صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 19

موضوع: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    ایکسپریس نیوز 11 اگست 2011
    ...............
    29 جولائی 2010 کو اخبار میں چھپی تھی ،
    اب ایک سابقہ خبر ملاحظہ کریں ،

    ایجوکیشن کمیشن نے 8 وفاقی وصوبائی وزراء کی ڈگریاں جعلی قرار دے دیں

    اسلام آباد ( رپورٹ: … انصار عباسی) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 8/ وفاقی اور صوبائی وزراء کی ڈگریاں جعلی یا غیر مصدقہ قرار دی ہیں لیکن یہ تعداد بڑھنے کے امکانات ہیں کیونکہ 800/ سے زائد ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق ہونا باقی ہے۔صدر زرداری کی ہمشیرہ اور پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ کی چیئر پرسن فریال ٹالپر کو تاحال کلیئر نہیں کیا گیا۔ ریلویز کے وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور کی 2005 میں سندھ یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری مشکوک ہے۔ اسی یونیورسٹی کے ایک اور مبینہ گریجویٹ (2006) حیات اللہ خان ترین ہیں جنہوں نے حال ہی میں استعفیٰ دیا۔ سابق وفاقی وزیر نوابزادہ خواجہ محمد خان ہوتی نے بھی اسی یونیورسٹی سے 2005ء میں بی اے کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ذرائع کے مطابق جن 8/ وفاقی و صوبائی وزراء کی ڈگریاں جعلی یا غیر مصدقہ قرار دی گئی ہیں ان میں سینیٹر میر اسرار اللہ خان زہری، ہمایوں عزیز کرد، نوابزادہ میر نادر مگسی، حاجی شیر اعظم خان وزیر، سید عقیل شاہ، مس شمع پروین مگسی، عبدالصمد اخونزادہ اور محمد خان طور شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر رحیم داد خان کی ڈگری عدالت میں چیلنج کی جا چکی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے مذکورہ بالا وزراء کے علاوہ جن ارکان کی ڈگریاں جعلی یا غیر مصدقہ قرار دی جا چکی ہیں ان میں سینیٹر نوابزادہ محمد اکبر، ولی محمد، محبت خان مری، گل محمد لوت اور مسز ریحانہ یحییٰ، ارکان قومی اسمبلی سید محمد سلمان محسن، سید اخونزادہ چتن، حیات اللہ خان ترین، غلام دستگیر راجڑ، مظہر حیات، سید جاوید حسین شاہ، احمدن خان، ناصر علی شاہ، مولوی حاجی روزی الدین اور مولوی آغا محمد، پنجاب اسمبلی کے ارکان وسیم افضل گوندل، مس ثمینہ خاور حیات، مس صائمہ کھر، شفیق احمد گجر، مس صائمہ عزیز، مس افشاں فاروق، سیمل کامران، مس فرح دیبا، سیدہ ماجدہ زیدی، مس شمائلہ رانا، نسیم ناصر خواجہ اور ایم اعجاز احمد، خیبر پختونخوااسمبلی کے ارکان کشور کمار، خلیفہ عبدالقیوم خان، گلستان خان اور سردار علی، بلوچستان اسمبلی کے ارکان حاجی علی مدد جٹک نوابزادہ تاری مگسی، مس روبینہ ظفر زہری اور یار محمد رند شامل ہیں۔
    ...................................
    کسی نے کہا کہ اسمبلیوں میں آدھے لوگ جعلی ڈگریوں والے ہیں، بڑا اعتراض ہوا ممبران نے توہین پارلیمنٹ کا الزام لگایا جبکہ اپنی پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ توہین وہ خود کرتے ہیں۔ اس آدمی نے کہا اسمبلیوں کے آدھے لوگ جعلی ڈگریوں والے نہیں جن ممبران نے اپنی جیت کا جشن پارلیمنٹ میں نعرے مار کے اور تالیاں بجا کے منایا انہیں اس جملے کی سمجھ ہی نہیں آئی وہ کچھ بھی ایسا سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ یہ بات اس طرح کہی گئی تھی کہ پارلیمنٹ کے آدھے ممبران گدھے ہیں پھر کہا گیا کہ آدھے ممبران گدھے نہیں ہیں۔ گریجویٹ اسمبلی کا کریڈٹ صدر جنرل مشرف اور اس کے غلام سیاستدانوں نے لیا تھا۔ تب عدالت آزاد نہ تھی اس لئے جعلی ڈگریوں والوں نے بھی اپنی مدت پوری کی۔ یہ شعر میرا نہیں ہے بہت پہلے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا صرف ایک لفظ کی تبدیلی کے ساتھ پیش خدمت ہے، علمی کی جگہ سیاسی لکھا گیا ہے کہ سیاستدانوں کا علم کے ساتھ کیا کام ہے....
    تو بھی گریجویٹ ہے میں بھی گریجویٹ
    سیاسی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ
    حافظ آباد کے مستقل ممبر اسمبلی مہدی بھٹی نے بہت پہلے ایک جلسہ عام میں کہا تھا کہ میں میٹرک فیل ہوں اور میرے ووٹرز بھی انڈر میٹرک ہیں یہ جو گریجویٹ سیاستدان ہیں وہ کسی کام کے نہیں اور مہدی بھٹی ممبر بن گئے اس کے بعد جب گریجوایشن کی شرط ممبر اسمبلی کے لئے لگائی گئی تو اسی جگہ جلسہ عام میں مہدی بھٹی نے کہا کہ میں اللہ کے فضل سے گریجویٹ ہوں میرے مدمقابل کے پاس جعلی ڈگری ہے جبکہ اس آدمی کو پچھلی دفعہ گریجویٹ ہونے کا طعنہ دیا گیا تھا۔ مہدی بھٹی پھر جیت گئے۔ عدالتوں پر الزام بازی کرنے والے عوام کی عدالت میں سرخرو ہوتے ہیں تو پھر صرف اللہ کی عدالت رہ جاتی ہے اور وہاں اصل فیصلے مرنے کے بعد ہوں گے۔ میٹرک اور بی اے کے لئے انعام الحق جاوید نے کہا ہے کہ....ع
    کر لیا ہے جو تم نے بی اے تو
    ساتھ ہی میٹرک بھی کر ڈالو
