نتائج کی نمائش 1 تا: 8 از: 8

موضوع: افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

  1. #1
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے سربراہان جب داخلی طور پر سخت حالات سے دوچار ہوتے ہیں تو غیر ملکی سفارتی مہم کا سہارا لیتے ہیں اور پھر، نہ گھر کے رہتے ہیں نہ گھاٹ کے۔امریکی صدر اوبامہ کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ داخلی مسائل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور حکومت خوش حال طبقے کی خوشنودی کے لئے عام شہریوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ زوال پذیر معیشت کو ٹریزری بانڈ (Treasury Bond) خرید کر سہارا دینے کی سعی کی جا رہی ہےجو کہ بذاتِ خود سیاسی ناکامی کے مترادف ہے۔ بے روزگاری بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ رہی ہے۔ بینکوں نے مقروض لوگوں کے مکانات ضبط کر کے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے جن میں سے اکثر پارکوں اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ مالیاتی حکمت عملی کامیاب نہیں ہے۔ صرف حفظانِ صحت جیسی اصلاحات مایوسی کے سیاہ بادلوں میں روشنی کی ہلکی سی کرن نظر*آتی ہے۔ ادھر افغانستان میں اٹھائی جانے والی حزیمت اور شرمندگی کے باعث امریکہ کی خارجہ پالیسی مکمل ناکامی سے دوچار ہے، جہاں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایشیاء کی بساط پر کھیلے جانے والے نئے کھیل (New Great Game) میں امریکہ نے عالمی برتری اور حکمرانی کا دائرہ یورو ایشیاء (Euro-Asia) تک بڑھانے کا جو خواب دیکھا تھا، اس خیال سے کہ “ اکیسویں صدی امریکہ کی صدی ہے اور پوری دنیا پر اپنی برتری قائم کرنے کا حق اسی کو ہے“۔ وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اس نئے کھیل کا مقصد ان تمام طاقتوں کو روکنا اور محدود کرنا تھا جو ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے لیکن افسوس کہ یہ منصوبہ بھی ناکام ہے۔
    اس منصوبے کے تحت سب سے پہلے امریکہ نے افغان مجاہدین کے ساتھ دھوکہ کیا جنہوں نے روس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی تھی۔ کیونکہ افغانستان میں بنیاد پرست اسلامی حکومت کا قیام خے میں امریکہ کے عزائم کے لئے خطرہ تھا اس لئے افغانستان میں دانستہ طور پر خانہ جنگی شروع کرا دی گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے عراق کا رخ کیا جو ایران کے خلاف جنگ میں اپنی طاقت آزما چکا تھا۔ اس طرح 1991 کی خلیجی جنگ میں عراق کی عسکری طاقت کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد صومالیہ میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کے لئے اس کے ہمسایہ ممالک کو اکسا کر صومالیہ پر حملہ کروایا اور حکومت بدلی گئی لیکن اسی دوران 9/11 کے سانحے نے امریکیوں کے دل گم و غصے سے بھر دئیے اور بے تابی کے عالم میں افغانستان پر محض اس لئے چڑھائی کی گئی کہ افغانیوں نے اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا ناقابلِ معافی جرم کیا تھا جبکہ خود امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں اسامہ کو دعوت دی اور ہر قسم کی مدد اور تعاون فراہم کیا تھا۔ افغانستان میں تسلط قائم کر لینے کے بعد امریکہ نے عراق پر محضحکہ خیز الزام کے تحت چڑھائی کی کہ صدام حسین کے پاس ایٹمی ہتھیار تھے۔ ایک طرف افغانستان اور عراق میں امریکہ اپنے قدم جما رہا تھا تو دوسری طرف یورپی یونین نے مشرقی یورپ میں اپنی ممبر شپ بڑھا دی اور جارجیا، یوکرائن اور کرغزیا میں بھی مغربی مفادات کے پیشِ نظر انقلاب برپا کیا اور اپنے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے افغانستان کو جنوبی ایشیاء کا حصہ قرار دے دیا اور امریکہ کے ساتھ “ سٹریٹجک پارٹنر شپ“ کے تحت بھارت کو خصوصی ذمہ داری سونپی گئی جس کا واضح ہدف “ خطے میں ابھرتے ہوئے اسلامی بنیاد پرستی کے خطرے کو ختم کرنا اور چین کی ابھرتی ہوئی اقتصادی و عسکری طاقت کو محدود کرنا تھا“۔ اس حکمتِ عملی کو بروئے کار لاتے وقت امریکہ اور اس کے اتحادی اسلامی مزاحمتی قوت کا صحیح اندازہ نہ کر سکے جو ان کی شکست کا باعث بنی ہے۔ اسلامی مزاحمت کہ جسے وہ دہشت گردی کہتے ہیں، اس کے خلاف اس جنگ کی بدولت ہی اسلامی مزاحمتی قوت افغانستان سے عراق، صومالیہ، یمن، پاکستان، کشمیراور فلسطین تک پھیل چکی ہے اور آگے بھی پھیلتی رہے گی۔ جب تک مسلمان ممالک کے خلاف استعماری طاقتوں کی جارحیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔
    صدر اوبامہ کے حالیہ دورہ بھارت کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان یہ جنگ جیت چکے ہیں اور اپنے عزم و استقلال پر پورا اترے ہیں جیسا کہ ملا عمر نے مارچ 2002 میں ہمیں پیغام بھیجا تھا کہ:
    “ ہم اس وقت تک جارح قوتوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جب تک ہم اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد نہیں ہو جاتے۔ افغان قوم امریکی ایجنڈے کو ہرگز قبول نہیں کرے گی کیونکہ یہ ہماری قومی غیرت و روایات کے خلاف ہے۔ ہم اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک غیرملکی فوجیں ہماری سر زمین سے مکمل طور پر نہیں نکل جاتیں۔ ہم آزاد قوم ہیں اور اپنی آزادی کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔“
    اپنے عزم کے عین مطابق ملا عمر کی قیادت میں افغان قوم اپنے ارادے پر پوری طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ جس کا اظہار ان کے حالیہ بیان سے ہوتا ہے:
    “مجاہدین کی عظیم قربانیوں نے طفیل جارح فوجوں کی شکست کا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ ہم اپنے دشمنوں کو ایک تھکا دینے والی جنگ میں الجھائے رکھیں گے اور عنقریب ان کا حشر سابق سوویت یونین جیسا ہو گا۔ جوں جوں جنگ کا دورانیہ طویل ہوتا جائے گا قابض فوجوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جائے گا۔“
    اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف واضح فتح حاصل کر لی ہے اور انہوں نے افغانستان میں بھارت کے کسی کردار کو بھی رد کر دیا ہے۔
    اس قسم کی غیر منظم جنگوں میں کسی کی واضح فتح یا شکست نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود 1989 میں سوویت یونین نے بروقت انی شکست تسلیم کر لی تھی اور افغان مجاہدین نے انہیں افغانستان سے پُرامن انخلا کا راستہ دے دیا تھا جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی کھلے دل سے شکست تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جس کا واضح اظہار معروف صحافی ایرک ایس مارگولیس (Eric S. Margolis) کے اس بیان سے ہوتا ہے:
    “نیٹو افواج دنیا کی طاقت ور ترین فوجیں ہیں جو اتحاد بننے کے 61 سال بعد پہلی مرتبہ کسی جنگ میں شامل ہوئیں اور ہار چکی ہیں اور وہ بھی ان کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہیں جو معمولی نوعیت کے اسلحہ سے لیس افغان کسان اور قبائل ہیں۔“
    لزبن(Lisbon) سے جاری جاری ہونے والنے حالیہ اعلامیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا غرور مزید مجروح ہوا ہے جس کے سبب یہ بے تکا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے:
    “ہم آئندہ برس سے شروع ہونے والے فوجی انخلا کے بعد 2014 میں یا اس سے قبل اپنا مشترکہ کردار ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں یا اس میں کچھ اضافہ کریں گے۔“
    اس اعلامیے کی رو سے شمالی اتحاد کو ایک لاکھ پچاس ہزار افغان آرمی اور ایک لاکھ پولیس جو کہ زیادہ تر تاجک، ازبک اور ہزارہ قبائل کے جوانوں پر مشتمل ہو گی کے ذریعے طاقت ور بنانے سے افغانستان میں نئی خانہ جنگی شروع کرانا مقصود ہے۔ اس طرح افغانستان غیر مستحکم ہی رہے گا جس سے جنوبی ایشیاء اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں طالبانائزیشن کا عمل پھیلتا رہے گا اور پاکستان میں بھی امن قائم نہیں ہو سکے گا۔
