نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: میجر محمد اکرم شہید

  1. #1
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    میجر محمد اکرم شہید

    [size=large][align=center]لب چومنے غازی کے پھر آج دعا آئی
    پھر نصر من اللہ کی سینوں سے صدا آئی
    پھر شیرِ خدا جاگے پھر وقت جہاد آیا
    پھر آج شہیدوں کا خوں رنگِ حنا لایا[/align][/size]

    “سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرار داد کے تحت ہم نے سیز فائر کر دیا ہے مگر مجھے پتہ چلا ہے تم لوگ اس کے باوجود اپنے مکروہ عزائم کی خاطر آگے بڑھنا چاہتے ہو۔ میں ایک مسلمان ہوں۔ عہد توڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اگر تم نے سکھا شاہی کے تحت ایک قدم بھی میری پاک سر زمین کی طرف بڑھانے کی کوشش کی تو اس کے نتائج تمہارے حق میں بہت بُرے ہوں گے۔ اب جو اقدام بھی کرو سوچ سمجھ کر کرنا۔“
    یہ تھا وہ پیغام جو ستمبر 1965 کی زبردست جنگ کے اختتام پر سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کی ہدایات کے بعد میجر محمر اکرم شہید نے اس وقت بھارتی فوج کے ایک سکھ کمانڈر کو بھیجا جو عیاری سے کام لیتے ہوئے اس جنگ بندی کی آذ میں آگے بڑھنے کے منصوبے باندھ رہا تھا۔
    میجر محمر اکرم شہید کا یہ کھلا کھلا اور ہر ابہام سے پاک پیغام نہ تھا بلکہ وہ گھونسہ تھا جو سکھ کرنل کے سر پر پڑا اور اسے ہوش آ گیا۔ اسے اس بارے میں پھر سوچنے کی بھی جرات نہ ہوئی۔
    1971 کی پاک بھارت جنگ ہوئی تو میجر محمر اکرم شہید پہلےسے مشرقی پاکستان میں تعینات تھے۔ اسی جنگ میں ملک و ملت کی خاطر کارہائے نمایاں سر انجام دیتے ہوئے انہوں نے مرتبہ شہادت پایا۔ جنگ دسمبر 1971 سے بہت پہلے بھارت چھیڑ خانی شروع کر چکا تھا جو بلآخر بنگالیوں کی غداری اور پاک فوج کے بے شمار جیالوں کی شہادت اور گرفتاری پر اختتام پذیر ہوئی۔
    برطانوی اخبار یارک شائر پوسٹ نے اپنی یکم اپریل 1971 کی اشاعت میں لکھا:
    “پاکستان میں بھارت کی تخریبی کوششیں، مشرقی پاکستان میں زرد صحافت اور پانچویں کالم کی سرپرستی اور پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا مشینی عمل بجائے خود اپنے پیچھے ایک طویل تاریخ کا حامل ہے۔“
    اس تحریر کا سیاق و سباق دیکھا جائے تو سب سے پہلی بات یہ سامنے آتی ہے کہ بھارت نے آج تک پاکستان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا۔ اس نے قیام پاکستان کے بعد سے آض تک اپنی ریشہ دوانیاں اندر ہی اندر جاری رکھیں جن کی ایک جھلک 1967 میں ظاہر ہوئی جب اگرتلہ سازش کیس سامنے آیا۔ اس سازش کیس کی تحقیقات کے دوران متعدد افراد نے حلفاََ اس بات کا اقرار کیا کہ شیخ مجیب الرحٰمن ستمبر 1964 ہی میں اس سازش کا ایک عملی مہرہ بن چکا تھا۔ اس زمانے میں شیخ مجیب الرحٰمن نے سازشیوں کے ایک اجلاس میں باقاعدہ شرکت کی۔ یہ اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اس گھناؤنے اجلاس میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنے کے لئے ایک ناپاک سازش تیار کی گئی جس کے لئے اسی اجلاس میں ایک انقلابی تنظیم تشکیل دی گئی۔