    پنجاب اسمبلی میں ایک ممبر کے خلاف پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار نے عدالت میں پیش ہوکے بیان دیا کہ ممبر اسمبلی کے نام کے کسی آدمی کی رجسٹریشن بھی یونیورسٹی میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود عدالت نے ممبر اسمبلی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ چنانچہ 2002 ءکے بعد 2008 ءکے الیکشن میں بھی لوگوں نے جعلی ڈگریوں پر الیکشن لڑے اور جیتے اب عدالتیں آزاد ہیں چنانچہ ایسے جھوٹے دھوکے باز کرپٹ اور جعلی ممبران کے خلاف عدالتوں نے فیصلے دیئے بہت سے ممبران نے عدالتوں میں مقدمات جانے سے پہلے ہی استعفے دے دیئے ہیں۔
    عدالت میں جعلی ڈگری والے ممبر جمشید دستی کے مقدمے کی دلچسپ سماعت کی ایک جھلک اخبارات میں چھپی ہے۔ ممبر صاحب کو ایک بھی پورا کلمہ صحیح طرح سے یاد نہیں تھا اور اس نے ایک مذہبی درسگاہ سے ڈگری لے کے الیکشن لڑا اور جیتا۔ لوگ بھی کمال کرتے ہیں کیسے کیسے لوگوں کو اسمبلی میں بھجواتے ہیں اور پھر روتے ہیں۔
    عدالت: آپ نے قرآن کی کوئی تفسیر پڑھی ہے؟
    ممبر صاحب: جی ہاں وہ تفسیر جو حضرت موسیٰؑ نے لکھی ہے۔
    عدالت نے کچھ اور سوال بھی کئے جن کا جواب دے کے خود دستی صاحب لاجواب ہو گئے۔ عدالت نے کہا کہ آپ استعفیٰ دے دیں ورنہ عدالت نے فیصلہ کیا تو آپ کو جیل جانا ہو گا۔ اس نے جیل سے بچنے کے لئے استعفیٰ دے دیا۔ میرے خیال میں عدالت نے یہ ریلیف دے کے ہمیں تکلیف دی ہے۔ جمشید دستی کو پیپلز پارٹی نے پھر ٹکٹ دے دیا ہے وہ جیت کے پھر اسمبلی میں پہنچ جائے گا۔ کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟ عدالت کو اس حوالے سے سوموٹو ایکشن لے کے جمشید دستی کی اہلیت ختم کر دینا چاہیے آئینی طور پر بھی اب جمشید دستی اسمبلی میں جانے کا حق نہیں رکھتا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں سارے سمگلر بیٹھے ہوئے ہیں۔ جھوٹ سے بڑی سمگلنگ کوئی نہیں ہے جعلی ڈگری بھی سمگلنگ ہے۔ وزیراعظم مخدوم گیلانی نے اپنے بھائی کو ٹکٹ دیا جسے لوگ جانتے بھی نہیں، جانتے تو لوگ ان کے بیٹے کو بھی نہیں مگر وہ ممبر پنجاب اسمبلی بن گیا ہے وہ اور اس کی والدہ نیب کے کئی الزامات میں ملوث ہیں۔
    پچھلی عدالت سے آصف زرداری نے ممبر اسمبلی ہونے کے لئے بی اے کی شرط ہٹوا لی تھی کہتے ہیںکہ یہ انہوں نے اپنے لئے کیا کہ صدر مملکت ہونے کے لئے ممبر اسمبلی ہونے کی اہلیت کا ہونا ضروری ہے۔ زرداری صاحب شاید ایف اے ہیں چنانچہ ممبران اسمبلی سے پہلے جج صاحبان نے ان کے انتخاب کو ممکن بنایا مگر اب پتہ چلا ہے یہ رعایت جمشید دستی اور ایسے کئی لوگوں کے لئے تھی کہ عدالت انہیں نااہل کرے گی اور پارٹی ٹکٹ دے کے انہیں پھر اہل کر دیا جائے گا۔ پارلیمنٹ نااہل خانہ ہے۔ عدالت نے تو درگزر سے کام لیا مگر انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ درگزر کے قابل نہیں۔ عدالت نے اس سزا کے قابل بھی نہیں سمجھا۔
    صدر زرداری نے جمشید دستی کو ٹکٹ دے کے ایک ٹکٹ میں دو دو مزے والی ضرب المثل سچ ثابت کر دی ہے۔ وزیراعظم مخدوم گیلانی نے فیصلے کو بدل دیا کہ اصل اختیارات میرے پاس ہی رہیں گے یہ معرکہ اٹھارویں ترمیم کے اسمبلی میں پاس ہونے کے بعد ہوا ہے اور دوسری بات یہ کہ ایوان صدر کی طرف سے عدالت کے ہر فیصلے کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔ عدالت نے پٹرول پانچ روپے سستا کیا تو صدر زرداری نے دس روپے پٹرول مہنگا کرنے کا آرڈیننس آدھی رات کو نافذ کر دیا۔ این آر او کے فیصلے کا مذاق اب تک اڑایا جا رہا ہے۔ جمشید دستی نے استعفیٰ عدالت میں پیشی کے بعد دیا اسے ضمنی الیکشن کے لئے ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ جمشید دستی شرم کرتے اور ٹکٹ نہ لیتے۔ مگر جاہ پرست سیاستدان عزت بے عزتی سے آگے نکل گئے ہیں۔ وزیر اعظم خود اس کے انتخابی جلسے میں پہنچے اور توہین عدالت کے مرتکب ھوئے اور اسی جمشید دستی کو پھر سے جتوا دیا ....جو بھی ممبر اسمبلی اب عدالتی فیصلے کے خوف سے استعفیٰ دے گا اسے بہتر ٹکٹ مل جائے گا۔ عدالت کے ہر فیصلے کے برعکس عمل کیا جائے گا اب عدالت سوچے کہ اس بلاجواز رعایت سے ناانصافی تو نہیں کر دی گئی۔
    عدالت اب ایسے کسی ممبر اسمبلی کو رعایت نہ دے اب بھی کئی ایسے مقدمات عدالت میں موجود ہیں۔ عدالت جعلی ڈگریوں والے کے خلاف فیصلے دے اور انہیں نااہل قرار دے تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا پائیں اور پھر کبھی اسمبلی میں نہ پہنچ سکیں۔ حیرت ہے کہ یہ لوگ ہمارے نمائندے ہیں جھوٹ بولنا سارے جرائم کی ماں ہے۔ میرے آقا و مولا رسول کریم سے کسی نے پوچھا کہ مجھے کوئی آسان سی ترکیب بتائیں کہ میں ساری برائیوں سے بچ پاوں ۔ آپ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ اب وہ جوگناہ کرنے لگتا تو سوچتا کہ میں نے حضور سے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا ہے انہوں نے پوچھ لیا تو میں کیا کروں گا۔ ہماری ان عظیم روایات کو یورپ امریکہ نے اپنی حکایات بنا لیا ہے ۔ صدر کلنٹن جب مونیکا کے ساتھ سکینڈل میں پھنسا تو لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہ تھی انہیں صرف یہ غم و غصہ تھا کہ ہمارے صدر نے جھوٹ کیوں بولا ہے۔ ہمارے صدر زرداری نے ایک جھوٹے اور جعلی آدمی کو عدالت سے نااہل ہونے کے بعد ٹکٹ دے دیا ہے۔


