[size=x-large]عارف بہار
پاک فوج اپنی تاریخ میں پہلی بار عجیب مشکل میں پھنس چکی ہے۔ اس کے آگے ناراض دوست ہے اور پیچھے بپھرا ہوا دوست۔ یہ پہلی بار ہے کہ روایتی دشمن آگے اور پیچھے کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ حالانکہ یہ وہ فوج ہے کہ دنیا کی ہر باقاعدہ فوج کی طرح جس کی ساری اُٹھان کھلے دشمن کے مقابلے کے تصور پر ہے۔ بھارت کے ساتھ کھلی جنگوں میں اور سقوط ڈھاکا کے بعد بھی پاک فوج کو ان حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا۔ سوائے مشرقی پاکستان کے جہاں ایک طرف مقامی آبادی پیچھے سے فوج پر وار کررہی تھی اور سامنے مکتی باہنی کی صورت میںکھلا دشمن بھارت موجود تھا۔ اس بار فوج کی مشکل عجیب ہے اس کے پیچھے دوستی، تعاون اور امداد کے نام پر امریکا کے کنٹریکٹر ہیں تو آگے ماضی کے دوست عسکری نوجوان ہیں۔ امریکا ایک مدت تک فوج کا بااعتماد ساتھی رہ چکا ہے۔ بلکہ پاکستان میں امریکی حکومتوں کی جی ایچ کیو اور فوجی حکومتوں کے ساتھ گاڑھی چھنتی رہی ہے۔ سرد جنگ کے بعد تبدیل شدہ زمینی حقائق میں یہ دوستی مخاصمانہ اور سرد رویوں میں بدلتی چلی گئی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ امریکا کھلے بندوں کسی مسلم ملک میں اس قدر بھاری بھرکم فوج سے خوف کھانے لگا ہے۔ وہ نہ صرف فوج کی تعداد بلکہ اس کا سب سے اہم ہتھیار ایٹم بم بھی ہتھیانے کے چکر میں ہے۔ پاک فوج کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردوں کی سرپرست اور مغرب مخالف ثابت کرنے کے لیے نت نئے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ زور زبردستی کرکے فوج کو آپریشنوں کی دلدل میں اس انداز سے اتارا جارہا ہے کہ اسے کسی دوسری جانب دیکھنے کا دھیان ہی نہیں رہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پاک فوج کا روایتی دوست اب اس سے بگڑ چکا ہے اور اب وہ آمادہ انتقام ہے۔ فوج کے ہی ایک سربراہ نے سانڈ کو برتنوں کی دکان میں گھسنے کا موقع فراہم کر دیا تھا اور اب سانڈ ہے یا پھر ٹوٹتے ہوئے برتنوں کی آوازیں ہیں۔ دوسری طرف فوج کو نہایت مہارت کے ساتھ اس کی پاور بیس سے لڑایا گیا ہے۔ پاکستان کی فوج نے اپنے لیے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اﷲ کا ماٹو اپنایا تو اسے اس معاشرے کے اندر سے فطری اتحادی اور نظریاتی ساتھی ملتے چلے گئے۔ کچھ اس ماٹو کا اثر تھا اور کچھ بھارت سے جنگوں کا کہ ملک کے بڑے طبقے نے فوج کو ایک مجاہد اور مومن فوج کے طور دیکھنا شروع کیا۔ چونکہ فوج کلی طور پر ہی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور سوسائٹی میں بھی مسلمان ہی اکثریت میں تھے اور پے در پے جنگیں ایک غیر مسلم ملک سے ہوتی رہیں اس لیے مجاہد اور مومن فوج کا تاثر نہ صرف گہرا ہوتا چلا گیا بلکہ ہر مشکل وقت میں فوج کو سماج سے افرادی قوت سے لے کر اخلاقی حمایت تک سب کچھ حاصل ہوتا رہا۔ ”دلی تک کرے گی موج، پاک فوج پاک فوج“ جیسے نعرے انہی اچھے دنوں کی یاد دلاتے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں البدر و الشمس سے لے کر افغانستان میں پاکستانی نوجوانوں کی شرکت تک، کرگل کی جنگ سے کشمیر تک فوج کو جب اور جہاں فرنٹ لائن بنانے کے لیے عوامی حلقوں کی ضرورت محسوس ہوئی اس معاشرے کے نوجوانوں نے آگے بڑھ کر اس ضرورت کو پورا کیا۔ فوج کے فطری حلیف بہت آگے جا کر وہاں بھی جا پہنچے جہاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے باعث فوج کے پر جلتے تھے۔ پاک فوج کو اس حلقے سے الگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ اگر کبھی کوئی شخص اس دلیل کا سہارا لیتا کہ پاک فوج ایک خالص پیشہ ور فوج ہے جب اس کے خلاف سوسائٹی کے اندر سے کوئی ہتھیار اُٹھائے گا تو یہ کسی بھی پروفیشنل فوج کی طرح ردعمل ظاہر کر ے گی تو خود اپنے تصور میں قید بہت سے لوگ اس امکان کو ہی رد کر دیتے تھے فوج معاشرے کے کسی سیکولر طبقے سے بھڑ جاتی تو اچنبھے کی بات نہیں تھی لیکن حیرت کی بات یہ فوج کو اس حلقے سے ٹکرا دیا گیا جس کے لیے پاک فوج کے لیے من و تو کی تمیز ہی ختم ہو گئی تھی۔ پچاس کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں بنگلہ کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے والوں پر گولی چلی اورکئی فراد ہلاک ہوگئے۔ ان مرنے والوں کی یاد میں ڈھاکا میں ایک شہید مینار تعمیر ہوا۔ اس مینار نے پھر متحدہ پاکستان کو اس سرزمین پر کبھی سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ یہ مینار بنگلہ قوم پرستوں کی جدوجہد کا مرکزی مقام بن گیا۔ لوگ اس مینار کی چھاوں سے سایہ بھی لیتے اور نفرت، حقارت اور بغاوت کے جراثیم بھی حاصل کرتے۔ یوں یہ مینار ایک جدو جہد کی مستقل علامت بن گیا۔ فوج اور اس کے نظریاتی ساتھیوں کے درمیان ٹکراو کا آغاز کچھ معمولی انداز میں نہیں ہوا بلکہ اس تصادم کا آغاز ہی ایک شہید مینار کی تعمیر سے ہوا۔ اسلام آباد کی لال مسجد فوج اور اس کے نظریاتی اسلام پسند ساتھیوں کے درمیان ایک خوفناک تصادم کی بنیاد بن گیا اور تصادم اس قدر سنگین اور گہرا تھا کہ مدتوں تک فریقین اس کی تلخیوں کے حصار سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ تب اس طبقے نے فوج کو ایک معاون اور مجاہد ادارے کے بجائے ایک روایتی ادارے کے طور مخاصمانہ نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ فوج کے خلاف آمادہ بغاوت طبقہ اپنی ساری نظریاتی طاقت لال مسجد آپریشن سے حاصل کرتا ہے۔ ہو نہ ہو کوئی ایسی طاقت تھی جس نے دونوں طرف اپنا کمال دکھاکر دونوں کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لاکھڑا کیا۔ لال مسجد آپریشن کے دوران ہی عبدالرشید غازی نے پاکستان کے شہروں کے بیروت بن جانے کی بات کی تھی ۔اس کے بعد جو ہوا بیروت کے واقعات کو بھی پیچھے چھوڑ گیا اب تو لوگ خانہ جنگی اور بد امنی کا شکار ملکوں کے لیے ”پاکستان“ بن جانے کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ اب عالم یہ ہے کہ ایک کٹر طبقہ پاک فوج کو امریکا اور بھارت کی فوج کی طرح قراد دینے پر مُصر ہے۔ وہ اسے کافرانہ نظام کی محافظ کہہ کر بندوق بردار بن بیٹھا ہے۔ اس مقصد کے لیے بندوق کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کا سہارا بھی لیا جاتا ہے۔ میرے میل باکس میں روزانہ 5‘ 6 ای میلز ایسی ہوتی ہیں جن میں پاک فوج اور جی ایچ کیو کو امریکی مفادات کا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے۔ اب ایک طرف فوج اپنے روایتی دوست امریکا کی عملی سازشوں کی زد میں ہے تو دوسری طرف اس کا ماضی اپنے دست و بازو کی شکل میں اسے ڈرا رہا ہے۔ یوں پاک فوج غصے سے بھر ے ہوئے ناراض اتحادیوں کے درمیان سینڈوچ بن گئی ہے۔ ایبٹ آباد کا واقعہ ہی کیا کم تھا کہ کراچی کا واقعہ بھی رونما ہوگیا۔ فوج کی صلاحیت اور ساکھ کے بارے میں کئی سوالیہ نشان کھڑے ہوگئے۔ ماضی کی غلطیاں بجا مگر یہ وقت فوج کی کمزوری کو طاقت بنانے کا نہیں بلکہ فوج کی کمزوری کو طاقت دینے کا ہے۔ خود فوج بھی اپنی طاقت کو تلاش کر کے اس کا اظہار کرے اور اس تاثر کو دور کرے کہ ایک طاقتور جب چاہے اسے آپریشن کے نام پر کبھی جنوبی وزیرستان تو کبھی شمالی وزیرستان بھیج سکتی ہے۔ چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پسنے والی فوج خود کو کم ازکم ایک پاٹ سے تو نکالے دوسرا پاٹ خود بخود بے اثر نہ ہوا تو وقت اسے خود ازکار رفتہ بنا دے گا۔ لاہور کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی صوبے خراسان کے گورنر کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ اگر سپر پاورز مداخلت نہ کریں تو مسلمان ممالک اپنے ہاں برپا دہشت گردی پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔[/size]