نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 10

موضوع: کراچی کہانی

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    202
    شکریہ
    0
    2 پیغامات میں 2 اظہار تشکر

    کراچی کہانی

    آؤ کراچی کی تم کو سناؤں کہانی
    یہی شہر تھا جو سوتا نہیں تھا
    اندھیرا محلوں میں ہوتا نہیں تھا
    بسوں کی صدا سنونے دیتی نہیں تھی
    یہ سمجھو یہاں رات ہوتی نہیں تھی
    وہ تھالوں میں بکتی ہوئی مونگ پھلیاں
    بڑی دیر تک جاگتی تھیں یہ گلیاں
    یہاں رہنے والوں میں تھا بھائی چارہ
    جو دشمن کو نہیں تھا گوارہ
    ہوئی پھر ہمارے خلاف ایک سازش
    تھمی ہی نہیں جب سے لاشوں کی بارش
    اجڑتا رہا پھر ہمارا کراچی
    گھروں میں یہاں موت جا جا کے ناچی
    ہے اب میرے چاروں طرف گھپ اندھیرا
    بچیں گے تو دیکھیں گے کل پھر سویرا ........!!!





    بذریعہ موبائل ایس ایم ایس



  2. #2
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    جس نے بھی لکھا اچھا لکھا اور سچ ہی لکھا :(:(

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    202
    شکریہ
    0
    2 پیغامات میں 2 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    صحیح:)

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    پاکستانی بھائی،یہ میرے دیس کی کہانی ہے ، یہ صرف کراچی کی کہانی نہیں ہے

    اے اللہ ہمارے ملک میں امن و امان رکھ، اللہ تعالی آپ ہی اس معاملے میں مدد فرما سکتے ہیں ، ہم نااھل ہیں اس کام کے لیے .
    اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے ،

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    202
    شکریہ
    0
    2 پیغامات میں 2 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

  6. #6
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلادینا

    ظلم کرنےوالوں کی وردیاں جلادینا

    دربدربھٹکناکیادفتروں کے جنگل میں

    بیلچے اٹھالیناڈگریاں جلا دینا

    موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی

    جنگ جیتنا چاہو کشتیاں جلا دینا

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    کراچی کی یہ کہانی مجھے محترمہ زائرہ عابدی باجی نے بھیجی ہے ،
    اس کو کراچی کی کہانی میں لگا رھا ھوں ،

    [align=center][size=xx-large]کراچی کی کہانی ،[/size][/align]
    تحریر محترمہ زائرہ عابدی صاحبہ ،
    ا نسان کی سرشت بھی کتنی عجیب ہے وہ اپنے وطن سے کسی بھی بہانے بے وطن ہو جائے تو دل کا قرار و سکون سب کہیں کھو جاتا ہے بس اس کو ایک بات یاد رہتی ہے میرا وطن ،میرا وطن ۔ میری بھی اپنے وطن سے دوری کے سبب کچھ یہی کیفیت ہو گئ ہے ۔اور جب میں نے
    اپنے وطن کے شہر کراچی جو کبھی عروس البلاد کہلاتا تھا کے لئے لکھنا شروع کیا تو اتنے بد ترین حالات کے باوجود آج کے کراچی سے مجھے آج بھی اتنی ہی محبّت محسوس ہوئ جتنی کہ اپنے بچپن میں ہوا کرتی تھی ،یہ محبّت کبھی انسان سے جدا ہو نہیں سکتی ہے
    میں کراچی کے بارے میں وہاں سے لکھنا شروع کروں گی جہاں سے میں نے اس شہر کی دیو مالائ کہانی کو پہلے اپنے کورس کی کتابوں میں پڑھا ،پھر اپنے والدین کے ہمراہ بچپن کی عمر میں اس کے گلی کوچوں کی سیر کی ،اور اس کے بعد شعور کی منزل
    پر خود اس کا حصّہ بن کر پاؤں ،پاؤں آ گے بڑھی اور پھر بڑھتی چلی گئ ، اس شہر کے خدوخال جاننے کے لئے پہلے ہم اس کی قدیم حیثیت دیکھتے چلتے ہیں قدیم کراچی کیا تھا یہ بس ایک مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی تھی جس کی آبادی کا شمار پانچ ہزار سے کچھ اوپر یا اس سے کچھ کم تھا اس بستی کے رہنے والوں کا ذریعہ معا ش صرف سمندری حیات کے اوپر تھا جو محض بادبانی کشتیوں کو استعمال کرتے تھے اور
    چودہ سو برس پہلے یہاں کی سرزمین کو سادات کے قدموں سے فیض پہنچانے والےامام زادے یعنی امام جعفر صا دق علیہ اسّلام کے پڑپوتے حضرت عبداللہ شا ہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار سمندر کے کنارے پہاڑ پر جلوہ افروز تھا اور اسی مزار مبارک کے قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی ،ورنہ یہ بستی ہندو مت کے ماننے والوں پر مشتمل تھی ،
    یہ پسماندہ بستی جس کا نام اسوقت کلانچی ہوا کرتا تھا قطعی توجّہ کے قابل نہین تھی,, بولٹن مارکیٹ اور کھارا در کا وہ علاقہ جہاں آج بڑا علم نصب ہے اس جگہ کھارا سمندر تھا اور میٹھا در کے لئے کہا جاتا تھا کہ یہاں پہلے میٹھے پانی کا سمندری علاقہ تھا ،اور بعد میں سمندر پیچھے ہٹ گیا اور خشکی کے علاقے پر قدیم شہر کی رہائشی اور تجارتی بنیاد رکھّی گئ ، لیکن حیرت کی بات ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد جس مقام پر کراچی یونیورسٹی بنائ گئ ہے جب اس جگہ کی کھدائ کی گئ تو وہاں سے ا نہی آثار کی کچھ باقیا ت برآمد ہوئیں جو کہ موئنجو دڑو کی کھنڈرات سے ملی تھیں مثلاً برتنوں کے ٹکڑے اور دیگر استعمال کی اشیاء پھر اسی شہر پر جو ہندؤ ں کی کثرت والا شہر تھا ایک وقت ایسا بھی آیا جب اولیائے کرام کے مبارک قد مو ں نے اس کی زمین کو عزّت مآب سر زمین بنا دیا۔
    کراچی کے شمالی علاقے میں کئ میل کے رقبے پر بزرگان دین کے مزارات موجود ہیں

