نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: چوہدری اور مراثی

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    چوہدری اور مراثی

    [size=x-large]مشتاق احمد خان
    کسی گاوں کے چوہدری نے مراثی کی جگت بازی سے بد مزہ ہو کر اس کے گھر کا رخ کیا۔ مراثی کے گھر پر پہنچا۔ پیر کا جوتا ہاتھ میں لیا اور مراثی کے سر پر بجانا شروع کردیا۔مراثی پٹتا رہا۔ گاوں کے لوگ تماشا دیکھتے رہے۔ چوہدری کی جوتی ٹوٹ کر دو حصوںمیں تقسیم ہوگئی تو چوہدری نے مراثی کو دو چار ہاتھ رسید کیے اور بکتا جھکتا گھر لوٹ گیا۔ اب کوئی مراثی کو ملامت کرتا کہ اسے چوہدری کے مزاج کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ کوئی دبی دبی زبان میں چوہدری کی زیادتی کا اظہار کرتا۔ مراثی نہ نصیحت سنتا نہ چوہدری کی مذمت کرنے والوں کی ہاں میں ہاں ملاتا۔ اس کی بیوی سارادن اس کے بدن پر ہلدی چونے کا لیپ اور سکائی کرتی رہی.... اسی دوران مراثی کے بھائی بند مل بیٹھے اور غور فکر کرنا شروع کیا کہ اگر چوہدری نے دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی تو.... تو.... تو ہم کیا کرلیں گے.... یہاں پہنچ کر سب کی زبانیں تالو سے لگ گئیں.... ایک نوجوان نے کہا تو پھر ہم گاوں کی کسی شادی میں ڈھول نہیں بجائیں گے۔ گانا نہیں گائیں گے۔قرارداد منظور ہوگئی ۔ تین چاردن میں مراثی چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اس نے چوہدری کی ٹوٹی جوتی اٹھائی ۔ چوہدری کے پاس پہنچا۔ ٹوٹی جوتی پیش کی اور اس بات پر شرمندگی کا اظہار کیا کہ اس کی حماقت کی وجہ سے چوہدری کی قیمتی جوتی ضائع ہوگئی ۔ چوہدری نے کہا لیکن تو یہ جوتی کیوں اٹھالایا ہے ۔ مراثی نے کہا۔ حضور نہ میں غلطی سے باز آوں گا نہ آپ مارنے سے .... کیوں ہر دفعہ آپ کی ایک نئی جوتی ضائع کراوں.... اسے مرمت کراکر رکھ لیجئے .... کام آئے گی.... چوہدری ہنسااور وہ تمہاری یہ دھمکی کہ ڈھول نہیں بجاوگے ۔ گانا نہیں گاو گے۔ مراثی نے ہاتھ جوڑے حضور.... نوجوان ہیں .... بےوقوف ہیں .... گائیں گے نہیں تو کھائیں گے کہاں سے....سانحہ ایبٹ آباد کے بعد ہمارے حکمرانوں کو سانپ سونگھ گیا۔ لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہے.... پارلیمنٹ نے آرمی چیف کو بھی طلب کرلیا.... گرما گرم تقریریں ہوگئیں.... اب اگر ہماری حدود پامال ہوئیں تو.... اب اگر ڈرون حملہ ہوا تو.... اب اگر ہم سے پوچھے بغیر.... ہمارے حکمرانوں نے ایبٹ آباد حملے میں تباہ ہونے والے امریکی ہیلی کاپٹر کی دم اٹھائی .... اور چوہدری کی خدمت میں پیش کردی....حضور آپ کی دم .... معاف کیجئے گا آپ کے ہیلی کاپٹر کی دم....چوہدری نے پینٹاگون کی طرف دیکھا۔ پینٹا گون نے رسید جاری کردی۔ کراچی میں پی این ایس مہران پر حملہ ہو چکا تھا۔ دو نہایت قیمتی امریکی ساختہ طیارے تباہ ہوچکے تھے ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے خبر دے رہے تھے ۔ مہران بیس پر موجود چینی ماہرین یرغمال بنا لیے گئے ہیں ۔ پینٹا گون اطلاع دے رہا تھا انہیں ہیلی کاپٹر کی دم واپس مل گئی ہے۔ حالانکہ اس اطلاع کی ضرورت نہیں تھی ۔ پی این ایس مہران پر حملے سے ہی اندازہ ہوگیا تھا ۔ چوہدری کو دم واپس مل گئی ہے۔ کیونکہ دم کی واپسی سے پہلے چوہدری کبھی دوسری کاروائی نہیں کرتا۔ ایبٹ آباد کی کاروائی بھی ریمنڈ ڈیوس نامی دم کی واپسی کے بعد ہی ہوئی تھی۔ہم تو سمجھے تھے کہ بات ختم ہوگئی لیکن جلد ہی کھلا کہ بات ختم نہیں ہوئی بلکہ شاید اب شروع ہوئی ہے۔ پی این ایس مہران پر حملے کے دوران ہی یہ خبر گردش کررہی تھی کہ چند چینی ماہرین یرغمال بنا لیے گئے ہیں ۔ ہمارے ہر دم متحرک وزیر داخلہ نے اس بات کی تردید کی اور یہ اضافی اطلاع بھی دی کہ پی این ایس مہران پر چھ امریکی بھی موجود تھے جو محفوظ ہیں ۔ رحمن ملک کی پریس کانفرنس میںمجھے ایسا لگا کہ وزیر داخلہ مہران بیس پر چینیوں کے ساتھ امریکیوں کا ذکر کرکے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ طالبان کا یہ حملہ امریکہ کے خلاف رد عمل ہے ۔جب کہ انہوں نے چینی ماہرین کی وہاں موجودگی کی توثیق تو کی لیکن یہ تاثر دیا کہ وہ دہشت گردی کا ہدف نہیں تھے۔