صفحہ 2 از 3 اوليناولين 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 11 تا: 20 از: 21

موضوع: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

  1. #11
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ


  2. #12
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ


  3. #13
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [size=x-large]امریکا میں پاکستانی سفیرحسین حقانی واشنگٹن سے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حسین حقانی نجی ائیر لائن سے پاکستان کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔


    ذرائع کا کہنا ہے روانگی سے قبل حسین حقانی نے پاکستان اور افغانستان کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات آدھے گھنٹے تک جاری رہی،جس میں پاک امریکا تعلقات اور موجودہ صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

    سابق چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائیک ملن اور پاکستانی نڑاد امریکی تاجر منصور اعجاز کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کر دی گئی۔ یہ درخواست بیرسٹر ظفراللہ نے دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ میمو اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا جائے۔


    درخواست میں کہا گیا ہے کہ مائیک ملن اور حکومت پاکستان کسی بھی میمو کی تردید کر چکے ہیں لہٰذا مائیک مولن اور منصور اعجاز کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جائے۔ دونوں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔ درخواست میں وفاق پاکستان اور امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

    امریکا میں متعین پاکستانی سفیر حسین نے حقانی نے کہا ہے کہ کسی پاکستانی کے لیے اس سے بڑا کوئی اور دکھ نہ ہوگا کہ اسے غیر محب وطن کہا جائے،میری والدہ فوجی قبرستان میں مدفون ہیں، میرے خاندان نے اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں الزام ثابت ہونے تک مجرم نہ سمجھا جائے

    جیو نیوز کے پروگرام کامران خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حسین حقانی انتہائی جذباتی ہوگئے اورگلوگیر لہجے میں انھوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا یقین دلایا اس موقع پر حسین حقانی کہا کہ وہ اس ساری صورتحال پر اتنے دل گرفتہ ہیں کہ انکا بلڈ پریشر بڑھ گیا ہے اور ڈاکٹروں نے انھیں آرام کے لیے کہا ہے اب اگر ڈاکٹر انھیں اجازت دیتے ہیں تو وہ فوری طور پر وطن آجائیں گے ورنہ ایک دو روز آرام کے بعدوہ پاکستان واپس آجائیں گے ۔

    میرے لندن کے ہوٹل میں ٹھہرنے کی تحقیقات ہوسکتی ہے،ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آنی چاہیے،انھوں نے کہا کہ میں اپنے بارے میں فیصلہ صدر اور وزیراعظم پر چھوڑتا ہوں،لند ن میں منصور اعجاز کے ساتھ تقریب میں شریک ہوا تھا۔تمام معاملات کی تصدیق ضروری ہے۔تحقیق ہوگی تو ثابت ہوجائیگا کہ سچ کیا ہے۔کیا منصور اعجاز آئی ایس آئی کی تحقیقات کو تسلیم کرینگے کیونکہ وہ تو آئی ایس آئی دہشتگردادارہ قرار دیتے رہے ہیں ۔میرے متعلق تحقیقات ہونی چاہیے، انھوں نے کہا کہ میموسے متعلق بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

    ابھی میں نے منصور اعجاز کی ٹرانسکرپٹ نہیں پڑھی،لیکن یہ جعلی ہے،یہ ایک مشتبہ اور پاکستان دشمن شخص کا معاملہ ہے۔وہ میموکیسے قابل اعتبار ہوسکتا ہے جوکسی سرکاری شخصیت نے جاری نہ کیا ہو۔منصور اعجاز کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کا کام کرتے ہیں۔تحقیق سے ثابت ہوجائے گا کہ سچ کیا ہے۔مجھ سے متعلق کبھی ایسا تنازع سامنے نہیں آیا۔کیری لوگر بل سے متعلق مجھ پر الزامات لگائے گئے۔میموکو حسین حقانی کا میمو نہ کہا جائے۔میں پرانا بلیک بیری بھی پیش کرنے کو تیار ہوں۔یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے جو مناظرے سے حل نہیں ہوگا۔منصور اعجاز کی بلیک بیری کی تفصیلات مسترد کرتا ہوں

    ادھر پاکستانی نژاد تاجر اور ایڈمرل مائیک مولن کو متنازع میمو پہنچانے کے حوالے سے مرکزی کردار منصور اعجاز نے کہا ہے کہ اگر انھیں بلایا گیا تو حسین حقانی کے خط کے ثبوت دینے کے لیے وہ آجائیں گے۔