    اس سازش کا محور و مرکز اگرتلہ سازش کیس تھا جس کی منصوبہ بندی میں درج ذیل امور شامل تھے:
    1:۔ اچانک کاروائی کر کے اسلحہ ڈپوؤں پر قبضہ کر لیا جائے۔
    2:۔ اس کے فوری بعد فوجی یونٹ مفلوج اور معطل کر دئیے جائیں۔
    3:۔ سارا منصوبہ کمانڈو ایکشن کا حامل ہو گا۔
    4:۔ کمانڈو ایکشن کی افادیت یہ ہے کہ ایک دم، بے خبری میں کئے جانے والے ایکشن ہی سے افرادی قوت کی کمی پوری ہو سکے گی۔
    کمانڈو ایکشن کی تمام تر تفصیلات طے کرنے کے لئے سازش میں شریک مقامی علیحدگی پسندوں اور بھارتی نمائندوں کا مشترکہ اجلاس اگرتلہ کے مقام پر ہوا جس کے افشا ہونے پر سازش میں شریک تمام اہم مہروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری دسمبر 1967 میں عمل میں* آئی۔
    گرفتار شدگان میں شیخ مجیب الر حٰمن بھی شامل تھا۔
    گرفتار ہونے والوں سے جب تفتیش کی گئی تو ایک فرد نے بتایا کہ بھارت نے اس سازش کی کامیابی پر مالی امداد کے علاوہ مشرقی پاکستان میں منظم اور مسلح بغاوت کرا دینے کے لئے بھی تیاری کر رکھی تھی۔ اس کے لئے بھارتی حکام نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں مسلح بغاوت سے پہلے، مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان سے ملانے والے بحری اور فضائی دونوں راستے بند کر دئیے جائیں گے تاکہ اس بغاوت کو کچلنے کے لئے کوئی موثر کاروائی نہ ہو سکے۔
    یہ منصوبہ ناکام ہو گیا مگر اس کے مضمرات کو بھارت نے اپنی آئیندہ سازشوں کے لئے محفوظ کر لیا۔ فروری 1971 میں دوبارہ کام وہیں سے شروع کیا گیا جہاں سے 1967 میں سلسلہ ٹوٹا تھا۔
    دو بھارتی ایجنٹ مقبوضہ کشمیر سے ایک بھارتی طیارہ بڑے ڈرامائی انداز میں ہائی جیک کر کے لاہور ائیرپورٹ پر لائے اور اسے نذر آتش کر دیا۔
    زمین ایک بار پھر تیار کی گئی۔ ہل چلا دیا گیا۔ بیج ڈالنے کے لئے بھارت نے عذر تراشا اور پی آئی اے سمیت تمام پروازوں کو اپنے علاقوں پر سے گزرنے سے روک دینے کے احکامات جاری کر دئیے۔ پاکستان کے لئے مشرقی پاکستان جانے کا فضائی راستہ بلاک کر دیا گیا۔
    فروری 1971 میں بھارت کے صوبہ مغربی بنگال میں الیکشن کا انعقاد ہوا۔ بھارت نے الیکشن کے حفاظتی انتظامات کی آڑ لے کر مغربی بنگال میں فوجی دستے بھیج دئیے جو بظاہر ایک روٹین ورک تھا۔ الیکشن ختم ہو گئے اور ہوا یہ کہ روانہ کردہ بھارتی افواج تو واپس کیا آتیں، مزید فوجی ڈویژن مغربی بنگال پہنچا دئیے گئے جو مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر پوزیشنیں سنبھالنے لگے۔
    چند دنوں میں بھارت کی سات ڈویژن افواج نے مشرقی پاکستان کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی فضائیہ اور چھاتہ بردار دستوں نے بھی کام شروع کر دیا۔ اس کے چند دن بعد بارڈر سکیورٹی فورس کی 25 بٹالینوں نے بھی مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر مورچے سنبھال لئے۔