لیکن چوبیس گھنٹے کے اندر اندر چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ ان کے لوگ مہران بیس پر یرغمال بنائے گئے تھے۔ جب کہ امریکی ذرائع نے مہران بیس پر امریکیوں کی موجودگی کی تردید کی۔ جو لوگ چین اور امریکہ کی سفارتکاری کے انداز کو سمجھتے ہیں ان کے لیے چین کا یہ برملا اظہار حیران کن تھا۔ چین اپنے دوستوں کے ساتھ معاملات میں ”حساب دوستاں دردل “ کا قائل ہے ۔تو پھر چین نے اس بار”کھڑا کھیل فرخ آبادی“ کیوں کھیلا۔ ظاہر ہے حملہ آوروں کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم تمہارے عزائم سے بے خبر نہیں۔ چین کا اپنے ماہرین کے بارے میں یرغمال بنائے جانے کا اعلان میرے ایک تجزیے کی توثیق ہے ۔ میں بار بار یہ سوال اٹھاتا رہا ہوں کہ پاکستان میں پاکستان کے دوستوں کے نمائندے غیر محفوظ اور دشمنوں کے نمائندے محفوظ ہیں ۔ آخر کیوں؟بات صرف کسی کے یرغمال بننے یا نہ بننے اور کسی کے غیر محفوظ ہونے یا نہ ہونے کی نہیں بات ان لوگوں کی ساکھ کی بھی ہے جو ذمہ دارنہ مناصب پر فائز ہیں ۔ ایبٹ آباداور مہران بیس کراچی کے واقعات صرف افواج پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور ماہرانہ پختگی پر ہی سوالیہ نشان قائم نہیں کرتے، ان واقعات سے نمٹنے میںناکامی کا داغ ہی نہیں لگاتے۔ واقعات کے بعد ان کا صحیح تجزیہ کرنے اور حقائق کو بیان کرنے کے بارے میں بھی ہماری نااہلی کو ثابت کرتے ہیں ۔ یہاں جب میں لفظ ”ہماری“استعمال کرتا ہوں تو میری مراد”افواج پاکستان“نہیں ، پاکستان کی حکومت چلانے والے سیاستدان ہیں ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سانحہ ایبٹ آباد کے بعد وزیر اعظم کے ساتھ وزیر دفاع احمد مختار نے بھی چین کا سرکاری دورہ کیا تھاجس سے واپسی پر وزیر دفاع نے قوم کو بتایا تھا کہ چین گوادر پورٹ کا انتظام سنبھالنے پر راضی ہوگیا ہے۔ حکومت بلوچستان نے اس کی مخالفت کی تھی۔لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب چین نے اس سرکاری اعلامیے میں جس میں انہوں نے اپنے ماہرین کے یرغمال بنائے جانے کا ذکر کیا تھا یہ بتانا بھی ضروری سمجھا کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ چین میں گوادر پورٹ کا انتظام سنبھالنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ تو دور کی بات ہے سرے سے کوئی گفتگو ہی نہیں ہوئی تھی۔کوئی ہے جووزیر دفاع سے پوچھے کہ آپ کواپنے عوام سے ایسا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے جسے نبھایا بھی نہ جاسکے۔اس کے بعد بھی کسی بات پر اعتبار کرنے کا کیاجوازہے۔ان ساری بری اور دل کو میلا کرنے والی خبروں کے درمیان اچھی خبر یہ ہے کہ آئی ایس آئی نے سی آئی اے سے پاکستان میں اپنی کاروائیاں محدود کرنے اوربعض اہم شہروں میں قائم دفاتر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسی دوران یہ خبر بھی آئی ہے کہ مہران بیس پر موجود چھ امریکیوں کو مہران بیس حملے کے کیس میں شامل تفتیش کیا جارہا ہے ۔ انہی خبروں کے دوران ہیلری کلنٹن پاکستان آئیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان کا شاہانہ استقبال ہوگا اور وہ اس دوران سڑا بسا منہ بنا کر پاکستان کا مذاق اڑائیں گی لیکن انہیں ایئرپورٹ پر ہی اندازہ ہوگیا کہ موسم ذرا گرم ہے۔ اور یہ بھی کہ شاید اس بار انہیں” مطلوبہ دم “اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے واپس نہیںملے گی۔ریمنڈڈیوس نامی ”دم“ کی واپسی ذرا آسان تھی کہ معاملہ سول سوسائٹی کا نہ ہوتے ہوئے بھی بظاہر سول سوسائٹی کا تھا جبکہ اس بار معاملہ پی این ایس مہران کا ہے۔ جس کے ذریعے پاکستان نیوی کی ساکھ داو پر لگائی گئی ہے۔آپ پوچھیں گے کہ مراثی کے دست وبازو تو چوہدری سے دو بدو ہونے کو تیار ہیں لیکن اگر مراثی خود ہی چوہدری کی ٹوٹی جوتی واپس کرنے اور ہاتھ جوڑ کر یہ کہنے پر مصر ہو کہ گائیں گے نہیں تو کھائیں گے کہاں سے تو پھربات کیسے بنے گی۔[/size]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    RE: چوہدری اور مراثی

    مشتاق احمد خان صاحب نے بہت زبردست تجزیہ پیش کیا ، واقعی حقیقت یہی ہے ،
    سیما صاحبہ آپ کا بھی شکریہ ، اچھی شئیرنگ ادھر پیش کی ،:heart::heart::heart:

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University