نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: اسامہ کی مخبری، میجر سمیت 5 امریکی ایجنٹ گرفتار، امریکا ناراض

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    اسامہ کی مخبری، میجر سمیت 5 امریکی ایجنٹ گرفتار، امریکا ناراض

    [size=x-large]نیو یارک ‘ اسلام آباد(خبرایجنسیاں) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکی حکام کو اطلاع دینے والے میجر سمیت سی آئی اے کے 5 ایجنٹس کو حراست میں لے لیا ہے جو کہ پاک امریکا تعلقات میں موجود کشیدگی کا تازہ ثبوت ہے۔دوسری جانب پاک فوج نے امریکی اخبار کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکی حکام کواطلاع دینے والے میجر سمیت سی آئی اے کی5ایجنٹس کو حراست میں لے لیا ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا نے گزشتہ ہفتے اپنے دور ے میں ان افراد کی گرفتاری کا معاملہ پاکستانی فوجی و انٹیلی جنس حکام سے اٹھایا تھا۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا کہ ان 5 افراد میں پاکستانی فوج کا ایک افسر بھی شامل ہے۔ اخبار نے بتایا کہ گرفتار فوجی افسر ایبٹ آباد آپریشن سے کئی ہفتوں قبل اسامہ کے کمپا ﺅ نڈ کا دورہ کرنے والی گاڑیوں کی تفصیل حاصل کرتا رہا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی سی آئی اے کے سربراہ لیون پینیٹا نے گزشتہ ہفتے اپنے دورہ اسلام آباد میں سی آئی اے کے ان 4 گرفتار ایجنٹس کے معاملے پر پاکستانی فوجی و انٹیلی جنس حکام سے بات کی تھی۔ امریکی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو حالیہ بند کمرے کے ایک اجلاس میں بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب ان سے پاکستان کے امریکا سے تعاون کی شرح پوچھی گئی تو ان کا جواب تھا کہ10 میں صرف سے 3 ۔دوسری جانب امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے تصدیق کی ہے کہ سی آئی اے اور پاکستانی انٹیلی جنس حکام باہمی رضا مندی سے طے شرائط کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں تاہم یہ مناسب نہیں کہ اس تعاون کی تفصیل بتائی جائے۔اخبار کے مطابق امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مائیکل جے مورل کا انسداد دہشت گردی کوششوں میں پاکستان کے تعاون سے متعلق بیان دونوں ملکوں کے موجودہ تعلقات کیلئے طمانچہ ہے اور یہ بیان انتظامیہ کے مجموعی جائزے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اخبار کے مطابق سی آئی اے کے ترجمان میری ای ہارف نے کہا ہے کہ ہمارے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں اور ہم جب بھی کوئی معاملات پیدا ہوئے ہیں تو دونوں ملک مل کر کام کرتے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاک فوج نے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس و انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے ہیں جس پر واشنگٹن میں خاصی ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ پاکستان نے امریکی انٹیلی جنس افسران کو ویزوں کے اجراءکے معاملے پر بھی مزاحمت کی ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے میں ڈرون حملے کے مستقبل کو لے کر خاصی تشویش پائی جاتی ہے ،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لیون پنیٹا نے گزشتہ ہفتے اپنے دورے میں خاص طور پر پاکستانی حکام سے اس معاملے کو بھی اٹھایا کہ ڈرون طیاروں کو قبائلی علاقوں میں پروازوں کی کھلی اجازت دی جائے ۔اخبار کا کہنا ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی پیرا ملٹری فورسز کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے پنیٹاگون کا تربیتی پروگرام بھی متاثر ہوا ہے جو کہ امریکی و پاکستانی حکام کے مطابق ختم ہوچکا ہے اور امریکا کے آخری 120 تربیت فراہم کرنے والے اہلکار وطن واپس جاچکے ہیں۔اخبار کے مطابق امریکی حکام کو اب پاکستان میں موجود 50 کے قریب اسپیشل فورسز اہلکاروں کو تعینات رکھنے اوران کیلئے عارضی نوکریاں تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے ویزے بڑی مشکل سے حاصل کیے گئے ہیں اور اگر یہ واپس وطن واپس چلے گئے تو پاکستان ان کی واپسی کی اجات نہیں دے گا۔علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج کا کوئی افسر حراست میں نہیں لیا گیا اور اس بارے میں شائع ہونے والی خبر قطعی غلط اور بے بنیاد ہے۔[/size]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,153
    شکریہ
    2,112
    1,226 پیغامات میں 1,598 اظہار تشکر

    RE: اسامہ کی مخبری، میجر سمیت 5 امریکی ایجنٹ گرفتار، امریکا ناراض

    سامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی یکہ طرفہ کارروائی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں تلخی شدید ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پر امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے لیے فوج کے اندر سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    امریکہ کے دو مقتدر ترین اخبارات دی نیو یارک ٹائمز اور دی واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو اپنی سرِ ورق کی کہانی میں اسی بارے میں خبریں شائع کی ہیں جن میں یہاں تک دعوی کیا گیا ہے کہ فوج کے اندر سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر جنرل کیانی کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار حفیظ چاچڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان خبروں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    دونوں اخبارت میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج میں اپنے سربراہ پر اس قسم کی تنقید اور نکتہ چینی کی کوئی روایت نہیں ہے۔ جس قسم کی تنقید کا سامنا جنرل اشفاق پرویز کیانی کو کرنا پڑا ہے اس سے پہلے کسی اور جنرل کو فوج کے اندر سے اس قسم کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