    عالمی اعتراضات سے بچنے کے لئے بھارتی فوجی جیپوں اور گاڑیوں کے فوجی نشانات مٹا کر ان پر شہری مارک لگا دئیے گئے تاکہ ان جیپوں اور گاڑیوں کو مشرقی پاکستان میں داخل کیا جا سکے اور ان کے ساتھ وہاں پہنچ جانے والے باغیوں اور سازشیوں کے ساتھ شریک ہو کر تخریبی کاروائیوں میں حصہ لے سکیں۔
    اب بحری علاقے باقی رہ گئے۔ بھارت نے اس طرف بھی اپنا دست منحوس بڑھایا اور مشرقی پاکستان جانے والے بحری جہازوں کو روکنا یا ان پر چھوٹے موٹے حملے کرنا اور ان کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ تخریبی کاروائیوں کا یہ انداز بے حد مجرمانہ تھا جس کے مضر اثرات اس وقت کے پاکستانی فوجی حکام کو جگانے کے لئے کافی تھے مگر شومئی قسمت کہ جنرل یحٰیی خان کی شراب نوشی نے اس کی نیند طویل اور گہری کر دی۔
    1971 ایک ایسا توریک سال ہے جو ہماری ملی تاریخ کے دل میں ہمیشہ ناسور بن کر ٹیس دیتا رہے گا۔ 21 اپریل 1971 کو بھارتی نیوی نے پاکستان کے ایک بحری جہاز“ اوشن ایمریس“ کا اپنے ساحل سے ستر میل دور تک کھلے سمندر میں اس بری طرح تعاقب کیا کہ اسے واپس کراچی کے ساحل پر آ کر لنگر انداز ہونا پڑا۔ یہ بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
    اسی طرح کا دوسرا واقعہ پاکستان سے چٹا گانگ جانے والے بحری جہاز سفینہ عرب کے ساتھ دہرایا گیا۔ اس مرتبہ بھارت نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور اس جہاز کی سمندر میں موجودگی کے دوران زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی آزمائشی مشقیں شروع کر دیں۔یہ میزائل ایک سو تئیس میل دور تک مار کرتے تھے اور جنوبی ساحل پر نصب تھے۔
    بھارت کی اس مجرمانہ کاروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پی آئی اے کے ان طیاروں کو میزائلوں سے بچنے کے لئے انتہائی جنوب کی طرف پرواز کرنے پر مجبور ہونا پڑا جو مشرقی پاکستان کے لئے روانہ ہوتے تھے۔
    پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہ ہونے پر بھارت کا حوصلہ مزید بڑھا۔ اس نے اپنی فضائیہ کو ایسی سرگرمیاں شروع کرنے کی آزادی دے دی جو جنگ سے پہلے کی جاتی ہیں۔ یعنی ایک طرح سے اس نے جنگ کے نقارے پر پہلی چوٹ لگا دی۔
    بھارت کے ہنٹر طیارے مشرقی پاکستان کے مشرقی ساحل پر مسلسل پروازیں کرنے لگے۔ خلیج بنگال میں پاکستانی جہازوں کی نقل و حرکت پر نگرانی رکھنے کے لئے ان ہنٹرز کو کلکتہ کے قریب متعین کر دیا گیا۔ اس علاقے کا نام بارک پور ہے۔
    اگلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ بھارت کی بارڈر فورس کے فوجی مشرقی پاکستان کے اندر کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی روپ میں گھسنا شروع ہو گئے۔ ان کے ذریعے اور ان کی مہیا کردہ اطلاعات کی روشنی میں دوسرے مقامات سے بھارتی حکومت نے مشرقی پاکستان میں موجود علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی شروع کر دی۔
