[size=x-large] پھر ایک ڈرون حملہ، پھر سات انسانوں کی ہلاکت، پھر ایک دبا دبا سا احتجاج، پھر ایک مری مری سی فریاد، پھر ایک رسمی سا بیان اور پھر بے حسی کی حدوں کو چھوتی گہری خاموشی۔
یہ صورت حال، پاکستانی عوام کے لئے دردناک اذیت بنتی جارہی ہے۔ انہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ کیا پاکستان نے امریکیوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں ڈرون حملے کرسکتے ہیں؟ کیا یہ حملے کچھ شرائط کے ساتھ بندھے ہیں یا ان کا انحصار صرف امریکی صوابدید پر ہے؟ اگر ایسا نہیں اور امریکہ یہ حملے ہماری منظوری یا رضامندی سے نہیں کررہا تو پھر ہم اب تک اسے یہ حملے بند کرنے پر قائل کیوں نہیں کرسکے؟
اگر ہمارے مطالبے کے باوجود امریکہ ہماری سرزمین پر حملوں اور ہمارے شہریوں کے قتل عام سے باز نہیں آرہا تو ہم نام نہاد ”جنگ دہشت گردی“ کا ہراول دستہ ہونے کے ناتے اپنی حکمت عملی پہ نظرثانی کیوں نہیں کرتے؟ اگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہورہی تو ہم ان اڑن کھٹولوں کو مار کیوں نہیں گراتے؟ اور اگر یہ سب کچھ حد امکان سے باہر ہے تو ہم دو عملی اور منافقت چھوڑ کر اس قوم کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ ڈرون حملے ایک طے شدہ شدید حکمت عملی کا حصہ ہیں، ان پرجزبز ہونے اور واویلا کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک صابر شاکر قوم کی طرح یہ سب کچھ برداشت کرو۔
کوئی ستائیس دن قبل ایک ایسے ہی ہولناک ڈرون حملے کے بعد ہماری فوجی قیادت کی طرف سے آتشناک بیان جاری ہوا تھا۔ وزیر اعظم گیلانی نے بھی تندوتیز لہجہ اختیار کیا تھا، دفتر خارجہ نے بھی ایک جری بیان جاری کیا تھا۔ امریکی سفیر کو طلب کرکے ”سخت پیغام“ دیا گیا تھا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمارے احتجاج کی گرمی سے گھبرا کر امریکی سفیر فوراً امریکہ روانہ ہوگئے ہیں تاکہ حکام کو ڈرون حملوں کے حوالے سے پاکستان کی بھڑک اٹھنے والی حساسیت سے آگاہ کریں۔ تب بھی میں نے لکھا تھا کہ فوجی اور سول قیادت میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ۔”آئندہ کوئی ڈرون ہماری سرحدوں کے اندر آیا تو مار گرایا جائے گا“۔ اس لئے کہ بیان داغنے والی توپوں کو معلوم تھا کہ یہ حملے نہیں رکیں گے اور انہیں اس بات کی بھی خبر تھی کہ ابھی ان کے پیکرخاکی میں اتنی جان پیدا نہیں ہوئی کہ امریکی ڈرون کو مار گرائیں۔
انگوراڈہ پہ تازہ حملہ اس دن ہوا ہے جب صرف دو دن پہلے آئی۔ایس۔آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے امریکہ میں سی۔آئی۔اے کے سربراہ لیون پنیٹااور دیگر امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تفصیل کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی نئی الجھنوں کے حوالے سے یہ مذاکرات کا پہلا تفصیلی دورہ تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق جنرل پاشا نے واضح کیا کہ سی۔آئی۔اے کے خفیہ آپریشنز کا وسیع ہوتا ہوا نیٹ ورک پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ امریکیوں سے کہا گیا کہ وہ پاکستانی حکام کو پوری طرح مطلع رکھیں اور بالا بالا اپنے اہداف کے تعین اور آپریشنز کا سلسلہ بند کردیں۔ اگرچہ پاکستان میں آئی۔ایس۔پی۔آر یا دفتر خارجہ کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن اس چیز کا قوی امکان ہے کہ ڈرون حملوں کا معاملہ ضرور زیر بحث آیا ہوگا اور جنرل پاشا نے یقینی طور پر ان حملوں کے منفی اثرات کا تذکرہ کیا ہوگا۔