    اب وقت آ گیا ہے کہ اس قسم کی منفی اور سطحی سوچ کے رحجانات کو ختم کیا جائے۔ بھارت سمیت تمام علاقائی ممالک کو چاہیے کہ افغانستان میں قیامِ امن یقینی بنانے کے لئے افغانستان کے معاملات سے الگ رہیں۔ مسائل اس وقت زیادہ الجھ جاتے ہیں جب جارح قوتیں مشرقی جانب چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کو خطے میں اپنے عزائم کے لئے خطرہ تصور کرتی ہیں۔ چین کی ابھرتی ہوئی طاقت ایک حقیقت ہے اور نہ ہی سوویت یونین کی طرح اس کے کوئی جارحانہ عزائم ہیں بلکہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور بھارت کی شراکت کا مقصد سرد جنگ کی کیفیت پیدا کرنا ہے اور چین کے خلاف عسکری اتحاد بنانا ہے جو کہ خطے میں قیامِ امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
    اوبامہ کی خارجہ پالیسی بھی داخلی پالیسی کی طرح غیر دانشمندانہ ہے۔ اگر انہیں واقعی امریکیوں کے لئے ملازمت کے مواقع تلاش کرنا ہیں تو اس سلسلے میں ان کا ایشیاء کا دورہ قطعی غیر موذوں تھا۔ دانشور فرید زکریہ کے بقول:
    “ انہیں کینیڈا یا میکسیکو کی طرف جانا چاہیے تھا جو کہ بھارت کے مقابلے میں بیس گنا امریکی مصنوعات کے خریدار ہیں یا پھر شمالی کوریا کی جانب جو بھارت سے دس گنا زیادہ امریکی مصنوعات کا خریدار ہے۔“
    اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اوبامہ کی نئی سوچ خطرناک مقام پر پہنچ چکی ہے۔ دانش کا تقاضہ ہے کہ قابلِ عمل حکمت عملی اپنائی جائے اور بہتر سوچ کے تحت حالات کا صحیح ادراک کرتے ہوئے افغانستان سے فوجیں نکالنے کی حکمت عملی ترتیب دی جائے جو طالبان کے ساتھ مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے ورنہ یہ انخلا ایک ڈراؤنا خواب بن جائے گا کیونکہ 1989 میں پاکستان کو افغان مجاہدین کا اعتماد حاصل تھا جس کی وجہ سے روسی فوجوں کا پُرامن انخلا یقینی بنایا گیا تھا مگر اب پاکستان افغان مجاہدین کا اعتماد کھو چکا ہے اور *صرف طالبان ہی پُرامن انخلا کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ امریکی سینٹ کی ٹاسک فورس کے سربراہ رچرڈ آرمیٹج کی اس دلیل پر غور کریں کہ:
    “ افغانستان میں تصادم کو ختم کرنے کے لئے آئینی اصلاحات اور دیگر سیاسی اقدامات طے کرنے کے لئے قومی سطح پر پُرخلوص مصالحانہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔“
    اس کے علاوہ اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو قابض فوجوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
    “ امریکہ ایک زوال پذیر ملک ہے جس کی صرف سیاسی ساکھ ہی نہیں بلکہ اقتصادی اور عسکری ساکھ بھی کمزور ہوئی ہے۔“
    یہی چیلنج اوبامہ کو درپیش ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ حوصلہ اور دانشمندی سے زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کو پورا کرنے کا تہیہ کر لیں جس کا انہوں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا:
    “میں امریکی قوم کے خوابوں کی تعبیر کے لئے اپنی ساری زندگی وقف کر چکا ہوں۔“
    اب یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ریپلکن کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں اور امریکی عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
    انہیں اندورن ملک اور بیرونی دنیا کے عوام کو مطمئن کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی اپنانا ہو گی، بالخصوص ان لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنا ہو گا جنہوں نے امریکی برتری اور عالمی حکمرانی کے خواب دیکھے اور بہت تکالیف اٹھائی ہیں۔
    نوآبادیاتی اور غلامی کا دور قصہ پارینہ بن چکا ہے اور اب عالمی بھائی چارے کو فروغ دینے کا وقت ہے۔ اوبامہ کو چاہیے کہ مشہور دانش ور Horace کی اس نصیحت کو یاد رکھیں:
    “ ایسی طاقت کا استعمال جس میں کوئی حکمت عملی شامل نہ ہو، خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہے۔“