    پاک فوج نے ان حالات میں جب بھی کہیں کاروائی کی ان کے ہاتھ علیحدگی پسندوں کی گرفتاری کے وقت جو رائفلیں یا گولہ بارود اور دوسرا جنگی سامان ہاتھ لگا، اس سب پر بھارتی ایمونیشن فیکٹریوں کی مہریں موجود تھیں۔
    بھارت کے اس تخریبی رویے کے ذمے دار ہونے کا مزید ثبوت تلاش کرنا بے کار تھا۔اس ابتدائی آپریشن کے ذمے دار جب گرفتار ہوئے تو انکشاف ہوا کہ ان تخریبی کاروائیوں میں بھارتی بارڈر فورس کی 73۔76۔77۔81۔103 اور 104 بٹالین نے حصہ لیا تھا جن کی قیادت بھارتی فوج کے سینئر آفیسرز کر رہے تھے۔ علیحدگی پسندوں کو بھارت کی مالی اور فوجی سرپرستی پوری طرح حاصل تھی۔ اس کا ثبوت یہ بھی تھا کہ ان قائدین میں سے ایک بھارت کے 61 بریگیڈ کا کمانڈر تھا جس کو وہاں فوج نے ایک کاروائی کے دوران گرفتار کیا۔
    اس کمانڈر نے جو انکشافات کئے ان کے مطابق سرحدی علاقوں میں پناہ گزینوں کے کیمپ بھی بھارتی اعلٰی آفیسرز کے ایما پر قائم کئے گئے تھے جنہیں دراصل بھارتی تخریب کاروں اور مقامی علیحدگی پسندوں کی فوجی ٹریننگ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔انہیں کیمپوں سے ملک دشمن عناصر کو روپیہ اور اسلحہ کی سپلائی ہوتی تھی اور شرپسندوں کی کمین گاہیں بھی یہی کیمپ تھے۔
    شیخ مجیب الرحمٰن بھارت کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ اس کو اپنے ایجنٹ کے طور پر بھارت نے اس طرح شہ سرخیوں کی زینت بنایا کہ وہ ایک لیڈر کے طور پر مشرقی پاکستان میں دن بدن مقبول ہونے لگا اسے ایک عام بنگالی سے “ بنگلا بندھو“ بنانے میں، مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ بھارتی پروپیگنڈا سیل پوری طرح شامل تھا۔
    بھارت کی اس وقت کی وزیرِ اعظم اندراگاندھی نے اپنے بونے شیخ مجیب الرحمٰن کا قد بلند کرنے کے لئے 4 اپریل 1971 میں اس کی امداد کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اس کے لئے چندہ مہم شروع کرنے کی اپیل کی۔
    بھارتی حکومت کی سرپرستی میں سارے بھارت میں چندہ مہم کمیٹیاں قائم کر دی گئیں۔ بھارتی صوبہ بہار کے وزیرِ اعلٰی نے اپنے صوبے کی طرف سے 25 لاکھ روپے چندہ دان کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ:
    “ صبہ بہار، مجوزہ بنگلہ دیش کی فوجِ آزادی کو اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی دے گا۔“
    یہ ایک دن میں ہو جانے والے کام نہیں تھے۔ ان مکروہ اقدامات کی بہت پہلے سے تیاری شروع کی گئی تھی۔ شیخ مجیب اور اس کی غیر قانونی قرار دی جانے والی کالعدم جماعت “ عوامی لیگ“ نے برسوں پہلے اس فوجی مہم کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ نام نہاد “فوجِ آزادی“ کی تشکیل اندر ہی اندر کئی سالوں میں ہوئی تھی اور آج اس کا سب سے پہلا نشانہ مشرقی پاکستان کا شہر چٹاگانگ تھا۔
    منصوبہ یہ تھا کہ چٹا گانگ کی بندرگاہ کو تباہ کر دیا جائے۔ اس بندرگاہ کو تباہ کر دینے کے بعد جو مشکلات سامنے آتیں وہ یہ تھیں:
