نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: شادی بیاہ تقریبات تقریبات ، احکام ، آداب

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,887
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    شادی بیاہ تقریبات تقریبات ، احکام ، آداب

    شادی بیاہ تقریبات تقریبات ، احکام ، آداب

    اللہ کے بندو ! اللہ کا خوف کھاؤ ، اس کا خوف و تقوی ہی راہ ھدایت ہے اور اس کی مخالفت راہ متفاوت و بدبختی ہے ۔
    مسلمانو ! خاندان معاشرے کی بنیاد ہے اسی سے امتیاز اور اقوام و قبائل نکلتے ہیں اور اس کی بیناد میاں بیوی ہیں ۔ ارشاد الہی ہے :
    [ اے لوگو ! ھم نے تمھیں ایک مرد و زن سے پیدا کیا اور ھم نے تمھیں قبائل و اقوام بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو باھم پہچانو ]۔ ( الحجرات ۔١٣)

    دعوت شریعت :
    شریعت بندوں کی مصلحتوں ، حکمتوں اور ان کے دنیا و آخرت کے مفادات پر مبنی ہے ۔ اس نے نوجوانوں کو شادی کے ذریعے اپنے آپ کو عفیف و پاکدامن رکھنے کی دعوت دی ہے ۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے :
    [ اے نوجوانو ! تم میں سے جس میں ( مادی و جسمانی ) طاقت ھو اسے چاہیۓ کہ شادی کرے یہ اس کی نگاہ کو نیچے رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کے لۓ مفید ہے اور جس میں ( مالی ) طاقت نہ ھو ، وہ روزہ رکھے ۔ یہ اس کی شہوت کشی کرے گا ]۔ ( متفق علیہ )

    شادی سے قبل ۔ ۔ ۔
    دین اسلام نے اعلی اخلاق و کردار والی ایسی نیک بیوی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے جو کہ اپنے شوھر کو اذیت نہ پنچاۓ اور نہ ہی اس کے سامنے اپنی آواز بلند کرے ۔ اور لڑکی لڑکے دونوں کے بارے میں چھان بین کر لینا لازمی ہے تا کہ اس کے مخفی اخلاق و کردار اور صفات کا پتہ چل جاۓ جو کہ اسلامی اخلاق کے منافی ھوں اور جس سے پوچھ پاچھ کے لۓ رابطہ کیا جاۓ اس پر واجب ہے کہ پورے صدق و صفائی سے جواب دے ، اور امانت داری و وضاحت سے ان کے محاسن اور برائیاں بیان کر دے کیونکہ کسی کے پوچھنے پر کسی کے عیوب و نقائص کو چھپانا مسلمان کو دھوکہ دینے کی ایک قسم ہے ، اور جب لڑکا کسی کو پیام نکاح دینے کا عزم کر لے تو اس کے لۓ مباح ہے کہ وہ حرام خلوت کے بغر ، لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں لڑکی پر ایک نظر ڈال لے اور لڑکی جسمانی عیوب کو چھپانے والا میک اپ کر کے اسے دھوکہ میں نہ رکھے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    [ تم میں سے جب کوئی شخص کسی لٹرکی کو پیغام نکاح دے تو اسے چاہیۓ کہ ( نکاح سے پہلے ) ایک نظر دیکھ لے یہ ( دیکھ لینا ) انکے مابین تعلقات کے دوام کے لۓ مفید ہے ] ۔ ( مسلم )


    منگیتروں کے لۓ احکام :
    منگیتر کو اس بات سے ڈرنا چاہیۓ کہ وہ اپنی منگیتر لڑکی سے حرام خلوت اختیار نہ کرے ، نہ ہی اس سے ( نکاح سے قبل ) ٹیلیفون پر گفتگو کرے نہ اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہناۓ یا اس کے جسم کو چھوۓ اور نہ ہی اسے اس کے گھر سے باھر لے کر جاۓ ، یہ سب نافرمانی کے قبیل سے ہے ۔ شیطان کا چوکہ ہے اور اسی طریقے سے وہ لڑکوں کو بہکاتا و گمراہ کرتا ہے اور اکثر انہی گناھوں کے نتیجہ میں ان دونوں منگیتروں کے خواب چکنا چور ھو جاتے ہیں ۔