  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    اوبامہ کو چاہیے کہ مشہور دانش ور Horace کی اس نصیحت کو یاد رکھیں:
    “ ایسی طاقت کا استعمال جس میں کوئی حکمت عملی شامل نہ ہو، خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہے۔“
    زبردست حقائق پر روشنی ڈالی ہے
    بہت شکریہ علی عمران صاحب

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    اچھی شئیرنگ کا شکریہ

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    زبردست تحریر پیش کرنے پر آپ لائق تحسین ہیں ،
    جزاک اللہ خیر

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    افغانستان ميں امریکی حکمت عملی اور بے بنياد الزامات

    محترم علی عمران
    السلام عليکم

    ميں فورم پر آپ کيطرف سے افغانستان میں امریکی جاری کوششوں کے متعلق پيش کی ہوئی غلط اور مسخ شدہ تصویر کو درست کرنا چاہتا ہوں۔ صدر براک اوبامہ اور وزيرخارجہ سمیت کئی امریکی سینئر حکام نے بارہا سیاسی طور پرايک قابل عمل اور مضبوط افغانستان کی حکومت کی ہميشہ حمایت کيں ہيں اور اس بات پر يقين رکھتے ہے کہ ايسی حکومت ہی افغانستان میں ايک پائیدار امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔
    ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان ميں میں بین الاقوامی فوجی کارروائی اور خطے میں اس کے بعد افواج کا قیام اورموجود ہونا کسی بھی انتقام کا نتيجہ نہيں ہے جس کا بعض ناقدین کی طرف سے جھوٹا دعوی کيا گيا ہيں۔ ہمارا بنیادی مقصد اور خواہش قيمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لئے ہے جس کے ليۓ ہم نے بڑی اقتصادی قیمت پر ہزاروں کی تعداد میں اپنے افوج کو دنيا کے دوسرے کنارے ميں بھيجا ہيں۔ ہميں صرف امریکی زندگياں ہی عزیز نہيں بلکہ افغان زندگيوں کے ساتھ ساتھ ان تمام معصوم لوگوں کی زندگیاں نہايت قيمتی اور عزیز ہيں جو روزانہ کی بنیاد پر ہماری مشترکہ دشمن کے ہاتھوں تکليف میں مبتلا ہیں۔