    1:۔ مغربی پاکستانی افواج کے لئے بحری راستے سے مشرقی پاکستان پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا کیونکہ فضائی راستے پہلے ہی بھارت نے بند کر دئیے تھے اور بری راستہ کوئی تھا نہیں۔
    2:۔ چٹا گانگ کے بعد فوجِ آزادی کو ڈھاکا پر قبضہ کرنا آسان ہو جاتا جو پاکستانی افواج کے لئے ایک ایسا چیلنج بن جاتا جس کا سامنا کرنے میں خطرات سے زیادہ ناکامیاں شد راہ تھیں۔
    3:۔ ڈھاکا، پاکستانی افواج کا سب سے بڑا آرمی بیس تھا۔ اگر فوجِ آزادی اس پر قبضہ جما لیتی تو آپریشن کے لئے پاکستانی افواج کے پاس کوئی متبادل جگہ بھی نہیں تھی۔
    کالعدم عوامی لیگ اپنے ناپاک عزائم کی خاطر مہینوں بلکہ سالوں سے بھارتی مقامی ذرائع سے اسلحہ جمع کر رہی تھی جو اس کے خفیہ ٹھکانوں پر انباروں کی شکل میں موجود تھا۔
    اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل یحیٰی خان نے نجانے کس رو میں بہہ کر یہ نیک کام کیا کہ 26 مارچ 1971 کو اس راز سے پردہ ہٹا دیا کہ عوامی لیگ ملک میں مسلح بغاوت کے لئے اسلحہ جمع کر رہی ہے جو بہت سے چھاپوں کے دوران قبضہ میں لیا گیا۔ اس اسلحے کے عینی شاہد بہت سے غیر ملکی نامہ نگاروں اور مبصروں نے اقرار کیا کہ یہ اسلحہ بھارتی حکومت کا فراہم کردہ تھا۔ مگر جو اسلحہ پکڑا گیا، اس سے بہت مقدار میں اسلحہ ابھی باغیوں اور غداروں کی جماعت عوامی لیگ کے بے شمار خفیہ ٹھکانوں پر موجود تھا جن کے بارے میں حکومتی مشینری لاعلم تھی۔
    پاکستانی افواج نے مشرقی پاکستان میں جتنی بھی عملی کاروائی کی اس کا نشانہ باغی، غدار، مداخلت کار، بھارتی ایجنٹ اور کالعدم عوامی لیگ کے شرپسند کارکن تھے۔ بھارت نے ان کاروائیوں کو مشرقی پاکستان کے “ معصوم“ بنگالیوں کے خلاف انتقامی اور ظالمانہ اقدامات کا رنگ دے کر عالمی سطح پر ایسا واویلا کیا کہ ہر سننے والا کان اور دیکھنے والی آنکھ اس پر یقین کرنے لگی کہ واقعی پاکستانی افواج کے بارے میں جو کہا جا رہا ہے وہ سچ ہے۔
    اصل میں شیخ مجیب کی حالت اسی وقت خراب ہو گئی تھی جب 1970 کے عام انتخاب میں اس کی پارٹی عوامی لیگ نے 98 فیصد نشستیں حاصل کی تھیں۔ ان نشتوں کے حول میں اس کے چھ نکات پر مشتمل منشور نے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا اور اس غیر معمولی کامیابی نے اسے شیخ مجیب سے بنگلا بندھو بننے میں بڑی مدد دی۔ اسی وقت سے وہ اور اس کی پارٹی کے نشریاتی سیل نے اونگے بونگے بیانات دے دے کر اپنی اہمیت بڑھانے کی جو کوششیں شروع کی تھیں، موجودہ صورتحال میں بھارت کی مواصلاتی مدد نے اس میں رنگ بھر دیا اور اب عوامی لیگ کے بیانات سے*صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان کو ایک خود مختار ملک بنگلہ دیش کا روپ دینا چاہتی ہے۔