    پاکستان میں حالیہ دنوں میں ایبٹ آباد میں امریکی فوج اور سی آئی اے کی یکہ طرفہ کارروائی کے دوران معاونت کرنے کے الزام میں جن پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اس پر بھی امریکہ معترض ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے ان افراد میں عامر عزیز نامی شخص بھی شامل ہے جو پاکستان فوج میں میجر کا عہدہ رکھتا ہے۔اور میڈیکل کور میں تھا ،اور وہ گاڑیوں کی آمد و رفت کی نگرانی کرتا رھا ، امریکی حکام نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔امریکی حکام ان افراد کو اپنے ایجنٹ اور امریکا کے اثاثے کہتے ہیں .

    پاکستان حکام نے ان گرفتاریوں کی تصدیق تو کی تھی لیکن انھوں نے کسی میجر کے گرفتار کئے جانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا تھا اور گرفتار شدہ افراد کے نام بھی ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔
    امریکی اخبارات میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خلاف کامیاب آپریشن کے بعد امریکی حکام ان پاکستانیوں کو کسی محفوظ مقام پر منقتل کرنے میں مدد دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

    بی بی سی اردو سروس نے جمعرات کو نشر ہونے والے سیرین پروگرام میں اس خبر کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

    بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیرین میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری ریاض کھوکھر نے کہا کہ امریکی فوج کی ایبٹ آباد میں یکہ طرفہ کارروائی نے پورے پاکستانی معاشرے کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ تعلقات کی بہت سے جہتیں تھیں اور دفاعی یا فوجی تعاون بھی اس کا ایک حصہ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ایبٹ آباد آپریشن سے پہلے پاکستان میں ایک سطح پر یہ احساس پایا جاتا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوستی اور تعلقات ہونے چاہیں کیونکہ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے اور امریکہ کو پاکستان کی۔

    ریاض کھوکھر نے کہا کہ لیکن ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی اور پاکستان کی خومختاری اور سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے اس بنیاد کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔

    سابق خارجہ سکیرٹری نے کہا کہ اب یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’ری سیٹ‘ یا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں یہ احساس شدید ہو گیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے لیے اتنا نقصان اٹھایا ہے اور لیکن امریکہ کو ہماری عزت اور خود مختاری کا ذرا برابر بھی خیال نہیں ہے۔ ’اسامہ کے مرنے کا افسوس کسی کو نہیں ہے لیکن اس کارروائی نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور فوج اس معاشرے کا حصہ ہے۔‘

    برگیڈیئر ریٹائرڈ سعد نے فوج کے اندر احتساب کے عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ فوج کو احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ جس فوج کو وہ جانتے تھے یا جس فوج کا وہ حصہ تھے اس میں احتساب کا بڑا سخت اور کڑا نظام تھا اور خاص طور پر کمانڈ کی سطح پر ناکامی کی فوری اور سخت سزا دی جاتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ فوج کے اندر مشہور مقولہ تھا کہ فوج میں قرض نہیں ہوتا ہے اور فوری فیصلہ ہو جاتا ہے۔

    انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جی ایچ کیو پر حملے اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی کارروائی اور مہران بیس پر حملے کے بعد فوج کے اندر کوئی انضباطی کارروائی ہوتی نظر نہیں آئی۔

    انھوں نےاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاید معاشرے میں پائی جانے والی اقربا پروری فوج میں در آئی ہے۔

    اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار آصف فاروقی نے فوج کے اندر دباؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے دو واقعات کا ذکر کیا جہاں اعلی فوجی اہلکاروں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی یا کور کمانڈر کی موجودگی میں امریکی فوج کی کارروائی پر برہمی کا اظہار کیا۔

    ایک واقع میں جی ایچ کیو میں ہونے والے ایک اجلاس میں ایک بریگیڈیئر نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی موجودگی میں ابیٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی پر شدید اضطراب اور غصہ کا اظہار کیا جس سے اطلاعات کے مطابق اجلاس میں تلخی بھی پیدا ہو گئی۔ (بی بی سی)

متشابہہ موضوعات

  1. یہ چُبھن اکیلے پن کی، یہ لگن اداس شب سے
    By این اے ناصر in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 05-10-2012, 01:57 PM
  2. بے کلی، بے خودی کچھ آج نہیں
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 09:44 AM
  3. ٹیکنولوجی، انسانی زندگی کا حصہ
    By شہزادی in forum انفارمیشن ٹیکنالوجی
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 08-22-2011, 09:55 PM
  4. ایک جگنو ہی سہی،
    By سیما in forum شعر و شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 06-17-2011, 09:57 AM
  5. عبدالرحمن سید کی اپنی شاعری،!!!!
    By عبدالرحمن سید in forum میری شاعری
    جوابات: 20
    آخری پيغام: 01-01-2011, 11:18 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University