صفحہ 1 از 10 123 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 98

موضوع: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][size=x-large]پاکستان کے دشمن حکمران اور ادارے؟؟؟[/size]
    “کالم“ پروفیسر شبیر احمد خورشید[/align][size=large]

    آج تک ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان کے سب سے بڑے دشمن گنوائے جاتے ہیں ۔جب بھی کوئی خطر ناک واقعہ ہوتا ہے تحریک طالبان کا اُس واقعے کے ظہور پذیر ہوتے ہی ہمارے میڈیا سے اعلان کرا دیا جاتا ہے کہ تحریکِ طالبان نے وا قعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔مسجد پر حملہ ہو طالبان کا بیان آجاتا ہے ہے ہم نے کرایا؟ جنازے پر حملہ ہو طالبان کا بیان آجاتا ہے ہم نے کیا؟ کسی بزرگ کے مزارپر حملہ ہو طالبان نے کیا ہے۔ امام باڑے اور ماتمی جلوس پر حملہ ہو طالبا کا بیان آجاتا ہے ہم نے کیا۔بازار اور کھیل کے میدان میں حملہ ہو طالبان کا بیان آجا تا ہے ہم نے کیا۔دوسر ی جانب متعد د بار طالبان کے اصل رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں ۔ اُ ن کا ہمیشہ یہی کہنا رہا ہے کہ ہمارے اصل دشمن کفار ہیں اور خاص طور پر امریکی فوجی اور ان کے گماشتے ہیں، ہم بے گناہوں ،عبادت گاہوں ، عورتوں اور بچوں کھیلوں کے میدانوں اور جنازوں اور دیگر جلوسوں اور مزارات پر حملے نہیں کرتے ہیں۔ قابلِ غور اورسب سے عجیب بات یہ ہے کہ کبھی نائٹ کلبوں ،شراب خانوں ،جوا خانوں اور سینما گھروں پر ان لو گوں نے حملے کیوں نہیں کرائے؟ جبکہ یہ مقامات تو ان کے نظریات اور عقائد کے بھی خلاف ہیں !!!اور یہاں پر نقصانات بھی بھاری ہو سکتے تھے ۔یہ تمام باتیں تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قائرین اصل اور نقل طالبان میں تمیز کر سکیںاورپاکستان کو تباہ کرنے کی سازشوں کا خود اندازہ لگا سکیں۔ہاں شائد اس تحریر کے بعد امریکی اور ہندوستانی ایجنٹ ان چیزوں پر بھی حملے شروع کرا دیں …

    روز روز ہماری تنصیبات ،جی ایچ کیو،آئی ایس آئی ،پولیس سینٹرز اور ملٹری اثاثوںبمعہ کاکول اکیڈمی سے ملحقہ ایبٹ آباد حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس ملک کے دشمن تمام ٹولے بمعہ دولت کے پجاری صدر زرداری اور امریکیوں کے سامنے سربسجودہوجانے والے وزیر اعظم یوصف رضا گیلانی اور دیگر ….سب ایک ہی رٹ لگاتے دکھائی دیتے ہیں کہ طالبان نے حملے کئے ہیں ۔ہمارا دشمن ہماری بغل میں بیٹھ کر ہماری تباہی کرتا رہا ہے جوممبئی حملوں پر بل کھاتے ہوے شاطرانہ انداز میں کھیل کھیل رہا ہے۔یہ کھیل نہ تو رحمان ملک کو نظر آ تے ہیں اور نہ ہی امر یکہ کی آشیر واد سے ایکسٹینشن لینے والوں کونظر آتے ہیں۔ سب مل کر اس مملکتِ خدا داد کی تباہی کے درپے ہیں یہ لوگ جس تھالی میں کھا رہے ہیں اُسی میں سراخ پہ سُراخ کئے جا رہے ہیں۔جب محافظ ہی دشمن کے ساتھ مل جائیں تو قومیں بر باد ہی ہوا کرتی ہیں۔