    یکم مارچ 1971 کو عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں نام نہاد متوازی حکومت کے قیام کا اعلان کرتے ہی سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ یہ علی الاعلان بغاوت تھی جس کا ایک شرمناک پہلو یہ تھا یہ مارچ کے پورے مہینے میں مغربی پاکستان کے باشندوں اور بہاریوں کا مشرقی پاکستان میں ایسا ظالمانہ قتلِ عام کیا گیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس افسوسناک صورتِ حال کی سنگینی کے تابوت میں شیخ مجیب نے صدر یحیٰی کو یہ تجویز دے کر آخری کیل بھی ٹھونک دیا کہ:
    “ قومی اسمبلی کو دو کمیٹیوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ دونوں صوبوں کے مفادات کو الگ الگ تحفظ فراہم ہو سکے۔“
    پھر مغربی پاکستان کے سیاسی لیڈروں اور جنرل یحٰیی خان کی بے بسی نے وہ دن طلوع ہوتے دیکھا جب یحیٰی خان نے مشرقی پاکستان میں باغیوں کی سرکوبی کے لئے مسلح افواج کو کاروائی کی اجازت دے دی۔ یہ پانی سر سے گزر جانے پر چیخ و پکار والی بات تھی۔ حالات کو اس نہج پر لانے میں جنرل یحیٰی خان کی مجرمانہ غفلت کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا مگر فوج اپنے فرائض سے کبھی غافل نہیں ہوتی۔ فوجی حکام نے جنرل یحیٰی کے احکامات وصول کئے اور 26 مارچ 1971 کو باغی عناصر کے خلاف اقدامات شروع کر دئیے۔
    ان دگرگوں، مخالفانہ اور پُر خطر حالات میں پاک فوج نے جس ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ بعد میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران جنرل ٹکا خان، مارشل لا ایڈمنسٹریٹر زون بی نے کہا:
    “ مشرقی پاکستان کے ان خراب ترین حالات میں جب ہم نے فوجی کاروائی شروع کی تو ہمیں مقامی عناصر کی طرف سے مشتعل اور تنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی۔ ہماری راشن سپلائی کاٹ دی جاتی یا بند کر دی جاتی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے پاس خوراک کے وسیع ذخائر موجود تھے مگر نظامِ رسد میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ چھاؤنیوں میں موجود ہر دکاندار نے اشیائے خور و نوش ہمارے ہاتھ فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ ایم ای ایس کے سول بنگالی ملازمین کبھی ہماری برقی رو معطل کر دیتے اور کبھی پانی کا کنکشن کاٹ دیتے۔ ہمارا کوئی فوجی یا آفیسر تنہا شہر میں جاتا تو اس کو گالیاں دی جاتیں۔ ذلیل کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جاتا۔ داؤ لگتا تو ان کو مارا پیٹا بھی جاتا۔ شریر اور مفسدہ پرداز عناصر کا اصل ہدف پاک پوج تھی جس کے گرد وہ ہر پہلو سے اپنا گھیرا اس طرح تنگ کر رہے تھے جس کے بارے میں دور کے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔“
    23 مارچ 1971 یومِ جمہوریہ کے دن پورے مشرقی پاکستان میں پاکستانی سبز پرچم ایک منظم سازش کے تحت نذرِ آتش کئے گئے اور جگہ جگہ بلکہ چند مقامات چھوڑ کر ہر مقام پر بنگلہ دیش کا مجوزہ جھنڈا لہرا دیا گیا۔ بانی پاکستان قائدِ اعظم کی تصاویر کی بے حرمتی کی گئی۔ گلی کوچوں میں صرف تین تعرے گونج رہے تھے:
    جے بانگلہ
