+ موضوع کا جواب بھیجیں
نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: مدد چاہیے بھائی

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    1
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    مدد چاہیے بھائی

    [size=medium]اسلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    کیسے ہیں سب ممبرز؟

    ایک مدد چاہیے آپ لوگوں کی

    پاکستان کے قیام کے وقت کتنی ریاستیں تھیں پاکستان کی اور ان کی ہسٹری کیا ہے ان کو کب کب ختم کیا گیا ؟

    اس متعلق کو انفارمیشن ہے تو پلز شیر کریں

    جزاک اللہ
    [/size]

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: مدد چاہیے بھائی

    [size=large]پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھا اور سرحد میں چترال ہنزہ، دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی۔[/size]

  3. #3
    مصنف/ادیب
    تاريخ شموليت
    Sep 2011
    پيغامات
    168
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: مدد چاہیے بھائی

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: admin پيغام ديکھيے
    [size=large]پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھا اور سرحد میں چترال ہنزہ، دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی۔[/size]
    آپ کی تاریخ دانی کو خیراج تحسین پیش کرنے کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کشمیر کا ذکر نہیں کیا ؟


  4. #4
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: مدد چاہیے بھائی

    محترم کشیر اب بھی پاکستان کا مکمل حصہ نہیں بلکہ ایک الگ ریاست کا درجہ رکھتی ہے۔ وہاں کی اپنی پارلیمنٹ ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ بطور ریاست ملحق ہے۔ باقی ریاستیں پاکستان میں ضم ہو گئیں۔ بہرحال میں پھر بھی اسے اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے یاددہانی کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

+ موضوع کا جواب بھیجیں

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University