صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 15

موضوع: کلام از واصف حسین

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    34
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    کلام از واصف حسین

    ایک آزاد نظم جو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں لکھی تھی یہ غالباً 1989 کی بات ہے.

    میں ایک اندھیری رات میں
    برسوں کی مسافت طے کر کے
    گھبرا گھبرا کر
    کبھی کبھی
    جو تجھے پکاروں
    تو یہ لوگ جو ہنستے ہیں
    پتھر ماریں
    دیوانہ کہہ کے پکاریں
    لیکن
    میں تیرے ملن کی آس میں
    پتھر کھاوں
    آوازے سنوں
    گلیوں میں پھروں
    پر تم ہو کہ
    اب تک بھی مجھ سے
    پوشیدہ ہو
    ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    خوب واصف صاحب ، آپ میں بھی شاعرانہ ذوق خوب بھرا ہوا ہے ، بہت ہی خوب جناب
    جب کالج کے زمانے میں آپ نے شروعات کی تھیں تو آپ نے مزید بھی کچھ لکھا ضرور ہو گا ،
    آپ سے وہ بھی لکھنے کی درخؤاست ہے ،خوب شاعرانہ ذوق پایا ہے آپ نے ،

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,871
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    واہ
    بہت خوب

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    202
    شکریہ
    0
    2 پیغامات میں 2 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    ماشاء اللہ

    کوئی تازہ کلام سنایئے

  5. #5
    معاون
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    34
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    عشاق سب کے سب تھے ہم آواز سرِ محفل
    کہ گراں ہیں ہم پہ جاناں تیرے ناز سرِ محفل

    ایک میں ہی تھا وہ عاشق جسے تو نہ جان پایا
    نہ اٹھا سکے گا کوئی تیرے ناز سرِ محفل

    اس زندگی کا کیا ہے میں تو مر کے لوٹ آوں
    کبھی دے کے دیکھ مجھ کو تو آواز سرِ محفل

    میں چھپا گیا تھا سب سے میرے دل میں*بات تھی جو
    میرے رازداں نے کھولا میرا راز سرِ محفل

    تیرا دل ہے ایک پنچھی اس کیا خبر کے ہر سو
    ہیں دبوچنے کی دھن میں کئی باز سرِ محفل

    واصف یہ تیرے دل اداسی ہے کہ محرومی
    تجھے کیوں نہیں ہے بھاتا کوئی ساز سرِ محفل

    (واصف حسین)
    دسمبر 2006

  6. #6
    معاون
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    34
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    شک ہے کہ یقیں ہے یہ حقیقت کہ گماں ہے
    یہ جسم ہے میرا کہ میری روح بھی یہاں ہے

    میں ڈھونڈتا پھرتا تھا جسے ہر سمت جہاں میں
    معلوم ہوا اسکا میرے دل میں مکاں ہے

    دنیا سے دل لگاتا ہے؟ اسکی اصل ہے یہ
    دھوکہ ہے، تماشا ہے، فقط ایک گماں ہے

    موت و حیات بھی ہے تیری خام خیالی
    گو ختم ہوا جسم، زندگی تو رواں ہے

    واصف کا بھی شمار کرو دنیا داروں میں
    گو فقر سے لبریز ہی اس کا یہ بیاں ہے

    واصف حسین
    فروری 2011

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    202
    شکریہ
    0
    2 پیغامات میں 2 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    ماشاءاللہ .. بہت خوب واصف بھائی، لاجواب شاعری ہے.

  8. #8
    معاون
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    34
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    پسندیدگی کا شکریہ.

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    [align=center][size=x-large]
    موت و حیات بھی ہے تیری خام خیالی
    گو ختم ہوا جسم، زندگی تو رواں ہے

    واصف کا بھی شمار کرو دنیا داروں میں
    گو فقر سے لبریز ہی اس کا یہ بیاں ہے
    [/size][/align]

    بہت خوب جناب ، زبردست ، بہت اچھی شاعری ہے ،

  10. #10
    معاون
    تاريخ شموليت
    Aug 2011
    پيغامات
    34
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: کلام از واصف حسین

    بےباک بھائی اور پاکستانی بھائی اس پزیرائی پر آپ کا مشکور ہوں. ایک چھوٹے بحر کی غزل پیش خدمت ہے.

    -------------
    ہم خود سے ہیں انجان بہت
    ہیں اسی لیے ناکام بہت
    تو شاہکار ہے قدرت کا
    ہے تیری یہی پہچان بہت
    کیوں غم اور ماتم کرتے ہو
    جگ چھوڑ گئے انسان بہت
    جو سجدہ صرف ہو رب کے لیے
    وہ سجدہ نہیں آسان بہت
    الست کا وعدہ کر تو لیا
    اب پوجتا ہے اصنام بہت
    واصف تیرے دل کہ یہ حالت
    ایمان نہیں، ارمان بہت

    واصف حسین
    جنوری 2011

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. امریکا میں سینڈی کا سیلاب
    By بےباک in forum آج کی خبر
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-31-2012, 03:27 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University