[size=x-large][align=center]
کیوں ثنائے حیدر صفدر سے گھبراتے ہیں لوگ
نام سنتے ہیں علی کا اور مر جاتے ہیں لوگ

جب نہیں مولود کعبہ سے کوئی نسبت انہیں
جانے پھر کس منہ سوئے بیت حق جاتے ہیں لوگ

کیا خبر تھی مرتضیٰ مولا بنائے جائیں گے
خم تک آکر مصطفیٰ کے ساتھ پچھتاتے ہیں لوگ

بہر سجدہ رکھتے ہیں سر کربلا کی خاک پر
اس طرح رہ کر زمیں پر عرش تک جاتے ہیں لوگ

کربلا ہے بارگاہ سیدِ شبان خلد
کتنی آسانی سے جنت میں چلے جاتے ہیں لوگ

اے فلک شبیر پر آیا یہ کیسا انقلاب
بوسہ لیتے تھے نبی اور تیر برساتے ہیں لوگ

غرق خوں جس طرح قاسم کا سراپا ہوگیا
کیا یونہی نوشاہ کو دنیا میں نہلاتے ہیں لوگ

پیٹتی سر کیوں نہ آتی خیمہ کے در پر رباب
لاش اصغر ڈھونڈنے میدان میں جاتے ہیں لوگ

قلب زینب کہتا تھا عباس سوتے ہو کہاں
چادریں چھنتی ہیں خیمہ میں چلے آتے ہیں لوگ

کہتی تھیں بالی سکینہ کیوں نہیں جاتے ہیں ہم
شام کے ہنگام تو گھر کو چلے جاتے ہیں لوگ

کیا یقیں ہے ظالموں کو اب نہ آئیں گے چچا
کس لئے دکھلا کے پانی ہم کو ترساتے ہیں لوگ

میں مدینہ جاکے نانا سے کہوں گی ماجرا
اُن کا کلمہ پڑھتے ہیں اور ہم کو تڑپاتے ہیں لوگ

کیا خبر تھی ، ہے دیار شام میں یہ رسم بھی
سر دکھا کر باپ کا بچوں کا بہلاتے ہیں لوگ

ہائے وہ بچی کی قسمت ہائے وہ زندان شام
ایسے عالم میں تو خود بے موت مر جاتے ہیں لوگ

ماتم سبط پیمبر کا اثر ہے یہ کلیم
نام سن کر ہم غریبوں کا لرز جاتے ہیں لوگ
[/align][/size]