    ہماری حساس پاک بحریہ کی تنصیبات پر دشمن قوتوں نے 22 مئی 2011 کورات ساڑھے 10 بجے ابتدائی خبروں کے مطابق 9 دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 2 طیار ے PC,3,Orien فائرنگ اور دھماکوں کے ذریعے تباہ کر دیئے گئے۔اس ایک طیاری کی قیمت 36 میلین ڈالر ہے۔یہ تین طیارے 1996 میں جو آبدوز شکن میزائلوں سے لیس،ٹھیک نشانہ لے کر دشمن کی آبدوزوں کو تباہ کر سکتے میں پاکستان نے اپنے سمندروں کی نگرانی کے لئے بھاری زرمبادلہ کے عوض خریدے تھے ۔ان میں سے دو طیارے تباہ ہوگئے ایک طیارہ اتوار کو مکمل طور پرپی این ایس مہران پر تباہ ہوا۔ اور دوسرا بھی کافی حد تک تباہی کا شکار ہوا ہے۔اس سے قبل ایک طیارہ،29 ،اکتوبر1999 کوپسنی کے قریب سمندر میں مشقوں کے دوران حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا تھا۔پسنی میں تباہ ہونے والا طیارہ بھی مہران بیس سے ہی اڑا تھا۔یہ طیارے سمندری پیٹرولنگ،اینٹی سر فیس وار فیئراور اینٹی سب میرین وار فیئرکے طور پر استعمال کیئے جاتے ہیں۔تباہ ہونیوالا طیاررہ انتہا ئی جدید تھا جو حال ہی میں امریکہ سے اور ہالنگ کے بعد لایا گیا تھا۔جو جدید ترین الیکٹرانک آلات سے بھی لیس تھا۔جس کی مالیت اس وقت 40میلین ڈاکر تھی۔

    کہا جاتا ہے کہ شارع فیصل پر واقع پی این ایس مہران بیس کی بحریہ کی تنصیبات پر دہشت گردوں نے جدید ترین روسی اور امریکی خطرنا ک اسلحے سے لیس ہوکر حملہ کیاتھا۔ خبر کے مطابق 20 دہشت گرد تین اطراف سے حملہ آور ہوے ۔کہا جاتا ہے کہ حملہ آور شاہ فیصل کالونی کے ساتھ نالے کو عبور کر کے الیکٹرانک باڑ کو کاٹتے ہوے مہران بیس میں داخل ہوے تھے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ حملہ آور اس قدر محفوظ بیس میں داخل کس طرح ہوے؟دوسرا سوال یہ ہے ان کے راستے میں اور بھی کئی قسم کے جہاز موجود تھے دہشت گردو ں نے 30 C,1 جیسے جہازوں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟تیسرا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کو راستے میں انٹر سیپٹ کیوں نہ کیا گیا؟چوتھا سوال یہ ہے کہ ان کو اصل ہدف تک کیونکر پہنچنے دیا گیا اور کس نے ان کی رہنمائی کی اور ان کوٹھیک ٹارگیٹ تک پہنچایا؟جبکہ اُن کی راہ گذر میں سرچ لائٹیں اور حساس کیمرے بھی آئے ہونگے؟انکی کیمرہ فٹج کہاں گئیں؟ پانچواںسوال یہ ہے کہ دو دہشت گرد اتنے سارے سپاہیوں اور کمانڈوز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کس طرح غائب ہونے میں کامیاب ہوگئے؟جبکہ آرمی کے کمانڈوز، نیوی کے کمانڈوز،رینجرز تقریباً 600 سپاہیوں نے مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا اوربعد میں ان کے ساتھ 600 کی مزید نفری بھی شامل ہوگئی ساری رات میدانِ کارزار گرم رہا مگر کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہواکیوں؟یہ آپریشن دن میں بھی ڈھائی بجے تک جاری رہا ،16گھنٹے یہ آپریشن چلا ۔کہا جاتا ہے کہ تین دہشت گرد تو جوانوں کی گولیوںسے ہلاک ہوگئے تھے اور ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔جبکہ دو فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے۔نادرا میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی نہیں تھے۔ جن کے لئے ہمار ے وزیر داخلہ نے رجہ رٹ لگائے ہوے ہے کہ یہ طالبان ظالمان تھے۔مہران بیس حملے سے یہ تاثر اور بھی مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کے اثاثے غیر محفوظ ہیں۔دوسری جانب ہمارے کرتا دھرتا اپنی عیاشیوں اور نا اہلیوں کو چھپانے کے لئے ہر واردات کے بعد ایک ہی رٹا رٹایا جملہ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری سیکیورٹی تو بہت اعلیٰ پیمانے کی تھی ۔مگر ہماری قسمت ہی میں یہ لکھا تھا۔ہمارے اداروں کی بہادری کی انتہا تو دیکھئے 6دہشت گردوں سے 12سو فوجی ونیول کمانڈز،رینجرز اور پولیس اہلکار نے مقابلہ کیا نتیجہ کیا ڈھاک کے تین پات…اگر پاک بحریہ کے ترجمان کی بات سچ مان لی جائے تو 12دہشت گردوں میں سے چار کی ہلاکت کے بعد آٹھ دہشت گرد فرارہونے میں کامیاب رہے اور ہمارے ادارے منہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ غضب خدا کا ایکدہشت گرد کے مد مقابل سو سے دوسوکے قریب اہلکارمکمل تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحہ سے لیس۔ بری طرح سے نا کام ہوے۔جس کا نتیجہ مائنس صفر ہے….اس ضمن میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے بہت ہی عمدہ بات کی ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں دفاعی اداروں کی شکست پر قوم استغفار کرے۔چند مسلح دہشت گردوں کا اہم عسکری مقام میں داخل ہونا 16 گھنٹے تک مقابلے کے بعد فرار ہونا لمحہ ئفکریہ ہے۔

