نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مسلمان ہو کر اسے جینے کا مقصد مل گیا

Hybrid View

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    پيغامات
    173
    شکریہ
    0
    7 پیغامات میں 8 اظہار تشکر

    مسلمان ہو کر اسے جینے کا مقصد مل گیا

    [size=large]
    جینیفر فائڈ امریکا کی رہنے والی تھی، تین سال پہلے ہی اس کی شادی ہوئی تھی، شادی کے بعد جلد ہی جینیفر سمجھ گئی تھی کہ اس کے شوہر میں زندگی کو بہتر بنانے کی کوئی امنگ نہیں ۔ جینیفر کے دو بچے تھے اور تیسرا ہونے والا تھا۔
    جینیفر اپنے شوہر کے لیے اکثرپریشان رہتی اور سوچتی رہتی کہ کرہٴ ارض پر اس کے وجود کا کیا مقصد ہے؟” میں اس دنیا میں کیوں بھیجی گئی ہوں؟“ یہ سوال مسلسل اس کے ذہن کو گھیرے رکھتے، جینیفر کی فیملی حال ہی میں ڈومینیکن ریپبلک منتقل ہو گئی تھی،
    ماں باپ سے دور ہو کر وہ اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کر رہی تھی، اس کے والدین ہی اس کے آئیڈیل تھے ،ان کے بغیر وہ اپنے آپ کو ادھورا سمجھتی تھی ،اس وقت اس کی عمر 21 سال تھی۔
    یہ 11 ستمبر 2001ء کا دن تھا، صبح کے وقت وہ سو رہی تھی، اس کی ساس کی چیخ نے اسے اٹھایا، وہ چلا رہی تھی ”ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے جہاز ٹکرا گیا ہے ۔“جینیفر نے فوراً ٹی وی لگایا، اس کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک اورجہاز ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا چکا تھا،

    یہ منظر دیکھ کر جینیفر کو سخت جھٹکا لگا وہ سوچنے لگے اتنی بڑی ظالمانہ کارروائی کس نے کی ہو گی؟ سارے منظر اپنی آنکھ سے دیکھنے کے بعدبھی اسے یقین نہ آرہا تھا کہ یہ حقیقی منظر ہے یا کوئی خوف ناک خواب دیکھ رہی ہے۔ لیکن یہ سب سچ تھا، تب ہی اس نے سوچا وہ کل ہی ورلڈ ٹریڈ سینٹر گئی تھی،
    اگر یہ خوف ناک سانحہ ایک دن پہلے ہو جاتا تو وہ بھی ختم ہو چکی ہوتی، اس کے دل نے کہا ابھی میرے مرنے کا وقت نہیں آیا، شاید میری زندگی کا کوئی مقصد ہے جسے مجھے پورا کرنا ہے۔
    چند دن کے بعد وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی، اسی وقت بریکنگ نیوز میں بتایا گیا کہ ایک جہاز کوئیز نیویارک میں کریش ہوا ہے، یہ امریکن ایئر لائن کی فلائٹ587 تھی۔ یہ سن کر وہ شدید خوف زدہ ہو گئی، کیوں کہ یہ وہی فلائٹ تھی جس پر جینیفر نے ایک ہفتے قبل ہی سفر کیا تھا اور یہ ڈومینیکن ریپبلک ہی گئی تھی۔

    اس کے جسم میں خوف کی ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی، اس حادثے میں بھی وہ ایک ہفتے کے فاصلے سے بچ گئی تھی، اس نے سوچا ضرور اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہے، جس کو اسے پورا کرنا ہے اوراسی کی وجہ سے وہ بار بار موت کے منھ میں جانے سے بچ جاتی ہے ۔
    ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے سے ایک دن پہلے وہ وہاں تھی اور فلائٹ587 کی تباہی سے ایک ہفتے پہلے ہی وہ اس جہاز میں سوار تھی۔
    جینیفر نے دیکھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحہ کے بعد نیویارک کی گلیوں، سڑکوں، تجارتی مراکز، پارکوں اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے، مسلمانوں سے گستاخانہ اور نفرت سے بھرپور جرائم کی خبریں روزانہ اخبارات میں آرہی تھیں، مسلمانوں کے تجارتی مراکز ویران پڑے تھے، مسلمانوں کو دیکھتے ہی وہ لوگ ان پر زوردار آواز میں چلاتے ”دہشت گرد طالبان اپنے ملک واپس جاؤ“۔

