کاحکم دیتاہے اگر وہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلامی اصولوں پر عمل نہیں کرتے تو یہ ان کی خود کی غلطی ہے لیکن اسلام کو اس بات کے لیےمورود الزام نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔اگر آج لوگ اسلامی شریعت کے لبادہ میں کثیر الازدواجی کی اجازت کا غلط استعمال کریں اور اپنی نفسانی حرکات کو چھپانے کی کوشش کریں تو یہ ان کی غلطی ہے اور ایسے لوگ سخت سزا کے مستحق ہیں۔اللہ العلیم کی بارگاہ میں جو باخبر ہےان سے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔

ماں کے حقوق:
اسلام نے عورت کے رتبہ کو ماں کی صورت میں اس حد تک بلند کیا ہے کہ اس سے زیادہ کوئی دوسرامقام قابل ادراک نہیں۔اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے:
وَقَضیٰ رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَا اَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْماًO وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً 18
ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کونہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھاسلوک کرو ،اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انھیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھانرم دلی سے اور عرض کرکہ اے میرے رب توان دونوں پر رحم کر جیساکہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (بچپن)میں پالا۔“

ایک مرتبہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ نبی مکرم کے بعد حسن سلوک کا کون سب سے زیادہ حقدار ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تمہاری ماں“۔دوبارہ پوچھا گیا کہ ماں کے بعد پھر کون تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہاری ماں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ پوچھا گیا کہ پھر ماں کے بعد ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”تمہاری ماں“۔اس آدمی نے چوتھی مرتبہ وہی سوال دہرایا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ“۔[19] یہ حدیث مبارکہ بتاتی ہے کہ ماں کا رتبہ اپنی اولاد کی نظروں میں اپنے باپ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہونا چاہیے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سخت گرمی کے دن صحرائے عربیہ میں تپتی دھوپ میں جب کہ پتھر اورمٹی آگ کی طرح جل رہے تھے میں اور میری ماں بغیر کسی جوتے کے پیدل چل رہے تھے۔ میں نے اپنی ماں کو کندھے پر اٹھالیا تاکہ وہ تپتی مٹی اور پتھر پر ننگے پاؤں چل کر تکلیف میں مبتلانہ ہوں۔توکیامیں نے اس درد کا بدلہ دے دیاجو میری ماں کو میری پرورش میں اٹھانی پڑی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس درد کا معمولی حصہ بھی نہیں جو اس نے تمہاری پیدائش کے وقت اٹھایا۔” [20]

اسلام میں سب سے زیادہ افضل عمل حج اداکرناہے اور جو شخص صحیح معنوں میں حج اداکرتاہے توبطور انعام (جزاء)اس کے تما م سابقہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی بارگاہ میں ایک بلند مقام پاتاہے مگر ماں کی عظمت ورتبہ کوظاہر کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک مرتبہ اپنی ماں کی طرف پیار و محبت سے دیکھا تو گویا اس نے ایک حج اداکیا“ لوگوں نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کہ اگر دومرتبہ وہ دیکھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تووہ ایسا ہے کہ گویا اس نے دومرتبہ حج اداکیا اور اگر تیسری مرتبہ دیکھے تو گویاتین مرتبہ اس نے حج اداکیا اور اسی طرح (باربار دیکھنے پر اس کو باربار حج کا ثواب عطاہوتارہے گا)“۔ [21]

خود آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی ہے۔ ایک دفعہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچپن میں پرورش کی تھی،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدارکے لئے تشریف لائیں۔اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے پاس تشریف فرماتھے۔جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا آپ علیہ الصلوۃ والسلام احترام کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور اپنی چادر مبارک زمین پر پھیلا دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس پر بیٹھیں۔

مندرجہ بالاواقعات سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں جو عزت واحترام ایک ماں اپنی اولاد سے حاصل کرتی ہے وہ اس بات سے کہیں بلند ہے کہ کسی دوسرے دنیاوی رشتے کی آرزو کی جائے۔