    کم مہر زیادہ برکت :
    اسلام دین عدل و اعتدال ہے اس نے نوجوانوں کو شادی کرنے کا حکم دیا ہے اور کم مہر طلب کرنے کی ترغیب دلائی ہے ، اگر مہر کم ھو گا تو عورت کی عزت و قیمت شوھر کی نظروں میں بڑھ جاۓ گی اور اس کی برکت میں بھی اضافہ ھو جاۓ گا چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    [ عورتوں میں سے سب سے زیادہ بابرکت وہ ہے ، جسے بیاہ کر لانے پر کم از کم خرچہ آۓ ] ۔
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین میں سے مالدار صحابہ بھی مہر زیادہ دینے میں مبالغہ نہیں کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    ” میں نے کجھور کی گٹھلی کے برابر سونے ( حق مہر ) پر شادی کی ” اور جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کے اس حق مہر کا پتہ چلا تو انھیں یہ دعا دی : ۔۔۔۔ بارك اللہ لك ۔۔۔ ( اللہ تمھیں برکت عطا فرماۓ ۔ )
    مہر عورت کا حق ہے ۔ والدین یا سرپرستوں کو حق نہیں کہ وہ اسے اپنے کھاتے میں ڈال لیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :
    [ اور عورتوں کو رضاء و خوشی سے انکا حق مہر دے دیں ] ۔ ( النساء۔٤)

    عورت کا اصل حسن و جمال :
    عورت کا حسن و جمال اس کی پردہ داری میں ہے اور اس کا اصل رعب اس کی حیاء میں ہے اور اس کے چہرے کی رونق اس کی عفت و پاکدامنی میں ہے ۔ اسلام عورت کو چہرے کے پردے کا حکم دیتا ہے جبکہ بعض عورتیں شادی بیاہ کی تقریبات اور خوشی کے ایسے دیگر مواقع پر حرام امور میں واقع ھو جاتی ہیں ایسے لباس پسند کر لیتی ہیں جو بہت تنگ ھوتے ہیں ، کچھ وہ ہیں جو اتنا پتلا کپڑا پہن لیتی ہیں جو ان کے بدن کو پردہ مہیا نہیں کرتا ، بعض وہ ہیں جو کہ ( سکرٹ پہن کر ) اپنی پنڈلیوں اور رانوں کو ننگا رکھتی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو جسم کا اوپر کا حصہ ننگا رکھتی ہیں اور شیطان ان کے لۓ اس بے پردگی کو مزین کر کے پیش کرتا ہے ۔

    احکام پردہ کی بعض قبیح خلاف ورزیاں
    کسی عورت کے لۓ یہ حلال نہیں کہ وہ دوسری عورتوں کے سامنے ان اعضاء کے علاوہ کو ظاھر کرے جن کا اس کے لۓ اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے ظاھر کرنا روا ہے ۔ جنھیں کہ وہ اپنے گھر میں اپنے محرم رشتہ داروں کے ننگا کر لیتی ہے مثلا سر ، دونوں ہاتھ ، گردن دونوں پاؤں ۔ عورت اس سے زیادہ اعضاء جسم کو عورتوں کے سامنے بھی ننگا کرنے کی مجاز نہیں ہے ۔
    عورتوں میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے جسم کے زائد بال اتروانے کے لۓ دوسری عورتوں کے سامنے اپنی شرمگاہ تک ننگی کر دیتی ہیں جبکہ یہ انتہائی بڑا گناہ ہے اور سخت ناجائز فعل ۔ اس کے ایسا کرنے میں ایک تو دوسروں کو شرمگاہیں دکھلانے کی قباحت پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح وہ عورت اپنے شوھر کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارتکاب بھی کرتی ہے کیونکہ وہ شوھر کی عدم موجودگی میں اپنے شوھر کا حق دوسری کے لۓ ضائع کر رہی ہے ۔ اس کے اس فعل پر اللہ تعالی کی طرف سے سخت وعید آئی ہے ۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :
    [ جس عورت نے اپنے شوھر کے گھر کے سوا کہیں اپنےکپڑے اتارے ۔ اس نے اپنے اور اللہ تعالی کے مابین پاۓ جانے والے پردے کو ھٹا دیا ] ۔ ( مستدرک حاکم )

