نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: .کھائو کھائو خوب کھائو

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    .کھائو کھائو خوب کھائو

    [size=x-large]
    وجاہت علی عباسی
    پاکستان میں جس کو بھی موقع مل رہا ہے وہ دبا کر کھا رہا ہے۔ سگنل پر کھڑا کانسٹیبل ہو یا پھر سب سے اونچی گدی پر بیٹھا ملک کا لیڈر… جس کو جہاں سے جس طرح جتنا بھی کھانے کو مل رہا ہے وہ کھا رہا ہے۔
    ایک کہاوت ہے چور وہ جو پکڑا جائے لیکن پاکستان کے سسٹم نے اس مثال کو غلط ثابت کردیا ہے یعنی پاکستان میں وہ بھی چور نہیں جو پکڑا جائے۔ عوام کو پتہ ہے چور کون ہے پھر بھی وہ آزاد ہے لیکن کرپشن سے بھری پاکستان کی اس سوسائٹی کی پرواز میں یہ سہولت صرف فرسٹ کلاس میں بیٹھے کرپٹ لوگوں کو حاصل ہے یعنی اگر آپ پارک میں موبائل لوٹتے پکڑے جانے والے چور ہیں تو آپ کے ساتھ ایسا ناانصافی والا انصاف ہو گا جس کی مثال شاید ماڈرن ہیومن ہسٹری میں نہیں ملتی لیکن اگر آپ حکومت میں ہیں اور شہر میں بننے والے دس پارکوں کے عوام کے پیسے پارک بننے سے پہلے ہی ہضم کر لیتے ہیں تو بھی آپ پاکستان میں پوری عزت' آرام اور اطمینان کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔
    آج کل پاکستان میں لوگوں کے ایمان پر سیل لگی ہوئی ہے۔ جو پولیس والا پانچ سال پہلے پانچ سو سے کم میں سگنل توڑنے والے کو نہیں چھوڑتا تھا آج وہ پچاس روپے میں بھی مان جاتا ہے ' جو صاحب کچھ سال پہلے تک بجلی کی چوری کر رہے تھے آج ان کا فون پانی سیلز ٹیکس پر چیز کے بل کے ساتھ تولنے پر ایمان ہلکا نکلتا ہے۔ وہ ٹی وی ٹاک شو ہوسٹ جو کچھ سال پہلے تک سچ مچ کبھی کبھی عوام کے حق میں بات کر لیتا ہے آج صرف میرے شو کی ریٹنگ اور بڑے چینل میں نوکری کے چکر میں رہتا ہے۔ سب اپنی اپنی ٹوپی سیدھی کرنے میں لگے ہیں ''میں' میرا اور میرے لئے'' کے آگے کچھ نہیں۔
    ہم سب ہی ایک جیسے ہیں۔ سڑکوں پر لکھا ہے کہ ''صفائی نصف ایمان ہے'' لیکن کتنے ایسے لوگ ہیں جنہیں اس بورڈ سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ سب اپنے اپنے گھروں کو صاف کرتے ہیں اور کچرا گھر کے باہر پھینک دیتے ہیں اور یہ سوچتے بھی نہیں ہیں کہ کچھ غلط کیا۔
    کوئی کہتا ہے کہ تعلیم ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو کوئی کہتا ہے کہ دہشت گردی ہمارا سب سے بڑا پرابلم ہے۔ کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اور کوئی نہیں بلکہ ہمارا خراب انٹرنیشنل امیج ہے۔
    کتنا اچھا تھا جب کچھ سال پہلے تک بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مسئلہ صرف اور صرف کشمیر تھا۔ لگتا تھا جیسے ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا سب کا مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن یہ وہ خواب تھا جو ٹوٹ چکا۔ آج جس سچائی کا ہمیں سامنا ہے اس میں ہمارے ایک نہیں کئی مسائل ہیں۔ مسئلہ کوئی بھی ہو اس کا ایک حل سوسائٹی کا بہتر ہونا ہے۔ اگر ہماری سوسائٹی صحیح ہوگی تو خودبخود ہر چیز صحیح ہوتی چلی جائے گی۔ اس وقت پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ کہ ہر شخص اپنی ''سوچ'' سے ''میں'' مٹا کر ''ہم'' کر دے۔
    سوسائٹی تاش کے پتوں سے بنے اونچے سے گھر کی طرح ہوتی ہے جس میں ہر پتہ ہمارے معاشرے کا ایک سسٹم ہے۔ تعلیم' لاء اینڈ آرڈر' بجلی' پانی' ترقی کی پلاننگ وغیرہ وغیرہ یہ سب ہی جب تک اپنی جگہ پر صحیح کھڑی نہیں ہوں گی اس وقت تک ایک صحیح معاشرہ نہیں بن سکتا اور جب ایک صحیح سوسائٹی بن جائے تو مستقل اس کا خیال رکھنا لازمی ہے کیونکہ کسی بھی ایک سسٹم کے ہلنے سے پوری سوسائٹی پر اثر پڑتا ہے۔