    جبکہ ساحل کلفٹن پر حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک جلوہ گر ہے بتایا جاتا ہے کہ جس وقت حضرت عبدللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ اس سر زمین پر تشریف لائے اس وقت انہوں نے ساحل سمندر کے مشرقی کنارے پر چھوٹی سی مسجد بھی بنائ ،اس مسجد کی باقیات کافی عرصے تک موجود تھیں ،،(اس بارے میں کسی کو معلومات ہوں تو مجھے بتا کر غلط یا صحیح کی تصدیق کر لے)
    کراچی کی بندرگاہ سے کچھ ہی فاصلے پر دیبل کی بندرگاہ تھی جہاں صدیوں سے تاجراپنا اپنا مال تجارت بحری جہازوں کے زریعے دیبل کی بندر گاہ تک لاتے اور یہاں سے اشیائے ضرورت لے کر جاتے تھے
    ،اور یہاں اسلام کی آمد بھی آل رسول صلّی اللہ علیہ و اٰ لہِ وسلّم سے
    وابستہ ہے ،چوتھے امام زین العابدین علیہ السّلام نے سندھ کی ایک محترم خاتون سے عقد کیا تھا جن کے بطن مبارک سے دو صاحبزادے تولّد ہوئے اور بعد شہادت امام علیہ السّلام ،آپ کی زوجہ محترمہ نے اپنی باقی حیات امام علیہ السّلام کے خاندان کے ہمراہ مدینے میں ہی عرصہ دوراں کی سختیاں جھیلتے ہوئےگزاری ،مگرواپس لوٹ کر اپنے میکے نہیں آئیں
    شہر, کراچی اپنے شہر نگار بننے کے لئےجب پر تولنے لگاتو اسوقت کے ہندوستان کی عملداری میں,, یہ شہر نگاراں ایک انگریز سر چارلس نیپئر کی نظروں میں آگیا ،
    یہ اٹھارویں صدی کا نصف تھا یا اسی کے آس پاس کا وقت تھا ،نیپئر نے اس شہر کوترقّی دینا شروع کی تو پھر بہت کچھ بناتا گیا ،نیپئر روڈ، نیپئر بیرکس جن میں آ ج بھی محکمہ تعلیم کے دفاتر ہیں ،پورے شہر میں چھاؤنیو ں کا جال بچھا دیا جو آج بھی پورے ملیر کنٹو نمنٹ کے علاقے میں موجود ہیں
    انگریزوں کا دستور تھا وہ جہاں بھی اپنی فوجی چھاؤنیاں بناتے تھے وہیں مقامی آبادی سے کچھ لالچی افراد کو ساتھ ملا کر اپنے فوجیوں کی دل بستگی کے لئے قحبہ خانے بھی بنا تے جاتے تھے نیپئر روڈ کا مشہور زمانہ قحبہ خانہ بھی نیپئر کی ذات کا ہی مرہون منّت ہے
    جبکہ سولہو یں صدی عیسوی کے وسط میں جب پوری دنیا میں غلاموں کی فروخت کا بازار گرم تھا اسوقت بحری جہازوں سے بھر بھر کر افریقی باشندے یہاں غلام بنا کر لائے گئے، یہی باشندے آ ج بھی کراچی میں آ باد ہیں اور کوئ بھی فرد ان کے بود و باش سے ا ن کو پہچان سکتا ہے کہ یہ قو م اس خطّہ زمین کی قو م نہیں ہے ،ان کے علاقے بھی پسماندہ ہی ہیں اور یہ خود بھی زندگی کی لگی بندھی ڈگر سے ہٹ کر آگے بڑھنے
    کی بہت جستجو نہیں رکھتے ہیں ،کراچی کی قدیم بستیاں ہی ان کا مسکن ہیں یہ غریب الوطن لوگ جب سندھ کے ریگستانی ساحل پر اتار کر اونٹوں پر سوار کروا کر پاکستان کے اس بے آب و گیاہ خطّے میں چل رہے تھے تو ان کی زبانوں پر بے
    اختیار لا سبیلا ،لا سبیلا کی تکرار تھی یعنی پانی کے بغیر یہی الفاظ آگے چل کر لسبیلہ کا نام اور ان غریب الوطن لوگوں کی پہچان بن گئے

