[size=x-large]-گھر میں داخل ہوئے تو کوئی ٹی وی چینل سانپ کی پھنکار جیسی آوازیں نکال نکال کر ”بریکنک نیوز“ نشر کررہا تھا۔ غالباً کوئی بہت افسوسناک خبر تھی۔ مگر جوں ہی صوفے پر بیٹھی، شوخ و شنگ اشتہارات شروع ہوگئے۔ اب اسکرین پر تو نوجوان لڑکے لڑکیاں اُچھل کود کرکرکے خوش فعلیاں کررہے تھی، لیکن ٹی وی کے آگے بیٹھے ہوئے تمام ناظرین پر افسردگی طاری تھی۔ جوتوں کے فیتے کھولتے ہوئے پوچھا:”کیا کوئی اہم خبر تھی؟“ سب سے چھوٹی بیٹی جو سب سے زیادہ افسردہ تھی، کہنے لگی:”ابوبہت اہم خبر ہے!“ ”کیا ہوا؟“ ”ایک عورت نے اپنے دو بچوں کو قتل کرکے خود کو آگ لگالی“۔ جرابیں اُتارکر لاپروائی سے ایک طرف پھینکتے ہوئے بیٹی کی جذباتی کیفیت کو معمول پر لانے کی کوشش کی:”ارے یہ کون سی اہم خبر ہی؟ یہ تو اب ہمارے ملک میں معمول کی بات بن گئی ہے۔ ملک بھر میں آئے روز اِس قسم کے واقعات رُونما ہورہے ہیں، بھلا یہ کون سی افسوسناک خبر ہی؟“ بیگم صاحبہ جو زمین پر پڑی ہوئی جرابوں کو ابھی تک غیظ وغضب کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں، یہ بات سُنتے ہی مزید طیش میں آگئیں۔ بھڑک کر بولیں:”تمھارے ابو کی نظر میں تو بس ایک ہی خبر اہم اور افسوسناک ہوسکتی ہے“۔ غم و اندوہ سے بھرے ہوئے اور دلخراش خبر سن کر سہمے ہوئے بچوں نے ماں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ جیسے پوچھ رہے ہوں:”وہ کون سی؟“ ماں نے مطلوبہ (اور مفروضہ) خبر سنائی.... بالکل ٹی وی کی ’خبرخواں‘ جیسی چیختی، چنگھاڑتی، بوکھلائی ہوئی آواز اور بلبلائے ہوئے لہجے میں: ”بابر اعوان اور رحمن ملک کو قتل کرکے زرداری نے خود کو آگ لگالی“۔ اب ہمارے بھڑکنے اور طیش میں آنے کی باری تھی:”اری.... اری.... کیسی بدفال مُنھ سے نکال رہی ہو؟!!“ بیگم صاحبہ بھی جذباتی ہوگئیں:”یہ بدفال ہی؟ اور یہ خبر کوئی نیک فال ہی، جسے سننے والی ماو¿ں کے کلیجوں پر چھریاں چل گئی ہیں۔ کوئی سوچ سکتا ہے کہ اُس ماں پر کیا بیتی ہوگی؟ کیا خبر کیا کسی مجبور پہ گزری ہوگی؟ اِن تین جیتی جاگتی جانوں کا وبال پورے معاشرے پر پڑے گا۔ اور ”پڑے گا“ کیا معنی؟ پڑرہا ہے۔ وہ تین جانیں تو قیدِ حیات ہی سے نہیں بندِ غم سے بھی آزاد ہوگئیں۔ اذیت تو اب پسماندگان اور پورے معاشرے کا مقدر ہے“۔ ............٭٭٭............ بیگم صاحبہ کی تقریر تادیر جاری رہی۔ اُن کی باتیں سُن سُن کر ہر بات پر مرحومہ پروین شاکر کی کہی ہوئی ایک بات یاد آتی رہی: ”بات تو سچ ہی، مگر بات ہے رُسوائی کی“ پر یہ رُسوائی کیا چیز ہوتی ہی؟ کب ہوتی ہی؟ کیسے ہوتی ہی؟ اور کس شکل کی ہوتی ہی؟ (بقول محسن بھوپالی: ”مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو....) ملک کے اعلیٰ ترین اور رُسوا ترین قبائل کے کسی شاعر نے بڑی حیرت اور معصومیت سے بذریعہ شعر پوچھا تھا: ”سنتے ہیں کہ بِن باپ کے بچہ نہیں ہوتا۔ پر اپنے قبیلے میں تو ایسا نہیں ہوتا“۔ اگر کسی جاگیردار، وڈیری، نوکرشاہ، سیاست دان، یا حکمران کو جاکر بتائیی:”سرکار بس کیجیے۔ دیکھیے ہر طرف آپ کی رُسوائی ہورہی ہی!“ تو سرکار بڑے پُرشوق انداز سے اپنے جھروکے سے جھانک کر دیکھتے ہیں اور بڑے پُرتجسس لہجے میں پوچھتے ہیں: ”کہاں ہی؟ کس طرف کو ہی؟ کدھرہی؟“ پتا چلتا ہے کہ وہ چلتے چلتے غیروں تک چلی گئی ہے۔آپ کو بھی یہ خبر مل چکی ہوگی کہ غیروں کے یہاں جاکر وینا ملک نے جو ننگ دکھایا ہے اُس سے رحمن ملک نے بڑی رُسوائی محسوس کی ہے۔ چناں چہ ہمارے محترم وفاقی وزیر داخلہ نے اس ”غلط معاملہ“ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہی.... کہ جہاں اتنی”غلط معاملات“ کی تحقیقات ہورہی ہیں، وہیں ایک ”غلط معاملہ“ اور سہی۔ اور سب سے غلط بات یہ ہوئی ہے کہ وینا ملک کے ننگ پر ISI کا ٹیٹو چھاپا گیا ہے۔ لہٰذا تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 124-Aکے تحت وینا ملک پر بغاوت کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے۔ اور دفعہ294 کے تحت فحاشی کا بھی۔ فحاشی کے ارتکاب پر صرف 3ماہ کی قید ہے جب کہ حکومت اور اُس کے اداروں کی توہین پر عمر قید۔ علماءکہتے ہیں کہ وینا نے غیر مسلموں میں جاکر اسلام کو رُسوا کیا، مسلم خواتین کو رُسوا کیا۔ جب کہ حکمراں کہتے ہیں کہ نہیں، غیر ملکیوں میں جاکر ISI کو رُسوا کیا۔ اب دیکھیے وینا کو کس جرم کی سزا ملتی ہی؟ اور ملتی بھی ہے یا نہیں؟ صاحبو! آج کل سب مشکل میں ہیں۔ ایک مشکل وہ ہے جس میں قوم مبتلا ہے۔ دوسری طرح کی مشکل وہ ہے جس میں قوم کے مشکل کُشا مبتلا ہیں۔ دونوں کی مشکل الگ الگ دُنیاو¿ں کی مشکل ہے۔ اور دونوں اپنی اپنی دُنیا میں الگ الگ بلبلاتے پھر رہے ہیں کہ: ”میری مشکل عجیب مشکل ہے!“

ابو نثر
[/size]