صفحہ 1 از 25 12311 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 244

موضوع: شاعرو شاعری

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    شاعرو شاعری

    [size=xx-large][align=center]ابن انشاء[/align][/size]
    [align=center]

    [/align]
    [size=x-large]ابن انشاء شاعر، مزاح نگار، اصلی نام شیر محمد خان تھا۔ جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ء میں نشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈوپلمنٹ پروگریم کے وائس چیرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگریم ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی ، اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکےفکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر 1900ء اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔ یونیسکو کےمشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں چلتے ہو چین چلو ، آوارہ گرد کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔ اس کے علاوہ اردو کی آخری کتاب ، اور خمار گندم ان کے فکاہیہ کالموں کے مجموعے ہیں۔ [/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=x-large][align=center]January 8, 1952 : ابن انشاء

    آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے
    کھو گئے ہیں کہاں تلاش کرو
    دامن چاک کے ستاروں کو
    کھا گیا آسماں تلاش کرو
    ڈھونڈ کے لاؤ یوسفوں کے تیس
    کارواں کارواں تلاش کرو
    ناتواں زیست کے سہاروں کو
    یہ جہاں وہ جہاں تلاش کرو
    گیس آنسو رلا رہی ہے غضب
    چار جانب پولس کا ڈیرا ہے
    گولیوں کی زبان چلتی ہے
    شہر میں موت کا بسیرا ہے
    کون دیکھے تڑپنے والوں میں
    کون تیرا ہے کون میرا ہے
    آج پھر اپنے نونہالوں کو
    صدر میں وحشیوں نے گھیرا ہے
    حکم تھا ناروا گلہ نہ کرو
    خون بہنے لگے جو راہوں میں
    یعنی سرکار کو خفا نہ کرو
    پی گئے بجلیاں نگاہوں میں
    آج دیکھو نیاز مندوں کو
    خون ناحق کے داد خواہوں میں
    سرنگوں اور خموش صف بستہ
    کتنے لاشے لیے ہیں باہوں میں
    آستینوں کے داغ دھو لو گے
    قاتلوں آسماں تو دیکھتا ہے
    چین کی نیند جا کے سو لو گے
    تم کو سارا جہاں تو دیکھتا ہے
    قسمت خلق کے خداوند
    تم سے خلقت حساب مانگتی ہے
    روح فرعونیت کے فرزندو
    بولو بولو۔۔۔۔۔۔جواب مانگتی ہے[/align]
    [/size]

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=xx-large][align=center]جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
    برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
    سینے میں لیے سینے کی دُکھن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
    کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
    پر اس کا چلن وحشی کا چلن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
    آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
    لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
    وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
    پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

    رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
    انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
    اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
    آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن[/align]
    [/size]

  4. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    ابھی تو محبوب کا تصور بھی پتلیوں سے مٹا نہیں تھا
    گراز بستر کی سلوٹیں ہی میں آسماتی ہے نیند رانی
    ابھی ہو اول گزرنے پایا نہیں ستاروں کے کارواں کا
    ابھی میں اپنے سے کہہ رہا تھا شب گزشتہ کی اک کہانی
    ابھی مرے دوست کے مکاں کے ہرے دریچوں کی چلمنوں سے
    سحر کی دھندلی صباحتوں کا غبار چھن چھن کے آ رہا ہے
    ابھی روانہ ہوئے ہیں منڈی سے قافلے اونٹ گاڑ یوں کے
    فضا میں شور ان گھنٹیوں کا عجب جادو جگا رہا ہے

  5. #5
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=xx-large][align=center]در سے تو ان کے ا ٹھ ہی چکا ہے کہہ دو جی سے بھلانے کو
    لے گئے ہاتھوں ہاتھ ا ٹھا کر لوگ کہیں دیوانے کو