    اور پھر رفتہ رفتہ کاٹھیاواڑ کے تجارت پیشہ مسلمانو ں کی نظر جب اس پر پڑی تو انہوں نے بندر گاہ کی اہمیت کو پہچانا اور یہاں آ کر بودو باش اختیار کی۔
    اسی زمانے میں قائد ا عظم کے والد جناح پونجا خود بھی کراچی کی بند رگاہ سے کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور کراچی کے ایک بڑے تاجر ہونے کے علاوہ معزّز تاجروں میں ان کا شمار ہوتا تھا اور پھر تو ایک ناختم ہونے والا سلسلہ یہا ں پر آباد کاروں کے نصیب جگانے کے لئے چل پڑا ،ان میں ہندو ،مسلم، سکھ ،عیسائ ،،بہائ مذہب کے ماننے والے ،آ گ کی پوجا کرنے والے , زر طشت کو اپنا پیشوا
    ماننے والے پارسی ،سب ہی شامل تھے ،، کراچی کے چپّے چپّے پر ایرانی ہوٹل کھل گئے جہاں اعلٰی زائقے دار کھانے پکتے تھے اور ہوٹل رات گئے تک کھلے رہتے تھے ،ان ہوٹلوں میں کبھی بد تمیزی یا بد تہزیبی دیکھنے کو نہیں ملتی تھی یہ ہندی،اردو مراٹھی ،پنجابی ،بلّوچی
    ،انگریزی ، سندھی، اور مختلف زبانیں بولتے تھے ،ان کا تمدّن ایک دوسرے میل نہیں کھاتا تھاان کی تہذیب ایک دوسرے سے جدا تھی ان کی شکلیں بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتی تھیں مگر یہ سب پھر بھی ایک دوسرے کے لئے ناقابل برداشت نہیں تھے
    یہو دی ،بدھ مت ،جین ،جیسے مذاہب کے بھی ماننے والے شامل تھے اس ہمہ رنگ ثقافتی یکجائ نے اس شہر کو ایک منفرد رنگ دے دیا تھا ، ایک جانب اگر مندروں سے گھڑیال کی آواز آتی تھی تو دوسری طرف سے مسجد کے مینار سے آذان کی آواز سے مسلمان کو نماز کی جانب بلایا جارہا ہوتا تھا ،مسجد مندر کلیسا آتشکدے سب ،سب کے سب اپنے عبادت گزاروں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتے تھے ،کسی کو یہ غرض نہیں تھی کہ میری مسجد کے آگے کلیسا کیوں بنا ہوا ہے۔ اسی زمانے سے کراچی ایک منفرد شہر کا روپ اختیار کرنے لگا تھا پھر تو کراچی
    کے قدیم شہر میں خوبصورت دیدہ زیب عما رتوں کی تعمیر کا ایک نا ختم ہونےوالا سلسلہ چل پڑا تھا
    پورے شہر کے طول عرض میں بہترین سڑکوں کا جال بچھایا اور ان سڑکو ں پر درمیان میں ٹرام پٹری بچھائی گئی ،شہر کے تمام حصّوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لئے بسیں چلائی گئیں جو مقر ّر کردہ ٹائم ٹیبل سے چلتی تھی اس زمانے میں سفر کے لئے زیادہ تر بیل گاڑیاں استعمال ہوتی تھیں جبکہ باربرداری کے لئے اونٹ گاڑیاں خچّر اور گدھے کثرت سے شہر میں ہوتے تھے جبکہ شہر کے رؤسا بگھّیوں پر سفر کرنا اپنی شان سمجھتے تھے۔
    سنہ 1876 کو پیدا ہونے والے ہمارے قائد اعظم جب سولہ برس کی عمر میں انگلینڈ اعلٰی تعلیم کے لئے جانے لگے تو حفظ ما تقدّم کی خاطر ان کا نکاح ان کی اپنی برادری کی ایک بارہ سالہ لڑکی سے کیا گیا اور بارات کراچی کی بندرگاہ سے کشتیوں کے زریعے کاٹھیاواڑ براستہ گجرات دلہن کے گھر پہنچی ،دلہن کا گھر کچھ کوس رہ گیا تو قائد ا عظم کی بارات لے جانے والے باراتیوں نے دلہن کے گھر کہلوایا کہ ہمارے بیل سونے اور چاندی کے برتنوں میں چارہ کھاتے اور پانی پیتے ہیں چناچہ دلہن کے گھر سے جب سونے اور چاند ی کے برتن آ گئے تب بیلوں نے چارہ
