نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2011
    پيغامات
    527
    شکریہ
    31
    49 پیغامات میں 71 اظہار تشکر

    اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا

    [size=x-large][align=center]اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا
    مَیں جیسا بے خبر آیا تھا، بے خبر جاتا

    ابھی کہیں نہ کہیں صدق بھی ہے، عدل بھی ہے
    میں ورنہ خیر کے اثبات سے مُکر جاتا

    فضائے تیرہ سے مانوس تھی نگاہ میری
    فلک سے ورنہ میں درّانہ کیوں گُزر جاتا

    کہیں خلاؤں میں آدم کو لاش کھو جاتی
    زمیں پہ آ کے اگر زندگی سے ڈر جاتا

    ہر ایک ڈوبنے والا یہ سوچتا ہے، کہ مَیں
    بھنور سے بچ کے نکلتا تو پار اُتر جاتا

    تمام عمر میرا دشت میرے ساتھ رہا
    تمام عمر تمنّا رہی کہ گھر جاتا

    میرا کوئی بھی نہیں کائنات بھر میں ندیم
    اگر خدا بھی نہ ہوتا تو میں کدِھر جاتا
    [/align][/size]

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے ایم-ایم کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (05-27-2013)

  3. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا

    بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

  4. #3
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا

    تمام عمر میرا دشت میرے ساتھ رہا
    تمام عمر تمنّا رہی کہ گھر جاتا


    واہ بہت خوب اور زبردست جناب

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University