[align=center][size=xx-large]سی آئی اے کا ایجنٹ پاکستانی ڈاکٹر...آج کی دنیا…اشتیاق بیگ [/size][/align]
اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور اس کے نتیجے میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اس سوال نے ہر پاکستانی کے ذہن میں جنم لیا کہ کس طرح امریکہ کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے تک رسائی حاصل ہوئی اور وہ اپنے مقاصد میں کیسے کامیاب ہوا؟ یہاں تک کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ اس حوالے سے میں وہ پہلا کالم نگار تھا جس نے سب سے پہلے اپنے کالم ”سی آئی اے کی جعلی ویکسی نیشن مہم“ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ کس طرح پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی فراہم کردہ معلومات کے ذریعے امریکہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ کے ٹھکانے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ میں نے پہلی بار یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کو جعلی ویکسی نیشن مہم کا خیال اُس مرحلے پر آیا جب وہ اسامہ کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے کرتے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک پہنچے۔ امریکی اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ آیا اسامہ بن لادن وہاں موجود ہے یا نہیں۔ سی آئی اے کو سیٹلائٹ اور دیگر ذرائع سے اسامہ کے کمپاؤنڈ میں کچھ بچوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا اور یہ معلوم کرنے کے لئے کہ یہ بچے اسامہ کے ہیں انہیں کمپاؤنڈمیں موجود بچوں کا ڈی این اے حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ اس سلسلے میں سی آئی اے نے فاٹا میں شعبہ صحت کے انچارج ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات جعلی پولیو مہم کیلئے بھاری معاوضے پر حاصل کیں۔ اس طرح ڈاکٹر شکیل کی سربراہی میں ویکسی نیشن ٹیم نے ایبٹ آباد میں واقع اسامہ کے کمپاؤنڈ کے قرب و جوار میں جعلی مہم کا آغاز کیا اور ایک نرس اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوئی جس نے ویکسی نیشن کے بہانے گھر میں موجود بچوں کا ڈی این اے حاصل کیا۔ اس دوران ڈاکٹر شکیل خود کمپاؤنڈ کے باہر موجود رہا اور نرس سے ایک چھوٹا ہینڈ بیگ اندر چھوڑ آنے کو کہا جس میں حساس الیکٹرانک آلات موجود تھے۔ ان آلات کی مدد سے کمپاؤنڈ میں ہونے والی مدہم گفتگو بھی ایبٹ آباد میں قائم سی آئی اے کے کیمپ میں سنی جاسکتی تھی۔ اسامہ کے بچوں کے ڈی این اے کی تصدیق کے بعد امریکہ کا شک یقین میں بدل گیا کہ کمپاؤنڈ میں رہائش پذیر شخص اسامہ کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن کے20 دن بعد سیکورٹی اداروں نے ڈاکٹر شکیل کو سی آئی اے سے روابط رکھنے اور ملک سے غداری کے الزام میں حیات آباد پشاور سے گرفتار کیا جو اب تک سرکاری تحویل میں ہے۔ ڈاکٹر شکیل سے مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ اس کی پاکستانی نژاد امریکی بیوی اور بچے روپوش ہیں۔
گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع لیون پنٹا جو اسامہ کے خلاف آپریشن کے دوران سی آئی اے کے چیف تھے نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی سی آئی اے کا مددگار تھا جو امریکہ کو اسامہ کے کمپاؤنڈ تک لے جانے کا ذریعہ بنا۔ لیون پنٹا کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی حکام کو اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم تھا، اسی وجہ سے امریکہ نے اسامہ کے خلاف آپریشن کے بارے میں پاکستانی حکام کو دانستہ لاعلم رکھا۔ انہوں نے کہاکہ ”پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے اس ڈاکٹر کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے جو کسی طرح مناسب نہیں، امریکہ کو اس کی گرفتاری پر انتہائی تشویش ہے کیونکہ ڈاکٹر کا عمل پاکستان کے خلاف بغاوت نہیں، اس نے دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے جو معلومات سی آئی اے کو فراہم کیں، اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا جو پاکستان کے مفاد میں بھی ہے اور حکومت پاکستان کو ایک نہ ایک دن اسے رہا کرنا پڑے گا“۔ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں پاکستانی حکام نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی پاکستانی میڈیا میں ڈاکٹر شکیل کا معاملہ ٹھنڈا پڑتا ہے اسے رہا کرکے امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ اس طرح ملک کا غدار پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگا کر اور اسامہ کے سر کی کروڑوں ڈالر کی قیمت وصول کرکے امریکہ میں اپنی بقیہ زندگی فیملی کے ساتھ عیش و آرام کے ساتھ گزار سکے گا۔
جعلی ویکسی نیشن مہم کے ذریعے اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کا ڈی این اے حاصل کرنے کے اسکینڈل کے انکشاف کے بعد مختلف قسم کی افواہوں کو تقویت ملی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس اور پولیو کی بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں اور قطروں کی مہم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اندرون سندھ میں پولیو کے خلاف مہم کے انچارج ڈاکٹر مسعود سندھو نے مجھے بتایا کہ جعلی ویکسی نیشن مہم کے بعد کئی خاندان بچوں کو ٹیکے لگوانے سے گریز کررہے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ دوائیں منظم منصوبے کے تحت بچوں کو دی جارہی ہیں جو مسلمانوں کے خلاف مغربی ممالک کی تیار کی ہوئی سازش کا ایک حصہ ہے، اسی انکار کی وجہ سے2011ء میں پاکستان میں 197پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایک ارب سے زائد آبادی رکھنے والے ملک انڈیا میں پولیو کا صرف ایک کیس سامنے آیا۔ ایسے میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ عوام کو اعتماد میں لے کر ان پر واضح کرے کہ ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
حال ہی میں ایبٹ آباد کمیشن نے امریکی دباؤ میں آئے بغیر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے تاکہ عدالت اس کے مستقبل کا فیصلہ کرسکے جو ایک مثبت قدم اور ملک دشمن عناصر کیلئے ایک سخت پیغام ہے کہ وطن سے غداری کے مرتکب عناصر کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔بلاشبہ ایسے عناصر کو کڑی سزا ملنی چاہئے تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور آئندہ کوئی بھی شخص ملک کے خلاف ایسی کسی گھناؤنی سازش کا حصہ بننے کی جرأت نہ کرسکے۔