    کھایا اور پانی پیا اور پھر بارات دلہن کے گھر پہنچی ،قا ئد اعظم کو یہ نکاح راس نہیں آیا تھا کیونکہ ان کی وہ منکوحہ وبائی مرض کی لپیٹ میں آ کر کچھ عرصےبعد انتقال کر گئی تھیں
    یہی وہ وقت تھا جب کراچی کے آسمان پر امن کی فاختائیں ہمہ وقت محو پرواز رہتی تھیں ،دن کا اجالا تھا یا رات کا پچھلا پہر ہر شخص آرام سے کراچی کی شاہراہو ں پر سفر کر سکتا تھا اسے نہ کسی جانب سے رہزنی کا خطرہ تھا نہ کسی انجانے دہشت گرد کی گولی سے مر جانے ڈر ہوتا تھا ،رواداری ،محبّتیں ،ایثار کی فراوانی احترام تہذیب ، اس شہر کی پہچان تھا۔
    اب جو صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے اس سب سے بڑے اور عظیم الشّان شہر میں ایک طرف تو سیا سی بازیگروں نے ا پنے بازار کے بھاؤ چڑھانے کے لئے نوجوانوں کے لئے آگ کے الاؤ دہکا رکھّے ہیں ،دوسری جانب فرقہ پرستی کی آڑمیں مختلف دہشت گرد گروہ دندنا رہے ہیں ،سیاست دانو ں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے،کیونکہ ان کی محفوظ رہائش گاہیں لندن اور دوبئ اور دیگر دولت مند ممالک میں
    ہیں ،کہاں گئ اس شہر کی وہ تہذیب جس پر زمانہ کراچی پر ناز کرتا تھا ،کہاں گئے وہ جذبے جب قومیت پوچھے بغیر ایک دوسرے کی مدد کو دوڑ پڑتے تھے۔رفتہ رفتہ اس شہر بے مثال کو جو پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے کاٹ دینے کے صیہونی ،سامراجی درندے در آئے
    ان درندو ں کو پاکستان کے اندر ہی میر جعفر غدّار بنگال اور میر صادق غدّار دکن مل گئے تو ان کو اپنے ناپاک منصو بو ں کی تکمیل کے زمین ہموار مل گئی کراچی کی صنعتی ترقّی در حقیقت فیلڈ مارشل محمّد ایّوب خان کے دور کی مرہون منّت ہے ،،جنرل ایّوب خان نے اپنے دور صدارت میں اس شہر کو ایسی صنعتی ترقّی کی شاہراہ پر گامزن کیا کہ پاکستان ایشیا کا ٹا ئیگر کہے جانے کی صف میں آ گیا ،بھلا مغربی استعمار کو مسلما نوں کی یہ ترقّی کیون کر پسند آتی ،ایّوب خان کے خلاف تحریک چلا کر ان کو راستے سے ہٹا کر ترقّی کا پہیہ جام کر دیاگیا
    قیام پاکستان کے وقت اور اس کے کچھ عرصے بعد تک کراچی شپ یارڈ میں تیّار کئے ۔ جانے وا لے جہاز سمندر میں اتارے جاتے تھے ،ان جہازوں کے سمندر میں اتارنے کی باقاعدہ ایک پروقار تقریب ہوتی تھی جس میں عمائدین شہر کے ساتھ اعلٰی ریاستی اداروں کے پروقار سرکردہ افراد شریک ہوتے تھے ,اب اور اداروں کے ساتھ کراچی شپ یارڈ بھی اپنی بے نوائی پر نوحہ گر ہے ،اور اس عظیم الشّان ادارے کا تخلیقی
    عمل رک جانا بزات خود ایک المیہ ہی تو ہے ,،اس وقت کراچی الیکٹرک سپلائ کارپوریشن ایک کلّی خود مختار ادارہ ہوا کرتا
