نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    پيغامات
    173
    شکریہ
    0
    7 پیغامات میں 8 اظہار تشکر

    قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری


    اولیا ءخواتین میں انتہائی بلند مقام حضرت رابعہ بصری کو حاصل ہے آپ قلندرانہ اوصاف رکھتی تھیں۔ قلندر وہ ہے جو وحدت میں غرق ہو کر مرتبہ عبدیت کا مشاہدہ کرتا رہے اور مشاہدے کے بعد انسانی مرتبے پر واپس پہنچ کر عبدیت کا مقام حاصل کرے۔اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قلندر کا مقام عطا کرتا ہے وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے لیکن اللہ کے نیک بندے بے غرض ، ریا، طمع، حرص ، لالچ اور منافقت سے پاک ہوتے ہیں اور جب اللہ کی مخلوق ان سے رجوع کرتی ہے تو یہ ان کی رہنمائی کرتے ہیں ان کی پریشانیوں کا تدارک بھی کرتے ہیں کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کیلئے مقرر کیا ہے۔
    یہی وہ پاکیزہ اور قدسی نفس اللہ کے بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے کان آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں پھر وہ میرے ذریعے سنتے اور بولتے ہیں اور میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ہیں۔‘
    حضرت رابعہ بصری کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات شیخ فریدالدین عطار کے حوالے سے ملتی ہیں۔ رابعہ بصری سے جڑی بے شمار روحانی کرامات کے واقعات بھی ملتے ہیں ،جن میں اگرچہ کچھ سچے ہیں لیکن کچھ خود ساختہ اختراعات بھی ہیں۔ تاہم رابعہ بصری سے متعلق زیادہ تر معلومات و حوالہ جات وہ مستند مانے جاتے ہیں جوکہ شیخ فریدالدین عطار نے بیان کئے ہیں جوکہ رابعہ بصری کے بعد کے زمانے کے ولی اور صوفی شاعر ہیں کیونکہ رابعہ بصری نے خود کوئی تحریری کام نہ کیا۔
    رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ’چوتھی‘ رکھاگیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معززگھرانے میں پیداہوئیں۔
    رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ جس شب رابعہ بصری پیداہوئیں ،آپ کے والدین کے پاس نہ تو دیاجلانے کے لئے تیل تھا اورآپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیاجلایاجاسکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آگئے۔
    رات کو رابعہ بصری کے والد کو خواب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی اورانہوں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رابعہ کے والد کو بتایاکہ ”تمہاری نومولودبیٹی ،خداکی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اوراس کو ہماراپیغام دوکہ تم (امیرِ بصرہ) ہر روز رات کو سو(100)دفعہ اورجمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درودشریف نہ پڑھا،لہذٰااس کے کفارہ کے طورپر چارسو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دےدے۔
    رابعہ بصری کے والد اٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے اس حال میں کہ خوشی کے آنسو آپ کی آنکھوں سے جاری تھے۔ جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری کے والد کے ذریعے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاپیغام ملا تو یہ جان کر انتہائی خوش ہواکہ محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظروں میں ہے۔ اس کے شکرانے کے طورپر فوراً ایک ہزار (1,000) دینارغرباءمیں تقسیم کرائے اور چارسو (400)دینار رابعہ بصری کے والد کو اداکئے اوران سے درخواست کے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوبلاجھجھک تشریف لائیں۔
