آؤ کراچی کی تم کو سناؤں کہانی
یہی شہر تھا جو سوتا نہیں تھا
اندھیرا محلوں میں ہوتا نہیں تھا
بسوں کی صدا سنونے دیتی نہیں تھی
یہ سمجھو یہاں رات ہوتی نہیں تھی
وہ تھالوں میں بکتی ہوئی مونگ پھلیاں
بڑی دیر تک جاگتی تھیں یہ گلیاں
یہاں رہنے والوں میں تھا بھائی چارہ
جو دشمن کو نہیں تھا گوارہ
ہوئی پھر ہمارے خلاف ایک سازش
تھمی ہی نہیں جب سے لاشوں کی بارش
اجڑتا رہا پھر ہمارا کراچی
گھروں میں یہاں موت جا جا کے ناچی
ہے اب میرے چاروں طرف گھپ اندھیرا
بچیں گے تو دیکھیں گے کل پھر سویرا ........!!!





بذریعہ موبائل ایس ایم ایس