    اے دل وحشی دشت میں ہم کو کیا کیا عیش میسر ہیں
    کانٹے بھی چب جانے کو ہیں تلوے بھی سہلانے کو
    ان سے یہ پوچھو کل کیوں ہم کو دشت کی راہ دکھائی تھی
    شہر کا شہر امڈ آیا آج یہی سمجھانے کو[/align]
    [/size]

  6. #6
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [align=center]لو وہ چاہِ شب سے نکلا، پچھلے پہر پیلا مہتاب
    ذہن نے کھولی، رُکتے رُکتے، ماضی کی پارینہ کتاب
    یادوں کے بے معنی دفتر، خوابوں کے افسردہ شہاب
    سب کے سب خاموش زباں سے، کہتے ہیں اے خانہ خراب
    گُزری بات، صدی یا پل ہو، گُزری بات ہے نقش بر آب
    یہ رُوداد ہے اپنے سفر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    شہرِ تمنّا کے مرکز میں، لگا ہُوا ہے میلا سا
    کھیل کھلونوں کا ہر سو ہے، اک رنگیں گُلزار کھلا
    وہ اک بالک، جس کو گھر سے ، اک درہم بھی نہیں ملا
    میلے کی سج دھج میں کھو کر، باپ کی اُنگلی چھوڑ گیا
    ہوش آیا تو، خُود کو تنہا پا کے بہت حیران ہوا
    بھیڑ میں راہ ملی نہی گھر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    وہ بالک ہے آج بھی حیراں، میلا جیوں کا تُوں ہے لگا
    حیراں ہے، بازار میں چُپ چُپ ،کیا کیا بِکتا ہے سودا
    کہیں شرافت، کہیں نجات، کہیں مُحبّت، کہیں وفا
    آل اولاد کہیں بِکتی ہے، کہیں بُزرگ، اور کہیں خُدا
    ہم نے اس احمق کو آخر، اِسی تَذبذُب میں چھوڑا
    اور نکالی، راہ مَفر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    رہ نوردِ شوق کو، راہ میں، کیسے کیسے یار مِلے
    ابرِ بہاراں، عکسِ نگاراں، خالِ رُخِ دلدار مِلے
    کچھ بلکل مٹّی کے مادُھو، کچھ خنجر کی دھار مِلے
    کچھ منجدھار میں، کچھ ساحل پر، کچھ دریا کے پار مِلے
    ہم سب سے ہر حال میں لیکن، یُونہی ہاتھ پسار مِلے
    اُن کی ہر خُوبی پہ نظر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    ساری ہے بے ربط کہانی، دُھندلے دُھندلے ہیں اوراق
    کہاں ہیں وہ سب، جن سے جب تھی، پل بھر کی دُوری بھی شاق
    کہیں کوئ ناسُو ر نہیں، گو حائل ہے، برسوں کا فراق
    کِرم فراموشی نے دیکھو، چاٹ لۓ کتنے میثاق
    وہ بھی ہم کو رو بیٹھے ہیں، چلو ہُوا قِصّہ بے باق
    کُھلی، تو آخر بات اثر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
    خوار ہُوۓ دمڑی کے پیچھے، اور کبھی جھولی بھر مال
    ایسے چھوڑ کے اُٹّھے، جیسے چھُوا، تو کر دے کا کنگال
    سیانے بن کر بات بِگاڑی، ٹھیک پڑی سادہ سی چال
    چھانا دشتِ محبّت کتنا، آبلہ پا، مجنوں کی مثال
    کبھی سکندر، کبھی قلندر، کبھی بگُولا، کبھی خیال
    سوانگ رچاۓ، اور گُزر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    زیست، خُدا جانے ہے کیا شے، بُھوک، تجسّس، اشک، فرار
    پھوُل سے بچّے، زُہرہ جبینیں، مرد، مجسّم باغ و بہار
    مُرجھا جاتے ہیں کیوں اکثر، کون ہے وہ جس نے بیمار
    :کیا ہے رُوحِ ارض کو آخر، اور یہ زہریلے افکار
    کس مٹّی سے اُگتے ہیں سب، جینا کیوں ہے اک بیگار
    ان باتوں سے قطع نظر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

