ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی

آج ابھی ابھی اس قدر حیران کن خبر آئی ہے کہ شرطیہ کہہ سکتی ہوں خبروں کی دنیا میں اس سے بڑی خبر پاکستان کے تناظر میں کم ہی آئی ہے۔ اس خبر کے آگے اسامہ کی ہلاکت کی خبر کی سنسنی خیزی بھی ہیچ ہے
۔ وہ تو دنیا جانتی تھی کہ اسامہ کو مرے ایک زمانہ ہو چکا ہے اور اب امریکہ نے اسے اہم نہ جان کر اس کے مارنے کا ڈرامہ رچایا ہے تاکہ روز روز اسے زندہ رکھنے کی خبروں کی محنت سے بچا جا سکے ۔۔ اور یہ بھی کہ کسی بھی بہانے سے پاکستان کو عالمی برادری کی نظروں میں گرا کر اس پر حملہ کر دیا جائے ۔ جواز کے طور پر اسامہ کا بیٹا اور کئی بیویاں ہی کافی ہیں ۔ لو جی ہو گئے نہ ایک ہی پنتھ میں دو کاج ۔۔ یعنی پاکستان کو میدان جنگ بنا دیا گیا ہے اور اب یہاں سے بیٹھ کر امریکی ، چین اور ایران کو بھی تاکے گا اور نظر رکھے گا کہ وہ اپنا تیل پانی کسے بیچ رہے ہیں ۔

امریکہ توہمیشہ سے روندی رہا ہے سووہ اپنی پرانی چال چل چکا ہے ۔ یعنی پہلے تو پاکستان کے لوگوں کو آپس میں لڑوا کر انہیں کے گھر کھیت کھلیان اجاڑ دئے پھر انہیں کی مدد کو ڈالر بھی دے دئے ۔۔ جی خود کو ان داتا ثابت کرنے والوں کا یہی وطیرہ رہا ہے سو امریکہ اس وقت پاکستان کا ان داتا بن چکا ہے ۔

یہ بات تو اب کوئی بچہ بھی جان سکتا ہے کہ جب تک گھر کا بھیدی ساتھ ملا نہ ہو اس وقت تک گھر کی لنکا تو کیا سری لنکا بھی نہیں ڈھائی جا سکتی ۔ اب یہ الگ بات کہ گھر کے بھیدی کے نام پر عوام زرداری کا نام لیتے ہیں ۔ دیکھئے ہم نہیں کہہ رہے یہ عوام کہہ رہی ہے ۔۔ کیا کریں صدر پاکستان کا ما ضی ہے ہی اتنا شاندار ہےکہ عوام انہیں اپنا صدر مانتی ہی نہیں بلکہ امریکہ کا سفیر سمجھتی ہے ۔ صدر زرداری دنیا کے وہ واحد صدر ہیں جو اپنے ملک میں بھی صرف دورہ کرنے کے غرض سے آتے ہیں اور دو ، تین دن سے زیادہ قیام نہیں کرتے ۔ عوام کہتی ہے کہ انہوں نے انگلیوں پر حساب لگا کر خود گنا ہے صدر پاکستان اپنی تین سالہ حکومت میں صرف تیس دن پاکستان رہے ہیں ۔ وہ ہر ایسے موقع پر جب ملک کا صدر اپنی قوم کے دکھ سکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے اس وقت پاکستان کا صدر امریکہ کے ساتھ کھڑا ملتا ہے ۔

لیجئے انتہا ہو گئی ۔۔آپ کو خبر بتانا توبھول ہی گئی ۔۔ خبر یہ آئی ہے کہ “ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے صدر کو سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دے دیا۔“

تفصیل کچھ یوں ہے کہ

“ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صدر آصف علی زرداری کے دو عہدوں کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے صدر کو سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

صدر آصف علی زرداری کے بیک وقت صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کا چیئرمین ہونے اور ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیوں کے خلاف اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز احمد چوہدری، جسٹس چوہدری افتخار حسین، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پرمشتمل فل بنچ نے ایک ماہ قبل اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

تینتیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں ہائی کورٹ نے توقع ظاہر کی ہے کہ صدر پاکستان جتنی جلدی ممکن ہو خود کو سیاسی عہدے سے الگ کر لیں گے۔ ایوان صدر کو کسی سیاسی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانا اس کے تقدس، وقار اور صدارت کی آزاد حیثیت کے خلاف ہے۔ اس لئے صدر مملکت ایوان صدر کو سیاسی جماعت کی سرگرمیوں اور اجلاسوں کے انعقاد سے روک دیں۔“

لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بارے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کو ماسکو میں اطلاع دی گئی ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ماسکو سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا عدالت کے فیصلے کی کاپی ایوان صدر نے منگوالی ہے ۔ آئینی ماہرین اس کا جائزہ لیں گے جس کے بعد ردعمل دیا جائے گا۔

لو جی ۔۔ دیکھا آپ نے ۔۔ پاکستان کے صدر زرداری اس موقع پر بھی پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں کہ عدالتی نوٹس ہی وصول کر لیں ۔۔ بہت ظلم ہے عدالت کا کہ فیصلہ سنا دیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ اس سے انکی ماسکو یاترا میں بھنگ پڑ سکتی ہے ۔ حالانکہ انہوں نے اسی لئے عدالتوں کو کئی بار نوٹس بھجوائے تھے کہ خبردار جو میرے خلاف کوئی فیصلہ کیا یعنی عدل سے کام لینا شروع کیا ۔ پی پی پی کا خیال ہے کہ ان عدالتوں کو لگام ڈالنی پڑے گی جبکہ لوگوں کا خیال ہے کہ عدالت کیا سوتے میں سے اٹھ بیٹھی ہے یا انہیں چپ رہنے کی منہہ مانگی قیمت نہیں ملی ۔۔ آخر عدالت بھی ایک مہینہ سے زیادہ اور کتنا انتظار کرتی ۔

کچھ لوگوں کا جی چاہ رہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز احمد چوہدری، جسٹس چوہدری افتخار حسین، جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کے قلم سونے میں جڑوا کر انہیں کسی ایسی جگہ محفوظ کر دیا جائے جہاں پر پرائمری جماعت سے لے کر یونیورسٹی کے تمام طالب علموں پر اس قلم کا دیدار لازمی کر دیا جائے کہ یہ وہ بہادر قلم ہے جس نے سچ کی تلوار ایسے وقت اٹھائی تھی جس وقت ان کے اپنے سر کسی وقت بھی قلم ہو سکتے تھے ۔تاکہ طالب علم بہادری اور بے ایمانی کا انجام ایک ساتھ یاد رکھ سکیں ۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر صدر زرداری اتنے بے حس اور مفاد پرست کیوں ہیں ۔؟

انہیں اپنے ملک کے وقار اور عزت کا احساس کیوں نہیں ہے ۔؟

پاکستان کے مظلوم عوام اور ان کے دکھ کیوں نظر نہیں آتے ۔۔ ؟

انہیں اپنی موت کیوں یادنہیں رہتی ۔۔؟

اور کیا کوئی یہ بات سکے گا کہ وہ آخر کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔۔؟

جس اسامہ گیم میں انہوں نے امریکہ کا ساتھ دیا ہے کل یہی امریکہ اپنا مطلب نکل جانے پر انہیں بھی اپنی گولیوں سے بھون دے گا ۔۔ مثال عبرت کے لئے ضیاالحق کا سیاہ دور حکومت ، اس کی ظالمانہ حمایتی امریکی پالیساں ، ضمیر فروشی اور عوام فروشی کی تاریخ ..پھر اس آمر و جابر کی بے کسی کی موت کیوں بھول جاتے ہیں ۔۔ ؟

میں اب آپ سب کے لئے پاکستان کے صدر زرداری کی جرائم کی وہ تفصیل لکھ رہی ہوں جو مختلف اخباروں ، کالموں ، تجزیوں اور سرکاری بیانات کے ساتھ ساتھ وکیپیڈیا میں بھی پڑھے جا سکتے ہیں ۔۔ جسے پی پی پی ہر ممکن پردے ڈالنی کی کوشش کرتی رہی ہے اور جواز در جواز کی سیاست کھیلتی رہی ہے ۔