”واشنگٹن پوسٹ“ کی اطلاع کے مطابق امریکہ نے سی۔آئی۔اے کے پاکستان میں سرگرم کچھ اہلکاروں کی شناخت اور انہیں تفویض کئے گئے فرائض کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا لیکن وہ سب کے سلسلے میں ایسی کوئی ضمانت دینے پر تیار نہیں۔ امریکہ نے ڈرون حملوں کے بارے میں زیادہ شراکت معلومات کا یقین دلایا ہے لیکن اخبار کے مطابق جنرل پاشا پر واضح کردیا گیا ہے کہ جنگ دہشت گردی کے ایک ”موثر اور کارگر“ ہتھیار کے طور پر ان حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اخبار کو یہ معلومات فراہم کرنے والے باخبر امریکی اہلکار سے جب پوچھا گیا کہ کیا جنرل پاشا نے ڈرون حملے بند کرنے کی کوئی باضابطہ درخواست کی ہے؟ تو اس نے جواب دیا۔ ”ان الفاظ میں نہیں“۔ امریکی اہلکار نے کہا کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے زیادہ اور واضح معلومات فراہم کرنے کے علاوہ کوئی نئی پابندی نہیں ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ”سی۔آئی۔اے کے سربراہ پنیٹا کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکیوں کا تحفظ کرے اور وہ کبھی کسی ایسے آپریشن کو ختم نہیں کرے گا جو اس مقصد کے لئے ضروری ہے“۔
تصور کیا جاسکتا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کے بعد بھی امریکیوں کا انداز فکر کیا ہے اور وہ پاکستانی عوام یا قیادت کی تشویش کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ ابھی جنرل پاشا نے واشنگٹن سے واپس آتے ہوئے غالباً اپنی سرزمین پر قدم بھی نہیں رکھا تھا کہ ڈرون حملہ کرکے ایک پیغام پاکستان اور دوسرا امریکی عوام کو دیا گیا۔ پاکستان کو پیغام یہ ہے کہ ہم تمہاری کسی بات کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں اور ڈرون حملے جاری رکھیں گے۔ امریکی عوام کو پیغام یہ ہے کہ پاکستانیوں سے بات چیت کے باوجود یہ تاثر نہ لیا جائے کہ ہم ان سے کسی نرمی کا مظاہرہ کریں گے۔
16/مارچ کو ریمنڈ ڈیوس، پراسراریت کی چادر میں لپٹا ایک شاہی طیارے میں بیٹھ کر اپنے وطن سدھار گیا۔ اس کے ایک دن بعد 17/مارچ کو جنوبی وزیرستان پر ایک خوں آشام ڈرون حملہ ہوا جس میں چالیس سے زیادہ معصوم افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ تھا وہ موقع جب پہلی بار پاکستان کی طرف سے ایک دہکتا ہوا احتجاج سامنے آیا۔ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ اب اندرون خانہ امریکیوں سے کہہ دیاگیا ہے کہ بہت ہوچکی۔ اب کوئی ڈرون حملہ برداست نہیں کریں گے۔ بیچ میں ایک طویل وقفہ آگیا۔ اب جنرل پاشا امریکہ گئے تو خیال کیا جارہا تھا کہ ان کا دورہ، اس بے چہرہ جنگ کے وہ دریچے بند کرنے میں کامیاب ہوجائے گا جو پاکستان کے لئے پریشانی کا باعث ہیں اور جن کے سبب پاکستان میں امریکہ سے نفرت بڑھ رہی ہے۔ قوی امکان ہے کہ جنرل پاشا نے اپنی سی کوشش کی ہوگی۔ ممکن ہے سی۔آئی۔اے اور آئی۔ایس۔آئی کے درمیان بہتر رابطوں اور اشتراک کار کے کچھ نئے پیمانے بھی وضع ہوگئے ہوں۔ لیکن ایک چیز واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنرل پاشا کے دورے کے ساتھ نتھی کردیا جانے والا تازہ ترین ڈرون حملہ اس امر کا واضح ثبوت ہے۔
ڈرون حملوں میں اگر ہماری پوشیدہ رضامندی موجود ہے اور یہ سب کچھ قوم کو فریب دینے کی مشق عیار ہے تو اس سے زیادہ افسوسناک بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ وکی لیکس میں وزیر اعظم گیلانی سے منسوب یہ مکالمہ تو قومی رسوائی کا مکروہ داغ ہے کہ ”تم حملے کرتے رہو اور ہم رسمی احتجاج کرتے رہیں گے“۔ اگر صورت حال یہ ہے کہ امریکہ ہماری خفیہ اشیرباد کے بغیر ہم پہ بارود برسانے اور ہمارے شہریوں کے پرخچے اڑانے میں مصروف ہے اور ہم صلاحیت رکھنے کے باوجود ڈر، خوف، بزدلی، بے بسی یا بے چارگی کے سبب ان چڑی ممولوں کو نہیں گراتے تو یہ صورت حال افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے۔
کوئی ہمیں بتائے تو سہی کہ سچ کیا ہے؟ اور کیا یہاں بھی کسی کی ذمہ داری ہے کہ پاکستانیوں کی جانوں کا تحفظ کرے؟
[/size]