  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا

    غیرت ہوتی تو موجودہ حکومت کے حکمران نہ ہوتے

  3. #3
    ناظم اوشو کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    357
    شکریہ
    58
    46 پیغامات میں 79 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا

    شرم ان کو مگر نہیں آتی.

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    [align=center][size=x-large]امریکی اوراسرائیلی فوجی اتاشی کابھارتی انٹیلی جنس چیف کیساتھ لنچ [/size][/align]
    کراچی (رپورٹ: جاوید رشید) دہلی کے حیدرآباد ہاوٴس میں بھارتی فوج کے انٹیلی جنس چیف کے ساتھ روس، افغانستان، اسرائیل، امریکہ و برطانیہ کے ملٹری اتاشیوں نے گزشتہ روز لنچ کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ لنچ کے دوران بھارتی آرمی انٹیلی جنس چیف نے افغانستان میں بھارتی کردار پر پاکستان کے تحفظات سے متعلق گفتگو کی ۔ معلوم ہوا ہے کہ لنچ کے بعد بھی یہ بات چیت5گھنٹے جاری رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارتی آرمی انٹیلی جنس چیف چند دنوں میں افغانستان کے دورے پر دہلی سے کابل جانے والے ہیں۔ انہوں نے ان 5 ملکوں کے ملٹری اتاشیوں کے ساتھ ملاقات کرکے انھیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پانچوں ممالک افغانستان میں بھارت کے اہم کردار کے زبردست حامی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارتی آرمی انٹیلی جنس چیف 5روز تک کابل میں رہیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ ہلمند، ہرات اور مزار شریف بھی جائیں گے جہاں بھارتی فورسز کے لوگ اہم امور انجام دے رہے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وفد 70-80 رکنی ہوسکتا ہے۔ نمائندہ جنگ نے وزارت دفاع، بھارت کے خصوصی سیل سے اس بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ میڈیا ایڈوانس چل رہا ہے، اگر آپ کو معلوم ہے تو ضرور بھارتی فوجی وفد دورہ کر رہا ہوگا

  5. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    [align=center][size=x-large]این آر او کے دو مختلف مقدمات میں احتساب عدالت کا انوکھا فیصلہ [/size][/align]
    اسلام آباد (انصار عباسی) ملک کی عدالتی تاریخ کے ایک منفرد مقدمہ میں احتساب عدالت نے ایک ہی دن میں این آر او کے دو مختلف مقدمات میں دو مختلف فیصلے سنائے لیکن کچھ اس طرح سے کہ ایک شخص کو ایک کیس میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا جبکہ اسی شخص کو دوسرے مقدمہ میں ملزم کے حق میں استغاثہ کا گواہ تسلیم کرکے بری کردیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ قانون اندھا ہے لیکن این آر او کے نیب کے قائم کردہ دو مقدمات میں راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر دو نے یہی بات اپنے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی اور ایک بااثر ملزم کے حق میں فیصلہ سنایا؛ ملزمان کو ویسے ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کی دوستانہ کارروائی کا فائدہ مل رہا تھا۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملے کو ”کمانڈ پرفارمنس“ کہتے ہیں جس کے تحت قانون پر عمل کیے بغیر حکمرانوں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مقدمات حکومتیں تبدیل ہونے کے بعد دوبارہ ری اوپن ہوسکتے ہیں۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر 2/ کے جج میاں الطاف حسین مہر کی جانب سے 30/ جولائی 2011ء کو تحریر کیے جانے والے مذکورہ دو مقدمات کے فیصلے کا مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوگا کہ اس میں چند غیر معمولی باتیں ہیں۔ سب سے اہم اور غیر معمولی بات یہ ہے کہ ایک مقدمہ میں سابق سیکریٹری خزانہ اور ورلڈ بینک کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جاوید طلعت کو استغاثہ کا گواہ تسلیم کیا جانا ہے جبکہ اسی شخص کو یہی عدالت دوسرے مقدمہ میں اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ نیب کے استغاثہ کی جانب سے ملزمان کا ساتھ دینے کے بعد ایک مقدمہ میں پانچ بااثر افراد کو عدالت نے بری کردیا جبکہ باقی تین ملزمان جس میں جاوید طلعت بھی شامل تھے کیخلاف مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی۔ ایک اہم حکومتی شخصیت کے متعلق عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 248 (2) کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ شخصیت کو عدالت میں پیش ہونے کیلئے آئینی استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ فیصلے میں باقی دو ملزمان بشمول جاوید طلعت کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے کیس کے فیصلے میں احتساب عدالت نے جاوید طلعت کی گواہی کے معاملے میں کوئی سوال اٹھائے بغیر کہا کہ گواہ استغاثہ نمبر 17/ جاوید طلعت بھی ایک اہم گواہ ہے۔ ان کا بیان کمیشن کا تقرر کرکے ریکارڈ کیا گیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ متعلقہ وقت پر انہیں سیکریٹری خزانہ لگایاگیا اور انہیں دیگر سینئر حکام اور سرکاری ملازمین کے ساتھ ملاقات کا ایک نوٹس ملا۔ اس وقت کے سی بی آر کے چیئرمین نے پریزنٹیشن تیار کی۔ اس میں ان کی معاونت دو دیگر سرکاری عہدیداروں نے کی۔ جرح کے دوران گواہ نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان (جو سینئر سرکاری شخصیات ہیں) نے اجلاس کے شرکاء پر ٹھیکے کی منظوری کے حوالے سے کسی پر کسی طرح کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ گواہ نے جرح کے دوران یہ بھی بتایا کہ پی ایس آئی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیئے جانے کے معاملے پر حکومتی خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دوسرے کیس میں میں جج نے جاوید طلعت کے علاوہ دیگر دو گواہوں کا بھی حوالہ دیا تاکہ یہ بیان کیا جا سکے کہ پراسیکیوشن (نیب) ریکارڈ پر یہ ثبوت لانے میں ناکام رہا کہ ملزمان (اہم ترین شخصیات) نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دیگر دو گواہان کے سینئر حکومتی شخصیات کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔ سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ اگر ایک جج ایک ہی دن میں دو مختلف مقدمات میں ایک شخص کو اشتہاری قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے مقدمہ میں اسی اشتہاری کی گواہی پر انحصار کرتا ہے تو قانونی اصطلاح میں ایسے فیصلے کو کمانڈ پرفارمنس کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ کا مشاہدہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ احتساب عدالت نے یا استغاثہ میں سے کسی ایک نے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے پاس مذکورہ بالا بنیاد پر یہ مقدمات دوبارہ کھولنے کے اختیارات ہیں جبکہ سپریم کورٹ بھی اسی بنیاد پر یہ معاملہ زیر بحث لا سکتی ہے۔

