نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,882
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ

    *نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ
    ١۔ بدشگونی کیا ھے ؟
    محترم قار ئین مجلہ بزم اردو آج ہم اس اہم موضوع کے چند پہلوؤں کو اجاگر کرنے جا رہے ہیں ۔ ان میں سب سے پہلے ہم اس پہلو کو لیتے ہیں کہ ” الطیرۃ” کیا ھے ؟ چنانچہ کسی دکھلائی دینے والی یا سنی جانے والی ناپسندیدہ چیز سے بدشکونی لینا اور اسے منحوس شمار کرتے ھوۓ اپنے کام سے رک جانا ۔ جس نے کسی کام کا ارادہ کر لیا مثلا کسی سفر پر نکلنا چاہا ، شادی بیاہ کرنا چاہا یا کسی دوسرے کام کا عزم کیا لیکن پھر اسے کسی بری چیز نے اس سے روک دیا جو اس نے دیکھ لی یا کوئی ناپسندیدہ کلمہ سن لیا یا کوئی معلوم چيز واقع ھو گئ جیسے ماہ صفر کا آغاز ھو گیا یا کسی دوسرے وقت و مقام کی وجہ سے وہ اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے رک گیا تو سمجھ لیں کہ وہ شخص اس ” الطیرۃ و بدشگونی ” میں مبتلا ھو گیا جس سے اسلام نے منع فرما رکھا ھے ۔

    حمد و ثناء کے بعد

    ایمان والو ! ایمان صحیح اور توحید کامل کے لازمی اجزاء میں سے ہی یہ بھی ھے کہ آدمی ہر اس قول و فعل سے اجتناب کرے جو کہ اسکے اعتقاد پر اثرانداز ھونے والا ھو یا پھر اسکے اللہ تعالی پر ایمان کے منافی ھو ۔ ایسے ہی افعال و اعتقادات جن سے بچ کر رہنا ضروری ھے اور برائی کی ہر عام شکل و صورت سے دور رہنا بھی ہے ۔

    ماہ صفر اور بدھ کو منحوس سمجھنے کی بدعقیدگی :

    ان خرافات و توہمات میں سے ہی ایک ماہ صفر سے بدفالی و بدشگونی لینا یا اسکے چہار شنبہ (بدھوار) کو منحوس سمجھنا یا اس ماہ کے کسی دوسرے حصے کو ایسا سمحھنا اور اس بات کا اعتقاد رکھنا بھی ھے کہ اس میں بکثرت مصائب و مشکلات پیش آتی ہیں اور توفیق کم ہی میسر آتی ھے ۔ اس بناء پر وہ اس ماہ کے دوران نہ تو شادی بیاہ کرتے ہیں نہ سفر کا آغاز اور نہ ہی کوئی اور کام شروع کرتے ہیں ۔

    شرک و باطل نظریہ :

    مسلمانو ! اس طرح کی برشگونی لینا اور اس ماہ یا بدھوار یا کسی دوسرے حصے کو منحوس شمار کرنا زمانہ جاہلیت قبل از اسلام کے عقائد اور اہل شرک و بت پرستی کی خرافات میں سے ھے جو کہ انہیں رخ بدلنے ، بڑے بڑے کاموں کو موقوف کر دینے اور اپنی ضروریات و مفادات کے حصول سے رک جانے کا باعث بنتے تھے ۔ لیکن جب شریعت اسلامیہ آئی تو اس نے ان تمام خرافات کو باطل قرار دے دیا ۔ اور انکی عمارت کو بنیادوں تک مسمار کر کے رکھ دیا تاکہ لوگوں کی عقل و دماغ کو شرک و بت پرستی کی غلامی اور جاہلیت کی گمراہیوں سے آزادی دلواۓ ۔

