[align=center][/align]

پاکستان کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں جمعرات کو منعقد ہونی والی کُل جماعتی کانفرنس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور شدت پسندگروہ حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطوں کے بارے میں امریکی الزامات کو مسترد کیا ہے۔

یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر بلائے گئی یہ کل جماعتی کانفرنس اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاوس میں منعقد ہوئی جس میں لگ بھگ تیس سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس کانفرنس میں پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا بھی شریک ہوئے۔
اس کانفرنس کا مقصد پاکستان کی فوجی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کے خلاف برسرپیکار حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطوں کے بارے میں امریکی الزامات پر غور کرنا تھا۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع احمد پاشا نے کل جماعتی کانفرنس کو ملک کی سیکورٹی کی صورت کے بارے میں بریفنگ دی۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ گیارہ گھنٹے جاری رہنے والی اس کانفرنس میں متفقہ طور پر تیرہ نکاتی قرارداد منظور کی گئی جس کا متن وفاقی وزیر اطلاعات نے کانفرنس کے اختتام پر صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔

اس قرارداد میں امریکہ کا نام لیے بغیر کہا گیا ’پاکستان حالیہ بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے، ایسے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ الزامات شراکت داری کی فکر کی تذلیل ہیں‘۔

امریکہ کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں ایک سے زیادہ بار یہ الزام لگایا کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجوں اور تنصیبات پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس کا تضویراتی بازو ہے۔ لیکن پاکستانی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔۔
قرارداد میں کہا گیا کہ امن کے خواہاں ملک کے حیثیت سے پاکستان برابری اور باہمی وقار و دلچسپی کی بنیاد پر دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

قرارداد کے مطابق کل جماعتی کانفرنس نے اس پر اتفاق کیا کہ ایک نئی سمت اور پالیسی متعین ہونی چاہیے جس کا محور و مرکز امن ہو۔

’امن کو موقع دیا جائے، اس نئی پالیسی کا مرکزی رہنما اصول ہونا چاہیے‘۔

قرار داد کے الفاظ میں پاکستان کو قیام امن کی خاطر قبائلی علاقوں میں اپنے لوگوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے۔

قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ حکومت، اداروں اور عوامی سطح پر اپنے برادرانہ تعلقات کو بڑھانا چاہیے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں پاکستانی کی سکیورٹی فورسز اور خاص طور پر خیبر پختواخواہ کے لوگوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور بین الااقوامی براداری کو بھی اس کا اعتراف کرنا چاہیے‘۔

قرارداد کے مطابق پاکستان کی خود مختاری کا دفاع اور اس کی جغرافیائی حدود کی سالمیت مقدس فریضہ ہے جس پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

قرارداد کے الفاظ میں پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر پر استحکام اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوشش جاری رکھنی چائیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے خلاف کسی خطرے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کی قوم فوج کے ساتھ مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

اس پوری قراردار میں کسی بھی جگہ براہ راست امریکہ کا ذکر نہیں ہے جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ پاکستان کی فوجی، سیاسی اور مذہبی قیادت میں اس بات پر اتفاق ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اس سطح پر نہ لا جایا جائے جہاں سے واپس آنا مشکل ہو۔