    انھوں نے جیو نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ حقانی سے گفتگو میں جس باس کا ذکر آیا ہے وہ صدر آصف علی زرداری ہیں،انھوں نے کہا کہ آئیڈیا یہ بھی تھا کہ وزارت دفاع میں ردوبدل کیا جائیگا،اورپاک فوج اور آئی ایس آئی اس وزارت کے نیچے ہونگے،میرا خیال ہے کہ حسین حقانی خود قومی سلامتی کے مشیر بننا چاہتے تھے ،اور اسکے لیے آئیڈیا یہ تھا کہ پاکستان میں قومی سلامتی کا ایک طاقتور مشیر تعینات کیا جائے ۔

    منصور اعجاز نے کہا کہ حقانی نے انھیں بتایا کہ میمو لکھنے کے آئیڈیا میں جنرل محمود درانی اور جنرل جہانگیر کرامت بھی شامل ہیں۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اس میں محمود علی درانی اور جنرل جہانگیر کرامت شامل نہیں۔


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو حکمران پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی مشاورتی کور کمیٹی اور بعض وفاقی وزراء کے اجلاس کی قیادت کی، جس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو متنازع مراسلے کے بارے میں ملک کی قیادت کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

    اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’انصاف کا تقاضہ ہے کہ سفیر (حسین حقانی) کو اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘‘

    پاکستانی سفیر پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ہی صدر زرداری سے منسوب وہ مبینہ خط سابق امریکی فوجی کمانڈر ایڈمرل مائیک ملن کو بھیجا تھا جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائیریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنے کے لیے امریکی قیادت سے مدد مانگی گئی تھی۔

    ادھر جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف نے فوج کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی مدد طلب کرنے کے معاملے پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور مطالبہ کیا کہ اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کےلیے فوری طور پر غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں جائیں۔

    قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان نے ایوان میں اپنی تقریر میں مبینہ خط کے معاملے پر صدر مملکت اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    ’’یا زرداری صاحب اپنے آپ کو علیحدہ کریں سارے معاملے میں، جو لوگ ذمہ دار ہیں اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لے کر آئیں، اور میں یہ بھی واضح کر دوں یہ مسئلہ کسی کے استعفے سے نہیں روکے گا، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ میرے سے غلطی ہو گئی یہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے جو کچھ ہو رہا ہے اور ہم آئین اور قانون کے مطابق اس کا حل چاہیئں گے۔‘‘

    واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی مبینہ خط کے بارے میں اُن پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں، جب کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ تمام معاملے پرحکومت کو وضاحت پیش کرنے کے لیے حیسن حقانی حکومت کے طلب کرنے پر جلد وطن پہنچ رہے ہیں۔

    وزیر اعظم گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے اس موقف کو دہرایا۔

    ’’ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، اور ذرا انتظار کریں۔ اُن (حسین حقانی) کو آنے دیں، میں پہلے ہی یقین دہانی کرا چکا ہوں کہ اُنھیں وضاحت پیش کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے اور وہ ملک کی قیادت کے سامنے یہ وضاحت پیش کریں گے۔ (اور) اگر پھر اگر آپ کے ذہن میں کوئی چیر ہو گی آپ ضرور (مطالبہ) کریں، مگر میں آپ کو بتا دوں یہ ایشو بھی حل ہو جائے گا۔‘‘

    لیکن حکومت کی تمام تر وضاحتوں کے باوجود سیاسی مخالفین کے مطالبات جاری ہیں جب کہ مقامی میڈیا میں صدر زرداری ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں۔

    سابق امریکی فوجی کمانڈر مائیک ملن کو بھیچے گئے مراسلے کی جمعہ کو مزید تفصیلات مقامی اور غیر ملکی میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی صدر سے منسوب اس مبینہ خط میں امریکی حکومت سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے اجازت ہو گی کہ وہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے ذمہ دار پاکستانی فوجی حکام کا نام تجویز کرے اور اگر وہ القاعدہ کے نئے لیڈر ایمن الزاوہری اور طالبان کے مفرور لیڈر ملا عمر کے خلاف پاکستانی سرزمین پر کارروائی کرے گی تو پاکستان اس میں مدد کرے گا۔ جب کہ اس مبینہ مراسلہ میں پاکستان کےجوہری ہتھیاروں کے پرورگرام کی نگرانی کے لیے بھی امریکہ کو رسائی دینے کے وعدہ کیا گیا ہے

    مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاست جاتی ہے تو جائے،ملکی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ،کسی بھی غیرآئینی اقدام کی حمایت نہ کرنے کی قسم اٹھارکھی ہے ،مائیک مولن کو لکھے گئے خط پر انکوائری کمیٹی بنائی جائے، اگرحکومت ایسا نہیں کرتی تو پھر دال میں ضرورکچھ کالا ہے۔ماڈل ٹاوٴن میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سانحہ ایبٹ آباد پر کمیشن کْھو کھاتے میں چلا گیا ،قوم کو نتیجے کا کچھ پتہ نہیں چلا، اب میمو پر کمیشن ٹالنے والی بات ہے، سول سوسائیٹی، ارکان اسمبلی، صاحب کردار وکلاء اور ججوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلیوں سے استعفوں سمیت دیگر آپشنز پر پارٹی میں مشاورت کریں گے ،انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں شروع کی گئی کسی کوشش اور غیر آئینی اقدام کی حمایت نہ کرنے کی قسم اٹھاررکھی ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ خفیہ کھیل کھیلنے والے اپنا کھیل بند کردیں ،سپریم کورٹ کسی فرد یا ایجنسی کے کہنے پر ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کرنے کا فیصلہ نہیں کرے گی ۔مسلم لیگ نون کے صدر نے مزید کہا کہ پتے ان کے ہاتھ میں نہیں ، سٹے بازوں کے ہاتھ میں ہیں، انہیں تو دو سال سے زائد باری نہیں ملی، شاہ محمود قریشی کو 22 نومبر کو خوش آمدید کہوں گا اور سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں ختم ہواتھا۔
    .........
    سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی سے میمو پر وضاحت طلب کی ہے، انہیں موقع دیا جانا چاہئے۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی ہمارا ادارہ ہے، اس کا تحفظ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا سے دوستی باوقار طریقے سے ہوگی۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2013 سے پہلے کوئی غیرآئینی طریقے سے تبدیلی نہیں آئے گی، ملک میں غیرجمہوری طریقے سے کوئی تبدیلی آئے گی نہ موقع ملے گا، اب الزام برائے الزام سے کام نہیں چلے گا۔

    واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی ہے جس کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے صدر آصف علی زرداری سے منسوب مبینہ خط کا معاملہ بظاہرایک انتہائی سنجیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ حکومت اس تمام معاملے کی مفصل تحقیقات کرے گی اور اگر کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو ایسا کرنے والے کو اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔

    ’’سوال یہ ہے کہ یہ میمو ( پیغام) کس طرح تیار کیا گیا اوراس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، ان سب کی تحقیقات کی جائیں گی۔ (پاکستانی) سفیر کو پہلے ہی پاکستان طلب کیا جا چکا ہےاور مجھے اُمید ہے وہ جلد یہاں پہنچنے والے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہیں تو وہ پہلے ہی قوم کےعظیم مفاد میں صدرِ پاکستان کے نام خط میں مستعفی ہونے کی پیشکش کرچکے ہیں۔‘‘

    پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نےگزشتہ ماہ برطانوی اخبار ’فائننشل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں الزام لگایا تھا کہ ایک اعلٰی پاکستانی سفارت کار نے اُن سے رابطہ کر کے صدر زرداری کا مبینہ خط اُس وقت کے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

    منصور اعجاز کے بقول دو مئی کو ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی صدر کو خدشہ تھا کہ فوج بغاوت کے ذریعےاقتدار پر قبضہ کرلے گی اس لیے وہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کےسربراہ احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے اُنھیں امریکی صدر براک اوباما کی مدد درکار ہوگی۔

    ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ملک میں رونما ہونے والے واقعات نے صدر زرداری کی حکومت اور ملک کی فوجی قیادت کے درمیان سخت کشیدگی کو اجاگر کیا ہے۔

    پاکستان کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ کا عمومی تاثر یہ ہے کہ صدر زرداری کے مبینہ خط کا تصور اور اسے امریکی حکام تک پہنچانے میں مرکزی کردار حسین حقانی نے ادا کیا ہے۔

    پاکستانی سفیر نے بھی واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اُنھوں نے پاکستانی قیادت کو اپنے مستعفی ہونے یا پھر ملک کی ’’جمہوری حکومت کو بدنام کرنے کی بعض عناصر کی طرف سے شروع کی گئی مہم کا خاتمہ‘‘ کرنے کے لیے ہرطرح کی تحقیقات کا حصہ بننے کی پیشکش کر دی ہے۔