    ١۔ بدشگونی کیا ھے ؟

    آج ہم اس اہم موضوع کے چند پہلوؤں کو اجاگر کرنے جا رہے ہیں ۔ ان میں سب سے پہلے ہم اس پہلو کو لیتے ہیں کہ ” الطیرۃ ” کیا ھے ؟ چنانچہ کسی دکھلائی دینے والی یا سنی جانے والی ناپسندیدہ چیز سے بدشکونی لینا اور اسے منحوس شمار کرتے ھوۓ اپنے کام سے رک جانا ۔ جس نے کسی کام کا ارادہ کر لیا مثلا کسی سفر پر نکلنا چاہا ، شادی بیاہ کرنا چاہا یا کسی دوسرے کام کا عزم کیا لیکن پھر اسے کسی بری چیز نے اس سے روک دیا جو اس نے دیکھ لی یا کوئی ناپسندیدہ کلمہ سن لیا یا کوئی معلوم چيز واقع ھو گئ جیسے ماہ صفر کا آغاز ھو گیا یا کسی دوسرے وقت و مقام کی وجہ سے وہ اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے رک گیا تو سمجھ لیں کہ وہ شخص اس ” الطیرۃ و بدشگونی ” میں مبتلا ھو گیا جس سے اسلام نے منع فرما رکھا ھے ۔

    اسلام میں الطیرہ یا بدشگونی کے مفہوم میں یہ بھی شامل ھے کہ کوئی چيز انسان کو کسی کام میں جاری رہنے پر آمادہ کرے جسکا کہ وہ ارادہ کر چکا ھے کیونکہ اس طرح اسکا دل اپنی آنکھوں دیکھی بدشگونی جیسے فعل میں مبتلا ھو جاتا ھے ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی احادیث میں ھے :

    ” تمہیں جو چيز کسی کام میں جاری رہنے یا اس سے رکنے کا سبب بنے وہی الطیرہ ھے “۔

    ٢۔ بدشگونی کی مذمت :

    اللہ کے بندو ! یہ بدشگونی لینا اسلام کی نظر میں ان توہمات و خرافات میں سے ھے جن سے جنگ کرنا اور انہیں بیخ و بن سے اکھاڑنا واجب ھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ھے :

    ” کوئی بیماری متعدی نہیں ھوتی ، نہ کسی چيز سے بدشگونی لینا جائز ھے ۔ نہ الو منحوس ھے اور نہ ہی ماہ صفر میں نحوست ( تیرہ تیزی ) ھے ۔” ( صحیح بخاری و مسلم )

    ماہ محرم کو تیرہ تیزی کا چاند کہنا اور نامبارک و منحوس قرار دینا برصغیر کی عورتوں میں آج تک پایا جاتا ھے جو کہ باطل عقیدہ ھے ۔ یہاں نفی سے مراد یہ ھے کہ ان اعتقادات کا اپنانا حلال نہیں یا یہ کہ ان چيزوں کی کوئی تاثیر نہیں کہ وہ کوئی فائدہ پہنچاتے یا کسی نقصان و ضرر کو دور کرتے ہیں ۔
    یہ بدشگونی و بدفالی توحید واجب کے کمال کے منافی امر ھے چنانچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ھے :

    “بدشگونی لینا شرک ھے ، بدشگونی لینا شرک ھے۔” (ابوداؤد ، ترمذی ، حاکم و صححہ ووافقہ الذھبی )

    اگر بدشگونی لینے والا شخص اپنے دل میں یہ عقیدہ بھی رکھتا ھو کہ یہ چيز ہی دراصل اس نقصان و ضرر میں موثر حقیقی اور اس میں اللہ کے فعل و منشاء کو کوئی عمل دخل نہیں تو یہ عقیدہ رکھنا ” شرک اکبر “ھے ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے اس نے اس چيز کو تخلیق و ایجاد میں اللہ کا شریک ٹھہرا دیا۔ برادر مسلم ! بدشگونی و بدفالی لینے والا شخص ان دو میں سے کسی ایک حالت میں تو ضرور ہی مبتلا ھوتا ھے ۔