    اس سلسلے میں حزب اختلاف کے رہنما مسلم لیگ ن کے قائدمیاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پی این ایس مہران پر حملہ کوئی معمولی دہشت گردی نہیں ہے۔ہمیں کھوکھلا کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔دہشت گرد اور امریکہ دونوں ہی پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ پی تھری سی اورین طیاروں کی تباہی پاک بحریہ کی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کی کوشش ہے !! ان طیاروں کی تباہی کے بعدپاکستان کی سمندری خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت 20 فیصد رہ گئی ہے۔اس سانحے کے بعد پاکستان کے پاس ایک اورین سمیت تین نگراں طیارے باقی بچے ہیںتین پرانے پی تھری سی اورین طیارے ضروری مرمت اور دیکھ بھال اور اپ گریڈیشن کے لئے امریکہ بھیجے ہوے ہیں جو دسمبرمیں ملنا شروع ہوجائیں گے۔جس کی وجہ سے آئندہ دسمبر تک پاک بحریہ اپنی نگرانی کی صلاحیتوں سے جزوی طور پر مفلوج رہے گی جس کا سراسر فائدہ ہندوستان کو جاتا ہے۔ہمارا اس حملے میں را کے ملوث ہونے کا اندیشہ سو فی صد درست دکھائی دیتا ہے۔مگر گونگے بہرے لنگڑے لولے ریاستی کرتا دھرتاؤں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔پتہ نہیں یہ تمام لوگ کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟ انہیں ملک تباہی کے اندھیرے گڑھے میں جاتا کیوں دکھائی نہیں دیتاہے۔ساون کے ان اندھوں کو سب ہرا ہی ہرا دکھائی دے رہا ہے… . اورین طیارے ہارپون میزائلوں اور میک 46 تارپیڈوسے بھی لیس ہیں۔یہ طیارے سمندر اور پلیٹ فارم سے بلا واسطہ اور متبادل حملوں میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔جو سمندر اور فضاؤں میں اہداف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ طیار ے پاک بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔جو 18گھنٹوں تک مسلس محوِ پرواز رہ سکتے ہیں۔اس کا ریڈار 120،ناٹیکل میل تک 360،درجے کے دائرے میں اہداف کی نشاندہی کر کے آسانی کے ساتھ تباہ کر سکتا ہے۔