    حسین حقانی کو 2008ء میں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔

    ’’سوائے اشاروں کنایوں کے تاحال مجھ پر کوئی غلط کام کرنے کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ میں نے کوئی بھی ایسا پیغام تیار یا ارسال نہیں کیا ہے جس کا تذکرہ ذرائع ابلاغ میں کیا جا رہا ہے۔ میں یہ یاد دہانی بھی کراتا چلوں کہ 2008ء میں سفیر کی حیثیت سے میری تقرری کے بعد کچھ لوگوں نے مسلسل یہ کہہ کر میری کردار کشی کی کوشش کی کہ میں پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرنے میں ملوث ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا ہے۔‘‘

    دریں اثنا سابق ایڈمرل مائیک ملن کے ایک ترجمان نے اپنے تازہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ اُنھیں منصور اعجاز کی طرف سے صدر زرداری کا مبینہ پیغام موصول ہوا تھا۔ ’’ نہ تو پیغام کے مندرجات اور نہ ہی اس کا وجود ایڈمرل ملن کے جنرل کیانی اور پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوئے۔ اُنھوں نے اس کو کبھی بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی اس پر کوئی توجہ دی۔‘‘

    پاکستان میں حکومت کے ناقدین اور حزب مخالف کے سیاست دان مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر منصور اعجاز کے الزامات بے بنیاد ہیں تو حکومت وقت اس کے اور برطانوی اخبار کے خلاف قانون چارہ جوئی کرے اور ان میں سچائی ہے تو ملک کی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی پاداش میں ان ذمہ داران کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
    .....................
    سابق چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مائیک ملن نے منصور اعجاز کے خفیہ میمو وصول کرنے کی تصدیق کردی ہے،مائیک مولن کے ترجمان جان کربی نے امریکی جریدے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کی جانب سے بھیجے گئے میمو سے متعلق خبریں شائع ہونے کے بعد مائیک مولن نے اپنی یاداشت پر زور ڈالا اور متعلقہ افراد سے اس بارے میں معلوم کیا تو انہیں بتایا گیا تو انہیں میمو کی ایک کاپی فراہم کردی گئی، تاہم مائیک مولن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، اور اسے قابل اعتبار نہیں سمجھا اور اس لیے کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔

    امریکا میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی جریدے کو انٹرویودیتے ہوئے میمو بھیجنے کی تردید کی، ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر انہوں نے صدر زرداری کو خط بھی لکھا ہے جس میں وہ مستعفی ہونے کی پیش کش کرچکے ہیں، حسین حقانی کا کہنا ہے صدر زرداری کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ نہ آپ نے اور نہ ہی کسی اور نے مجھے میموبھیجنے کے لیے کہا اور نہ ہی میں نے کوئی میمو بھیجا ہے۔ حسین حقانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے باوجود استعفے کی پیشکش قومی مفاد میں کی ہے، اور یہ معاملہ صدر زرداری پر چھوڑدیا ہے۔
    ..................
    امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا استعفیٰ ایک معمہ بن گیا ہے۔ ایوان صدر کے ذرائع کہتے ہیں کہ استعفیٰ موصول ہوا ہے جبکہ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر اس سے لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ حسین حقانی کے صدر کو خط لکھا ہے کہ اگر میرے استعفے سے موجودہ بحران ٹل سکتا ہے تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں

    وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے صدرآصف علی زرداری سے ایوان صدرمیں ملاقات کی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویزکیانی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
    ایوان صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق تینوں بڑوں کی ہونے والی ملاقات میں ملک کی حالیہ سکیورٹی کی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ صدرزرداری نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اعزازمیں عشائیہ بھی دیا۔

    وائس آف امریکہ کے مطابق امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ایک بڑی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے گزشتہ دنوں اپنے ایک اخباری مضمون میں انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ پاکستانی سفارت کار کے کہنے پر اُنھوں نے صدر زرداری کا ایک خط سابق امریکی ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچایا تھا جس میں صدر براک اوباما سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے لیے مدد مانگی گئی تھی۔

    پاکستان میں حکام نے صدر آصف علی زرداری سے منسوب اُس مبینہ خط کی بظاہر تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کی برطرفی کے لیے امریکی صدر براک اوباما سے مدد طلب کی گئی تھی۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو حکومت نے اسلام آباد طلب کیا ہے تاکہ وہ سیاسی قیادت کو اصل صورت حال سے آگاہ کر سکیں۔