  6. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    [align=center] این آر او کیسوں میں اہم افراد کی بریت، سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا [/align]
    اسلام آباد (احمد نورانی) قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر سپریم کورٹ نے این آر او کرپشن مقدمات میں دوستانہ استفاثہ (نرم رویہ) تحقیقات اور کئی اہم کیسز میں بااختیار اور طاقتور افراد کی بریت کا نوٹس لے لیا اور احتساب عدالتوں کے حالیہ فیصلوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے شکایات اور قومی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کا نوٹس لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اہم اور طاقتور ملزم ان کرپشن کیسز میں وزارت قانون کے زیرانتظام نیب کی دوستانہ تفتیش کے باعث بری ہوئے اور احتساب عدالت کے ججوں نے ان فیصلوں میں یہاں تک بھی لکھا کہ استفاثہ (نیب) کی طرف سے پیش کئے جانے والے گواہوں نے ملزموں کے حق میں بیانات دیئے یا ملزموں کے موٴقف کی توثیق کی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مقدمات کی پیروی اتنی دوستانہ تھی کہ ان بااختیار لوگوں کی بریت کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ ہائی کورٹس میں اپیل کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ یہ بات بھی عوام کے علم میں لائی گئی ہے کہ ان مقدمات کی سماعت کے دوران غیرملکی اکاؤنٹس اور رقوم کی منتقلی کے حوالے سے اہم شواہد کو بھی نظرانداز کیا گیا۔ دی نیوز نے 17 ستمبر 2011ء کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ایک سوال نامہ بھیجا تھا جس میں 16 دسمبر 2009ء کے این آر او فیصلے کے تحت قائم ہونے والے اعلیٰ عدالت کے مانیٹرنگ سیل کے غیرفعال ہونے کی وجوہات کے بارے میں استفسار کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے سوال نامے کو درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے اسے این آر او مقدمات میں کارروائی میں پیش رفت کی نگرانی کے لئے قائم کئے گئے عدالت عظمیٰ کے مانیٹرنگ سیل کو بھیج دیا۔ مانیٹرنگ سیل نے درخواست پر غور کرتے ہوئے نیب سے موصول ہونے والے ریکارڈ کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جس میں احتساب عدالتوں کے حالیہ فیصلے بھی شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے این آر او کے اپنے تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس میں مانیٹرنگ کیلئے سیل بنائے تھے۔ 16دسمبر2009ء کو جاری۔ این آر او کیس کے شارٹ آرڈر کے پیراII)-14 (Xاور 27جنوری 2010کو جاری ہونیوالے تفصیلی فیصلے کے پیرا 181میں اس طرح کہا گیا ہے ”سپریم کورٹ میں ایک مانیٹرنگ سیل بنایا جائیگا جو چیف جسٹس آف پاکستان یا ان کے نامزد کردہ سپریم کورٹ کے ایک جج پر مشتمل ہو گا جو نیب آرڈی ننس کے تحت مندرجہ بالا یا دیگر کیسوں کی کارروائی اور پیشرفت کو مانیٹر کریگا اسی طرح کے مانیٹرنگ سیل صوبائی ہائیکورٹس میں بنائے جائیں گے جو متعلقہ صوبوں کے چیف جسٹس یا انکے نامزد کردہ متعلقہ ہائیکورٹس کے ججوں پر مشتمل ہونگے جو این آر او کی شق 2کے تحت ڈسچارج یا بری کئے جانیوالے ملزموں کے کیسوں کی کارروائی اور پیشرفت کو مانیٹر کرینگے“نیب حکام نے دی نیوز کو اپنے سرکاری جواب میں ڈیکلر کیا تھا کہ وہ این آر او کیسوں کی کارروائی اور تفتیش کی پیشرفت کی تمام رپورٹس سپریم کورٹ کے مانیٹرنگ سیل کو بھجوا رہے ہیں۔ نیب نے مزید کہا کہ بری ہونیوالوں کی تعداد دوستانہ استغاثے یا حکومتی دباؤ سے متعلق کسی مزید معلومات کیلئے براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کیونکہ بیورو نے این آر او فیصلے کی تکمیل میں اپنی ہفتہ وار پراگرس رپورٹس بھجوا کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ نیپ حکام نے پس پردہ ہونیوالی گفتگو میں صحافیوں کو بتایا کہ بریت سے متعلق نیب کی متواتر رپورٹس بھجوائے جانے کے باوجود فاضل عدالت نے صورتحال کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے اور احتساب عدالتوں کے حالیہ چند ماہ میں لکھے جانیوالے فیصلوں کا تجزیہ کر رہی ہے۔

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    [align=center][size=x-large]ایرانی صدر کا انکشاف کا اور ہماری ذمہ داریاں! ---- پروفیسر شبیر احمد خورشید[/size][/align]

    یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ امریکی ہمارے لئے کسی طرح بھی قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔بقول ایک بزرگ کے امریکی اگر جلتے توے پر بھی بیٹھ کر کسی بات کا اظہار کریں تو یقین مت کرنا…. جان کیری پاکستان میں آکر یہ کہہ کر گئے کہ میں اپنے خون سے لکھ کر دینے کوتیار ہوں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ہم تباہ کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں؟؟؟ یہ بات ہمارے ذہن میں رہنی چاہئے کہ امریکی جو کچھ کہتے ہیں اُن کا رویہ ہمیشہ اسکے بر عکس ہوتا ہے۔یہ بات پاکستان کے بارے میں تو سو فیصد صحیح معلوم ہوتی ہے۔ آج تک امریکی تھنک ٹینک فوجی بیوروکریٹ اور حکمرانوں کے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میںے شمار انکشافات دنیا کے سامنے آچکے ہیںجن سے پاکستان دشمنی کا بھر پور اندازہ آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔امریکہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مرتبہ تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔کیونکہ اس کو ہمارے یہ اثاثے ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں۔جب ہم نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ساری مغربی دنیا نے چلاچلا کرکہاکہ اسلامی بم بن چکا ہے۔ ماضی میں امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کہہ چکی ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کے ضمن میں امریکہ نے ایک ہنگامی منصوبہ بنا لیا ہے۔یعنی پاکستان کا ایٹمی پروگرام ان کی ہٹ لسٹ پر موجود ہے۔

    اس بات سے تو ہم بہت پہلے سے با خبر ہیں کہ امریکہ ہمارے جوہری پروگرام کا ہندوستان سے بڑا نہیں تو کم ازکم ہندوستان جتنا ہی مخالف ضرورہے۔ ہمارے ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے کے چوکنا اور با خبر صدر محمود احمدی نژاد نے دنیا بلکہ پاکستان کوہلا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے محمود احمدی نژاد نے یہ انکشاف کیا اوراپنے خفیہ معلوماتی اداروں کے توسط سے بتایا ہے کہ ’’ امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ امریکی منصوبے سے متعلق ہمار ے پاس ٹھوس شوہد اور مستند اطلاعات موجودہیں۔کہ امریکی حکومت پاکستان پر کنٹرول اور اسکی حکومت اور عوام کو کمزور کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا سہارا لے گا ۔تاکہ دہشت گردی کے نام پر جنگ میں پاکستان پر اپنا تسلط قائم رکھ سکے۔امریکی حکومت پاکستان کے ایٹمی اثاثے تباہ کرنے کے منصوب بنا رہی ہے۔وہ پاکستان کی خود مختاری کو کمزور کرنے کے لئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا ‘‘یہی بات ہم ایک عرصہ سے کہتے چلے آرہے ہیں۔مگر ہماری آواز تو صدا بصحرااس لئے تھی کہ ہم لکھاری تو لکھتے ہی رہتے ہیں۔مگر محمود احمدی نژاد ایک مملکت کے سربراہ ہیں وہ اگر غلط بھی بولیں گے تو ان کی آواز پر کان دھرے جائیں گے۔لگتا یوں ہے کہ چند رسمی بیانات تو شائدہمارے حکمرانوں کے اس بارے میں آجائیںمگر پھر خاموشی ہی خاموشی ہوگی….اور پاکستان کے دشمن اپنا کام کر دکھائیں گے!!!ہم ڈرون حملوں اور ایبٹ آباد حملوں کی طرح کہتے رہ جائیں گے کہ اب کے کر کے دکھا… .(جس کی ریہرسل امریکہ 2 مارچ کوکر چکا ہے) مخصوص ایجنڈے کے تحت ہماری بربادی کے سامان ہوتے رہیں گے۔