    ١۔ ان دو میں سے ایک تو یہ ھے کہ وہ شخص کسی چيز کو دیکھ کر یا سن کر یا کسی وقت کے پیش نظر اس فعل سے رک جاۓ گا اور وہ اس بدظنی میں مبتلا ھو گا کہ وہ چيز اسکے اس کام کے سرانجام پانے کی راہ میں رکاوٹ ھے اور وہ اس بات سے ڈرنے لگے گا کہ اس کا معاملہ بگڑ جاۓ گا ۔ یہ بدترین بدشگونی و بدفالی ھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    ” جسے بدشگونی نے کسی کام سے روک دیا اس نے شرک کیا ۔” ( مسند احمد )

    ٢۔ بدشگونی لینے والی کی دو حالتوں میں سے دوسری حالت یہ بھی ممکن ھے کہ وہ اپنے کام میں تو جاری رہے لیکن قلق و اضراب اور بےسکون و عدم اطمینان کا شکار رہے کہ یہ چيز کہیں اسکے اس کام کو بگاڑ نہ دے ۔ یہ گمان کرنا بھی حرام فعل ھے ۔ یہ بندے کے عقیدہ توحید اور توکل و اعتماد علی اللہ میں نقص و عیب ھے ۔

    ٣۔ انسداد و تدارک کی تدابیر :

    ١۔ مسلمانو ! جس کے دل میں اس بدشگونی میں سے کچھ واقع ھو جاۓ اسکے لیے واجب ھے کہ وہ اس سے خبردار رہے ، اللہ پر توکل کرے اور اس پر اعتماد و بھروسہ کرے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ھے :

    “ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جسکے دل میں برا خیال و وہم نہ آۓ ،لیکن اللہ پر بھروسہ کرنے سے یہ خیال و وہم جاتا رہتا ھے ۔”

    ٢۔ اسکے علاوہ ایسے شخص کے لیے یہ بھی ضروری ھے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرے

    اور اس سے دعائيں مانگے اور ایسی دعاؤں میں سے ہی ایک وہ ھے جو صحیح سند کے ساتھ سنن ابی ابوداؤد میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ھے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے بدشگونی و بدفالی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

    ” (بدشگونی کوئی چيز نہیں ) تاہم نیک فال لینا اچھی بات ھے ۔ اور یہ چيز کسی مسلمان کو اسکے ارادے سے باز نہ کرے ۔ تم میں سے اگر کوئی شخص کسی ناپسندیدہ چيز کو دیکھے تو یہ دعاء کرے :

    اللھم لا یاتی بالحسنات الا انت ولا یدفع السیئات الا انت ولاحول ولا قوۃ الا بک
    اے اللہ ! اچھائیاں بھلائیاں بھی تو ہی لاتا ھے اور مشکلات و برائیاں بھی تیرے ہی حکم سے آتی ہیں اور کسی اچھائی کو پانے اور یا مشکل سے بچنے کی ہم میں تیرے سوا کوئی طاقت نہیں ۔”

    ایک دعاء اور بھی ھے :

    اللھم لا خير الا خیرک ولا طیر الا طیرک ولا الہ غیرک
    ” اے اللہ! ہر طرح کی بھلائی صرف تیرے ہی ہاتھ میں ھے اور یہ بدشگونی کچھ نہیں ، اگر کوئی ضرر و نقصان ھوا تو وہ تیرے ہی حکم سے ھو گا اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ھے۔”

    جس نے اللہ پر توکل کیا ، اس پر اعتماد و بھروسہ کیا اور اسکا دل بیم و رجاء یا خوف و امید میں صرف اسی کے ساتھ لگا رہا اور اس تعلق باللہ نے اسے ان بدشگونی وغیرہ سے منقطع کر دیا اور اس نے یہ دعائيں بھی کیں اور اپنے کام میں جاری رہا تو اسے محض معمولی خیال و وہم آجانا کوئی نقصان نہیں پہنچاۓ گا ۔

    ٤۔ بدشگونی کی دنیوی سزا :