    یہ سب دیکھ کر جینیفر سوچتی کہ جن لوگوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا وہ ظالم لوگ تھے، مگر ان لوگوں کو کیوں اذیت دی جارہی ہے جن کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں؟ جینیفر کا مسلمانوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا تھا، نہ مسلمانوں کے بارے میں کچھ جانتی تھی،
    وہ سوچنے لگی کہ کہ یہ لوگ ( مسلمان) کن بنیادوں پر کھڑے ہیں؟ اور اسلام کو جاننے کی خواہش روز بروز بڑھنے لگی ۔ کچھ عرصے کے بعد جینیفر نے پڑھائی پوری کرنے کے لیے ایک کالج میں داخلہ لے لیا،
    کیونکہ شادی کی وجہ سے اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی تھی وہاں اسے کچھ مسلمان طالبات ملیں اس نے ان سے اسلام کے بارے میں سوالات کرنے شروع کر دیے اس نے ان سے پوچھا آپ اسکارف کیوں اوڑھتی ہیں ؟ آپ کس پر ایمان رکھتی ہیں ؟
    محمد صلی الله علیہ وسلم کون ہیں؟ کیا تمہارے دین میں دہشت گردی جیسی کوئی چیز ہے؟ مگر اسے سوالات کے جواب کم ہی ملے، زیادہ تر مسلمان خواتین خود اسلام کی بنیادی معلومات سے آگاہ نہیں تھیں۔

    بیشتر مسلمان لڑکیاں جن سے وہ ملی وہ خود اس جیسی ہی تھیں، اس لیے وہ اس کے سوالات کے جواب نہیں جانتی تھیں، اس لیے اس نے اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے انٹرنیٹ پر جانے کا فیصلہ کیا،
    انٹر نیٹ پر اسے اسلام کے بارے میں بے شمار معلومات ملیں، جب جینیفر14 سال کی تھی تب اسے بہت سے سوال پریشان کرتے تھے، اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کے سبھی سوالوں کے جواب اسلا م میں موجود ہیں، جیسے زندگی کا مقصد کیا ہے خداتین کیوں ہیں ؟ خدا کسی کا باپ یا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے ؟
    اسلام میں اس کے سارے سوالوں کے جواب موجود تھے، اس کے دل کو جیسے چین آگیا تھا، اس نے محمد صلی الله علیہ وسلم پر مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اور یہ جان کر وہ حیران رہ گئی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کے ہر ہر لمحے کی تفصیل دستاویز کی صورت میں دستیاب ہے۔
    اسے لگا گزشتہ کئی سالوں سے وہ جس دین کی تلاش میں تھی اسے اب پتہ چلا کہ اس کا نام اسلام ہے اب اس کی تلاش ختم ہو گئی تھی ۔
    جینیفر اتنی بے چین تھی کہ اسلام قبول کیے بغیر 2002 کے رمضان میں مسجد میں پہنچ گئی، اس نے دیکھا مسجد میں ہر رنگ نسل اور قومیت کے لوگ موجود تھے، سبھی ایک دوسرے کو ” السلام علیکم“ کہہ رہے تھے، نماز شروع ہونے پر جیسا سب لوگ کر رہے تھے ویسا ہی وہ کرتی رہی،