    کچھ عرصے بعد رابعہ بصری کے والد انتقال کرگئے اوربصرہ کو سخت قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،اس قحط کے دوران رابعہ بصری اپنی بہنوں سے بچھڑگئیں۔ ایک دفعہ رابعہ بصری ایک قافلے میں جارہی تھیں کہ قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور ڈاکوؤں کے سرغنہ نے رابعہ بصری کو اپنی تحویل میں لے لیا اور آپ کو لوٹ کے مال کی طرح بازارمیں لونڈی بنا کر بیچ دیا۔ آپ کا آقا،آپ سے انتہائی سخت محنت و مشقت کا کام لیتاتھا۔ اس کے باوجود آپ دن میں کام کرتیں اور رات بھر عبادت کرتی رہتیں اور دن میں بھی زیادہ تر روزے رکھتیں۔
    اتفاقاً ایک دفعہ رابعہ بصری کا آقا آدھی رات کو جاگ گیااورکسی کی گریہ وزاری کی آوازسن کر دیکھنے چلاکہ رات کے اس پہرکون اس طرح گریہ وزاری کررہا ہے۔ وہ یہ دیکھ کرحیران رہ گیاکہ رابعہ بصری اللہ کے حضورسربسجودہیں اورنہایت عاجزی کے ساتھ کہہ رہی ہیں :
    ’اے اللہ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے۔ تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں ، نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئے میری معذرت قبول فرما لے اورمیرے گناہوں کو معاف کردے۔ ‘
    اپنی کنیزکایہ کلام اورعبادت کا یہ منظردیکھ کر رابعہ بصری کامالک خوفِ خدا سے لرزگیااوریہ فیصلہ کیاکہ بجائے اس کے کہ ایسی اللہ والی کنیزسے خدمت کرائی جائے بہتر یہ ہوگاکہ اس کی خدمت کی جائے۔ صبح ہوتے ہی وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اوراپنے فیصلے سے آپ کو آگاہ کیااورکہاکہ آج سے آپ میری طرف سے آزادہیں ، اگر آپ اسی گھر میں قیام کریں تومیری خوش نصیبی ہوگی وگرنہ آپ اپنی مرضی کی مالک ہیں لیکن اگرآپ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ آپ یہاں نہ رہیں گی تومیری بس ایک درخواست ہے کہ میری طرف سے کی جانیوالی تمام زیادتیوں کواس ذات کے صدقے معاف کردیں ،جس کی آپ راتوں کو جاگ جاگ کر عبادت کرتی ہیں۔
    خواجہ حسن بصری ہفتے میں ایک بار درس دیا کرتے تھے۔ حضرت رابعہ ان کے درس میں حاضر ہوتی تھیں لیکن جس روز نہ ہوتیں حضرت حسن بصری انتظار فرماتے تھے یا راز کی باتیں بیان نہ فرماتے تھے۔ کسی نے فرمایاجو شربت ہاتھیوں کے لئے تیار کیا جاتا ہے اس کی چونٹیاں برداشت نہیں کر سکتیں۔‘
    یک دفعہ حضرت رابعہ کوکسی نے بطور ملازمہ خرید لیا۔ مالک آپ سے سخت کام لیتا لیکن آپ دن رات محنت کے باوجود حرف شکایت زبان پر نہ لاتی تھیں کہ پیر پھسل گیا اور گر پڑیں سخت چوٹ کی وجہ سے آپ کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی گھر آکر خود ہی پٹی باندھ لی رات ہوئی تو معمول کے مطابق اٹھ کھڑی ہوئیں اور اللہ کی حمدو ثنا میں مشغول ہوگیئں ۔
    رات کو کسی وقت ان کے مالک کی آنکھ کھلی اور وہ آپ کی کوٹھری کی طرف گیا اس نے حضر ت رابعہ کو حمدو ثنا میں مشغول دیکھا اور ایک آواز سنی۔’اے رابعہ !ہم تم کو وہ مقام ضرب عطا کریں گے جس پر مقربین ملائکہ بھی رشک کریں گے،بے شک تو ہمارا کلام سنے گی اور ہم سے کلام کرے گی۔‘اس کے بعد نور کی تجلی نے انھیں اپنے احاطے میں لے لیا ۔حضرت رابعہ نے بے خودی میںسر شار ہو کر فرمایا! یا اللہ مجھے تیری ذات کے علاوہ کچھ نہیں چاہئے ۔تیرا مشاہدہ میرے لئے نعمت کبریٰ ہے۔مالک نے جب آپ کا جذب و کیف اور بارگاہ الہیٰ میں مقبولیت کا یہ منطر دیکھا تو گزشتہ سختیوں کی معافی اور آپ کو آزاد کردیا۔
    حضرت رابعہ فرماتی ہیں۔ ’میں کبھی تنہا نہیں رہی ہر لمحے اللہ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ میں جلوہ خداوندی کا نظارہ کر تی ہوں اور خدا کو پہچانتی ہوں ۔‘ ایک بار دو درویش آپ کے گھر مہمان آئے اس وقت گھر میں صرف دو روٹیا ں تھیں حضرت رابعہ نے ارادہ کیا وہی دو روٹیا ں مہمانوں کے سامنے رکھ دیں گی اسی دوران دروازے پر کو ئی سائل آگیا۔ حضرت رابعہ نے سائل کو زیادہ مستحق سمجھتے ہوئے وہ روٹیا ں اسے دے دیں اور خود اللہ وپر توکل کر کے بیٹھ گئیں۔کچھ دیرہی گزری تھی کہ بصرہ کی کسی رئیس خاتون نے اپنی کنیز کے ہاتھوں کھانے کا ایک خوان ان کے یہاں بھیجا۔ انھوں نے وہ خوان مہمانوں کے آ گے رکھ دیا۔