    تھا اور شہر بھر مشرق تا مغرب شمال تا جنوب جگمگ جگمگ کرتا تھا کنڈوں کے نام سے کوئ بھی واقف نہیں تھا دن کا اجالا تھا یا رات کی تاریکی شہر میںلٹیروں کا راج نہیں ہوا کرتا تھا
    شہر کی سڑکیں رات گئے دھوئ جاتی تھیں ،اور شہر کے ہر اس علاقے میں جہا ں جہاں تانگے چلتے تھے وہاں کچھ فاصلے پر ان کے چارے کے لئے بڑی بڑی نندیں اور پینے کے پانے کے پیاؤ حکومت بناتی تھی ،آج جب کچھ برس پہلے شہر کے قدیم حصّے جانا ہوا اور تانگہ اسٹینڈ نظر آیا تو میں کانپ سی گئ کہ کہ ایک بہت بڑے کچرا گھر کے ساتھ یہ معصوم مخلوق اپنی گاڑیوں میں بے زبانی سے جتی کھڑی تھی
    ،آج بھی شہر کے اس علاقے میں سیکڑ وں کی تعداد میں اسکولوں کے معصوم بچّے سفرکرتے ہیں ۔لاکھوں جراثیموں سے آلودہ یہ تا نگے صبح اور دوپہر ان بچّوں کو لاتے لے جاتے ہیں ،مگر وائے افسوس کہ کسی بھی صاحب اقتدار کو یہ توفیق نہیں ہوئی تھی کہ اس کچرے گھر کو وہاں سے ہٹا کر کہیں اور منتقل کر دیتا ( اب میرے یہا ں آنے کے بعد ان چار سالوں میں کچھ ہوا ہو تو نہیں معلوم)
    آئیے آج کے کراچی کا خونچکاں اور زخم زخم چہرہ دیکھتے ہیں
    کراچی کے علاقے ٹیپوسلطان میں منشیات فروشو ں کے دو گروہو ن کے درمیان فائرنگ کی اطّلاعات ہیں جبکہ ا یک اسنوکر کلب میں فائرنگ سے تین بچّے پندرہ سالہ ذیشان ولد خدا بخش بارہ سالہ شہریا ر علی ولد منٹھار اور آٹھ سالہ رحمان ولد طاہر شدید زخمی ہوگئے اور ان میں شہریار اور ذیشان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے جبکہ رحمان کی حالت بھی ٹھیک نہیں بتائ جا رہی ہے ۔جھگڑے کے دوران ایک گروپ نے دوسرے گروپ کے ایک مکان کو جلا ڈالا جھگڑے کی اطّلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کا محاصرہ کر کے
    ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کر دیئے ہیں اور چکراگوٹھ پر پولیس کی گاڑی پر حملے میں جو تین بنگالی نوجوان پکڑے گئے ہیں
    ان کے نام بھی منظر عام آ چکے ہیں بنگالی نوجوان کراچی میں کیا کر رہے ہیں
    کراچی سبز ی منڈی واقع سپر ہائ وے کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سبزی منڈی کو بھتّہ خور مسلّح افراد کے قبضے سے جات دلانے کے لئے فوج کےحوالے کیا جائے ،
    تاجروں کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ غیر سے آئے ہوئے یہ مسلّح افراد اسلحے کے زور پر منڈی کے تاجروں کو پرچیاں تقسیم کرتے ہیں اور بھتّہ نہ دینے کی صورت میں کسی بھی انسانی جان کو بے دریغ مار دینا ان کا ایک کھیل ہے ان مسلّح افراد نے سیاسی جھنڈے لہرانے کے ساتھ ساتھ سیاسی چاکنگ بھی شروع کر کے خوف وہراس کی فضا ء پیدا کی ہوئ ہے ان اجنبی افراد نے جو اب بلا کسی خوف اور پوچھ گچھ کے جدید اسلحہ بھی کھلے عام فروخت کر رہئے ہیں فروٹ اور سبزی منڈی کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کو پولیس اور رینجرز دونوں میں سے کسی پر اعتماد