    بہرحال اس نماز میں اسے بہت سرور ملا، یہ جان کر اسے حیرانی ہوئی کہ ساری دنیا کے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں، وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں نماز کے وقت سب کا رخ خانہ کعبہ کی طرف ہوتا ہے۔
    جینیفر کو مسلمان عورتوں کا اسکارف اوڑھنا بہت پسند آیا، اس نے بھی اس دن سے اسکارف اوڑھنا شروع کر دیا۔ جینیفر کہتی ہیں کہ اسکارف اوڑھنے کے بعد مجھے لگا کہ گلیوں اور سڑکوں پر میں زیادہ محفوظ ہوں اورکوئی مجھے جنسی شے سمجھ کر نہیں تاک رہا ،
    حجاب سے مجھے تحفظ کا نیا احساس ہوا۔ لوگ کہتے تم مسلمان نہیں ہو، پھر کیوں حجاب استعمال کرتی ہو؟ سب کو اس نے یہی جواب دیا یہ میرا اپنا فیصلہ ہے اس سے مجھے خوشی ملتی ہے ۔
    رمضان میں جینیفر نے بعض ایام میں روزے بھی رکھے، ان سب سے اسے یہ احساس ہوتا کہ وہ اپنے الله کو راضی کر رہی ہے ۔
    کافی مطالعہ کے بعد وہ سنجیدگی سے اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوچنے لگی، لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی فیملی کے افراد بالخصوص اپنے والدین کو کیسے بتائے؟ پھر اس نے سوچا الله کی رضا والدین کی رضا سے اہم ہے ۔
    اس نے سب سے پہلے اپنی چھوٹی بہن کو بتایا کہ وہ اسلام قبول کرنے جاری ہے، اس کی بہن نے کہا مجھے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کیا ہو، بس میں یہ جانتی ہوں کہ تم میری بہن ہو۔

    مگر یہ خبر سن کر والدہ کو شدید جھٹکا لگا اور وہ سخت غصے میں آگئیں ،اسے اپنی والدہ کو سمجھانے میں کم وبیش دو ہفتے لگ گئے، اس کی والدہ نے اس کے فیصلے کو قبول تو کر لیا، مگر ان کا خیال تھا کہ ان کی بیٹی کو اپنی غلطی کا جلد احساس ہو جائے گا۔
    جنوری 2003ء کے پہلے جمعہ کو اس نے علی الاعلان کلمہ شہادت پڑھنے کا فیصلہ کیا، صبح سویرے غسل کرنے کے بعد اس نے صاف ستھرے کپڑے پہنے، گھر سے نکل کر ٹرین پر سوار ہو کرمسجدپہنچی، مسجد کے امام نے اس سے کہا کہ تمہیں یقین ہے کہ جو تم کہہ رہی ہو تم اسی پر پوری زندگی قائم رہوگی۔ اس نے کہا میں نے طویل غوروفکر اور مطالعے کے بعد بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔
    اس کے کلمہ شہادت پڑھتے ہی ہر طرف سے مبارک باد کی صدائیں آنے لگیں ۔ وہاں موجود تمام مسلمانوں کی طرف سے پیش کش ہوئی کہ اسے کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو وہ حاضر ہیں۔
    اُس رات جینیفر نے ایک سہانا خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک نہایت خوب صورت سرسبز وادی میں ہے۔ ایسی وادی اس نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، تبھی وادی میں اسے ایک سفید جلباب پہنے پر نور چہرے والا ایک آدمی نظر آیا۔
    یہ کسی صورت بھی انسانی چہرہ محسوس نہیں ہوتاتھا، وہ اس کے قریب آیا اوراسے لے کر ایک گول چٹان کی طرف گیا اور اس پر بیٹھ گیا، وہ بھی وہیں گھاس پر بیٹھ گئی، پھر وہ بولا، اسلام میں خوش آمدید!

    پھر اس کی آنکھ کھل گئی، اس نے سوچا شاید اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا ہے، بعد میں اس کے دوستوں نے اسے بتایا کہ وہ ضرور کوئی فرشتہ ہو گا، کیونکہ فرشتے واضح انسانی چہرہ نہیں رکھتے اور وہ نورانی جسم اورشکل رکھتے ہیں۔
    جینیفر کا کہنا ہے کہ آج میں پر سکون ہوں، مجھے لگتا ہے جیسے مجھے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا ہے اور الله پاک مجھے اسلام پر قائم رکھے، آمین۔
    [/size]

  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: مسلمان ہو کر اسے جینے کا مقصد مل گیا

    بہت ہی زبردست ایمان افروز واقعہ ہے

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University