    آمار شونار بانگلہ
    اے یار او یار بنگلہ۔ دوئی ملی سونار بنگلہ
    اس صورتحال کو دیکھ کر کوئی اجنبی بھی کہہ سکتا تھا کہ سیاسی مذاکرات کی آڑ میں ملک دشمن عناصر عوام کو بغاوت پر اکسا چکے تھے۔ پورے ملک میں کالعدم عوامی لیگ کے رضا کاروں نے اودھم مچا رکھا تھا۔ محبانِ وطن کی عزت و آبرو ان کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی تھی۔ جانیں تلف ہو رہی تھیں۔ غیر بنگالی کو صرف رسوائی، قتل و غارت اور بے آبروئی کا سامنا تھا۔
    بہ نظرِ انصاف دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال صرف اور صرف فوجی آپریشن کی متقاضی تھی جو جنرل یحیٰی خان نے شروع کرنے کا حکم دے دیا جبکہ اس آپریشن کے شروع ہونے پر پاک فوج مشرقی پاکستان کے 54 ہزار مربع میل کے علاقے میں صرف 20 ہزار مربع میل پر دسترس رکھتی تھی۔ ای پی آر، پولیس اور انصار نے دفاعی مورچے سنبھال رکھے تھے اور حالات سدھرنے کا عمل نہ ہونے کے برابر تھا۔
    بنگال رجمنٹ کے بیشتر عناصر ای پی آر، پولیس اور انصار کے ساتھ تھے۔ اس وقت پاک فوج کی تعداد اس مقام پر دس، بارہ ہزار سے زیادہ نہ تھی بلکہ وہ دستے جو جنگ کرنے کے لئے تھے ان کی تعداد اس سے بھی کم تھی اور ان کے مقابلے میں پونے 2 لاکھ کے قریب ایسے مسلح افراد تھے جن کے ہاتھوں اور پناہ گاہوں میں جدید ترین ہتھیار تھے۔ اوپر سے تیسری افتاد یہ آن پڑی کہ بھارتی فوجوں نے بے شمار مقامات پر پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی اور دور اندر تک چلی آئیں۔
    تقریباََ دس ہزار خطرناک مجرموں کو جیلوں سے رہا کروا لیا گیا تھا۔ عوامی لیگ کے بپھرے ہوئے رضاکار ہر غیر بنگالی کے لئے قہر بنے ہوئے تھے۔ اگر ان کو کسی کا چہرہ برا لگا تو اس پر خنجر کے وار کر کے ناک کان کاٹ ڈالے۔ کسی کی گاڑی اچھی لگی تو چھین لی۔ بنکوں میں لوٹ مار عام بات تھی۔ جتنا روپیہ چاہتے، جب چاہتے نکال لے جاتے۔ نہ جان کا تحفظ تھا نہ مال کا۔ نہ آبرو محفوظ تھی نہ گھر بار۔ ایسے حالات میں سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کرنا ضروری تھا۔ ورنہ پاکستان کی بقاء جس خطرے سے دوچار تھی وہ سیاہ رات کی طرح چادر پھیلائے بڑھا چلا آ رہا تھا۔
    مشرقی پاکستان میں بعض مقامات پر ہندوؤں کی خاصی اکثریت تھی۔ ان میں سے ایک مقام راجشاہی اور نٹور کے اردگرد کا سارا علاقہ ہندوؤں کا گڑھ تھا۔ اور ہندو بیوپاری یہاں سے غلہ اور پٹ سن سمگل کر کے بھارت بھیجتے تھے۔ ان بیوپاریوں کا حساب کتاب بیشتر ان بنکوں میں تھا جو بھارت میں واقع تھے۔ احتیاطََ ان بیوپاریوں نے اپنے خاندان کے زیادہ تر افراد کو بھارت ہی بھجوا دیا تھا صرف ضروری لوگ مشرقی پاکستان میں رہتے تھے۔
    فوجی آپریشن کی شروعات ڈھاکہ سے راجشاہی تک کے علاقے پر محیط ہیں۔ 8 اپریل 1971 کی صبح 6 بجے پاک فوج کے دستے ڈھاکا سے روانہ ہوئے۔ ہراول دستے نے جاتے ہی صدار گاؤں کلئیر کر لیا جو میجر محمر اکرم شہید کی کمان میں تھا۔ میجر محمد اکرم شہید نے اس کے بعد دوسرے گاؤں دھمرار کے ساحل کو کلئیر کیا جو پتن کہلاتا تھا۔ دریا پار کر کے یہ دستہ سڑک پر آ گیا۔ اسی وقت پیچھے آنے والے پاک فوج کے دستوں نے بھی ان سے قدم آ ملائے اور یہ دستے اکٹھے ہو کر گنج کے پتن تک آ پہنچے۔