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نعمان بشیر نے پریس بر یفنگ میںلگی لپٹی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔جس میں انہوں نے بتایا کہ دہشت گردو ں کا ہدف طیارے تھے یا وہاں پر موجود غیر ملکی تھے اس کا علم نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ حملہ سیکیورٹی کی نا کامی ہر گز نہیں تھا!!! تو کیا میرے محترم یہ سیکیورٹی کی کامیابی ہے؟اس آپریشن کے خاتمے کا اعلان رحمان ملک نے شام کو ان الفاظ سے کیا کہ خدا کا شکر ہے آپریشن کامیاب رہا ۔ہماری فورسز نے چار دہشت گر ہلاک کر دیئے جبکہ دو دہشت گرد بھاگ نکلنے میں کا میاب ہوگئے… تاہم ایسے مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں۔یہان رحمان ملک سے قوم سوال کر رہی ہے کہ دہشت گرد کامیا ب رہے یا ہمارے 12سو، سو رما؟انتہائی صدمے اور افسوس کے ساتھ قوم نے بے حس وزیر داخلہ کا بیان سُنا اور خون کے آنسو رونے لگی۔صدافسوس ! صد افسوس !! ایسے ہیں ہمار ے حکمران و محافظین؟جن ممالک کی آنکھوں میں ہمارے ایٹمی اثاثے کھٹکتے ہیں۔وہ ایسے ایک دو اور حملوں کو بہانہ بنا کر ہمارے اثاثوں پر بھرپور قبضہ کر نے کی کوشش کریں گے۔ اور بہانہ یہ تراشیں گے کہ ان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گر د اچک سکتے ہیں۔ اس لئے ہم ان کی حفاظت کے لئے حاضر ہوے ہیں۔ اس قسم کا پروپیگنڈہ ہندوستا ن امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کی جانب سے کیا جاسکتا ہے،بلکہ کیا جا رہا ہے!!!ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میںغیر ملکیوں اور خاص طور امریکیوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہر گز نہ دی جائے۔کیو نکہ امریکی سی آئی اے ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کی کھل کر حمایت میں مشغول ہے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بھر پور کوششوں میںمصروف ہیں۔

    پاک بحریہ مہران بیس پر دہشت گردی کے بد ترین واقعے میں ہندوستان کی انٹیلی جینس ایجنسی ’’را‘‘کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت کا انکشاف پاکستان کے سینئر انٹیلی جینس ذرائع نے کیا ہے جس کی خبر ایک موقر اخبار نے دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’را اور سی آئی اے کا یہ مشترکہ آپریشن تھاجس میں پاکستان مخالف لابی کے ایک گروپ کو موثر اندا ز میں استعمال کیا گیا تھا۔اس واقع پر تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں کوابتدائی طور پر ہی غیر ملکی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے بعض اہم شواہدملے ہیں۔یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ اس حملے کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا کون ہے۔در اصل یہ حملہ کر کے وزیر اعظم گیلانی کو ان کے چین کے دورے کے سلسلے میں ایک فوری میسج امریکہ اور ہندوستان کی جانب سے بھیجا گیا ہے…گوکہ اس حملے کی پلاننگ ممبئی واقعے کا بدلہ لینے کے لئے ایبٹ آباد حملے کے فوراً بعد ہندوستان کی جنونی فوجی لابی نے کی تھی جس میں را کا ساتھ سی آئی اے نے بھر پور طریقے پر دیاتھا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ دشمن کا نشانہ پاکستان میں موجود پی تھری ون اورین طیارے ہی تھے کیونکہ ہندوستان کی بحر ہند و بحر عرب میں چودرا ہٹ کے لئے یہ طیارے بڑا چیلنج ہیں۔ اور امریکہ یہ چودراہٹ ہندوستان کو ہی دلانے کا خواہشمند ہے۔یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب امریکہ نے یہ طیارے پاکستان کو فراہم کرنے کی حامی بھری تھی توہندوتان وہ واحد ملک تھا جس کے پیٹ میں ان طیاروں کے سودے پر شدت سے مروڑ ہوئی تھی۔ اس نے کھلے طور پر اپنے موتقبل کے آقا سے شدیداعتراض اور احتجاج کیا تھا۔پاکستان کے ان اہم نیوی کے طیاروں کی تباہی پر ہندوستان کے انٹیلی جینس اور اعلیٰ سرکاری حلقوں میں مبارک بادیاں اور کیک بھی پیش کئے گئے ہیں۔ہمار ماننا ہے کہ یہ حملہ راکے کمانڈوز نے پاکستان مخالف افغانوں سے کرایا ہے جن کی تربیت را کے ساتھ بلیک واٹر کے ٹرینرز نے اطلاعات کے مطابق افغانستان میں قائم ہندوستانی انٹیلی جینس را کے ایک بیس کیمپ میں کی گئی تھی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس آپریشن میں گھر کے بھیدیوں نے لنکاڈھائی ہے۔