    زندگی کے آخر ی ایام میں آپ حد درجہ عبادت و ریا ضت میں مشغول ہو گئیں ضعف کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ نماز پڑھتے ہوئے گرجاتی تھیں۔ حضرت رابعہ کی خواہش تھی کہ ان کو عام لوگوں کی طرح سپرد خاک کیا جائے اور قبر کو امتیازی اہمیت نہ دی جائے۔ ایک دن آپ درس دے رہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آگیا ۔
    حضرت رابعہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایاکہ باہر چلے جائیں اور خلوت نشیں ہوکر لیٹ گئیں کچھ دیر بعد آپ کی روح قفس عنصری سے آزاد ہوگئی۔
    بعض روایات میں یہ بھی ملتاہے کہ رابعہ بصری کوان کی بہنوںنے قحط کے زمانے میں عتیق نامی ایک ظالم و جابر تاجر کو چندسِکّوںکے عوض فروخت کردیاتھاجبکہ یہ روایت بھی ملتی ہے کہ رابعہ بصری کی بہنوں نے آپ کو ایک قافلے والوںکو فروخت کردیاتھااوران قافلے والوںنے رابعہ بصر ی کو ایک طوائف کے ہاتھوںفروخت کردیا۔طوائف نے آپ کو ایک کوٹھے پر بٹھادیا۔
    رابعہ بصری نے گوشہ نشینی اورترک دنیاکے شوق کے پیش نظر آزادی ملنے کے بعد صحراؤں کارخ کیا۔ وہ دن رات معبودِ حقیقی کی یاد میں محو ہوگئیں۔
    خواجہ حسن بصری، رابعہ بصری کے مرشد تھے۔ غربت، نفی اورعشقِ الٰہی ان کے ساتھی تھے۔ ان کی کل متاع حیات ایک ٹوٹاہوا برتن، ایک پرانی دری اورایک اینٹ تھی،جس سے وہ تکیہ کا کام بھی لیتی تھیں۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اوراس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہوجائیں۔ جیسے جیسے رابعہ بصری کی شہرت بڑھتی گئی ،
    آپ کے معتقدین کی تعدادمیں بھی ااضافہ ہوتاگیا۔
    آپ نے اپنے وقت کے جید علماء،محدثین و فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔ رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماءنیازمندی کے ساتھ حاضر ہواکرتے تھے۔ ان بزرگوں اورعلماءمیں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہ ہیں جوکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہم عصر تھے اورجنہیں امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے بھی یادکیاجاتاہے۔
    گوانہیں شادی کے لئے کئی پیغامات آئے ،جن میں سے ایک پیغام امیرِ بصرہ کا بھی تھالیکن آپ نے تمام پیغامات کو رد کردیاکیونکہ آپ کے پاس سوائے اپنے پروردگارکے اورکسی چیزکے لئے نہ تو وقت تھا اورنہ ہی طلب۔ رابعہ بصری کوکثرت رنج و الم اورحزن و ملال نے دنیا اوراس کی دلفریبیوں سے بیگانہ کردیا۔ رابعہ بصری کے مسلک کی بنیاد”عشقِ الٰہی “ پر ہے۔
    ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ حضرت رابعہ بصری جذب کی حالت بصرہ کی گلیوں میں ایک ہاتھ میں مشعل اوردوسرے ہاتھ میں پانی لے کر جارہی ہیں ،جب لوگوں نے پوچھاکہ یہ آپ کیاکرنے جارہی ہیں تورابعہ بصری نے جواب دیاکہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے اوراس پانی سے دوزخ کی آگ بجھانے جارہی ہوں تاکہ لوگ اس معبودِ حقیقی کی پرستش جنت کی لالچ یادوزخ کے خوف سے نہ کریں بلکہ لوگوں کی عبادت کا مقصد محض اللہ کی محبت بن جائے۔
    ایک مرتبہ رابعہ بصری سے پوچھاگیاکہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ رابعہ بصری نے جواب دیاکہ خدا کی محبت نے میرے دل میں اتنی جگہ ہی نہیں چھوڑی کہ اس میں کسی اورکی نفرت یامحبت سماسکے۔
    رابعہ بصری نے تقریباً اٹھاسی (88) سال کی عمر پائی لیکن آخری سانس تک آپ نے عشق الٰہی کی لذت و سرشاری کو اپن اشعاربنائے رکھا۔ یہاں تک کہ اپنی آخری سانس تک معبودِ حقیقی کی محبت کادم بھرتی رہیں۔ آخری وقت آپ نے اپنے ولی اور صوفی ساتھیوں کو بتایا کہ ”میرا محبوب و معبود ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے‘۔

