خبر رساں ادارے روئٹرز اور گلوبل مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’اپسس‘ کے ایک سروے کے مطابق امریکیوں پر اقتصادی خوف کا دباو بڑھتا جا رہا ہے۔ وہاں کے زیادہ تر شہریوں کے خیال میں امریکہ غلط راستے پر گامزن ہے۔


سروے سے امریکی معیشت کے بارے میں پائی جانے والی بے چینی اور بے یقینی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔ امریکہ حال ہی میں دیوالیہ ہوتے ہوتے بچ گیا ہے۔ امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ کم ہو گئی ہے جبکہ وہاں بے روزگاری کی شرح 9.1 فیصد ہے۔

ملکی قرضوں کی حد بڑھانے سے متعلق ہفتوں تک جاری رہنے والی بحث اور منفی تبصروں نے باراک اوباما کی سیاسی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے اور 2012ء کے الیکشن میں ان کی شمولیت مشکوک بنا دی ہے۔صدر اوباما کی عوام میں مقبولیت 49 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی ہے صدر اوباما کی عوام میں مقبولیت 49 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی ہے

ایک مہینے میں ان کی عوامی حمایت میں واضح کمی آئی ہے۔ ان کی عوام میں مقبولیت 49 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی ہے۔

اس پہلے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی عوامی حمایت سن دو ہزار چار میں چھیالیس فیصد رہ گئی تھی۔ صدر اومابا اب عوام میں سابق صدر سے بھی زیادہ غیر مقبول ہو چکے ہیں۔

روئٹرز کے سروے کے مطابق 73 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ غلط سمت کی طرف جا رہا ہے جبکہ 21 فیصد کے خیال میں ملک کی سربراہی صحیح ہاتھوں میں ہے۔

سروے میں حصہ لینے والے سنتالیس فیصد افراد کا خیال ہے کہ امریکہ کا بد تریں دور ابھی آئے گا۔ اس طرح یہ خیال رکھنے والے افراد میں گزشتہ سال کی نسبت تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گلوبل مارکیٹ ریسرچ کمپنی’اپسس‘ سے تعلق رکھنے والی جولیا کلارک کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی سے دونوں سیاسی جماعتیں مشکلات کا شکار ہیں لیکن یہ بات ابھی وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ باراک اوباما آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے۔

مالیاتی بحران کی وجہ سے حکومت پر عدم اعتماد کی شرح میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2008ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار
ادارت: امتیاز احمد

ڈوئچے ویلے اردوسروس جرمنی