    ’’دیکھیں اس حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کو واپس آنے دیں تاکہ وہ ہمیں اپ ڈیٹ کریں اور اپنا نقطہ نظر پیش کریں کہ اس (خط) کے پیچھے کیا حقیقت ہے۔ (ہماری) لیڈر شپ چاہتی ہے کہ وہ پروب (اس کی تحتقیات) کرے اور اُن تمام افراد کو بے نقاب کرے جن کی وجہ سے اس قسم کی غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا مقصد بالکل واضح ہے کہ تحقیقات کے ذریعے ایسے ’’افراد کو بے نقاب کرے جو ملک کے اداروں یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

    امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ایک بڑی کاروباری شخصیت منصور اعجاز نے گزشتہ دنوں اپنے ایک اخباری مضمون میں انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن میں ایک اعلیٰ پاکستانی سفارت کار کے کہنے پر اُنھوں نے صدر زرداری کا ایک خط سابق امریکی ایڈمرل مائیک ملن کو پہنچایا تھا جس میں صدر براک اوباما سے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے لیے مدد مانگی گئی تھی۔

    بقول منصور اعجازکے یہ خط اُنھوں نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے ایک ہفتے بعد وائٹ ہاؤس کے حوالے کیا تھا۔

    اس مبینہ خط کے مندرجات کے مطابق پاکستانی صدر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسامہ کی ہلاکت کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد پاکستانی فوجی قیادت ان کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے اس لیے وہ جنرل اشفاق کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو برطرف کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں امریکہ کی حمایت درکار ہو گی۔ مبینہ خط میں اس حمایت کے بدلے عسکریت پسندوں کے ساتھ پاکستان کے تمام رابطے ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

    سابق امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل ملن کے ایک ترجمان کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں منصوراعجاز نامی کسی شخص سے ایسا پیغام وصول کرنے کی تردید کی جا چکی ہے۔ بقول ملن کے ترجمان کے اُنھیں روزانہ سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات کی طرف سے بڑی تعداد میں پیغامات ملتے رہتے تھے لیکن انھیں یہ یاد نہیں کہ ان میں کوئی منصور اعجاز بھی تھا۔

    پاکستانی صدر کے ترجمان بھی آصف علی زرداری سے منسوب اس خط کو تصوراتی قرار دے کر اس کی تردید کر چکے ہیں۔

    لیکن پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک طویل بیان میں اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ اُس اعلیٰ پاکستانی عہدے دار کا نام منظر عام پر لے آئیں گے جس نے اُنھیں ایڈمرل ملن کو خط پہنچانے کا مشن سونپا تھا۔

    اُن کے اس تازہ بیان کے بعد پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ واشنگٹن میں امریکی سفیر حسین حقانی ہی دراصل وہ شخصیت ہیں جنھوں نے صدر زرداری کی طرف سے یہ مبینہ خط منصور اعجاز کو دیا تھا اس لیے فوجی قیادت کی طرف سے اس معاملے پر تحفظات کے اظہار کے بعد اب پاکستانی سفیر کو وضاحت کے لیے وطن واپس بلایا گیا ہے۔

    بدھ کی رات قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے بھی صدرسے منسوب مبینہ خط کے بارے میں حکومت سے وضاحت طلب کی۔

    وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نےاس کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ صدراوروزارت خارجہ کی طرف سےاس خط کی تردید کی جاچکی ہے۔

    ’’اورمیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ چاہے وہ (حسین حقانی) سفیر ہوں یا نہیں اُنھیں پاکستان طلب کیاجائےگا اورانھیں قیادت کو وضاحت دینی ہوگی کہ یہ خط کیسے آیا۔ اس لیے اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔
    [/size]

  4. #14
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center][/align]
    [align=center][/align]
    ایکسپریس نیوز 25 نومبر2011

  5. #15
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center][/align]

  6. #16
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center][/align]

  7. #17
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    عجیب مخمصے میں پھنسا دیا

  8. #18
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center][/align]

  9. #19
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center][/align]

  10. #20
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: پاکستان اور منصور اعجاز : ایک ٹرپل ایجنٹ

    [align=center]http://ummat.com.pk/story/wp-content/uploads/2012/03/120317-s13.gif[/align]

صفحہ 2 از 3 اوليناولين 123 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. ایران پاکستان گیس منصوبہ
    By انجم رشید in forum قلم و کالم
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 02-25-2013, 05:15 PM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-28-2012, 10:28 AM
  3. جوابات: 1
    آخری پيغام: 10-29-2011, 04:04 PM
  4. پاکستانی پرچم{اقتباس} منصور مہدی
    By محمدمعروف in forum یوم پاکستان
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 08-13-2011, 02:23 AM
  5. جوابات: 2
    آخری پيغام: 12-14-2010, 11:57 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University