[size=x-large]پروفیسر شکیل صدیقی
امریکی سیکرٹری اسٹیٹ محترمہ ہیلری کلنٹن کی متوقع پاکستان آمد کے بارے میں جب سے ہمیں معلوم ہوا تھا ہم ان کی آمدکا بے چینی سے انتظارکررہے تھے لیکن 2 مئی کے سانحہ ایبٹ آباد کے بعد ایسی خبریں آنا شروع ہوئیں جس سے لگاکہ ان کی آمد اب کھٹائی میں پڑگئی ہے‘ سانحہ ایبٹ آباد یقیناً ایک بڑا اور سنگین واقعہ تھا بعض لوگ تو اسے بجاطورپر پاکستان کے نائن الیون سے تعبیرکررہے ہیں سانحہ ایبٹ آبادمیں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو پامال کرکے امریکا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے سنگین جرم کا ارتکاب کیاہے۔ ایبٹ آباد میں امریکی فوجیوں کی چھاپہ مارکارروائی نے یوں تو بہت کچھ بدل کر رکھ دیاہے۔ ‘ اسامہ بن لادن کی شہادت‘ ان کے جسدخاکی کی بے حرمتی اور اس پر ردعمل ‘پاک امریکا تعلقات میں دراڑ‘ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کی اہلیت ونیت اور سیاسی وقومی اوردینی ومذہبی رہنماوں کا کردار‘ سب پر سوالیہ نشان ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہم پاکستانی قوم کا اضطراب اور بے چینی ہے جس میں کوئی کمی نہیں آرہی بلکہ پی این ایس نیول بیس مہران کے سانحہ کے بعد تو قوم میں پاکستان کی دفاعی تنصیبات اور ایٹمی اثاثوں کی سیکورٹی کے بارے میں خدشات اورتحفظات میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔بات دوسری طرف نکلتی جارہی ہے لیکن میڈم کلنٹن کی آمد سے جڑی ہوئی ہے اس لیے بے جوڑ توقطعی نہیں تاہم اب براہ راست ان ہی کے بارے میں بات کریں گے۔ جمعہ 27 مئی کو جب ہم سوکراٹھے‘ اخباردیکھا تو معلوم ہواکہ میڈم کلنٹن پاکستان تشریف لے آئی ہیں یقین جانیے ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا تاہم یہ جان کر ضروردکھ ہوا کہ انہیں چکلالہ ایئربیس پرسفارتی پروٹوکول نہیں دیاگیا یہ سفارتی آداب کے خلاف ہے جس پرانہوں نے استفساربھی کیاہوسکتاہے کہ ہمارے سیکرٹری خارجہ اورخارجہ امور کی وزیرمملکت کو2 مئی کو امریکی ہیلی کاپٹروں کی آمد کی طرح میڈم کلنٹن کی آمد کی بھی اطلاع نہ ہوئی ہو اسی لیے وہ میٹھی نیند سوتے رہے۔ اگرہمارا بس چلتا تو ہم ان کے استقبال کے لیے ضرورجاتے ‘ اب آپ یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آخرہم میڈم کلنٹن میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟آپ یہ اعتراض بھی کرسکتے ہیں کہ ان سے قبل محترمہ کونڈا لیزا رائس بھی ایک خاتون سیکرٹری اسٹیٹ تھیں لیکن ان میں کبھی اتنی دلچسپی نہیں دکھائی؟ تو ہم واضح کردیں کہ ہم اول وآخر مشرقی اور بہت شرمیلے اور شریف ہیں ہم ہرگزایسے ویسے آدمی نہیں ہیں اور اس پر ہمارا ریکارڈ گواہ ہے۔ دراصل میڈم کلنٹن میں دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان اعلیٰ امریکی حکام میں سے ایک ہیں کہ جنہیں دنیابھرمیں امریکی مخالفت اور نفرت میں دلچسپی ہے اور وہ مسلسل یہ جاننے کی کوشش کررہی ہیں کہ دنیابھرمیں بالخصوص مسلمانوں میں امریکیوں سے نفرت اور ان کی مخالفت کی وجہ کیاہے وہ جب گزشتہ دورے پرپاکستان آئیں تھیں تو اس مسئلہ پر انہوں نے بہت نیچے کی سطح پر جاکریہ کہاکہ امریکا پاکستان سمیت دنیا بھرمیں سب سے زیادہ امداد دیتاہے لیکن پھربھی مسلمان اس سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔ پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ امریکا مخالف جذبات ابھارنے اور سازشی نظریات فروغ دینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ پاکستان کے عوام کو خود فیصلہ کرناہوگا کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں“ ۔ انہوں نے اپنی آمد کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ احسان بھی جتایاکہ امریکا نے سیلاب کے دوران پاکستان کی دل کھول کر مدد کی انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی میڈیانے اس کا ہمیں کریڈٹ نہیں دیا‘ میڈم کلنٹن نے ایک موقع پر انتہائی جذباتی انداز میں فرمایاکہ پاکستان کا مستقبل پاکستانی عوام کے بعد ہمارے لیے بہت اہم ہے‘ امریکا پاکستان کے مسائل حل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے ایساکرنا چاہیے اب پاکستان کے عوام کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟میڈم کلنٹن کا حالیہ دورہ بہت پاکستان نہایت اہم تھا اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ انہوں نے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت سے چارگھنٹے تک مسلسل بات چیت کی اور ایک گھنٹہ صدرمملکت آصف زرداری سے ون ٹوون ملاقات کی اور 34 منٹ کی طویل بریفنگ بھی یہ معلوم ہواہے کہ ملاقات نہ صرف تناوکے ماحول میں ہوئی اورمسکراہٹوںتک کا تبادلہ نہیں ہوا‘ ملاقات میں میڈم اور ان کی ٹیم نے نرمی کم اورگرمی زیادہ دکھائی‘ ڈرون حملے بندکرنے سے انکارسمیت ہائی ویلیو ٹارگٹس کے خلاف مشترکہ کارروائی کے علاوہ القاعدہ اور طالبان کی مرکزی قیادت کے خلاف کارروائی کی فہرست بھی حوالے کی یہ وہ امور ہے جس پر اخبارات اور ٹی وی چینلز میں مسلسل تجزیے اورتبصرے ہورہے ہیں ہم تو میڈم کے فرمودات کو صرف ان کے اس شکوے تک محدود رکھیں گے جو انہوں نے امریکا مخالفت جذبات ابھارنے اور سازشی نظریات فروغ دینے اور پاکستان کے عوام کو دھمکی دینے کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں ؟ اس سے متعلق پہلی بات تو ہم یہی کہیں گے اگرمیڈم کلنٹن کو امریکا مخالف جذبات کی فکرہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہے یہ اعلیٰ امریکی قیادت کی جانب سے حقیقت کا اعتراف ہے۔ دوسری بات جو انہوں نے امریکی امداد کا دوسرے ملکوں سے موازنے کے حوالے سے کہی ہے وہ امریکا جیسی سپرقیادت کے شایان شان نہیں بڑی ملکی اور سطحی بات ہے جس کی میڈیم کلنٹن جیسی مدبرخاتون سیاستدان سے توقع نہیں تھی اور آخری بات یہ کہیں گے میڈم کلنٹن اگر امریکی مخالف جذبات ختم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اور مخلص ہیں تو ان کا ویژن درست نہیں ہے انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا بھرکے انسان بالخصوص مسلمان اور پاکستان مسلم امریکا کے غلام نہیں ہیں امریکا اپنے آقا بننے کا خناس دماغ سے نکال دے تو دنیابھرکے انسانوں کو ایک ڈالرکی بھی امداد نہ دے اور صرف ان کی آزادی اور خود مختاری کا احترام شروع کردے امریکی مخالفت میں کمی آسکتی ہے ‘ نفرت مخالفت اورسازشوں کو تو خود امریکا نے ابھارا اور فروغ دیاہے۔
[/size]