وکی لیکس بم پھٹ گیا ، سفارتی تباہی شروع ، پاکستان، سعودی عرب،ایران اور القاعدہ کا خصوصی ذکر ،زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں :امریکہ

28 نومبر 2010
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)عراق اورافغانستاں جنگ میں امریکی حکومت اور افواج کے سیاہ کارنامے منظر عام پر لانے سے شہرت حاصل کرنے والی انٹیلی جنس ویب سائٹ وکی لیکس نے پاکستان ، ایران ،سعودی عرب اور امریکہ سمیت کئی ممالک کے بارے میں خفیہ سفارتی دستاویزاتجاری کردی ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نےان انکشافات کی مذمت کی ہے۔ وکی لیکس پر جاری ہونے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق القائدہ کے اہم مالی مدد گار سعودی باشندے ہیں۔ وکی لیکس کے ساتھ سفارتی دستاویزات فرانس کے اخبار لامونڈے کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی گئی ہیں۔ دستاویزات میں سعودی عرب کے بادشاہ پرالزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے امریکہ سے ایران پرحملہ کرنے اورایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کے لئے کہا تھا۔جاری کی جانے ڈھائی لاکھ دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے ایٹمی ےنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کیا تھا جو پاکستان نے مسترد کردیاتھا. دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے پاکستان کی ترقی میں صدر زرداری کو رکاوٹ قرار دیا تھا.وکی لیکس نے امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک ایسی دستاویز شائع کی ہے جس میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی پر طنز کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔اور ایک دستاویز میں شاہ عبداللہ نے پاکستان صدر آصف علی زرداری کو ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی اس دستاویز کے مطابق سعودی فرمانروا نے صدر زرداری کا حوالا دیتے ہوئے کہا تھاکہ،’اگر سر ہی گلا سڑا ہو تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے۔‘اسی دستاویز میں عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے بارے میں بھی شاہ عبداللہ سے ایسے ہی کلمات منسوب کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز کے مطابق شاہ عبداللہ نے ایک عراقی اہلکار سے کہا تھا کہ وہ ان سے اور عراق سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن نوری المالکی کے بارے میں ان کے دل میں ایسے کوئی جذبات نہیں ہیں۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی ماہرین کو ایٹمی پروگرام کا معائنہ کر نے کی اجا زت دینے سے انکار کر دیا تھا۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کو تقریباًدس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی امریکہ کے باقی دنیا کے ساتھ تعلقات میں دہشت گردی کا سایہ بہت گہرا ہے۔ان دستاویزات کے مطابق اوباما انتظامیہ ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکی کہ کون سے پاکستانیوں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور کن پر نہیں اور امریکہ پاکستان میں بااعتماد ساتھیوں کی تلاش میں ہے۔اسی پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر گھومنے والے رکشہ ڈرائیور کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ اپنی سواری کا انتظار کر رہا ہے یا قونصل خانے کی طرف جانے والی سڑک کی نگرانی کر رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق دسمبر میں جاری کی جانے والے ایک امریکی پیغام میں کہا گیا ہے کہ سعودی باشندے اب بھی القاعدہ کی طرح کی شدت پسند تنظیموں کے سب سے بڑے مالی سرپرست ہیں۔ اسی طرح ایک اور پیغام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خلیجی ریاست قطر کے کردار کو خطے میں بدترین قرار دیا گیا ہے۔پیغام کے مطابق قطر کے خفیہ ادارے معروف شدت پسندوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے ہچکچاتے ہیں تاکہ ان پر امریکہ کا ساتھ دیتے کا الزام نہ لگایا جا سکے اور انہیں اس کے نتائج نہ بھگتنے پڑیں۔وکی لیکس کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتکار احمدی نژاد کو ہٹلر اور حامد کرزئی کو پاگل سمجھتے ہیں ۔دستاویزات کے مطابق امریکی حکام افغان صدر کو دماغی خلل کا شکار شخص سمجھتے ہیں جبکہ فرانسیسی صدر کو برہنہ بادشاہ سمجھا جاتا ہے ۔وکی لیکس کے مطابق ایران نے یورپ تک مار کرنے والے میزائل شمالی کوریا سے حاصل کیے ۔دستاویز کے مطابق افگان نائب صدر گزشتہ سال اپنے دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران 52ملین ڈالر ساتھ لے کر گئے۔امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے امریکی سفاتکاروں کو بیرون ملک جاسوسی کرنے پر زور دیا ۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 2009ءمیں امریکی ماہرین کو ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی جبکہ 2007ءمیں امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی تنصیب سے فرزودہ یورینیم نکالنے کی ناکام کوشش بھی کی تھی۔وکی لیکس کے مطابق امریکہ نے دشمنوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور دوست ملکوں کی نگرانی و جاسوسی بھی کروائی۔ وکی لیکس کے مطابق ایران دور مارمیزائل تیار کر سکتا ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی قیادت کی جاسوسی کے لئے پورا نیٹ ورک بنایا ہوا ہے۔ بان کی مون کے علاوہ چین ، روس، فرانس ارو برطانیہ تک کے سفارتکاروں تک کی جاسوسی کروائی جاتی ہے۔ وکی لیکس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اس بات سے بھی پریشان رہا ہے کہ پاکستان سے ایٹمی مواد غائب ہو کر ایٹم بم کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے۔ منظر عام پر آنے والی دستاویزات کے مطابق کئی ممالک میں امریکی سفیروں اور سفارتی عملے کو ان ملکوں کے سیاستدانوں ،فوجیوں، تاجروں ، اہم افراد اور تنظیموں کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ان کی جاسوسی کرنے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔ وکی لیکس کے مطابق یمن کی صدر نے امریکی جنرل پیٹریاس سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں اورمنشیات کی سمگلنگ سے پریشان ہیں۔ وسکی کی سمگلنگ سے پریشان نہیں ہیں وسکی اگر اچھی ہے تو سمگل کی جا سکتی ہے۔وکی لیکس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو کمزور سربراہ قراردیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی پر امریکہ اور برطانیہ کو سخت تشویش ہے ۔ سفارتی دستاویزات میں امریکہ کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم اور برطانیہ کے افغانستان میں فوجی آپریشن پر تنقید کی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ برطانیہ کے شاہی خاندان کے ایک فرد کا رویہ غیر مناسب تھا۔یمن میں القاعدہ ٹھکانوں پر امریکی حملوں کو یمنی حکومت کی جانب سے چھپایا جا رہاہے۔ یمن کے صدرنے ملک میں موجود القائدہ کے ٹھکانوں پر ہونے والے امریکی حملوں کو تسلیم کیا ہے۔وکی لیکس کے مطابق دستاویزات میں روس اور چین میں امریکی سفارتی عملے کی طرف سے میزبان ملکوں پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ وکی لیکس سے دستاویزات کے اجرا پرامریکہ نے اس اقدام کو لاپرواہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اسے دوست ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر ہونگے ۔پنٹاگون کے ترجمان بلیک وٹمین نے وکی لیکس کی جانب سے جاری انکشافات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے فوجی نیٹ ورک کی سیکیورٹی مضبوط بنائی جا رہی ہے اور مستقبل میں خفیہ دستاویزات کے اجراءجیسی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ کمپیوٹر سے اہم موادڈءون لوڈ نہ کیا جا سکے ۔وائٹ ہاﺅس نے بھی خفیہ دستاویزات کے اجراءکو لاپرواہی اور خطرناک اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ وکی لیکس کے اجرا سے پہلے ہی سفارتی ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ان دستاویزات کے افشا کی وجہ سے امریکی انتظامیہ میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی ہے جبکہ ابھی سفارتی ڈائنامائیٹ پھٹنے کو ہے اور اس کے نتیجے میں صدر زرداری، حامد کرزئی اور روسی صدر پپوٹن مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ وکی لیکس کی جانب سے امریکہ کی تقریباً 30لاکھ خفیہ دستاویزات جاری کرنے کے فیصلے نے امریکہ اور اتحادی ممالک میں ہلچل مچا دی ۔ زیادہ تر دستاویزات اتحادی ممالک میں امریکی سفارتخانوں کی جانب سے واشنگٹن بھیجے گئے ٹیلی گرافز پر مشتمل ہیں ۔ ان میں اتحادی ممالک کے متعلق امریکہ کے پوشیدہ خیالات اور باہمی روابط کا انکشاف ہیں جس سے امریکہ اور کئی ممالک کے درمیان تناﺅ پیدا ہوسکتا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ان دستاویزات میں مختلف ممالک کے سربراہان کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔ امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے وکی لیکس کی انتظامیہ سے کہا وہ خفیہ دستاویزات منظر عام پر نہیں لائے کیونکہ اس سے امریکی فوج اور امریکہ کے حامیوں کی جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انکشافات سے امریکی ملٹری آپریشن متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار زندگیاں اور عالمی امن خطرے میں پڑ جائے گا۔اٹلی کے وزیر خارجہ فرینکو فریٹنی نے کہا دستاویزات کے اجرا سے پہلے کہا کہ وکی لیکس سے امریکی دستاویزات کا اجراءسفارتی تعلقات کے لئے نائن الیون ثابت ہو گا اور اس سے ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد کی دھجیاں اڑجائیں گی