[size=x-large][align=center]
جب یہ ساری دنیا کھنچ جاتی ہے دولت کی طرف
ہم حسینی ہیں جو رہتے ہیں صداقت کی طرف

کھینچنے لگتی ہے جب دنیا ضلالت کی طرف
عشقِ سرور کھنچ لیتا ہے ہدایت کی طرف

دیں کا مقصد تھا کہ ہر طاقت رہے پابندِ حق
حق کبھی کھنچ کر نہیں جا سکتا طاقت کی طرف

اس کو دنیا کی کوئی طاقت دبا سکتی نہیں
ہر قدم ہے جس کا میدانِ شہادت کی طرف

کربلا کے بعد اب یہ فیصلہ آسان ہے
ہم حکومت کی طرف ہیں یا امامت کی طرف

تاجِ شاہی گر گیا تختِ خلافت اُڑ گیا
اب زمانے کی نظر ہے بس امامت کی طرف

اے غم فرزند زہرا زندہ و پائندہ باد
تو مکمل اک اشارہ ہے حقیقت کی طرف

جو بھی کرتا ہے عداوت فاطمہ کے لال سے
دیکھنا پڑتا ہے ہم کو اس کی طینت کی طرف

کردے انکارِ شہادت ایسا اندھا ہو بشر
دیکھتی ہے ہر نظر حیرت سے حیرت کی طرف

ہم نے مانا آپ قربانِ رسالت ہیں مگر
دھیان کچھ تو دیجئے اجرِ رسالت کی طرف

آگیا حُر خدمتِ شبیر میں یہ دیکھ کر
ہے درِ شبیر ہی سے راہ جنت کی طرف

قصہ فطرس سے حاصل کیوں نہ ہو دل کو سکوں
اک اشارہ ہے یہ مولا کی شفاعت کی طرف

درحقیقت یہ کشش ہے سجدہء شبیر کی
خود بخود پیشانیاں جھکتی ہیں تربت کی طرف

عظمت شبیر کا پایہ نظر آنے لگا
جب کبھی اٹھی نظر مہرِ نبوت کی طرف

جس کو سجدہ میں ملے پشتِ پیمبر پر جگہ
مڑ کے وہ دیکھے گا کیوں تختِ خلافت کی طرف

ہم کو بس شکلِ حسین بن علی آئی نظر
جب نظر اٹھی کبھی قرآں کی سورت کی طرف

ہیں نبی شبیر سے تم بھی بنو شبیر کے
چھوڑ کر سنت کو کیوں جاتے ہو بدعت کی طرف

دل میں سردارِ جواناں جناں ہے جب کلیم
ہم حسینی کس طرح دیکھیں گے جنت کی طرف

[/align][/size]