نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: امریکی اعلانات پرنہیں اقدامات پر نظر رکھیں

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    امریکی اعلانات پرنہیں اقدامات پر نظر رکھیں

    مظفر اعجاز
    [size=x-large]اکثر اوقات خبریں کچھ جاری ہورہی ہوتی ہیں اور اقدامات کچھ اور ہی ظاہرکررہے ہوتے ہیں‘ امریکی اعلانات تو ہرطرح کے کرتے ہیں لیکن ان کے کسی اعلان پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا....کبھی یہ اعلان کیاجاتاہے کہ پاکستان ہمارا دوست ہے لیکن ساتھ ہی اس کو احکامات دیے جاتے ہیں کہ اپنی خودمختاری امریکا کے سامنے رکھ دو۔اب امریکی کانگریس کے کچھ ارکان نے صدرباراک اوباما سے مطالبہ کیاہے کہ اسامہ کی موت کے بعد افغانستان جنگ غیرضروری ہے۔ افغانستان میں موجودہ چند دہشت گرد عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں۔ اس لیے افغان جنگ کی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان ارکان نے مطالبہ کیاہے کہ امریکی فوج کو افغانستان سے فی الفور بلایاجائے۔ ان ارکان نے توجہ دلائی ہے کہ افغان جنگ پر ہفتہ وار 2 ملین ڈالرکی خطیر رقم خرچ ہورہی ہے۔ اب افغانستان میں جنگ قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے ضروری نہیں۔امریکی اراکین کانگریس کے خط میں جوکچھ کہاگیاہے اس کے مقابلہ میں امریکی اقدامات ملاحظہ فرمائیں۔ امریکی کانگریس نے جس کے اراکین نے اوباماکو خط لکھا ہے 690 ارب ڈالر کے دفاعی اخراجات کی منظوری دی ہے۔ اور افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کے حق میں322 اورمخالفت میں صرف 96 ارکان تھے گویا امریکی کانگریس کی اکثریت جنگجووں پرمشتمل ہے۔ اس 690 ارب ڈالر میں سے عراق اور افغان جنگ پر 119 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔ اگر امریکی افغانستان سے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اتنی خطیر رقم مختص کرنے کی تک سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ جبکہ عراق سے بھی افواج نکالنے کا فیصلہ کیاجاچکاہے اور افغانستان سے بھی نکلنے کے عزائم ہیں لیکن رقم جنگ کے لیے مختص کی جارہی ہے۔ گویا ایساکوئی امکان نہیں ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاءکے لیے کوئی فوری سرگرمی ہوگی بلکہ ہمیں تو ایسا لگ رہاہے اورغالباً ایسا ہی ہے کہ امریکی ہرطرف کے پتے کھلے رکھتے ہیں فی الحال اکثریت جنگ جاری رکھنے کے حق میں ہے لیکن 96 ارکان کانگریس سے مخالفت بھی کروادی۔ تاکہ کل کسی قسم کا ریورس گیئرلگانا ہوتو ان 96 ارکان اور 8 ارکان کے خط کو بہانا بنایاجاسکتاہے۔ فی الحال تو امریکی اعلانات اور اقدامات میں حسب معمول تضاد ہی تضاد ہے۔ ابھی چند روز قبل امریکی یہ کہہ رہے تھے پاکستان کی پہلے سے زیادہ مدد کی جائے۔ ایٹمی پروگرام پر سوال نہیں اٹھائیں گے۔ بلکہ یہ تک کہہ دیا تھا کہ ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں لیکن اب امریکی دفترخارجہ قائم مقام ڈپٹی چیف مارک ٹونز نے کہاہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت اورسیکورٹی کے حوالے سے تشویش ہے ۔یہ تشویش بھی ابھی دوٹوک نہیں ہے ایک جملہ کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات محفوظ ہیں لیکن ساتھ میں کہاگیاہے کہ سیکورٹی کے کچھ سوالات ہیں جن پر پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔ لیکن ہمیں افسوس تو اس بات پرہے کہ جو مطالبہ امریکی کررہے ہیں وہی مطالبہ اور سوالات دوسرے اندازمیں پاکستانی قومی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کررہی ہے۔ اس کا اندازہ تھوڑا مختلف ہے۔ پاکستانی کمیٹی نے مطالبہ کیاہے کہ دفاعی تنصیبات کی سیکورٹی کا ازسرنو فوجی جائزہ لیاجائے۔ کمیٹی نے تنصیبات پرحملوں پر اظہارتشویش کیاہے اور خامیاں دورکرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری دفاع نے وضاحت کی ہے کہ ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ہمیں اس بات کا تو اب تک یقین ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اب تک محفوظ ہیں اور ان تک کسی دشمن کے پہنچنے کا امکان نہیں۔ یہی بات امریکا کے لیے تشویش کا باعث ہے پاکستان کے کسی نقصان پر امریکیوں کو پریشانی ہوئی ہم نے کبھی دیکھی نہیں ‘ابھی گزشتہ دنوں پاکستان کے دوطیارے تباہ ہوگئے لیکن ہیلری کلنٹن دورہ پاکستان اور پریس کانفرنس کے دوران اس کا ذکر تک کیے بغیر چلی گئیں۔ لہٰذا یہ خیال تو دل سے نکال دیں کہ امریکاکو پاکستان کے ایٹمی اثاثوںکے تحفظ کی فکرہے۔ بلکہ ہمیں تو لگتاہے کہ اس کو پاکستانی ایٹمی اثاثوں کے محفوظ ہونے کی وجہ سے فکرہے کہ اگریہ ایٹمی تنصیبات اتنے شورشرابے کے باوجود محفوظ ہیں تو تشویش ظاہرکرنی چاہیے۔ پاکستانی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو یہ باریکی سمجھنی چاہیے کہ ان کی جانب سے بھی دفاعی تنصیبات کی سیکورٹی کا ازسرنوجائزہ لینے کا مطالبہ کیاگل کھلاسکتاہے۔ اس کا اندازہ اس امریکی منصوبے سے ہوسکتاہے جو 5 سال قبل انہوں نے اپنے ان ہی خدشات کا اظہارکرتے ہوئے ظاہرکیا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور بم ایک غیرمحفوظ مقام سے محفوظ مقام تک منتقلی کے دوران طالبان کے ہاتھ یاالقاعدہ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور ان کو اس دوران القاعدہ کے ہاتھ لگنے سے قبل امریکی کمانڈوزخیال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس مقصد کے لیے اپنے ہی امریکی کمانڈوزموجود رہیں گے۔ بعد میں 7 ہزار ویزوں میں سے نہ جانے کتنے ایسے کمانڈوز کو ویزے دے کر پاکستان پہنچادیا گیاہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان تنصیبات کے غیرمحفوظ ہونے کاواویلا ہو اس لیے رہاہے کہ ابھی تک امریکیوں کی پہنچ وہاں ہونہیں رہی ہے۔ جو ڈراما انہوں نے خدشات کی صورت میں پیش کیا تھا ہمیں یقین ہے کہ خدانخواستہ ان اثاثوں کی منتقلی یا سیکورٹی کا ازسرنو جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تو اس سے اثاثوں ہتھیاروں اور تنصیبات کے اصل مقامات امریکیوں کے سادہ نظام کو ظاہرکیاجائے گا اوریہی امریکی چاہتے ہیں پہلے منتقلی کے دوران طالبان اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں یہ بم آجانے کے خدشات کا اظہاربتادیا ہے کہ ایبٹ آباد میں مہران بس جیسا کوئی ڈراما کردیاجائے گا۔ آپ پوچھتے ہی رہیے گا کہ ہوا کیاہے ؟کون جانتاہے کہ ایبٹ آباد میں کتنے ہیلی کاپٹر آئے کتنی لوگ اندرتھے کتنے باہرتھے۔ اسامہ تھے یا نہیں‘ ہیلی کاپٹرگرایا تھا یا گرایاگیا۔پی این ایس مہران میں صرف اورین طیاروں کوکیوں نشانہ بنایاگیا؟ تو پھر خاکم بدہن کسی روز خوشاب ‘کہوٹہ‘ یاکسی اور جگہ ایسا ہی واقعہ ہوجائے اور امریکی یہ اطلاع دے رہے ہوں گے کہ پاکستانی ایٹم بم چوری ہوکر طالبان کے ہاتھوں میں جارہا تھا ہم نے تباہ کردیا.... اور ساتھ ساتھ ساری تنصیبات بھی پھرجواب سنتے رہیے گا۔ ہمارے خیال میں امریکیوں کے اعلانات پر نہیں اقدامات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اعلانات پریقین کرتے رہے تو یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ اب تو ہماری عسکری قیادت یا اس کی نچلی قیادت کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ امریکا کو ایٹم بم کی سیکورٹی پر تحفظات نہیں اس کے محفوظ ہونے پر تشویش ہے اور اس کا نشانہ وہی ہے۔ اب تو ایٹمی اثاثے پاکستان کے ساتھ ساتھ عسکری وسیاسی قیادت کے تحفظ کی بھی ضمانت ہے۔
    [/size]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: امریکی اعلانات پرنہیں اقدامات پر نظر رکھیں