    اس معاملے میں ہندوستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کاروائی کے خاتمے کے ساتھ ہی ہنوستانی بڑوں کا ایک ہنگامی اجلاس نئی دہلی میں ہندوستانی صدر پرتھیبا پاٹل کی صدارت میں طلب کیا گیا۔جس میں ایٹمی سائنس دانوں،تینوں مسلح افوج کے سر براہوں،را کے سربراہ وزیر داخلہ و خارجہ ،وزیر دفاع وزیر اعظم من موہن سنگھ سونیا گاندھی اور روس و افغانستان کے سفراء نے بھی شرکت کی تاکہ پاکستان کے کسی بھی ردِ عمل پر ایٹمی ہتھیار استعمال کر نے میں پہل کی جا سکے۔
    [/size]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟


    [align=center][size=x-large] کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں،
    بدعنوانیوں کی ہوشربا کہانیاں، قوم کے 823 ارب روپے غبن
    [/size][/align]
    رپورٹ:… طاہر خلیل
    اسلام آباد (طاہر خلیل) حالیہ برسوں میں کرپشن کی ایک کہانی جس میں 823 ارب روپے کی پاکستان میں کرپشن کی روح فرسا کہانیاں اقتدار کے بڑے ایوانوں سے گلی کوچوں تک پھیلی ہوئی ہیں اور افسوسناک امر ہے کہ جن عہدیداروں کی ذمہ داری قومی وسائل کو بچانا ہے وہی لوٹ مار میں ملوث نظر آتے ہیں۔ کراچی میں کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی چوری ہو یا فاٹا میں بجلی بلوں کی عدم ادائیگی، دستاویزات سے یہ ناقابل تردید ثبوت ملتا ہے کہ صرف واپڈا میں 90 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں موجود ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-11 رپورٹ قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں لوٹ مار کا ایک حیرت انگیز منظر سامنے آتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ شروع ہوتے ہی 29 کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں خرید لی گئیں۔ ملک میں بجلی کی مانگ پوری کرنے کیلئے کرایہ کے بجلی گھروں کے 15 منصوبوں کی منظوری دی گئی جن سے 27 سو میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں آنا تھی لیکن 2010 تک سسٹم میں صرف 62 میگاواٹ بجلی آئی تھی کیس سپریم کورٹ میں ہے۔ حکومت نے اس سودے میں 16 ارب 60 کروڑ روپے پیشگی ادا کئے تھے۔ وزارت خارجہ کے بارے میں عام تاثر ہے کہ اس وزارت میں سب سے کم مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں مگر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ اس تاثر کی نفی کرتی ہے سال 2009-10 میں وزارت خارجہ میں 70 کروڑ روپے کی بدعنوانیوں کی نشاندہی ہوئی۔ اسی طرح دفاعی بجٹ میں اربوں روپے کے گھپلے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ دفاعی بجٹ میں 5 ارب 10 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ بلٹ پروف جیکٹس خریدنے کا کام ایف ڈبلیو او (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن) کو دیا گیا اس میں 42 کروڑ روپے سے زیادہ کا گھپلا ہوا۔ کرپشن روکنے کیلئے نیب کا ادارہ بنایا گیا تھا۔ آڈیٹر جنرل نے رپورٹ میں نیب میں کروڑوں روپے کرپشن بیان کئے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے خلاف بیرون ملک مقدمات پر 29 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ نتیجہ صفر رہا۔ بیرونی ممالک میں قانونی فرموں کو لاکھوں ڈالر اور پاؤنڈ سٹرلنگ ادا کئے گئے مگر ریکارڈ دستیاب نہیں جن غیرملکیوں کو رقوم ادا کی گئیں ان کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ پاکستان میں بدعنوانیوں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے وفاقی سطح پر 7 ادارے کام کر رہے ہیں ان میں پارلیمانی احتساب کا سب سے بڑا ادارہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب آئینی ادارے ہیں ان کے علاوہ پرائم منسٹر انسپکشن کمیشن اور ایف آئی اے جبکہ صوبوں میں انسداد بدعنوانی کے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کرپشن کا عفریت قابو نہیں آ رہا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد نومبر 2009 میں اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں کرپشن کے خاتمے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے چار ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کیلئے کیا گیا۔ رپورٹ وزیراعظم کے احکامات کی منتظر ان کے دفتر میں دو سال سے پڑی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کرپشن میں کچھ مگرمچھ ملوث ہیں جو کرپشن کر کے ملک کا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں ان بڑے مگر مچھوں کو قابو کرنا ضروری ہے انتظامیہ اور بیورو کریسی کی وجہ سے کرپشن ختم نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے آڈیٹر جنرل کو مکمل بااختیار بنانا ہوگا۔ سپریم کورٹ اور حکومت کے پاس یہ اطلاعات موجود ہیں کہ ملک کے 300 اہم سیاستدانوں اور بیورو کریٹس نے این آر او کے تحت 165 ارب روپے کی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غبن کے کیسز معاف کروا کر خود کو ”پاک“ کروایا۔ یہ سیاستدان اور بیورو کریٹس 5700 سے زائد افراد کی اس فہرست کا حصہ ہیں جو وزارت قانون نے چاروں صوبوں سے موصول ہونے کے بعد وزیراعظم گیلانی کو بھجوائی تھی۔ اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ پرویز مشرف کی جانب سے اکتوبر 2007 میں این آر او جاری ہونے سے قبل 2121 کرپشن کیسز عدالتوں میں زیرسماعت تھے جبکہ نیب نے 368 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے یہ وارنٹ واپس لینے کے ساتھ 394 سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی تھیں اور اس کے بعد نیب کو بھی بے اختیار بنا دیا گیا۔ یہ درست ہے کہ ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا جس سے احتساب کا سارا عمل ہی مشکوک بنا دیا گیا تھا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ احتساب کا نظام ہی ختم کر دیا جائے یہ خوش کن امر ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے دہ ہفتے قبل پی پی پی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں احتساب بل کو جلد پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا عندیہ دیا تھا۔ مبصرین کو توقع ہے کہ اب جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 14 نومبر سے شروع ہونے والا ہے اس اجلاس میں احتساب بل کو اتفاق رائے سے منظور کرانے کیلئے پیش رفت ہوگی۔ تیل و گیس کے شعبے میں حالیہ برسوں میں اربوں ڈالرز کی کرپشن ہوئی۔ مثال کے طور پر سوئی ناردرن گیس کمپنی میں کرپشن کے حوالے سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ 20 ارب روپے کی لاگت سے 14 ہزار کلومیٹر گیس پائپ لائنز مقررہ حد تک نہیں بچھائی گئیں اور اس رقم سے حاصل 56 کروڑ 10 لاکھ روپے کا منافع اوگرا کو دیدیا گیا۔ سیندک میٹلز کو 7 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم ایڈوانس دی گئی مگر کام نہیں ہوا۔ 1995 میں امریکی کمپنی پرائنڈ لے برانٹ کو تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کیلئے کسی بولی کے بغیر کام دے دیا گیا۔ 22 لاکھ 36 ہزار ڈالر خرچ ہوئے حاصل وصول کچھ نہ ہوا کیس نیب کے پاس گیا۔ نیب کے پاس اب ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔ ایک اور کیس میں 1994 میں آسٹریلوی کمپنی کو او جی ڈی سی ایل نے 17 ملین ڈالر ایڈوانس دے کر ٹھیکہ دیدیا بعد میں او جی ڈی سی نے معاہدہ منسوخ کر دیا۔ صرف 6 ملین ڈالر کی رقم واپس آئی۔ 11 ملین ڈالر ڈوب گئے۔ اس کرپشن کا ریکارڈ بھی نیب سے غائب کر دیا گیا۔ بدعنوانیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر پٹرولیم سے منسلک کمپنیوں کا گردشی قرضہ 344 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں پی ایس او کے 160 ارب روپے شامل ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی موبائل فون کمپنیوں سے 40 ارب روپے کی ریکوری گزشتہ 15 سال سے زیرالتوا پڑی ہوئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات کہی گئی کہ اگر ہمیں پیسے مل جائیں تو معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے اور ہمارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق صرف 8 برسوں میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کا خسارہ ساڑھے تین ارب روپے سے بڑھ کر 15 ارب روپے تک جا پہنچا جبکہ اس عرصے میں 62 ارب روپے کی گیس چوری کر لی گئی۔ کرپشن کے ایک اور کیس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے طورخم، جلال آباد شاہراہ کی تعمیر کیلئے حکومت سے ایک ارب روپے حاصل کئے تاہم اس روڈ کی تعمیر پر کوئی اخراجات نہیں کئے گئے۔ مشرف دور میں کراچی میں 22 کروڑ روپے کی لاگت سے سمندر میں فوارہ لگایا گیا جس کی لاگت 15-16 کروڑ روپے سے زائد نہ تھی بعد میں یہ فوارہ چوری ہو گیا حالیہ برسوں میں پشاور اسلام آباد موٹروے کے دونوں جانب 40 کروڑ روپے کی خاردار تار چوری کر لی گئی جبکہ خار دار تار کا ایک ٹرک بھی چوری ہو گیا۔ صحت کے شعبے میں کروڑوں روپے کے بدعنوانیوں کی تحقیقات سرد خانے میں پڑی ہوئی ہیں 18ویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کو منتقل ہو گیا ہے اس لئے صحت کے شعبے میں کرپشن کی تحقیقات روک دی گئی ہے۔ پولی کلینک اسلام آباد میں 3 کروڑ 41 لاکھ روپے کی ادویات کی خریداری میں کرپشن کی گئی۔ نیب کے پاس کیس موجود ہے۔ مشرف دور کے صحت وزیر مملکت حامد یار ہراج نے پی اے سی میں انکشاف کیا تھا کہ 2002 میں ناقص پولیو ویکسین بچوں کوفراہم کی گئی جس سے پولیو کی بیماری بڑھ گئی اور پولیو خاتمے کی مہم کامیاب نہ ہوسکی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی 7 رپورٹس میں کرپشن کے 5499 کیسز کی تفصیلات موجود ہیں۔ اسلام آباد کی 100 ارب روپے مالیت کی 20 ہزار ایکڑ زمین قبضہ مافیا کے پاس چلی گئی۔ واپڈا، ریلوے میں ملازمین کی ملی بھگت سے چوریاں ہو رہی ہیں۔ ریلوے کی 4231 ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں حال میں ریلوے کے 3 پل چوری کر لئے گئے۔ پارلیمانی احتساب میں 4 ارب روپے کے نیشنل لاجسٹک سیل سکینڈل میں ملوث 3 ریٹائرڈ جرنیلوں کے خلاف کارروائی ہوئی اور اب معاملہ جی ایچ کیو کے پاس ہے۔ٹرانسپرنسی کی مداخلت پر کراچی، حیدرآباد موٹروے کی تعمیر سے متعلق کارکنوں کے بڑھاپے کی سکیم ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) اور این ایچ اے کے درمیان 100 ارب روپے کی ڈیل روک دی گئی۔ 2008-09 میں محکمہ ڈاک میں 85 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ اسی طرح یہ روح فرسا سکینڈل بھی ریکارڈ پر ہے کہ ملازمین کی پنشن سے 10 کروڑ روپے ایک سال میں خورد برد کئے گئے۔ 1990-91 میں پاسکو نے گندم ذخیرہ گودام کی رقوم لاہور کے پرتعیش ڈیفنس اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں رہائشی پلاٹ خریدنے پر خرچ کر ڈالی اور 6رہائشی پلاٹ 42 کروڑ میں خریدے گئے۔ بدعنوانیوں کا سلسلہ صرف سول اداروں تک محدود نہیں بلکہ فوجی ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ 2007 میں فوج کیلئے 27 ہزار میٹرک ٹن دال چنا کی خریداری کا ٹھیکہ ایسی جعلی فرم کو دیدیا گیا۔ جعل سازی میں اس فرم کا مالک اس وقت جیل میں بند تھا۔ پی اے سی نے کہا تھا کہ فوج کے پرکیورمنٹ سسٹم میں شفافیت نہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-11 آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پی آئی اے کو مجموعی طور پر 28 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے۔ وزارت دفاع میں 18 سال سے ایک انکوائری چل رہی ہے اور فیصلہ نہیں ہو رہا۔ 1987 میں پی اے ایف کی دو خصوصی پروازیں فرانس اور امریکا سے بحریہ کا سامان لانے کی غرض سے بھیجی گئیں اس سودے میں پی اے ایف کو 25 لاکھ روپے کمیشن ادا کئے گئے تھے۔ 20 لاکھ روپے فلائٹ لیفٹیننٹ غلام عباس نے خورد برد کر لئے اور وہ مفرور ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ملک گیر مہم میں 20 ہزار بجلی چوروں کے خلاف مقدمے درج کر لئے گئے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چوہدری نثار علی خان کا یہ تجزیہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ ایک بھی ادارہ یا منصوبہ ایسا نہیں جسے شفاف کیا جائے۔ گزشتہ سال واپڈا کی مختلف بجلی کمپنیوں میں 5 کروڑ 10 لاکھ روپے کی چوریاں ہوئیں۔ شعبہ ہاؤسنگ میں صرف اسلام آباد میں 703 سرکاری گھروں پرغیرقانونی قبضہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک کروڑ روپے کے منصوبے پر 30 سے 40 لاکھ روپے رشوت لی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ذریعے غریب ملازمین کی جمع شدہ پونجی کے 2 ارب 78 کروڑ 69 لاکھ روپے کا خورد برد کیا گیا اور ملوث افراد کارروائی سے بچ گئے۔ اس سال پاکستان سٹیل کا خسارہ بھی 104 ارب روپے تک اب جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی کی آئینی درخواست کی سماعت کا آغاز کیا ہے۔ اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور کمزور نظام حکومت کی بنیادی وجہ کرپشن ہی ہے۔ ملک میں اچھی حکمرانی کیلئے بلاامتیاز احتساب کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے سیاسی قیادت کو پختہ عزم اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی معاشی ترقی کیلئے سیاسی نظام کی کمزوریوں کو دور اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کیلئے قانون کی حکمرانی کا تصور اجاگر کرنا ہوگا۔ قومی اداروں میں سیاسی مداخلت کو ختم کر کے کرپشن کو روکا جا سکتا ہے۔