صحافیوں نے بھی وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان سے جب یہ پوچھا کہ اس قرارداد میں براہ راست امریکہ کا کوئی ذکر نہیں تو وزیر اطلاعات نے اس کی وضاحت کرتے ہویے کہا ’ہمیں خاص ملک کی طرف سے چلینج کا سامنا نہیں بلکہ علاقے میں اور علاقے سے باہر وہ تمام قوتیں جن کے مشترکہ مفادات اور ایجنڈا ہے ہمیں ان سب کی طرف سے خطرات ہیں۔ ہم کسی ایک ملک کو بدنام نہیں کرسکتے‘۔
کل جماعتی کانفرنس نے متفقہ قراردادکے ذریعے واضح کیاہے کہ پاکستان امن پسندملک ہے اوربقائے باہمی پریقین رکھتاہے، تمام ممالک کے ساتھ برابری اورباہمی احترام کی بنیاد پردوستانہ تعلقات چاہتے ہیں ،مشکل حالات میں پوری قوم افواج کے ساتھ کھڑی ہوگی ، ملک کی ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے امدادنہیں تجارت کاسہاراچاہتے ہیں ، قبائلی علاقوں میں امن کے خواہاں تمام گروپوں کے ساتھ مذاکرات پریقین رکھتے ہیں ، اقوام متحدہ کے امن چارٹرکاپابندہیں اوراس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں اداکرتارہیں گے ،اے پی سی کی قرارداد پرعملدرآمدکیے گئے تمام جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی قائم کی جائے گی ۔ جمعرات کووزیراعظم ہاؤس میں تقریباً10گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی اے پی سی اے میں یک نکانی ایجنڈے پرغورکیاگیا۔ اختتام پروفاقی وزیراطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے بریفنگ کے دوران مشترکہ اعلامیہ پڑھ کرسنایاجس میں کہاگیاہے کہ پاکستان امن پسندملک ہے جوبقائے باہمی پریقین رکھتاہے اوراس کی پالیسی کامرکزی نکتہ خطے کاامن واستحکام ہے ۔پاکستان تمام ممالک کے ساتھ برابری اورباہمی احترام کی بنیاد پردوستانہ تعلقات چاہتاہے ۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن چارٹرکاپابندہے اوراس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں اداکرتارہے گا ۔کانفرنس میں نئی سمت اورپالیسی کاتعین کرنے کافیصلہ کیاگیااوریہ کہاگیاکہ علاقائی امن استحکام کے لئے امن کوموقع دیاجاناچاہیے ۔پارلیمنٹ اوراے پی سی کی قراردادوں پرعملدرآمدہوناچاہیے ۔پاکستان قبائلی علاقوں میں امن کے خواہاں تمام گروپوں کے ساتھ مذاکرات پریقین رکھتاہے ۔پاکستان کی سالمیت اورافواج پاکستان کامقدس فریضہ ہے ۔اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ پاکستان خودکفالت کی پالیسی پرعمل پیراہے اورملک کی ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کیلئے امدادنہیں تجارت کاسہاراچاہتے ہیں ۔کسی بھی مشکل صورتحال کامقابلہ کرنے کیلئے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہوگی۔قبل ازیں وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ پاکستان پراب ڈومورکیلئے دبائونہیں ڈالاجاسکتا،ملکی سلامتی کا تحفظ اولین ترجیح ہے،دنیادیکھ لے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی قیادت قومی ایشوز پر ایک ہیں،ہرچیلنج کامقابلہ متحد ہوکر کریں گے، قومی کانفرنس اتحاد اوریکجہتی کاپیغام ہے،موجودہ صورتحال کے تناظرمیں ملکی پالیسی کا جائزہ لیاجائیگا،امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہیں،ہمارے قومی مفادات اور خودمختاری کا احترام کیا جائے،پوری قوم کو مسلح افواج پر فخر ہے، افغانستان میں امن کیلئے ہرممکن کردار اداکیا، مذاکرات کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔جمعرات کو یہاں وزیراعظم ہائوس میں کل جماعتی کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کانفرنس میں شرکت کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنمائوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی جانب سے بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہے، کانفرنس کا مقصد قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے حکومت چاہتی ہے کہ تمام اہم قومی امور پر مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتیں عوام کی حقیقی نمائندہ جماعتیں ہیں جو عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرتی ہیں ہماری قوم مضبوط، توانا اور قابل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانفرنس بلانے کا مقصد خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر بات چیت کرنا ہے ہمیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ہم اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں آج اپنے قومی وقار کے ساتھ کردار ادا کرنا ہے پاکستان پر ڈومور کا دبائو نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے افغانستان میں امن و امان کے لئے کوششیں کیں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے قتل پر افغانستان میں جاری قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے علاقائی امن سیکورٹی کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے قومی سلامتی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ قوم کو اپنی فوج پر فخر ہے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجوں سے نکالیں گے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ ہم قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ پوری قوم کو مسلح افواج پر فخر ہے جس نے کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کیا، پاکستانی فوج نے ملکی دفاع کے لئے کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی کے مسئلے پر پوری قوم متحد ہے اور پاکستان کے مفادات کا احترام کیا جائے گا، قومی سلامتی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے پاکستانی قوم ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان نے عالمی برادری کی ذمہ داریاں اپنے کندھے پر اٹھائیں، عالمی طاقتوں کے تصادم کے نتیجے میں خطے میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے علاقائی امن کے لئے سیکورٹی کی کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے، امریکی حکام کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات پر ہمیں حیرانگی ہوئی ہے ہم انہیں مسترد کرتے ہیں، پاکستان پر اب ڈومور کے لئے دبائو نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سیاسی اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی قیادت اور قوم ملک کے دفاع کے لئے یکجا ہیں۔ دوسرے ملکوں سے برابری، باہمی مفاد اور آزادی کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف جنگ الزام تراشی سے متاثر ہو گی تمام معاملات بات چیت سے حل کئے جانے چاہئیں، گفت و شنید کے لئے ہمارے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مثبت اور ذمہ دارانہ طریقے سے تمام مسائل کو حل کرنا ہے۔