    سیما صاحبہ نے بہت گہری بات کہی ، شکریہ اس تبصرے کو شئیر کرنے کا ،
    آپ ایسی خبریں پیش کرتی رہا کریں ، جس سے ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد ملتی رہے ،

  3. #3
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    RE: امریکی اعلانات پرنہیں اقدامات پر نظر رکھیں

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک
    سیما صاحبہ نے بہت گہری بات کہی ، شکریہ اس تبصرے کو شئیر کرنے کا ،
    آپ ایسی خبریں پیش کرتی رہا کریں ، جس سے ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد ملتی رہے ،
    [align=center][size=x-large]نائس شیئرنگ بہت شکریہ[/size][/align]

  4. #4
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: امریکی اعلانات پرنہیں اقدامات پر نظر رکھیں

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک
    سیما صاحبہ نے بہت گہری بات کہی ، شکریہ اس تبصرے کو شئیر کرنے کا ،
    آپ ایسی خبریں پیش کرتی رہا کریں ، جس سے ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننے میں مدد ملتی رہے ،
    السلام علیکم
    چاچا جی یہ بات تو میں نے نہں کی یہ تو کسی اور کی لکھی ہوئ ہے -کاش میں اتنی پیاری اردو لکھ سکتی
    اوریہ صاحبہ کون ہے میں تو سیما ہوں


متشابہہ موضوعات

  1. شعر لکھیں"نہیں" پر
    By تانیہ in forum کھیل ہی کھیل میں
    جوابات: 22
    آخری پيغام: 02-06-2013, 04:04 PM
  2. گپیں لگائیں
    By سقراط in forum گپ شپ
    جوابات: 185
    آخری پيغام: 12-07-2012, 09:53 PM
  3. یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
    By سیما in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 12-12-2011, 04:10 AM
  4. قرآن مجید پڑھیں اور سنیں.....
    By علی عمران in forum اردو منظر کی جانب سے اہم اعلانات
    جوابات: 6
    آخری پيغام: 04-18-2011, 01:29 PM
  5. آنکھیں بھیگ جاتی ھیں
    By این اے ناصر in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 03-18-2011, 09:05 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University