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  5. #5
    ناظم اوشو کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    357
    شکریہ
    58
    46 پیغامات میں 79 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    بنے ہیں اہلِ ہوس مدّعی بھی منصف بھی
    کسے وکیل کریں ؟ کس سے منصفی چاہیں؟
    :huh::huh::huh:

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    پيغامات
    291
    شکریہ
    18
    35 پیغامات میں 52 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    اوشو بھائی کا شعر بر موقع ہے میرا بھی یہی تبصرہ ہے۔

    ھاھاھاھاھا

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  8. #8
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  10. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: پاکستان کے دشمن حکمران ادارے؟؟؟؟؟

    [align=center][/align]

  11. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (02-20-2014)

صفحہ 1 از 10 123 ... آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. آپ کو کبھی کسی سے پیار ہوا؟؟؟؟؟
    By بلال جٹ in forum گپ شپ
    جوابات: 25
    آخری پيغام: 07-06-2014, 03:25 AM
  2. جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-14-2013, 11:40 PM
  3. جوابات: 1
    آخری پيغام: 08-30-2012, 11:46 AM
  4. جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-14-2012, 12:37 PM
  5. ولی کون ؟؟؟؟؟
    By وحید احمد ریاض in forum قرآن کریم
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 10-12-2011, 11:54 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University