پردے کی نفسیات (Psychology of the Veil):
روحانی ترقی کے دروازے عورتوں کے لئے اسی طرح کھلے ہیں جس طرح مردوں کے لیے کھلے ہیں ۔ انھیں تعلیم سے آراستہ ہونے کا حکم دیا گیا ہےجیسا کہ مردووں کو حکم ہے اور اگر وہ تعلیم میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتی ہیں تومرد سے یہاں تک توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان (خواتین)کے علم و عقل سے سیکھیں اور فائدہ حاصل کریں۔روایتوں میں آتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین حضرت عائشہ زوجۂ مصطفی رضی اللہ عنھا کے پاس طلب علم کے لئے جایاکرتے تھے۔اسلامی تاریخ ان عورتوں کے ناموں کی لمبی فہرست سے روشن ہے جنھوں نے معاشرے میں اعلیٰ عزت پائی۔تعلیم میں اعلیٰ ڈگری اوردیگر انسانی سرگرمیوں کے شعبوں میں اعلیٰ قابلیت حاصل کی ۔عورتوں کوکمترسمجھنے کا تصور مسلمانوں کے کم تعلیم یافتہ طبقے میں پھیلاجو کہ اسلام کی تعلیمات کے بارے میں بہت کم جانتے تھے اور یہ اثر تھا ان معاشروں کا جو مسلمان نہیں تھے اور یہ تصور(عورتوں کو کمتر سمجھنے کا) پہلے سے ان میں موجود تھا ۔اگر وہ اسلام کی تعلیمات کے بارے میں جانتے ہوتے توانھیں معلوم ہوتاکہ اسلام میں خواتین طبقہ بھی اسی مرتبہ ،اسی عزت اور اسی عظمت کی مستحق ہوتی ہیں جس طرح مرد حضرات کو حاصل ہے۔اور انھیں اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ عورتوں کو ذلیل ورسوا کریں اور انھیں اپناکھلونابنائیں،اسلام میں انھیں بری نیت سے چھونا ایک گناہ سمجھاجاتاہے اور یہاں تک کہ انھیں بری نظر سے دیکھنا بھی زناشمارکیاجاتاہے اسی لئے مردوں کو قرآن حکیم میں کچھ اس طرح سے حکم دیاجاتاہے:
قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ اَزْکیٰ لَہُمْ ۔[22]
ترجمہ: ”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھراہے۔“

اور اسی انداز میں عورتوں کو بھی حکم دیاجاتاہے :
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِہِنَّ أَوْ آبَائِہِنَّ أَوْ آبَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَاء بُعُولَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُوْلِیْ الْإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَاء وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِن زِیْنَتِہِنَّ23
ترجمہ: ”اور مسلمان عورتوں کوحکم دو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنابناؤ نہ دکھائیں ۔مگرجتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں ۔اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یاا پنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یاا پنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یانوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبرنہیں اور زمین پر پاؤں زورسے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپاہواسنگھار۔“

یہاں ایک خاص نکتہ اس معاملے میں واضح کرناضروری ہے جوفائدے سے خالی نہ ہوگا کہ ہر انسان کو (فطری طورپر)جسمانی قوت کے ساتھ ساتھ Will Power یعنی ”قوتِ ارادی“بھی عطاکی گئی ہے۔اس قوتِ ارادی (Will Power) کا تعلق دماغ سے ہوتاہے اور جتنی زیادہ دماغ کی تربیت کی جائیگی اتناہی قوت ارادی میں اضافہ ہوگا اورا س کی تربیت ایک چیزپر مکمل توجہ دینے کی مشق سے ہوتی ہے۔ہپناٹزم (Hypnotism) کا طالب علم ایک خیال کاتصور کرتاہے اور اپنی تمام ترتوجہ اس خیال پر اس طرح مرکوز کرتاہے کہ کچھ لمحے کے لئے وہ دوسری چیزوں کو فراموش کردیتاہے۔اس تربیت کے ذریعے وہ ایک مضبوط قوت حاصل کرتاہے جو بعض اوقات اسے اس قابل بناتاہے کہ وہ اپنے دماغ کے خیال کے مطابق دوسروں کو اپنا object بناتاہے اور انھیں متاثر کرتا ہے ۔مثال کے طورپر وہ ایک خیال سوچتاہے کہ X کو سردرد ہے وہ X کو اپنا object بناتاہے تو کچھ ہی لمحوں میں X سردرد کو محسوس کرناشروع کردیتاہے۔اسی طرح وہ Y کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتاہے تو Y اس کی طرف کھنچتا چلاجائے گا کیونکہ ہائپنٹسٹ (Hypnotist) کی ارادی قوت Y پر اثراندازہوتی ہے ۔ہر انسان میں یہ قوت ارادی اپنی طاقت میں مختلف ہوتی ہے۔جس طرح ہم ایک انجن کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دس یا بیس ہنڈریڈ ہارس پاور (دس یا بیس سوگھوڑوں کی طاقت) ہوتی ہے اسی طرح ہم ایک ہائپنٹسٹ (Hypnotist) کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دس یا بیس یاسو آدمیوں کے برابر ارادی قوت ہوتی ہے۔

اب یہ بات واضح ہے کہ ایک شخص اپنی ارادی قوت کے ذریعے دوسرے لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے اور ان خیالات کو جو اس کے ذہن میں ہے اسے اپنے Object میں پیداکرسکتاہے ۔علی ھذا القیاس ،جب ایک مرد نفسانی نظر ایک عورت پر ڈالتاہے تو اس مرد کے جذبات ابھرتے ہیں اورجنسی خیال اس کے ذہن میں آتاہے اور اگر اس میں ارادی قوت ہے تو اس عورت کے دماغ میں بھی وہی خیال خود بخود پیداہوجائے گا ۔اور اگر اسی طرح کئی سو آدمیوں کی نظریں اس عورت پر اسی خیال اور نیت کے ساتھ پڑے تو وہ لازما جنسی خیالات کی زہریلی لہروں (Poisonous Radiations of the Sexual idea) سے متاثر ہوگی جو ان مردوں کی ارادی قوت کے اثر سے اس عورت کے دماغ میں داخل ہوں گی۔اگرچہ وہ عورت کتنی ہی صاف دل کی اور بے عیب کردار کی مالک ہو۔ایک ایسی سوسائٹی (معاشرہ)میں جومرد و زن کے بلاامتیاز اختلاط کی اجازت دیتا ہوتو وہ ماحول لازما ایسی فضا سے بھرارہےگا جسے ہم ”جنسی خیالات کی لہریں ” (Sex Idea Waves)کہہ سکتے ہیں جس کا انجام خواتین طبقہ کے لئے ایک بڑی تباہی کے سوا اورکچھ نہیں ہوسکتا۔

