نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2011
    پيغامات
    527
    شکریہ
    31
    49 پیغامات میں 71 اظہار تشکر

    حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے

    [size=large][align=center] حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے
    تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے

    کسی چراغ میں ہم ہیں ، کسی کنول میں تُم
    کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے

    وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشّے میں
    تمام عُمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے


    ہر اک صدا جو ہمیں باز گشت لگتی ہے
    نجانے ہم ہیں دوبارا کہ یہ دوبارا ہے

    وہ منکشف مِری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
    ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارا ہے

    عجب اُصول ہیں اِس کا روبارِ دُنیا کے
    کِسی کا قرض کِسی اور نے اُتارا ہے

    کہیں پہ ہے کوئی خوشبو کہ جِس کے ہونے کا
    تمام عالمِ موجود ، استعارا ہے

    نجانے کب تھا, کہاں تھا, مگر یہ لگتا ہے
    یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گذاراہے

    یہ دو کنارے تو دریا کے ہوگئے ، ہم تم
    مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے

    [/align][/size]

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: حسابِ عُمر کا اِتنا سا گوشوارا ہے

    واہ بہت خوب جناب ۔ شئیرنگ کاشکریہ۔

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University