    سوڈانی رہنما اور سابق نائب وزیر عبدالمجید الکریم نے تہران سے واپسی پر ایک پاکستانی اخباری نمائند ے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ کی نظریں پاکستان کے جوہری اثاثوں پر لگی ہوئی ہیں۔ امریکہ ان اثاثوں کا خاتمہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری تمام اسلامی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔ حال ہی میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل فاگ راسموسن نے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہمارے لئے تشویش کا ایک اہم موضوع بن گیا ہے، جس کا ہم گہری نظر سے مطالعہ کر رہے ہیں۔مغرب کی حمایت سے امریکہ پاکستان کو ہر صورت میں تباہی کے کنارے لانا چاہتا ہے۔
    ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ 4 جون 2011کوبروز ہفتہ پیشاور کے گورا قبرستان کے نزدیک ایک حساس چیک پوسٹ پر ایک امریکی قونصلیٹ کی گرے رنگ کی لینڈ کروزر جس پر جعلی نمبر پیلیٹ لگائی ہوئی تھی ۔جبکہ مبینہ طور پر اصل نمبر پلیٹ گاڑی کے اندر موجود بتائی جاتی ہے۔اس لینڈ کروزر کو روکا گیا ۔پولیس اہلکاروں نے چاروں افراد کو جو شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور انہو ں نے داڑھیاں رکھی ہوئی تھیں جو اپنی مصنوی بناوٹ کی وجہ سے بالکل پختون دکھائی دے رہے تھے کو گاڑی سے اترنے کے لئے کہا تو انہوں نے پولیس سے کوئی تعاون نہ کیا بلکہ گا ڑی کے شیشے چڑھا کر موبائلوں پر بات کرنے لگے اورگاڑی سے اترنے سے صاف انکار کر دیا۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ قونصلیٹ کی گاڑی میں سوار یہ افراد سفار ت کار ہر گز نہیں تھے۔یہ تمام کے تمام افراد بلیک اٹر کے کارندے تھے۔ جو امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر پاکستان میں جاسوسی اور مجرمانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں۔جن کوہمارے بعض اداروں نے کھلا لائسنس دیا ہوا ہے۔ پاکستان کے بعض غداروں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ جو اپنے اپنے مقصد کے حصول کی خاطر لٹیروں کے ٹولے کا حصہ ہیں۔ان امریکیوں کی نفرت بھرےی جسمانی زبان بتا رہی تھی کہ وہ غلاموں سے ڈیل کر رہے ہیں۔ بڑی عجیب بات یہ ہے کہ ان کی فون کالیں کام کر گئیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو انہیں چھوڑتے ہی بنی۔

    اس سلسلے میں ایس پی کینٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاسپورٹ چیک کر کے انہیں چھوڑ دیا گیا۔جبکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے کوئی پاسپورٹ یا ویزا چیک نہیں کرایاتھا۔ان کی رہائی وزیر داخلہ کے حکم پر بغیر کسی تفتیش کے عمل میں لائی گئی وزیر داخلہ رحمان ملک نے سی سی پی او پیشاور کوفون کر کے یہ ہدایت دی کہ ان امریکی دہشت گردوں سے کسی قسم کی چیکنگ نہ کی جائے اور انہیں جانے دیا جائے۔بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ انہیں خفیہ ادارے کی ہدایت پر چھوڑ گیا۔ایک خبر یہ بھی ہے کہ دفتر خارجہ کے حکم پر ان دہشت گردوں کو چھوڑا گیا۔ جو پاکستان میں کھُل کر خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔امریکی قونصلیٹ پیشاور کی جانب سے بھی کہا گیا کہ یہ چاروں امریکی قونصلیٹ کے ملازم تھے۔مگر اس بات کی وضاحت نہ کی گئی کہ وہ جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑی میں اس حساس علاقے میں کیا کر رہے تھے۔؟ جب میڈیا کے لوگوں نے امریکی سفارت کار سے سوالات کرنا چاہے تو کہا گیا کہ فی الوقت کسی کے سوالات کے جوا با ت نہیں دئے جا سکتے ہیں۔در اصل یہ لوگ ملک کے چپے چپے میں حساس مقامات کی جا سوسی کر رہے ہیں تاکہ امریکہ کے مذموم مقاصد کے تحت جہاں کہیں بھی ہمارا جوہری مواد موجود ہے اس کی نشان دہی کی جائے اور وقت آنے پر اپنے ٹارگیٹ ایبٹ آباد کی اورپی این ایس مہران کی طرح بہ آسانی حاصل کر لئے جائیں۔ ہم اور ہمارے ادراے ادارے منہ دیکھتے رہ جائیں ۔سانپ کے گذر جانے کے بعد حالیہ واقعات کی طرح لکیر پیٹتے رہ جائیں گے۔

    ہمارے حکمران امریکی بد معاشوں کو پاکستان سے باہر نکالنے کے حق میں کیوں نہیں ہیں یہ با ت سمجھ سے بالا تر ہے۔وہ پاکستان میں امریکی موجودگی کو اپنے لئے رحمت تصور کرتے ہیں۔وزیر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان میں امریکی موجودگی امن و خوشحالی کے لئے ہونی چاہئے۔وزیر اعظم صاحب !پاکستان میں امریکیوں کی موجودگی بد امنی اور بد حالی کی دلیل ہے۔امریکیوں کی موجودگی میں یہ ملک کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکتا ہے۔بلکہ خانہ جنگی کا شکار رہے گا۔وزیر اعظم کے بر عکس فوجی قیادت نے یہ بات شدت سے محسوس کر لی ہے کہ اب پاکستان میں امریکیوں کو زیادہ عرصہ برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    اس حقیقت سے بھی انکار کرنا کسی پاکستانی کے لئے ممکن نہیں ہے کہ پاکستان کے ایٹمی معاملات کے ضمن میں جتنی بھی شخصیات نے اس معاملے میں سامنے آ کرکچھ نہ کچھ کیا ان سب کو امریکہ نے نشان عبرت بنا دیااور یہ کوشش جاری رکھی جس کا پہلا نشانہ ذوالفقار علی بھٹو کو بنایا گیا دوسرا نشانہ خود وہ شخص بنا جس نے بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا میرا مقصد ضیاء الحق سے ہے ۔ دنیا بھرسے دولت کے لالچ دھونس و دھمکی آنے کے باوجود ایٹمی دھماکہ کرنے والا پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بھی اس جنر ل پرویز مشرف کے ہاتھو ں قتل کرانے کی کوشش کی گئی مگر خوش قسمتی سے پاکستان کے ایک دوست ملک سعودی عرب نے نواز شریف کو بچا کر اپنی تحویل میں لیکر قید کر لیا تو ان کی جان بچ گئی۔امریکہ نے نواز شریف کو بھی نشانِ عبرت بنا دیا اوراس سلسلے کی سب سے اہم شخصیت ڈاکٹر عبدلقدیر خان ،پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق کو پاکستان کی سلامتی کے نام پر اسی بد معاش جنرل نے جو خود کو کمانڈو کہتا تھااور شب خون مار کر اقتدار پر قابض ہوا اور اس وقت کے وزیر اعظم کو ملک بدر کر دیا ۔تاکہ اس کے اقتدار کی راہ کی تمام رکاوٹین دم توڑ دیں۔پاکستان کی سلامتی کے نام پر ڈاکٹر صاحب سے ساری دنیا کے سامنے جھوٹے انکشافات کرا کے ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان کے اس عظیم ہیرو کو زیرو بنا کر قید میں ڈالدیا گیا۔جس پر ہندوستانیوں نے یہ طعنہ دیا تھا کہ ہم اپنے ہیرو کوقیدی نہیں بلکہ ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ دے کر عزت دیتے ہیں۔اور ہمارا فوجی جنرل اپنے آپ کو مغرب کا ہیرو بنانے کے لئے ڈاکٹر عبدالقدیر کو ساری دنیا کے سامنے دولت کا پجاری بنا کر پیش کرتا رہا۔ جبکہ دولت تو اس کے قدم چوم رہی تھی۔وہ جس سرمائے دار کو اشارہ کرتا وہ ہی دولت کے ڈھیر ان کے قدموں میں رکھ دیتا۔سچ کہتے ہیں کہ گھٹیا لوگوں کی سوچ سے کبھی اعلیٰ اقدار پیدا نہیں ہوسکتی ہیں۔ایک ناچنے والی کی اولاد سے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔

