[size=x-large]
((عن ثوبان رضى الله عنه قال لما نزلت الذین یکنزون الذھب والفضة، کنامع النبی صلى الله عليه وسلم فی بعض اسفارہ فقال بعض اصحابہ نزلت فی الذھب والفضة، لو علمنا أی المال خیر فنتخذہ۔ فقال افضلہ لسان ذاکر وقلب شاکر وزوجة مومنة تعینہ علی ایمانہ )) ( رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ )
ترجمہ :” ثوبان صسے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ( جس کا ترجمہ ہے ) جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں....“ اس وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے اس آیت کو سن کر بعض صحابہ کرام نے کہا یہ آیت سونے اور چاندی ( کی مذمت ) میں نازل ہوئی ہے۔ کاش ہمیں پتہ چل جائے کہ کونسا مال بہتر ہے ہم ( سونے چاندی کے بجائے ) وہ مال حاصل کر لیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہترین مال وہ زبان ہے جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے اور وہ دل ہے جو شکر ادا کرتا ہو اور وہ ایمان دار بیوی ہے جو دینی معاملات میں خاوند کی مددگار بنتی ہے۔ “ ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ )
تشریح: :زیرنظر حدیث میںصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دینی جذبہ کاایک نمونہ پیش کیا گیاہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوس قدسیہ نیکیوں کی رسیا تھیں ، ان کی ہر وقت یہی کوشش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح نیکیاں حاصل کر لیں اور ایسا عمل کریں جو دنیا و آخرت کے لئے نفع بخش ہو۔ جب سفر کے دوران والذین یکنزون الذھب والفضة تا آخر سورہ نازل ہوئی تو انہیں فکر لاحق ہوئی کہ سونا چاندی جمع کرنا تو جہنم کی آگ کو دعوت دینا ہے۔ لہٰذا ہمیں کسی ایسے مال کا علم ہو جائے جو ہمارے لےے نفع بخش ہو۔ ہم وہ مال جمع کر لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا تین چیزیں بہترین مال ہیں۔
(1) پہلی چیز وہ زبان ہے جس پر ہمیشہ اللہ کا ذکر جاری رہتا ہو۔ اسلام نے زبان کی حفاظت کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے سچی زبان، عمدہ کلام اور خوش گفتاری بہترین مال ہے
(2) دوسری بہترین چیز جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ مال قرار دیا ہے وہ ایسا دل ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتا ہو۔ شکر گزار بندہ ہمیشہ صاف دل والا ہوتا ہے اور جو دل اللہ کی یاد سے غافل ہو وہ شکر ادا نہیں کرتا
(3) تیسری چیز جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ مال قرار دیا وہ ایمان دار بیوی ہے جو نیکی کے کاموں میں اپنے خاوند کا ہاتھ بٹائے۔ نیک کاموں کی ادائیگی کے لےے اسے فارغ رکھے، ہمیشہ اپنے ہی معاملات میں نہ پھنسائے رکھے بلکہ نیکی کا سبق بھی دے اور نیکی کرنے کے لئے اسے وقت بھی دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ جوڑا انتہائی خوش بخت جو ایک دوسرے کو نماز کے ليے جگائے اور نیکی میں معاونت کرے۔
اس لیے ہر شخص کو چاہيے کہ زبان کی ایسی تربیت کرے جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے لگے ، دل کی ایسی تربیت کرے جو خوشی وغم ہر حال میں تقدیر الہی پر راضی ہو اور ہمہ وقت شکر الہی کے جذبات سے معمور ہو۔ نیز بیوی کی ایسی تربیت کرے جو دینی معاملات میں اس کی مددگار بن جاے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے ۔ آمین
[/size]