زرداری پر مقدمات کی تفصیل
1. پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیا۔

2.نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا کیس بنا۔

3. سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا ، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے پر کیس بنا۔

4. برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔

5.اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔

6.برطانیہ میں نو، امریکہ میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔

7. جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز آثاثے حاصل کیے۔

8. راک وڈمنیشن جو پاکستان میں سرے محل کے نام سے مشہور ہے بھی آصف علی زرداری کی کرپشن کی داستانوں میں سے ایک ہے۔ 335ایکڑ پر مشتمل اس محل کی ملکیت کا آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو ہمیشہ انکار کرتے رہے حتیٰ کہ 1999ء میں جب پاکستانی حکومت نے برطانیہ سے اس محل کی حوالگی کی درخواست کی تو اس محل کی تزئین و آرائش کے ٹھیکیدار پال کیٹنگ نے انکشاف کیا کہ یہ محل آصف علی زرداری کی ملکیت ہے اس نے دعویٰ کیا کہ محل کی تزئین و آرائش کی مد میں اس کے 3لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ہیں جس میں آصف زرداری کی خواہش پر اٹلی سے درآمد شدہ ڈائننگ ٹیبل جوکہ ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر میں خریدا گیا تھا شامل ہے۔

9. بی ایم ڈبلیو وہ واحد کیس ہے جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں آصف علی زرداری پر بنایا گیا اس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1993ء میں بی ایم ڈبلیو کار ڈیوٹی ادا کئے بغیر پاکستان میں درآمد کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیوٹی سے بچنے کے لئے آصف علی زرداری نے اپنے آپ کو سٹوڈنٹ ظاہر کیا ہے.


پاکستان کے صدر زرداری پر بے شمار الزامات لگتے رہے ہیں ۔ جن میں چیدہ چیدہ زبان زد عام ہیں وہ یہ ہیں ۔۔ جو ان کی وجہ شہرت بھی ہیں

1.ان پر مالی بدعنوانی کے بےشمار الزامات آئے۔

2.رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹر ٹین پرسنٹ کا عوامی اور اخباری خطاب پایا۔

3,.چودھری اعتزاز احسن جیسی مقتدر شخصیات نے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو درست کہا ہے[ (بعد میں چودھری نے تردید بھی جاری کی)۔

2008.4.. ء میں مختلف موقعوں پر پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے نواز شریف سے کھلے عام تحریری معاہدہ کرنے کے چند روز بعد مُکر جانے کے طریقہ کو یہ کہہ کر صحیح طرز عمل گردانا کہ "معاہدے حدیث نہیں ہوتے۔

5 .برطانوی اخبار کے مطابق زرداری کے وکلاء نے لندن کی عدالت میں جواب داخل کرایا تھا کہ زرداری کے معالجوں کے مطابق وہ ذہنی مریض ہیں، اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔

6.اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ افغان نژاد ظالمے خلیل زاد کے زرداری سےروابط پر امریکی افسروں نے خلیل زاد کی پیشی کی۔ زرداری نے امریکی حکام کو بتایا کہ خلیل زاد انھیں مشورے اور مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔آصف علی زرداری نے صدر بنتے ہی اپنے اثر رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا اور اپنے اوپر قائم تمام مقدمات رفتہ رفتہ ختم کرواتے چلے گئے، ان کے مقدمات ختم کروانے میں سابق چیف جسٹس عبدا لحمید ڈوگر کا بڑا ہاتھ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کہ ان کی حتی المکان کوشش رہی کے افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پر نہ بحال ہوں۔

7.جنوری 2010ء میں قومی احتساب دفتر نے پس پردہ زرداری کے لیے کام کرنے والے ناصر خان کی اسلام آباد میں 2460 کنال زمین کو سرکاری سپردگی میں لینے کا حکم دیا.