    دُور کہیں وہ کوئل کُوکی، رات کے سنّاٹے میں، دُور
    کچّی زمیں پر بِکھرا ہوگا، مہکا مہکا آم کا بُور
    بارِ مُشقّت کم کرنے کو، کھلیانوں میں کام سے چُور
    کم سِن لڑکے گاتے ہوں گے، لو دیکھو وہ صبح کا نُور
    چاہِ شب سے پھُوٹ کے نکلا، میں مغموم، کبھی مسُرور
    سوچ رہا ہوں، اِدھر اُدھر کی، اس آباد خرابے میں
    دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں[/align]

  7. #7
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [align=center]اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے
    اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے

    ہم اہل محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے
    ہم اہل محبت کو آزاد جوانی ہے

    ہاں چاند کے داغوں کو سینے میں بساتے ہیں
    دنیا کہے دیوانا ۔۔۔ دنیا دیوانی ہے

    اک بات مگر ہم بھی پوچھیں جو اجازت
    کیوں تم نے یہ غم یہ کر پردیس کی ٹھانی ہے

    سکھ لے کر چلے جانا ، دکھ دے کر چلے جا نا
    کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے

    ہدیہ دل مفلس کا چھ شعر غزل کے ہیں
    قیمت میں تو ہلکے ہیں انشا کی نشانی ہے[/align]

  8. #8
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=x-large][align=center]اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں، یاد رہے گا

    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
    وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

    کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے نسخے
    اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا

    جاں بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت
    وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا

    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
    تو، یاد رہے گا، ہاں ہمیں یاد رہے گا[/align]
    [/size]

  9. #9
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=xx-large][align=center]ہم گُھوم چکے بَستی بَن میں
    اِک آس کی پھانس لیے مَن میں
    کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
    کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
    جب جیون رات اندھیری ہو
    اِک بار کہو تم میری ہو

    جب ساون بادل چھائے ہوں
    جب پھاگن پُول کِھلائے ہوں
    جب چندا رُوپ لُٹا تا ہو
    جب سُورج دُھوپ نہا تا ہو
    یا شام نے بستی گھیری ہو
    اِک بار کہو تم میری ہو

    ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
    کیوں گوری کا دل مَیلا ہے
    ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
    تم کب تک دُور جھروکے میں
    کب دید سے دل کو سیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو

    کیا جھگڑا سُود خسارے کا
    یہ کاج نہیں بنجارے کا
    سب سونا رُوپ لے جائے
    سب دُنیا، دُنیا لے جائے
    تم ایک مجھے بہتیری ہو
    اک بار کہو تم میری ہو[/align]
    [/size]

  10. #10
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,877
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شاعرو شاعری

    [size=xx-large][align=center]ہونے والا ہوں جدا تیرے نواحات سے آج
    اے کہ موجیں ہیں تری شاہ سمندر کا خراج
    اب نہ آؤں گا کبھی سیر کو ساحل پہ ترے
    الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
    لاکھ ضو ریز ہوں خورشید ترے پانی پر
    عکس افگن ہو اس آئینے میں سو بار قمر
    پر نہ آؤں گاسیر کو ساحل پہ ترے
    الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
    پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری

    پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری
    کوئی طوفاں متلاطم سر جودی آیا
    سینٹ برنارڈ کے کتوں نے جو نہ خوشبو پائی
    برف نے لا شئر آدم بہ زمیں دفنایا
    سینگ بدلے ہیں زمیں گاؤ نے حیراں ہو کر
    یا مہا دیو غضبناک ہوا چلا یا
    بطن اٹناسے ابلتے ہوئے لاوے کا خروش
    صرصر موت نے ہر چار جہت پہنچا یا
    پمپیائی کے جھروکے ہوئے یکسر مسدور
    آل قابیل نے دنیا کا قبالہ پایا[/align]
    [/size]

صفحہ 1 از 25 12311 ... آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University