    آج ہم کو کوئی بھی غلط کام کرنا غلط اس لئے نہیں لگتا کیونکہ اس میں ہمارا فائدہ ہے لیکن اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو اس غلط کام کرنے سے ہماری سوسائٹی کو فرق پڑتا ہے جس سے فوراً نہیں تو دیر میں براہ راست نہیں تو کسی بھی طرح ہمیں نقصان پہنچتا ہے۔
    بجلی کی چوری یا پھر رشوت لینا اس وقت ہمارے لئے فائدہ مند ضرور ہوگا لیکن کچھ عرصے شہر میں بجلی نہ ہونا یا پھر نوجوانوں کو نوکریاں نہ ملنے پر شہر میں اسٹریٹ کرائمز بڑھ جانا' ان کے بڑھنے سے جو تکلیف ہم کو پہنچتی ہے اس کے کہیں نہ کہیں ہم خود ہی ذمہ دار ہوتے ہیں جس کو جہاں موقع مل رہا ہے کھا رہا ہے کی وجہ سے ہماری بیچاری عوام نہیں کھا پا رہی ہے۔
    ایک حالیہ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عوام کے کھانے کے انداز بدل چکے ہیں۔ ''اوکسفم گرو '' نامی کمپین میں سولہ ہزار پاکستانیوں سے سوال کئے گئے اور چوالیس فیصد لوگوں کے مطابق پچھلے دو سالوں میں ان کی ڈائیٹ پر گہرا اثر پڑا ہے۔ جس کی وجہ مہنگائی ہے اس کے علاوہ بتیس فیصد لوگوں کی ڈائیٹ میں تبدیلی کی وجہ شہر کی آب و ہوا کی تبدیلی اور کھانوں میں ملاوٹ ہے جس کا نتیجہ خراب صحت ہے۔
    ''اوکسفم گرو'' کی پاکستان میں ڈائریکٹر نوا خان کے مطابق ہمارے ملک میں لوگوں کی ڈائیٹ بہت تیزی سے بدلی ہے جو ایک برا بدلائو ہے۔ دو سالوں کے اندر بیشتر کھانے پینے کی چیزیں ڈبل ڈیجٹ میں بڑھی ہیں جس کی وجہ سے لوگ وہ چیزیں نہیں خرید سکتے جو ان کی صحت اور توانائی کیلئے اہم ہیں۔
    نوا خان نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ایک بڑے حصے خصوصاً غریب اپنے کھانے کی کوالٹی اور مقدار کو کم کرتے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ مہنگائی ہے۔
    سروے میں چوالیس فیصد لوگ ایسے تھے جنہوں نے کہا کہ ہم کو روز آرام سے کھانے کو مل جاتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر اکیاون فیصد لوگ یعنی پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام آج دو وقت کا کھانا بھی نہیں افورڈ کر پا رہی ہے۔
    سروے یہ بھی بتاتا ہے کہ ستاون فیصد لوگ وہ غذائی اشیاء نہیں خرید پا رہے جو وہ دو سال پہلے تک خریدتے' پکاتے اور کماتے تھے صرف جون 2011ء میں ہی فیڈرل بیورو آف اسٹیٹکس (اعداد و شمار بیورو) نے یہ رپورٹ دی ہے کہ صرف ایک مہینے میں غذائی اشیاء کی قیمتیں پندرہ فیصد بڑھی ہیں۔
    سروے میں جواب دینے والوں سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ قیمتیں بڑھنے کی کیا وجہ ہے؟ کوئی آئل کی قیمتیں بڑھنے کو قصوروار ٹھہراتا ہے کوئی مارکیٹ میں کسی طرح کا کنٹرول نہ ہونے کو مسئلے کی جڑ بتاتا ہے۔ سب کو اپنی اپنی بتائی وجہ صحیح لگتی ہے اس بدلائو کی اس تبدیلی کی وجہ ہم خود ہیں۔ کیوں آئل کی پرائس بڑھنے سے امریکہ میں کھانے کی قیمتیں نہیں بڑھتیں؟ اور اگر بڑھتی ہیں تو وہ کچھ دن میں نیچے آ جاتی ہم نے اپنے لئے سوسائٹی ہی ایسی بنائی ہے جس میں ہر چیز کو ہم کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مفاد کو چھوڑ کر یعنی موقع ملے تو ''کھائو'' والی سوچ کو بدل کر اگر ہم اپنی سوسائٹی کے لئے سوچیں تو شاید ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ لوگ کچھ عرصے سے بھوکے نہ سوئیں۔
    .
    اردو ٹائمز[/size]

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: .کھائو کھائو خوب کھائو

    قابل تفکیر مسلہ ہے ، ہم اخلاقی گراوٹ میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ چوری کو چوری سمجھتے ہی نہیں ، کیونکہ ہمارے بڑے ہمارے سامنے خود ایسی مثال بنے ہوئے ہیں ،
    ..........
    آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ،
    اللہ تعالی ہمارے ملک کی حالت پر رحمت فرماءے ورنہ ہماری داستان اتنی دردناک ہے کہ ملک ھاتھوں سے جاتا دکھائی دے رہا ہے
    جزاک اللہ سیما صاحبہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University