    نہیں ہے اس لئے منڈی میں فوج تعینات کر کے شہر کو مسلّح افراد سے نجات دلوائ جائے ، ایک اہم ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ان افراد کا تعلّق باجوڑ ایجنسی سے ہے یہ افراد اور ان کے گماشتے تاجروں کو دن دہاڑے لوٹ رہے ہیں جس کے سبب بیوپاری
    اور گاہک دونو ں کی مارکیٹ میں آ مد و رفت کم ہو گئ ہے جس کا اثر تجارتی سرگرمیوں پر پڑ رہا ہے
    چکراگوٹھ پر پولیس کی گاڑی پر حملے میں جو تین بنگالی نوجوان پکڑے گئے ہیں ان کے نام بھی منظر عام آ چکے ہیں آئے بنگالی نوجوان کراچی میں کیا کر رہے ہیں اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں
    گلستان جوہر سے پکڑے گئے ڈکیت گروہ میں بھی بنگالی لڑکے ہی موقع واردات پر پکڑے گئے ہیں
    اس وقت کراچی کے چاروں جانب غیر قانونی بستیوں کا ایک جنگل ہےگیدڑ کالونی،مچھّر کالونی ،برمی کالونی ،اور اسی ٹائپ کی انگنت بستیاں تو دوسری جانب نارتھ ناظم آباد کے قلب میں کچّی کالونیاں جہاں سے فرقہ پرست سر اٹھا اٹھا کر شہر میں فساد کی آگ بھی بھڑکاتے ہیں اور اپنے دامن پر دہشت گردوں کی تواضع بھی کرتے ہیں ان بستیوں میں بجلی پولس کی سرپرستی میں صرف کنڈا سسٹم سے چلتی ہے جس کے عوض کراچی کی مڈل کلاس سے یہ کہہ کر پیسہ وصول کیا جاتا ہے کہ کنڈے سسٹم والوں سے تو لے نہیں سکتے ہیں اس لئے تم ہی یہ سزا
    بھگتو ان بستیوں میں میں بلاشبہ کثیر تعداد میں غیر ملکی جرائم پیشہ افراد بستے ہیں ، معلوم تعداد میں پندرہ ٹاگٹ کلرز کے گروہ ہیں جو بیس
    ہزار تا پانچ لاکھ لے کر کرائے کے اسلحے سے کسی بھی بے گناہ کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں خدا ہمارے حال پر رحم کرے کہ اب بربادی کے آثار دور نہیں نظر آ رہے ہیں

  8. #8
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    پتا نھی کس کی نظر لگئی ہے ۔ کراچی کو :@:@

  9. #9
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    967
    شکریہ
    603
    370 پیغامات میں 496 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    کراچی ایک ایسی پہیلی بن گیا ہے جس کا کوئی حل نہیں ہے اور تو بس میرا دل و جان پاکستان ہے لیکن اس کے بعد کراچی کو کسی اور نے نہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے تباہی کی طرف دھکیلا ہے اور اس کے ذمہ داران ہم سب ہیں کیوں اپنے بچوں پر نظر نہ رکھی کہ وہ کیا کررہے ہیں کہا جارہے ہیں ان کے دوست کس قسم کے ہیں اسکول و کالج و یونیورسٹی سے دیر سے کیوں آتے ہیں چیک بیلنس کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا؟
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  10. #10
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: کراچی کہانی

    شئیرنگ کاشکریہ۔

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University