    سویڈن کے تھنک ٹینک انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI)نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ جاری ہے۔اس وقت دنیا کی 8 ، ایٹمی طاقتوں میں بشمول پاکستان 2500 وار ہیڈ موجود ہیں جو عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں!!مگر یہاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی خاص اشارہ نہیں کیا گیا۔صرف امریکہ ہے جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر انگشت نمائی کرتا چلا آرہا ہے۔

    ایک جانب امریکی یہ کہتے سنے گئے ہیں پاکستان کے جوہری اثاثے قبضے میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اس بات کو پاکستان کے لوگ کس طرح سچ مان لیں؟ جبکہ ہر روز امریکیوں کی طرف پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہی جاحانہ انداز میں بات کی جاتی ہے۔ہمارے جوہری اثاثوں کے سلسلے میں امریکیوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔1981 میں عرا ق کے ایٹمی پروگرام پر اسرائیلی جار حیت امریکہ کی مرضی سے کی گئی اور پھر جھوٹے مفروضوں کے ذریعے اقوام متحدہ کی چھتری تلے مسلمان ملک عراق کا امریکہ نے حشر بگاڑ دیا۔جس کا بہانہ کیمیکل ہتھیار تھے۔جو آج تک دنیا کے سامنے نہیں لائے جاسکے ہیں۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام تو سارے یورپ کے لئے پیٹ کا درد ہے ۔جس کو امریکہ کی خواہش کے مطابق ایک دن ختم کیا جانا ہے۔ایران جو امریکہ کا ڈسا ہوا ہے ۔امریکی حرکتوں پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ایران کا پاکستان کو بر وقت ہوشیار کر دینا کہ امریکہ بہت جلد ہمارے جوہری پروگرام کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ہر پاکستانی کے لئے نہایت ہی تشویش ناک ہے۔ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ امریکہ کی اس جارحیت کے مقابلے کے لئے ہمیں ہمہ وقت جاگتے رہنے کی ضرورت ہے۔حکومت اور ادارے بھی اس میں برابر کے شریک رہیںتو ہم دشمن کو ذلیل کر سکتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ امریکہ پاکستان پر قبضہ تو نہیں کرے گابلکہ واشنگٹن کا ہدف ہمارے جوہری اثاثے ہیں۔امریکہ دانستہ طورپر ہمارے ملک میں افراتفری کو ہوا دے رہا ہے۔تاکہ جوہری اثاثوں تک پہنچنے میں اُسے کسی دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ مہران بیس کے واقعے میں امریکیوں کے ملوث ہونے کے باوجود ہمارے حکمرانوں اور بعض جرنیلوں نے ہوش کے ناخن نہیں لئے ہیں ۔بلکہ امریکہ کی لے میں لے ملا کر ہر جانب سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اور دھڑا دھڑ اپنے لوگوں کا خون ناصرف امریکہ کو بہانے کی اجازت دی ہوئی ہے بلکہ ہم خود بھی اس کام میں دل و جان سے مصروف ہیں