    ميں يہ واصح کرنا چاہتا ہوں کہ امريکہ افغانستان سے بھاگنے کی کوئی کوشش نہيں کر رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ پوری طرح مختلف چیلنجوں کو اور آگے آنے والی قربانیوں کو بخوبی سمجھتی اور تسلیم کرتی ہيں۔ تاہم، ان غیرانسانی دہشت گردوں کے خلاف جاری کوششوں کو ترک کرنا صرف ایک ہی آپشن نہیں ہے۔ اور يہ قدم ان متاثرین کے ہزاروں خاندانوں کے ساتھ انصاف نہ ہوگا جنہوں عسکریت پسندی کے خلاف عالمی کوششوں میں اپنے قیمتی جانوں کا نظرانہ پيش کيا ہيں۔

    میں صدر اوباما کا يہ بیان گوش گزار کرنا چاہتا ہوں جو واضح طور پر جاری بین الاقوامی اقدامات میں ہمارے واضح مقاصد بیان کرتی ہيں: " ہم افغانستان کو ایک بہترین جگہ بنانے کی کوشش نہیں کررہے،ہمارا مقصد جو ہم چاہتے ہیں ممکن اوربہت واضح ہے کہ کوئی محفوظ پناہ گاہ نہ ہو جس سے القاعدہ یا اس کے ملحقہ گروہ ہمارے وطن یا ہمارے اتحادیوں کے خلاف حملے عمل ميں لا سکتے ہو".

    آخر میں، مجھے اعادہ کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے لئے پختہ عزم پر کارفرما ہے ، جو 2014 میں ختم نہیں ہوگی – اس کے علاوہ ميں بلاترديد کہنا چاہتا ہوں کہ امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی ممالک افغانستان میں انتہا پسندوں کے خلاف جاری جنگ ہار نہیں رہے ہيں ۔ بلاشبہ آنے والے سالوں میں امریکی کردار ميں نمایاں طور پر تبدیل آئی گی، لیکن افغانستان کے ساتھ امریکی عوام کی حمايت کا عزم ھمیشہ قائم رہيگا۔ تاہم، آخر میں تمام نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور افغانستان کی قیادت کوہی اپنے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا ۔ امریکی عوام اور امریکی حکومت افغانستان ميں امن، خوشحالی، اور استحکام کے مستقبل کے لئے ہر قسم کی ضروری حمایت فراہم کرنے کے لئے مصروف عمل رہيگا.

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    زبردست شیئرنگ ہے ، علی عمران صاحب نے حقیقت پر مبنی مضمون شیئر کیا ہے جس کو تاشفین صاحب جھوٹ کے لبادہ میں اوڑھ کر چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جناب تاشفین صاحب! اب بھی وقت ہے ، علی عمران جی کے مضمون کو ایک بار پھر غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں، دوسروں کے گھر کو برباد کرکے اپنا گھر محفوظ رکھنے کی سوچ حماقت کہلاتی ہے۔۔ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرکے اپنے معاملات ٹھیک سے چلانے کے وعدے جھوٹ کے پلندے تو ہوسکتے ہیں لیکن یہ دعوے زیادہ پائیدار نہیں رہ سکتے۔۔ اس لیے ’’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں ‘‘ کہ مضمون دوبارہ پڑھ لیں!۔۔۔ ھاھاھاھا

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    [size=large]افغانستان ايشو اور امريکی موقف

    محترم سرحدی
    السلام عليکم

    افغانستان اور خطے ميں امريکی کردار کے متعلق آپ جو نقطہ نظر فورم پر پيش کرنے کی کوشش کررہے ہيں وہ اس ايشو پر آپ کے لاعلمی کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کی لاعلم رائے ایک پرامن افغانستان کی طرف امریکی حقیقی عزم کو بےنقاب نہیں کرتا۔ ميں افغانستان اور خطے ميں امريکی کردار کے متعلق آپ کے منطق کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔

    ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان ايشو پر آپ کا نقطہ نظر بنیادی طور پر غلط ہے۔ آپ جان بوجھ کر اہم تاریخی حقائق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے افغانستان کی موجودہ صورتحال ميں امريکہ کو کردار ادا کرنا پڑرہا ہے۔

    يہ ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ کہ امریکہ اور دوسرے اتحادی ممالک افغانستان اپنے مرضی سے نہیں گئے۔ دنیا کی سلامتی کے لئے سلامتی کونسل کی طرف سے ان کی کوششوں کی انتہائی حوصلہ افزائی کی گئی اوراقوام متحدہ کی قرارداد 1368 (2001) اور 1373 (2001) کے تحت مکمل حمایت کی گئی - ويسے طالبان کوافغانستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کو ثابت کرنے کے لۓ کس قسم کے ثبوت کی ضرورت تھی؟ اس کےعلاوہ، آپ کیوں اس حقیقت سے انکار کر رہے کہ اقوام متحدہ نے 1999 ء ميں طالبان سے بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کيا تھا ۔ براہ مہربانی اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کو پڑھ ليجيۓ اس کی تحرير بہت واضح ہے ۔ اس سے يہ بلا انکار ثابت ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان میں موجود تھا اور وہ دنیا بھر میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لئے افغانی زمین کو اڈوں کے طور پر استعمال کر رہا تھا.
    ايک دفعہ پھر ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امريکہ افغانستان سے بھاگنے کی کوئی کوشش نہيں کر رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ پوری طرح مختلف چیلنجوں کو اور آگے آنے والی قربانیوں کو بخوبی سمجھتی اور تسلیم کرتی ہيں۔ تاہم، ان غیرانسانی دہشت گردوں کے خلاف جاری کوششوں کو ترک کرنا صرف ایک ہی آپشن نہیں ہے۔ مجھے اعادہ کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ ایک طویل المدتی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے لئے پختہ عزم پر کارفرما ہے ، جو 2014 میں ختم نہیں ہوگی-

    تاہم، آخر میں افغانستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنے ہونگے ۔ امریکی انتظاميہ افغانستان ميں امن، خوشحالی، اور استحکام کے مستقبل کے لئے ہر قسم کی ضروری حمایت فراہم کرنے کے لئے مصروف عمل رہيگا.

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    [/size]

  8. #8
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    افغانستان۔۔۔۔۔۔۔ اوبامہ کو درپیش چیلنج

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: سرحدی پيغام ديکھيے
    زبردست شیئرنگ ہے ، علی عمران صاحب نے حقیقت پر مبنی مضمون شیئر کیا ہے جس کو تاشفین صاحب جھوٹ کے لبادہ میں اوڑھ کر چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جناب تاشفین صاحب! اب بھی وقت ہے ، علی عمران جی کے مضمون کو ایک بار پھر غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں، دوسروں کے گھر کو برباد کرکے اپنا گھر محفوظ رکھنے کی سوچ حماقت کہلاتی ہے۔۔ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرکے اپنے معاملات ٹھیک سے چلانے کے وعدے جھوٹ کے پلندے تو ہوسکتے ہیں لیکن یہ دعوے زیادہ پائیدار نہیں رہ سکتے۔۔ اس لیے ’’میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں ‘‘ کہ مضمون دوبارہ پڑھ لیں!۔۔۔ ھاھاھاھا
    [size=xx-large]زبردست رائے دینے پر آپ کا بہت شکریہ[/size]


متشابہہ موضوعات

  1. پاکستان سے محبت کرنے والے تمام پیاروں کو جشن آزادی مبارک
    By تانیہ in forum دعائیہ کلمات/تہنیتی پیغامات
    جوابات: 10
    آخری پيغام: 08-14-2012, 08:52 AM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-07-2012, 06:29 PM
  3. جوابات: 1
    آخری پيغام: 10-29-2011, 04:04 PM
  4. جوابات: 0
    آخری پيغام: 06-20-2011, 05:52 AM
  5. جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-21-2010, 07:34 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University