8.. جب بينظير بھٹو وزيراعظم بنيں تو ان کے شوہرآصف على زردارى كا متعدد خواتين کے ساتھ نام ليا گیا وہ شادى سے پہلے كراچى ميں پلے بواۓ مشہور تھے

9.. بينظير كى وزارت عظمى کے باعث انہوں نے اپنى اس شہرت كو ان مقامات پر بھى كيش كروايا جہاں پہلے ان کے چیک باؤنس ہوتے رہے کہا جاتا ہے صدر صاحب كى دو نمبر كار گزاريو ں کے باعث وزير اعظم کے اندرونى حصے میں متعدد بار پانى پت كى جنگیں بھی ہوئيں جن میں محترمہ پر سختى بھی كى گئى تاہم كئى مرتبہ مرد اول كو اسلام آباد سے نكلنا پڑااور وہ لاہور جا كرپنجاب کے ايک چيف سيكرٹرى كى بيٹى اور كراچى جا كر وينا حيات اور ديگر دوستوں سے غم غلط كرتےرہے
.

لیجئے صدر پاکستان کو اپنا غم غلط کرنے کے لئے ایک اور موقع مل گیا ہے ۔۔ اور وہ اس وقت بہت مناسب جگہ پر ہیں یعنی حسینوں کے شہر ماسکو میں ۔۔ بھلا فرحت اللہ بابر کو انہیں ماسکو ڈسٹرب کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ صدر زرداری پیپلز یعنی عوام کے بغیر تورہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے خود کو عوام کے ساتھ رہنے کی عادت ہی نہیں ڈالی ۔۔ اب رہی پارٹی کی بات تو ہاں پارٹی کے بغیر کیسے رہیں گے کیونکہ وہ تو اپنی زندگی کو پالنے سے لے کر آج تک پارٹی ہی سمجھتے رہے ہیں یعنی ہلہ گلہ غل غپاڑہ ۔۔شوخیاں ہی شوخیاں ، خوشیاں ہی خوشیاں ۔۔ اب پارٹی نہ رہی تو زرداری کیا کریں گے ۔۔ اب تو بس ایک ہی خدشہ باقی رہ جاتا ہے کہ کہیں عدالت نہ دیوانی ہو گئی ہو اور ہزیان میں ایسا حکم سنا گئی ہو ۔۔ اللہ نہ کرے عدالت نے جو آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی تھی کہیں وہی نہ کھل گئی ہو ۔۔ اگر واقعی ایسا ہی ہوا ہے تو ساری سیاسی پارٹیاں ہوشیار ہو جائیں کہ انکا پارٹی ٹائم ختم ہونے والا ہے ۔۔۔

لیکن دوستو ہمیں ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے حکومت پاکستان نے پاکستان کی نازک صورتحال سے ہم سب کا دھیان ہٹانے کے لئے اور اپنے جگری یار امریکہ کی گھناؤنی حرکتوں کو چھپانے کے لئے ایک چال چلی ہے ورنہ اگر عدلیہ اتنی ہی عدل پسند ہوتی تو ڈیوس ریمینڈ دیت پر کبھی رہا نہ ہوتا ۔۔ کرپشن کے الزام میں لیٹرے چوراہوں پر پھانسی چڑھائے جاتے ۔۔ ڈرون کے شور میں بے گناہ خون کی دہائی انہیں ضرور سنائی دیتی ۔۔ بھوک اور غربت کی ماری عوام خودکشیاں کرتیں ضرور نظر آتی ۔۔ خود کش حملوں میں شہر ویران کرنے والوں کو ڈھونڈا جاتا ۔۔امریکہ کی پاکستان میں گھس کر بمباری کرنے کی ناپاک جرات پر صدر پاکستان سے لے کر ہر چھوٹے بڑے درباری سرکاری حکمرانوں کا احتساب ہوتا ۔۔ فوجیوں کی وردیاں اتار دی جاتیں ۔۔ اور سزا کے طور پر پاک سر زمین کے غداروں کے سر قلم کر دئے جاتے ۔۔

مایوسی اور بے بسی کے ان حالات میں کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی ؟ اور اگر لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ خواب نہیں ہے تو پھر عدالت کو صرف فیصلہ ہی نہیں اس پر عمل درآمد بھی کروا کے دکھانا ہو گا

منقول از عالمی اخبار