  8. #8
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا


    Share دو عدالتیں ، دو جج ، فیصلوں میں حیران کن مماثلت
    اسلام آباد (انصار عباسی) انتہائی بااثر افراد کے خلاف کرپشن کے ہائی پروفائل مقدمات کے فیصلے میں حیران کن مماثلت ہے ۔ این آر او کرپشن کیس کے حوالے سے دو مختلف مقدمات میں دو مختلف احتساب عدالتوں نے جو فیصلے سنائے ہیں وہ ناقابل یقین حد تک ایک جیسے ہیں۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت نمبر سوئم نے کوٹیکنا کیس میں جو فیصلہ سنایا ہے وہ بالکل ویسا ہی ہے جو راولپنڈی کی احتساب عدالت دوئم نے ایس جی ایس ریفرنس کیس میں سنایا ہے۔ مماثلت کو چھوڑ کر بات کی جائے تو ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیس کے فیصلے پر دو مختلف ججوں نے دستخط کیے یعنی ایس جی ایس کیس کا فیصلہ احتساب عدالت نمبر دوئم نے سنایا اور اس پر جج میاں الطاف حسین مہر کے دستخط ہیں جبکہ کوٹیکنا کیس کا فیصلہ احتساب عدالت نمبر سوئم نے سنایا اور اس پر جج جہاندار خان بنتھ کے دستخط ہیں۔ ایس جی ایس کیس کا فیصلہ 30/ جولائی 2011ء کو سنایا گیا جبکہ کوٹیکنا کیس کا فیصلہ 16/ ستمبر 2011ء کو سنایا گیا۔ حالانکہ یہ دونوں مقدمات ابتداء سے ہی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ مثال کے طور پر ایس جی ایس کیس میں پیرا نمبر 51/ میں لکھا ہے کہ … ”مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پی ایس آئی اسکیم پر عملدرآمد اور ایس جی ایس کے ساتھ کنٹریکٹ موجودہ ملزم کی پریزنٹیشن پر منتج ہوا اور یہ قوم کے مخالف اقدام نہیں ہے اور یہ سرکاری خزانے کیلئے سود مند اقدام تھا۔ ملزم اے آر صدیقی نے پریزنٹیشن کے دوران کوئی بات نہیں چھپائی اور انہوں نے پری شپمنٹ اسکیم کے حوالے سے غلط بیانی بھی نہیں کی۔ ریکارڈ پر اس بات کے ثبوت بھی موجود ہیں کہ اس اسکیم پر عملدرآمد کیلئے حکومت پاکستان پر بین الاقوامی مانیٹری اداروں کا دباؤ تھا اور پری شپمنٹ کی یہ اسکیم کرپشن ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کی روک تھام کیلئے تھی۔ استغاثہ کے گواہ یعنی پراسیکوشن وٹنس نمبر اول ( PW-1) سے لیکر گواہ نمبر 17/ تک نے ریفرنس میں جو بیان دیا ہے وہ ملزم کے خلاف ثابت نہیں ہوتا؛ صرف شک پیدا ہوتا ہے۔ اکثر پراسیکوشن وٹنس کا موقف وہی ہے جو وکلاء صفائی کا ہے۔ اس پی ایس آئی ٹھیکے میں ملزم اے آر صدیقی کی جانب سے کرپشن ثابت نہیں ہوتی۔ ملزم عدالت میں موجود ہے۔ ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان پر عائد ضمانتی بانڈز اور شورٹی بانڈز کی پابندی بھی ختم کی جاتی ہے“۔ اب اس کا کوٹیکنا کیس کے فیصلے کے پیرا گراف نمبر 41/ سے تقابل کرکے دیکھیں جس کے مطابق: … ” مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پری شپمنٹ اسکیم پر عملدرآمد اور میسرز کوٹیکنا کے درمیان ہونے والا معاہدہ کمپنی اور حکومت پاکستان کے درمیان ہوا تھا۔ موجودہ ملزم کی تمام تر پریزنٹیشن ریاست کے مفادات کے خلاف نہیں اور یہ قومی خزانے کے مفاد میں تھا۔ ملزم اے آر صدیقی نے پریزنٹیشن کے دوران کوئی بات نہیں چھپائی اور انہوں نے پری شپمنٹ انسپکشن (پی ایس آئی) اسکیم کے حوالے سے غلط بیانی بھی نہیں کی۔ثبوتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ اسکیم آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ بینک کے اصرار پر شروع کی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ آمدنی ہوسکے اور ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کو روکا جا سکے۔ استغاثہ کے گواہان یعنی پراسیکوشن وٹنس کی جانب سے ریفرنس میں جو حقائق بیان کیے گئے ہیں وہ ملزم کے خلاف ثابت نہیں ہوتے؛ صرف شک پیدا ہوتا ہے۔ اس پی ایس آئی ٹھیکے میں ملزم اے آر صدیقی کی جانب سے کرپشن ثابت نہیں ہوتی۔ ملزم عدالت میں موجود ہے۔ ملزم کو باعزت بری کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور ان پر عائد ضمانتی بانڈز اور شورٹی بانڈز کی پابندی بھی ختم کی جاتی ہے“۔ مذکورہ بالا دونوں پیراگرافس تقریباً ایک جیسے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ دونوں فیصلوں میں بااثر ملزم کے متعلق کیا تحریر کیا گیا ہے۔ ایس جی ایس فیصلے کے پیرا نمبر 46/ میں احتساب عدالت نمبر دوئم کے جج نے لکھا ہے کہ ”پراسیکوشن وٹنس نمبر 8/، 16/ اور 17/ کے بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ استغاثہ کوئی ایسا ثبوت ریکارڈ پر لانے میں ناکام ہوگیا ہے کہ جناب (بااثر ملزم) نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا؛ ان گواہوں کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ تینوں ملزمان میسرز ایس جی ایس کے ساتھ ملے ہوئے نہیں تھے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تینوں ملزمان کو غیر قانونی رقوم کی صورت میں کوئی کمیشن یا کک بیک نہیں ملا اور قومی خزانے کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پراسیکوشن وٹنس نمبر اول اور پراسیکوشن وٹنس نمبر 17/ کے زبانی بیان سمیت استغاثہ نے اب تک جو ثبوت پیش کیے ہیں اس سلسلے میں کوئی قابل بھروسہ بات ریکارڈ پر پیش نہیں ہوئی تاکہ یہ الزام ثابت ہوسکے کہ میسرز ایس جی ایس نے ملزم جناب (بااثر ملزم کا نام) اور پراسیکوشن وٹنس نمبر 13/ کو کمیشن کی صورت میں مالی فائدہ پہنچایا جبکہ I.O نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ملزم جناب (با اثر ملزم کا نام) جنیوا میں ملک سے باہر کمپنیوں کے حوالے سے بینک اکاؤنٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ملزم جناب (با اثر ملزم کا نام) کے ژان شیل گیل ملچ کیساتھ مبینہ تعلقات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا اور جس طرح استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے اس طرح ملزم جناب (با اثر ملزم کا نام) کے غیر ملکی کمپنیوں کیساتھ تعلقات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا“۔ اس کے علاوہ دونوں مقدمات کے فیصلے میں دیگر پیراگرافس میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کوٹیکنا فیصلے کے پیرا نمبر 40/ اور ایس جی ایس فیصلے کے پیرا نمبر 49/ میں حیران کن مماثلت ہے۔ اسی طرح ایس جی ایس کیس میں پیرا نمبر 46/ اور کوٹیکنا فیصلے کے پیرا نمبر 37/ میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ ملک کی عدالتی تاریخ میں یہ حیران کن بات ہے۔ جمعہ کو روزنامہ جنگ اور دی نیوز میں قارئین کی خدمت میں ان ہی دو مقدمات کے متعلق ایک خبر پیش کی گئی ہے جس کے تحت احتساب عدالت نے این آر او کے دو مختلف مقدمات میں دو مختلف فیصلے سنائے لیکن کچھ اس طرح سے کہ ایک شخص کو ایک کیس میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا جبکہ اسی شخص کو دوسرے مقدمہ میں ملزم کے حق میں استغاثہ کا گواہ تسلیم کرکے بری کردیا گیا۔