    تقریبات کے انعقاد میں راہ اعتدال :
    دین اسلام بخل اور فضول کے درمیان اوسط درجے کا خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے ، نکاح کا اعلان ( تقریب شادی کے ذریعے ) کیا جاۓ لیکن ممنوع حد تک نہ جایا جاۓ ۔

    فاخرانہ لباس پر تکبر کاانجام :
    بعض عورتیں زیب و زینت کے معاملہ کے ساتھ ساتھ ہی تبرج و بے پردگی اور تزیین و تجمل پر اتراتی پھرتی
    اور فخر ومباھات کرتی ہیں ، اموال برباد کرتی اور اوقات ضا‏ئع کرتی ہیں اور یہ سب صرف بے بنیاد شہرت حاصل کرنے اور ناپسندیدہ ریاءکاری کے لۓ ھوتا ہے ۔
    اے خواتین ! لباس میں تکبر کرنے سے بچیں ۔ لباس پر فخر و تکبر کرنے والوں کے سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :
    [ ایک آدمی اپنا پسندیدہ لباس پہنے ھوۓ تھا ، بالوں کو کنگھی سے سنوارا ھوا تھا اور چلنے میں بڑا متکبرانہ انداز آ چکا تھا ۔ اچانک اللہ نے اسے زمین میں ہی دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین میں ہی دھنستا جاۓ گا ] ۔ ( متفق علیہ )

    مردوں اور غیر مسلم عورتوں کی مشابہت :
    مسلمان عورت اپنی زینت و سنگھار ، اپنے لباس و پوشاک اور اپنے بالوں کے انداز میں ممتاز ھوتی ہے وہ مردوں یا غیر مسلم عررتوں سے مشابہت کرنے سے کوسوں دور ھوتی ہے اور ان لوگوں ( مردوں اور غیر مسلم عورتوں ) سے مشابہت کرنا باعث وعید ہے ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں سے مشابہت پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔

    خصائص مرد و زن :
    مرد و زن کے بعض خصائص ہیں ، ان کے اپنے اپنے احوال ، لباس اور زینت کی اشیاء ہیں ۔ عورت اپنی نسوانیت پر فخر کرتی ہے اور مرد اپنی مردانگی و جوانمردمی کو باعث اعزاز سمجھتا ہے ۔ غیروں کی تقلید کرنے میں اپنی نفسیاتی کمزوری و احساس کمتری کا اظہار ھوتا ہے اور اپنے خصائص پر عدم رضامندی کا پتہ چلتا ہے ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ ایسا کرنے سے بندہ اپنے خالق کی حکمتوں کے ادراک میں نقص والا بنتا ہے ۔

    باعث لعنت افعال :
    آنکھوں کے ابرو اللہ تعالی نے زینت کے لۓ بناۓ ہیں جبکہ بعض عورتیں اپنی آنکھوں کے جمال اور چہرے کے رعب کو ابروں کے بال نکال کر ضا‏‏ئع کر دیتی ہیں حالانکہ ابروں کے بال زائل کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے :
    [ اللہ تعالی نے بال نکالنے والی اور بال نکلوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ] ۔

    غیروں کی تقلید و نقالی کے اصل محرکات :
    بعض لوگ نفسیاتی کمزوری اور احساس کمتری میں مبتلا ھونے کی وجہ سے غیروں کی تقلید کے بڑے دلدادہ ھوتے ہیں حتی کہ شادی بیاہ اور خوشی کی تقریبات میں بھی نقالی کرتے ہیں۔