    اللہ کے بندو ! جو شخص خالص اللہ تعالی پر توکل و بھروسہ نہیں کرتا اور اس بدفالی و بدشگونی میں شیطان کے دوش پر چڑھا پھرتا ھے اسے کبھی کبھی ایسے کام کے ساتھ سزا بھی دے دی جاتی ھے جو کہ اسے ناپسند ھوتی ھے کیونکہ اس نے اللہ پر اس واجبی ایمان سے اعراض و روگردانی کی اور اس ذات گرامی پر ایمان کامل نہ لایا جسکے ہاتھ میں ہر طرح کی خیر و بھلائی ھے جو کہ اپنی منشاء سے اپنے بندے کو پہنچاتا ھے اور صرف وہی ھے جو اپنی قدرت اور لطف و احسان کے ساتھ اس سے ضرر و نقصان کو دور ہٹاتا ھے ۔

    ٥۔ نیک فال کیا ھے ؟

    مسلمانو ! اس موضوع کا آخری پہلو جو آپکے گوش گزار کرنا ھے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ ارشاد گرامی ھے جو کہ صحیح بخاری و مسلم میں ھے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ھے :

    ” نہ کوئی بیماری متعدی ( ایک سے دوسرے کو لگنے والی ) ھوتی ھے ۔ نہ بدشگونی کوئی چيز ھے البتہ مجھے نیک فال لینا پسند ھے ۔”

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : وہ نیک فال لینا کیاھے ؟ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
    ” اچھا کلمہ ۔” ( بخاری و مسلم )

    نیک فال سے ہر وہ چيز مرادھے جو انسان کو اسکی حاجت کو ضرورت کی تکمیل پر آمادہ کرے اور نشاط بخشے وہ کوئی اچھا کلمہ ھو یا کوئی اچھا کام ھو اور اسکے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ھے کہ ان امور پر انحصار و اعتماد بھی نہ کر لیا جاۓ بلکہ اصل اعتماد و اطمینان صرف اس چيز کے خالق و مالک مسبب الاسباب اللہ تعالی کی ذات پر ہی ھو ۔

    بعض اہل علم نے لکھا ھے :

    “نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نیک فال لینا پسند تھا کیونکہ بدفالی و بدشگونی لینا تو اللہ پر بدظی کرنے والی بات ھے جبکہ نیک فال اللہ پر حسن ظن کا مظہر ھوتی ھے اور مومن کو اس بات کا حکم دیا گیا ھے کہ وہ ہر حال میں ہی اللہ تعالی پر حسن ظن رکھے ۔”

    اے مسلمان ! نیک فال لینا انسان کی قلبی و جسمانی نشاط میں اضافہ کرتی ھے اور جس کام کو وہ کرنے جا رہا ھوتا ھے اسکی طرف اسکے اہتمام کو بڑھا دیتی ھے ۔ اسی طرح نیک فال انسان کے لیے شرح صدر کا باعث بنتی ھے ، بندے کی مونس و غمخوار ثابت ھوتی ھے اور اس سے وہ تنگی اڑا لے جاتی ھے جو اس بندے کے دل میں شیطان پیدا کر رہا ھوتا ھے ۔ امام ترمذی نے ایک حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ھے اور اسکی سند کو صحیح قرار دیا ھے جس میں ھے :

    “نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بات پسند تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کسی کام کو نکلیں تو کوئی ایسا کلمہ سنیں جسمیں رشد و ہدایت ( یاراشد ) یا اس میں کامیابی و کامرانی کی نوید( یا نجیح بمعنی ناجح ) پائی جاۓ ۔” (ترمذی ، وصححہ )

    اس فال کے برعکس بدشگونی انسان کا تعلق اس چيز سے پیدا کر دیتی ھے جس سے وہ بدشگونی لیتا ھے اور یہ چيز اسکے اپنے رب کے ساتھ تعلق اور اس پر توکل کو کمزور کر دیتی ھے ۔ اسی طرح وہ کسی چيز کو دیکھ کر یا کسی کلمہ کو سن کر اپنے اس کام سے رک جاتا ھے جسکا کہ وہ ارداہ کر چکا ھوتا ھے ( اور یہی چيز اسے شرک کی دہلیز تک پہنچا دیتی ھے )

    اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرتے رہیں اور اس بات کا علم و یقین رکھیں کہ تمہیں جو تکلیف پہنچی ھے یہ خطا جانے والی نہیں تھی اور جو خطا گئ ھے وہ تمہیں پہنچ نہیں سکتی تھی ۔لہذا اللہ پر توکل رکھیں ، اسی پر بھرپور اعتماد کریں اور اسی پر پورا وثوق رکھیں ۔

    اس بدشگونی کا علاج :

    جس نے توحید کے مضبوط آہنی کنڈے کو مضبوطی سے تھام لیا اور اللہ کی مضبوط رسی کو اچھی طرح سے پکڑ لیا اور اللہ تعالی پر صحیح معنوں میں توکل کرلیا ۔ اس نے بدشگونی کے اندیشوں کو جڑ پکڑنے سے پہلے ہی اکھاڑ پھینکا اور اسکے اوہام کو تکمیل پانے سے پہلے ہی اڑا دیا۔حضرت عکرمہ بیان فرماتے ہیں :

    ” ہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک پرندہ چلاتا و اڑتا ھوا گزرا تو ان کے پاس بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے کہا : (یہ ) خير و بھلائی ( کی علامت ) ھے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فورا فرما دیا :
    ” یہ نہ خير کی علامت ھے اور نہ شر کی نشانی ”

    انہوں نے اسکی بات پر فورا نکیر اس لیے کی تاکہ لوگ پرندوں کے چيخنے چلانے کی تاثیر خیر و شر میں نہ ماننے لگیں ۔ حضرت طاؤس رحمۃ اللہ عليہ اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ سفر میں نکلے تو کوا چلانے ( کائيں کائيں کرنے ) لگا ۔ کسی آدمی نے کہا : یہ خير و بھلائی کی علامت ھے ۔ حضرت طاؤس رحمۃ اللہ عليہ نے فرمایا :

    “اس پرندے کے پاس کیا خیر ھو سکتی ھے ؟ تم میرے ساتھ نہ رھو ۔”

    اللہ والو ! یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ وقت و زمانہ سارے کا سارا ہی اللہ کی مخلوق ھے اور اسی میں بنی آدم کے افعال انجام پاتے ہیں ۔ جس وقت کو مومن نے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا وہ اسکے لیے مبارک وقت ھے اور وہ وقت جسے بندے نے اللہ کی معصیت و نافرمانی میں لگا دیا وہ اسکے لیے باعث نحوست و بےبرکتی ھے ۔ درحقیقت نحوست اللہ کی نافرمانی کا نام ھے کیونکہ اس کی وجہ سے اللہ تعالی اپنے بندے پر ناراض ھوتا ھے اور اسی کے سبب بندہ دنیا و آخرت کی شقاوت و بدبختی اور ناکامی و نامرادی کا شکار ھو جاتا ھے ۔

  2. #2
    رکنِ خاص طارق راحیل کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    170
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ

    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ

    جزاک اللہ
    بہت بہت شکریہ پیاری بہن آپ نے بہت مفید معلو مات دیں

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    نحوست و بد شگونی کا باطل عقیدہ

    جزاک اللہ

متشابہہ موضوعات

  1. مخلص دوست
    By سیما in forum بچوں کا ادب
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 07-08-2013, 10:06 PM
  2. امريکہ – دوست يادشمن ؟ کچھ حقائق
    By tashfin28 in forum سیاسی تصاویر ۔ عجیب خبریں اور ویڈیوز
    جوابات: 6
    آخری پيغام: 06-26-2012, 12:22 PM
  3. ہیلو دوست
    By تانیہ in forum عجیب و غریب تصاویر
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 05-05-2012, 08:19 PM
  4. دوست کے لیئے دعا
    By عرفان in forum متفرق شاعری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-03-2012, 01:28 PM
  5. دوست بنا کے بھلا نا دے
    By سیما in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 12
    آخری پيغام: 03-31-2012, 01:10 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University