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا

    [align=center][size=x-large]
    سوموٹو نوٹس‘سپریم کورٹ کرپشن اورلوٹ مار کیخلاف کام کرنیوالا واحد ادارہ
    [/size][/align]
    اسلام آباد (عثمان منظور . جنگ نیوز) سپریم کورٹ کے سوموٹو دائرہ اختیار کیخلاف بعض آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں لیکن کورٹ کے ریکارڈ اور حکومتی نااہلی سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سوموٹو نوٹسز نہ لئے جاتے تو ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی ادارہ بھی نہ ہوتا۔ ایسا ملک جہاں حکومت پوری طرح کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہو اور اس پر پردہ ڈال رہی ہو‘ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی پالتو بنی ہوئی ہو اور قومی احتساب بیورو کا ادارہ شاہ کے لوگوں سے بھرا ہونے کی وجہ سے بے ضرر ہوچکا ہو وہاں صرف ایک ہی ادارہ سپریم کورٹ ہے جو کرپشن‘ناانصافی‘پولیس کی درندگی اور اعلیٰ عہدوں پر نااہل لوگوں کی تعیناتی کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ سپریم کورٹ نے 2009ء میں اپنی بحالی کے بعد سے400ارب روپے کے کیسز کو اٹھایا اور قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے جو کہ بااثر اور بڑے لوگوں کی جیبوں میں تقریباً جاچکے تھے۔ یہ اعداد وشمار این آر او کیسز سے الگ ہیں جس میں175ارب روپے لوٹے گئے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کرپشن کے خاتمے میں ناکام ہوچکی ہے بلکہ درحقیقت کرپشن پر پردے ڈالنے کیلئے سرکاری اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ نے عوام کے اربوں روپے لوٹنے سے بچانے اور انکی وصولی کیلئے کرپشن کے کیسز کو اٹھایا۔ انسانی حقوق کے بہت سے کیسوں میں بھی از خود نوٹس لئے گئے۔ مارچ 2009ء میں سپریم کورٹ نے بحالی کے بعد سے کرپشن کیسز‘ سرکاری زمین کی اونے پونے داموں متنازعہ اور غیرقانونی الاٹمنٹس‘ بینک کے قرضوں میں فراڈ اور اربوں روپے کے دیگر مالی معاملات کو اٹھایا ان تمام کیسز کو اعلیٰ عدلیہ نے اس وقت اٹھایا جب حکومتی اداروں میں بدترین کرپشن کی رپورٹس آرہی تھیں۔ اعلیٰ عدلیہ کی ہدایات اورفیصلوں پر عملدرآمد نہ کرکے حکومت نے ضدی پن اور تکبر کا مظاہرہ کیا۔ این آر او فیصلے پر عملدرآمد سے لیکر متعدد کرپشن کیسز جن میں حج فراڈ‘ این آئی سی ایل فراڈ‘ پاکستان سٹیل مل کی لوٹ مار‘ بینک آف پنجاب سکینڈل‘ ملازمین کی دوبارہ بحالی میں فراڈ جیسے کیسز میں سپریم کورٹ نے شفاف تحقیقات کیلئے بار بار احکامات جاری کئے اور ہدایات دیں لیکن حکومت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر نہ رکھا یہاں پر چند اہم کیسز کے بارے میں مختصراً بتایا جاتا ہے‘جن میں حکمران‘حکمرانوں کے بیٹے‘ ان کے خاندان کے ارکان اور ان کے دوست احباب ملوث ہیں۔ این آئی سی ایل سکینڈل‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے خط پر سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل (نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ) کے 5ارب روپے مشکوک خریداریوں کیخلاف از خود نوٹس لیا جس میں 2ارب روپے واپس وصول کرلئے گئے۔ حج سکینڈل‘ سپریم کورٹ نے حج انتظامات میں کرپشن کیخلاف از خود نوٹس لیا اور اس کرپشن کیس میں ایک وفاقی وزیر اس وقت جیل میں ہیں۔سپریم کورٹ نے سیالکوٹ میں دوبھائیوں کو وحشیانہ تشدد سے ہلاک کرنے کیخلاف ازخود نوٹس لیا‘ حال ہی میں واقعے میں ملوث ملزموں کو سزائے موت اور قید کی سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ کراچی کی صورتحال‘ جب کراچی میں روزانہ درجنوں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا تھا اور گیلانی حکومت کچھ بھی نہیں کررہی تھی اس دفعہ بھی یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے کراچی واقع کا ازخود نوٹس لیا جس کے نتیجے میں ازخود نوٹس لئے جانے کے بعد سے کراچی میں قتل وغارت گری رک گئی ہے۔ وقف املاک ٹرسٹ بورڈ کیس‘ چیف جسٹس نے وقف املاک ٹرسٹ بورڈ کی کراچی میں اربوں روپے مالیت کی240ایکڑ اراضی کی متنازعہ فروخت کو از خود نوٹس لیکر رکوا دیا۔ بینک آف پنجاب کیس‘ مشرف دور حکومت میں حارث سٹیل کے مالکان نے اُس وقت کے بینک آف پنجاب کے صدر کی رضا مندی سے جھوٹی ضمانتوں‘ بوگس کاغذات اورجعلی کمپنیوں کے ذریعے 8 ارب 60 کروڑ کی مالی سہولت حاصل کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 16مارچ2009ء کو بحالی کے بعد میگاکرپشن سکینڈل کا نوٹس لیا اور ملکی دولت لوٹنے والوں کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا۔ سندھ کی زمینوں کے الاٹمنٹ کیسز‘ دی نیوز نے اعلیٰ عدالتی فورم (سپریم کورٹ) کی توہین کے کیس کو نمایاں کیا‘ جہاں ایک سرکاری درمیانے درجے کے سرکاری اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی نے چند افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے کراچی میں 50 ایکڑ اراضی کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کی جس کی مارکیٹ ویلیو کروڑوں میں تھی۔ اس پر سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس لیا جس کے نتیجے میں زمین کی الاٹمنٹ فوری منسوخ کر دی گئی۔ فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن اراضی سکینڈل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جنگ کی خبر پر فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے سرکاری پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ اور اسلام آباد کے نواح میں گورنمنٹ ہاؤسنگ سکیم کیلئے 2 ہزار کنال کی متنازعہ خریداری پر سوموٹو نوٹس لیا۔ لاپتہ افراد کیس سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کو دیگر ممالک کے حوالے کئے جانے والے پاکستانی شہریوں کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی۔ پنجاب لینڈ الاٹمنٹس سپریم کورٹ نے پنجاب بورڈ آف ریونیو کو حکومت کی طرف سے گزشتہ 4اور 5 سال کے دوران کی گئی الاٹمنٹ کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔سٹیل ملز سکینڈل چیف آف پاکستان نے قومی اداروں کی لوٹ مار جن میں پاکستان سٹیل ملز بھی شامل ہے میں 22 ارب کا نقصان ہوا۔ نیو مری پراجیکٹ کو ختم کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانے والوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سپریم کورٹ نے ایک اور کیس میں حکومت کو ہجڑوں کے وراثتی حقوق دلانے کی ہدایت کی۔ سپریم کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں 7 ارب روپے کی خوردبرد کا سوموٹو نوٹس لیا۔ سیشن جج نے اپنی رپورٹ میں ملک کی تاریخ کے ایک بڑے لینڈ سکینڈل کو بے نقاب کیا جس میں اسلام آباد کے مضافات میں 30 ہزار کنال زمین کو ہتھایا گیا تھا۔ شوگر مافیا کی طرف سے باہمی اتحاد اور چینی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کے بعد عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا۔سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس پر کاربن ٹیکس ختم کرنا پڑا۔ چک شہزاد فارم اور اسلام آباد دیگر بااثر افراد کی طرف سے لاکھوں روپے کی بجلی چوری کے انکشاف کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخودنوٹس لیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے سابق اٹارنی جنرل کے خلاف ایک شہری کی طرف سے مبینہ کرپشن پر درخواست اور حلفیہ بیان کا کیس اٹھایا۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو ایڈہاک لیکچررز کو تین دن میں بحال کرنے کے احکامات جاری کئے ۔چیف جسٹس نے مری گیس پائپ لائن پراجیکٹ میں تبدیل کا بھی ازخود نوٹس لیا۔ کینال روڈ لاہور کی توسیع پر بھی سپریم کورٹ کی طرف سے ازخود نوٹس لیا گیا جس میں طبقہ بالا کو سہولت بہم پہنچانے کیلئے سیکڑوں درخت کاٹ دیئے گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے سوات میں ایک لڑکی کو سرعام کوڑے مارنے پر بھی سوموٹو نوٹس لیا تھا۔ ایک اور انتہائی اہم کیس گریڈ 21 کے 54 افسروں کی ترقی کا سپریم کورٹ میں سنا گیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات پر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی اگرچہ یہ ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ مبینہ قاتل کو پکڑتے مگر انہوں نے اسے ملک سے فرار ہونے کی سہولت بہم پہنچائی۔ لاہور ہائیکورٹ نے مری میں دیدہ دلیری سے دن دیہاڑے راہزنی کی واردات کا ازخودنوٹس لیا تھا جہاں حکام کی ملی بھگت سے 15 ہزار کنال پر مشتمل ریزرو جنگلاتی رقبہ جس کی قیمت کئی ارب روپے بنتی تھی لینڈ مافیا نے قبضہ کر رکھا تھا۔

  10. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: حکمرانوں کی بے غیرتی کی انتہا

    [align=center]
    29 ستمبر 2011 ،ایکسپریس نیوز[/align]

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان ۔ ۔ ۔ ۔ غیروں کی نظر میں
    By گلاب خان in forum سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 06-02-2012, 05:54 PM
  2. جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:37 AM
  3. میں کہتا ہوں مجھے تم ہنستی گاتی اچھی لگتی ہو
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 09:31 AM
  4. آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 09:49 AM
  5. غیروں کو بھلا سمجھے اور مجھ کو برا جانا -
    By اذان in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-29-2011, 11:53 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University