    شب زفاف پر شرعی خلاف ورزیاں :
    مرد پر نکاح یا کسی بھی دوسرے موقع پر غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام ہے ۔ شب زفاف میں دولھے کا غیر محرم عورتوں میں جا گھسنا اور اپنی بیوی کے ساتھ سیٹیج پر بیٹھنا جبکہ وہ مسلمانوں کی بنی سنوری مکمل زیب و زینت والی عورتوں کو دیکھتا ہے ، یہ انتہائی ذلیل برائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    [ عورتوں ( غیر محرم خواتین ) پرداخل ھونے سے بچو ] ۔ ( متفق علیہ )
    دولھے کا اپنی دلھن کے ساتھ عورتوں کے سامنے سٹیج پر بیٹھنا تقلید اغیار کا شاخسانہ ہے ، اس کا باعث خواہشات کی پیروی ہے ، اس فعل کا ظاھری پہلو فخر و مباھات اور تکبر ہے اور اس کا ثمرہ شقاوت کی شکل میں ھو سکتا ہے ، عورتوں کے سامنے بیٹھے دولھا دلھن کا حال یہ ھوتا ہے کہ وہ عورتیں انھیں دیکھ رہی ھوتی ہیں اور انھیں دیکھنے والوں میں سے کوئی تو اس کے جسمانی ساخت پر تنقید کر رہی اور کیڑے نکال رہی ھوتی ہے اور کوئی ان کے یہاں پائی جانے والی نعمتوں ( مال و جمال ) پر حسد کر رہی ھوتی ہے ۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
    [ عورت کے لۓ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھے اور غیر محرم مرد اسے نہ دیکھیں ] ۔

    شادی پر دلہن کا لباس شہرت :
    دلھن کے شادی کے جوڑے کے پیچھے انتی لمبی دم بنا دینا جسے اس کے پیچھے کئی عورتیں اٹھاۓ چل رہی ھوتی ہیں ، یہ غیر مسلم لوگوں کی مشابہت ہے اور ایسا کرنا حرام فعل ہے ، اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر ( اور عام حالات میں بھی ) گانا و موسیقی اللہ کی ناراضگی کا باعث اور قسوت قلبی سنگدلی کا سبب ہیں ۔ اور یہ گانا و موسیقی بندے اور اللہ تعالی کے مابین موٹا پردہ حائل کر دینے کا باعث بنتے ہیں ، شب نکاح و زفاف پر بعض لوگوں کا گانا و موسقی کا اھتمام کرنا اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے اور اللہ تعالی کی نافرمانی بھی ، اور انتہائی اسراف و فضول یہ ہے کہ گانے بجاۓ والی سنگر ( اور رقص کرنے والی ڈانسر ) منگوائی جاۓ اور گانا سنا (اور رقص دیکھا ) جاۓ اور سحری کے ان اوقات میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی جاۓ جبکہ انہی گھڑیوں میں اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ اور اللہ والے اپنی عبادت گاھوں میں مصروف مناجات ھوتے ہیں۔

    منکرات پر مشتمل تقریبات میں عدم شمولیت :
    مسلمان کے لۓ کسی بھی ایسی تقریب میں شرکت کرنا حرام ہے جس میں کسی منکر و برائی کا ارتکاب کیا جا رہا ھو ، امام اوزاعی فرماتے ہیں :
    “کسی ایسی تقریب شادی میں شرکت نہ کریں جس میں طبلہ ساز بج رہے ھوں ” ۔

    تقریب شادی پر جائز امور :
    اسلام کے احکام میں حرام امور سے بچنے کے لۓ متبادل ایسے امور موجود ہیں کہ بندہ حرام کا محتاج ہی نہیں
    رہ جاتا ، اسلام نے رات کے وقت ممنوع الفاظ سے پاک کلام کے ساتھ خاص طور پر عورتوں کو دف بجا کر خوشی کا اظہار کر لینے کی اجازت دی ہے ۔

    تصویر کشی اور مصور کا انجام :
    تصویر کشی کبیرہ گناھوں میں سے ہے اور یہ فعل اللہ کے غضب اور لعنت کا موجب بھی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :
    [ تصویر کشی کرنے والے مردوں اور عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے ]۔
    مصور یا تصویر ساز کو ساری انسانی مخلوق سے زیادہ عذاب ھو گا ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :
    [ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب مصوروں کو ھو گا ]۔ ( متفق علیہ )
    عورتوں کی تصویروں اتارنا تو بہت ہی برے نتائج لاتا ہے ، ھو سکتا ہے وہ تصویریں غیر محرم مردوں تک پہنچیں اور اسی کے نتیجہ میں گھروں کے گھر تباہ و برباد جاتے ہیں ، سمجھدار باپ وہ ہے جو اپنی بیوی اور بیٹیوں کو ایسی جگہوں پر جانے سے ہی روک دے جہاں تصویرں بن رہی ھوں ۔