معاشرے میں عورت کی اہمیت کا زیادہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔وہ بنی نوع انسان کی ماں ہے وہ نوماہ تک بچے کو اپنے رحم میں پالتی ہے دو سال تک اپنے سینے سے غذادیتی ہے اور کم از کم چھ یا سات سال تک اس بات کی خاص طورپرنگہبان ہوتی ہے کہ اس کی تربیت کرے۔میڈیکل سائنس کی یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ ماں کی ذہنی قابلیت اس کی اولاد کی ذہنیت پر اثر انداز ہوتی ہے بالکل اسی طرح یا اس سے کہیں زیادہ۔اسی طرح ماں کی طبعی خواص ان کی جسمانی طبیعت پر اثرانداز ہوتی ہے۔اسی لئے اسلام عورتوں کوحکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسی تمام جگہوں سے محفوظ رکھیں جہاں کسی بری قوت یا بری نیت سے متاثر ہونے کا معمولی سابھی اندیشہ ہو تاکہ ان کی عفت و عصمت محفوظ رہے اور ان کی اولاد کی ذہنیت بھی بداخلاقی سے محفوظ رہے۔ اسی لئے اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوفاً O وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُولیٰ وَاَقِمْنَ الصَّلوٰۃَ وَآتِیْنَ الزَّکوٰۃَ وَاَطِعْنَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللَّہُ لِیُذْہِبَ عَنکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْراً24
ترجمہ: ”اے نبی کی بی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈروتو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تویہی چاہتاہے ۔اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دورفرمادے اور تمھیں پاک کرکے خوب ستھراکردے۔“
لَّا جُنَاحَ عَلَیْہِنَّ فِیْ آبَائِہِنَّ وَلَا أَبْنَائِہِنَّ وَلَا إِخْوَانِہِنَّ وَلَا أَبْنَاء إِخْوَانِہِنَّ وَلَا أَبْنَاء أَخَوَاتِہِنَّ وَلَا نِسَائِہِنَّ وَلَا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ وَاتَّقِیْنَ اللہَ إِنَّ اللہَ کَانَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْداً25
ترجمہ: ”ان عورتوں پر مضائقہ نہیں (اگر بغیر پردہ کے ہوں) ان کے باپ اوربیٹوں اوربھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی رہو بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔“

یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنیٰ اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللہُ غَفُوراً رَّحِیْماً26
ترجمہ: ”اے نبی! اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہوتوستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

مندرجہ بالا احکامات جن کی تشریح و توضیح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی،اس کی مثالیں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیاری صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا اور پیاری ازواج مطہرات حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما کی حیات مبارکہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ہم کوئی بھی ایسی شہادت نہیں پاتے کہ جس سے معلوم ہو کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی ازواج مطہرات یا صاحبزادی کسی اجنبی کے سامنے کھلے سر اور چہرے کے دیکھی گئی ہوں۔سوائے نماز اور حج جیسی عبادت کی ادائیگی کے وقت کہ حالت نماز میں حکم دیاگیا ہے کہ عورت کا مکمل جسم ڈھکا رہے سوائے چہرے اور ہاتھوں کے(کلائی تک)اسی طرح حدیث مبارکہ میں یہ واضح حکم ملتاہے کہ کوئی عورت حج کے دوران پردہ (نقاب)نہ کرے۔ جب کہ مردوں کو سختی سے منع کیاجاتاہے کہ نماز اور حج میں عورتوں کے چہروں کوگھوریں اور انھیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ یاد رکھیں کہ عورتیں اپنے خالق کی بارگاہ میں ہیں۔

اس طرح دین اسلام میں عورتوں کارتبہ ،ان کاحقوق وراثت بحیثیت انسان اور ان کا تعلق اللہ رب العزت کے ساتھ بالکل ایساہی ہے جیساکہ مردوں کاہے۔ یہی حضور پا ک علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات تھیں اور یہی قرآن کریم کا فیصلہ ہے ۔ارشاد ربانی ہے:
اَنِّیْ لاَ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ اَوْ اُنثیٰ بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ [27]
ترجمہ: ”میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتامرد ہویاعورت تم آپس میں ایک ہو۔“