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    754
    شکریہ
    148
    74 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    RE: قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری


    اسلام علیکم
    جزاک اللہ
    حضرت رابعہ بصری میری پسندیدہ شخصیت میں سے ایک ہیں
    تھنکس مس زوہا جی اتنی پیاری شیئرئنگ کا
    میں کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کے لکھتا ہوں ٹائم نکلا کر مگر اپ نے لکھ دیا
    شکریہ بہت بہت

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری

    جزاک اللہ

  4. #4
    معاون
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    پيغامات
    73
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    RE: قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری

    زوہا بیٹا ماشاء اللہ بُہت خوبصور ت تحریر لکھی آپ نے
    بے شک جو خُدا کا ہو جائے خدا اُس کا ہو جا تا ہے
    اللہ آپ کو خوش رکھے

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: قلندرانہ اوصاف کی مالک‘ حضرت رابعہ بصری

    اللہ پاک کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردینے والی رابعہ بصریٌ ، ایک ایسی ہستی ہیں جن کے تذکرے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، رابعہ بصری نے جس طرح اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کردیا تھا یہ ایک نمونہ ہے ان خواتین کے لیے جو کلمہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پڑھتی ہیں۔ ہمارے اسلاف کا ہر قدم ہمارے لیے مشعلہ راہ ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کا تعین کرنا مشکل نہیں بلکہ ہمارے اسلاف نے ہمیں قدم قدم کی وہ پیاری سنتیں بتادیں ہیں جو سیدھا انسان کو حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی میں پہنچادیتی ہیں۔
    جزاک اللہ ایک اچھا مضمون شیئر کیا ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان مضامین کو صرف پڑھنے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں، یقین جانیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بندگی میں جو سکون پاتا ہے وہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اچھا اور سچا مسلمان بنائے۔
    آمین

متشابہہ موضوعات

  1. عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 12:03 PM
  2. پھر شامِ وصالِ یار آئی
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 03-31-2012, 01:39 PM
  3. نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصال ِ عاشقانہ
    By فاروق درویش in forum میری شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 03-04-2012, 08:45 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University