    اشیاء خورد و نوش میں اعتدال :
    کھانے پینے کے سامان میں اعتدال و میانہ روی اور فخر و مباھات سے بچنا چاہیۓ اھل فضیلت لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو اپنا راھنما بناتے ہیں اور وہی طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔
    ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی پر ولیمہ کرنے کی تفصیل بیان کرتے ھوۓ فرماتی ہیں:
    [نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بعض بیویوں سے شادی پر دو مد جو سے ولیمہ کیا ] ۔
    یہ انتہائی غلط روش ہے کہ خیرات میں آدمی بخیل ھو جاۓ اور شادی بیاہ کے موقع پر انتہائی فضول خرچیاں کرتا جاۓ ، نکاح کے موقع پر بار بار تقریبات کا انعقاد کرنا بظاھر تو خوشی و فرحت ہی ہے جبکہ درحقیقت یہ شادی پر انجام کار غم کا باعث بننے والا ہے ، منگنی پر تقریب کا انعقاد ، منگیتر کے اپنی منگیتر کو انگوٹھی پہنانے کے دن پھر ایک پرتکلف دستر خوان سجانا دونوں فعل ہی حرام ہیں ، عقد نکاح کی رات دعوت کا اھتمام اور شب زفاف کو رنگا رنگ کھانوں کا انتظام دولھےکے اخراجات میں بلاوجہ اضافے اور اس کے لے بوجھ بنتے ہیں ۔

    کیا کوئی ہے ؟
    کیا کوئی ایسا شخص بھی ہے جو اس بات کی کوشش کرے جو اپنی بیوی کے ساتھ سر ڈھانپنے کے لۓ گھر بناۓ جو ستر و عفت اور پاکدامنی کا ذریعہ بنے اور شادی کے اخراجات کم از کم کر کے اور فضول خرچی سے بچ کر معاشرے میں ایک مثالی نیک کام کی بنیاد رکھے اور شب زفاف پر وہ صرف ایک ہی ولیمہ کرے جو کہ دولھا دلھن کے لۓ بھی زیادہ محبوب عمل ہے ، یہی تمام فضولیات سے بچنے کا طریقہ اور گناھوں سے سلامتی والا ، کامل ترین ولیمہ اور توفیق خیر کو پانے والا فعل ہے ۔

    حکمت الہی اور اسو‏ہ ء نبوی :
    اللہ تعالی نے رات کو لباس و پردہ بنایا ہے اور نیند کو راحت بنایا ہے جبکہ [نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نماز عشاء سے پہلے سونا ناپسند فرماتے تھے اور نماز عشاء کے بعد ( بلاضرورت شرعی ) باتیں کرنا مکروہ جانتے تھے ] ۔ ( متفق علیہ )
    فرحت و خوشی کے لمحات کا اظہار فحش قسم کی رتجگے کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے اور نکاح کے اعلان و تقریب کے لۓ یہ ہرگز ضروری نہیں کہ اسے سحری تک لمبا کر دیا جاۓ حالانکہ آغاز شب کی چند گھڑیاں ہی اس غرض کے لۓ کافی ہیں ۔

    تقوی پر بنیاد :
    مسلمانو ! جس نے اپنی عمارت کی بنیاد تقوی پر رکھی وہی سب سے زیادہ مضبوط و خوبصورت اور دیرپا و مفید ھو گی اور جس نے اپنی عمارت کو محرمات سے بھر دیا اس نے گویا شقاوت و بدبختی کو آواز دے دی ، نوبیاہتا جوڑا شادی کی پہلی رات ( شب زفاف ) میں گوناگوں گناھوں کی تیپش سینکتا ہے ، حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ عليہ فرماتے ہیں :
    ” میں گناہ کرتا ھوں تو اس کا اثر اپنی بیوی کے اخلاق و کردار میں پاتا ھوں یا پھر اپنی سواری کی سرکشی کی شکل میں دیکھ لیتا ھوں ” ۔

    عاقل عورت کا انداز :
    عاقل و حاذق عورت پہلی رات میں گناھوں کے ارتکاب سے اور اللہ کی نافرمانی سے اپنے گھر کی بنیادوں کو نہیں ھلاتی ، گناہ معاشرت کو مشکل بنا دیتے ہیں اور دونوں میاں بیوی کے دلوں کو مبتلا وحشت کر دیتے ہیں اور کوئی شادی جتنی بھی صحیح تر طریقے سے ھو گی اتنی ہی زیادہ توفیق یافتہ نکلے گی ، اور شادی بیاہ میں یہ جتنی بھی اسلامی خلاف ورزیاں ھوتی ہیں ان سب کا سبب احساس کمتری اور احساس درماندگی و نقص ہے ۔

    تقریب نکاح کی اصل حقیقت :
    بعض لوگ نکاح کی حقیقت کو ہی شائد نہیں سمجھتے وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ فخر و مباھات اور کھانے
    پینے کی رنگا رنگ چیزوں کا اھتمام اور قیمتی کپڑوں کی خریداری شائد نکاح کے لوازمات میں سے ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ نکاح تو دو میاں بیوی کے مابین قائم ھونے والا ایک مضبوط بندھن ہے جسے کسی خطاکاری سے اور کسی گناہ و نافرمانی سے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیۓ ۔

    والدین کی ذمہ داری :
    والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کے مواقع پر گناھوں کے ارتکاب کے لۓ عورتوں کی باگیں ڈھیلی نہ چھوڑ دیں ۔ عورت ذات کمزور ہے اگر وہ سرپرست کا ہاتھ نہ پکڑے رہے گی تو خواہشات کی رو میں بہہ کر بھٹک جاۓ گی ۔

    خواتین کا فرض :
    خواتین پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے احکام کی اطاعت کریں حرام امور و اشیاء کے ارتکاب سے بچیں ۔ عورت کو چاہیۓ کہ وہ اخلاق عالیہ سے مزین ھو اور اپنے دل کو اطاعت الہی کی ذریعہ اصلاح کرے ۔ وہ ماں ہے ، ایک خاندان کے بارے میں جوابدہ اور افراد خاندان کی راہنمائی کرنے والی ہے ، اسے عالی فکر اور بلند نگاہ ھونا چاہیۓ ۔ آج عمل کا وقت ہے اور کوئی حساب نہیں کیا جا رہا ہے اور کل ( قیامت کو ) حساب کتاب لیا جاۓ گا مگر عمل کا کوئی موقع نہیں رہے گا ۔

    اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    [ جو نیک کام کرے گا تو اپنے لۓ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو پہنچے گا ، اور تمھارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ] ۔ ( حم السجدہ ۔٤٦)

    باعث عروج و سعادت :
    مسلمانو ! اسلام تھذیب و تمدن اور سیادت و قیادت کا منبع ہے اس سے تعلق و تمسک عروج و ترقی کا ذریعہ ، امتوں کی تشکیل کا باعث اور نسلوں کی تعمیر کا سبب ہے اور یہ سب کام باحسن طریق سرانجام پاتے ہیں ۔

    دولھا اور اس کے والدین کے لۓ ھدایات :
    نکاح کے طریقوں میں آسانی اور سعادت بخش شادی کے ذریعے محبت و مودت کی راہیں پانا میاں بیوی دونوں اور ان کے سب گھر والوں کے لۓ باعث ابتہاج و مسرت ھوتا ہے اور یہی معاشرے کے لۓ بھی خوشی کا باعث بنتا ہے ۔ شوھر کو چاہیۓ کہ وہ دیندار ، بلند اخلاق اور باادب عورت کو بیوی بنانے کے لۓ اختیار کرے ۔ اور اگر کوئی اخلاق و دین میں برابری کا رشتہ آۓ تو اسے رد نہ کریں ، اھل عقل و تجربہ سے مشورہ کرنے ، اللہ سے استخارہ کرنے اور اس عورت کو بیوی بنانے کا عزم بالجزم کر لینے کے بعد کسی محرم کی موجودگی میں اپنی ھونے والی بیوی کو ایک نظر دیکھ لیں اور پھر پورے انشراح صدر اور توکل علی اللہ نکاح کریں ۔ شب زفاف پر اعتدال و میانہ روی سے فرحت و خوشی کی تقریب منعقد کریں جس میں لاابالی پن ، فخر و مباھات او کبر و نخوت نہ ھو ، اس سادہ سی تقریب کے ذریعے شرعی اعلان نکاح کریں ، اس میں اپنے دوست و احباب اور اعز و اقارب کو دعوت دیں اور مہمان کے بقدر مناسب کھانے پینے کا انتظام کریں جس میں اسراف و تبذیر ( فضول خرچی ) کا عنصر ہرگز شامل نہ ھو اور تقریب کے اختتام پر دلھن کو دلھا کے ساتھ روانہ کر دیں ۔

    گناھوں کا اثر ازواجی زندگی پر :
    سمجھدار ، عقلمند اور اعلی اخلاقی و روحانی قوت کی مالکہ عورت اپنی شادی کے موقع پر حرام امور و اشیاء کے وقوع سے روکتی ہے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ گناھوں کا اس کی ازواجی زندگی پر برا اثر مرتب ھو گا ۔

    اسلام کی نکاح میں آسانیاں :
    اسلام نے نوجوانوں کے لۓ نکاح میں آسانیاں اور اس کے رشتوں میں بڑی سہولتیں مہیا کیں ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور شادی کی جبکہ آپ سفر میں تھے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” راستے میں ہی تھے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو دلھن بنایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو رات کے وقت ہی یہ بیوی ھدیہ کر دی ، او صبح ھوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم شب زفاف گزارے ھوۓ دلھا تھے ۔

    ایک انتہائی قبیح فعل :
    شادی بیاہ کی برائیوں اور قبیح امور میں سے ایک یہ بھی ہے کہ والد اپنی بیٹی کی شادی کو مؤخر کر دے اگر چہ دینی ھم پلہ اور اخلاقی برابری کے رشتے آ رہے ہیں ، یا پھر بعض والدین لڑکی کے چچا زاد کے لۓ اسے روکے رکھتے ہیں ۔ ( کہ وہ شادی کے لائق ھو گا تو اسے اپنے اس بھتیجے سے بیا ھوں گا )
    اے باپ ! یہ بات ذھن نشین کر لیں کہ آپ کی بیٹی آپ کے گھر میں ایک کمزور سی مخلوق ہے ، اس کی حیاء داری نے دل کی بات زبان پر لانے سے اس پر تالے لگا رکھے ہیں وہ صبح اٹھتی ہے تو دل میں رنج لیۓ اٹھتی ہے اور دن کو چلتی پھرتی ہے کہ اس کا دل حزین و غمگین ھوتا ہے ۔ وہ اس فکر میں رنج و الم محسوس کرتی رہتی ہے کہ کہیں بے بیا ہی نہ رہ جاۓ اور شادی کی گاڑی ہی نہ نکل جاۓ ۔

    عورت : ایک پھول :
    عورت ایک پھول ہے ، جس کی بہار و جوبن کا زمانہ بہت ہی مختصر سا ھوتا ہے ۔ اور پھر یہ پھول مر جھا جاتا ہے اور دین اسلام و شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی ھدایت بھی یہی ہے کہ لڑکی کی شادی اس کے بالغ ھونے پر جلد از جلد کر دی جاۓ ۔ اور اس میں بھی کوئي قباحت نہیں کہ کوئی شخص اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ کسی نیک شخص کے سامنے خود پیش کر دے بلکہ یہ سرپرستی و نگرانی کی انتہائی اعلی مثال ھو گی ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انھوں نے رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر وہ ناراض نہیں ھوۓ بلکہ یہی رشتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ انھوں نے بھی یہ رشتہ نہ لیا تو وہ پھر بھی مایوس نہیں ھوۓ بلکہ ام المؤ منین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت عالیہ میں پیش کر دیا ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے شادی کر لی ۔ ( بخاری )

    دین و اخلاق میں برابری کے رشتہ کو رد کرنے کا انجام :
    والدین کے لۓ دین و اخلاق کے مالک شخص یا نوجوان کا رشتہ قبول نہ کرنا شریعت اسلامیہ کے منافی فعل ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے :

    جب تم سے کوئی ایسا شخص رشتہ طلب کرے جس کے دین و اخلاق سے آپ مطمئن ھوں ، اسے رشتہ دے دو ، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور وسیع بگاڑ پیدا ھو جاۓ گا ] ( ترمذی )
    عقل و رشد یہی ہے کہ شریعت مصطفی کی پیروی کی جاۓ اور صاحب عقل و دانش وہی ہے جو اطاعت و پیروی کی راھوں سے سعادت و خوشی کا طلبگار ھو ۔

  2. #2
    رکنِ خاص طارق راحیل کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    170
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    شادی بیاہ تقریبات تقریبات ، احکام ، آداب

    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University