    گنج کے پتن پر میجر محمد اکرم شہید کو خبر ملی کہ یہاں پاک فوج کے ایک خصوصی دستے نے پہلے ہی فیری پر حفاظتی حصار قائم کر رکھا ہے۔
    فیری ایک چھوٹا موٹا پل ہوتا ہے جو مشرقی پاکستان کے دریاؤں پر بعض جگہ اس لئے بنایا جاتا ہے کہ بہت زیادہ چوڑے پاٹ کے دریا پر عمومی پل بنانا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں چند کشتیاں جوڑ کر فیری یعنی عارضی اور چھوٹا پل بنایا جاتا ہے۔ فیری کا پل چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی۔ چھوٹے پل پر سے ایک وقت میں ایک گاڑی ایک سے دوسرے کنارے پر لے جائی جا سکتی ہے اور بڑے پل سے ایک وقت میں دس گاڑیاں تک گزر سکتی ہیں۔
    پاک فوج کے مذکورہ دستوں نے اس فیری پر سے دریا پار کیا اور تیز رفتاری کے ساتھ آریچا گھاٹ پہنچ گئے۔ اس وقت رات کے ساڑھے دس بجے کا وقت تھا۔ دریائے جمنا کے کنارے واقع آریچا گھاٹ پر دریا پار کرنے کے لئے اس وقت نہ کوئی کشتی تھی نہ فیری۔ میجر محمد اکرم شہید نے دو دستوں کا بالائی حصے کی طرف روانہ کیا جو وہاں سے تین تین فیریز لے آئے اور آریجا گھاٹ پار کرنے کا مسئلہ حل ہو گیا۔
    یہاں ایک اور پریشان کُن خبر ان کی منتظر تھی۔ گھاٹ کے اگلے حصے پر باغی عناصر قابض تھے۔ خبروں اور اطلاعات کے مطابق دریائے جمنا پار کرنا پاک فوج کے ان دستوں کے بس سے باہر تھا کیونکہ باغی تین گھاٹ اور پتن تباہ کر چکے تھے۔ ککڑ باڑی، ایشر ڈی، نٹور، راجشاہی اور پنبہ کے گردو نواح میں شرپسندوں نے اودھم مچا رکھا تھا۔ بھارتی ایجنٹ اور بھارتی فوجی آفیسرز کی خاصی تعداد اس علاقے میں موجود تھی اور ان کے خیال میں یہاں سے دریائے جمنا پار کرنے کے لئے کم از کم ایک ڈویژن فوج ضروری تھی تبھی کوئی موثر کاروائی ممکن تھی اور ایک حد تک ان غداروں کی یہ بات درست تھی۔
    پاک فوج کے یہ چند دستے مل کر بھی چند سو کی نفری ہی پوری کرتے تھے۔ ان کے پاس صرف دو توپیں، چند مارٹر اور مشین گنیں تھیں۔ فیصلہ کیا گیا کہ ساری گاڑیاں وہیں چھوڑ دی جائیں۔ ایک فیری اور چند درجن جان ریزرو میں رکھے جائیں۔ باقی دو فیریز میں جوان دونوں توپیں لے کر سوار ہوئے اور گیارہ بجے انہوں نے دریا پار کر کے باغیوں پر دھاوا بول دیا۔
    تقریباََ ڈیڑھ گھنٹے کی کاروائی کے بعد باغیوں کا صفایا ہو گیا۔ ایک بجے پورے گھاٹ پر پاک فوج کا کنٹرول مضبوط ہو چکا تھا۔ باغی مارے گئے یا بھاگ نکلے۔ ان کا ممکنہ حد تک تعاقب کیا گیا۔ دشمن کا ایمونیشن اور ہتھیار خاصی مقدار میں ہاتھ لگے۔ رات وہیں گزاری گئی۔
    باغیوں نے جاتے جاتے ایک تخریب کاری یہ کی کہ راستے کا ایک پل اڑا دیا۔ صبح ہونے پر پاک فوج کے جوان اس پل کی مرمت میں لگ گئے۔ صبح دس بجے تک پل دوبارہ کار آمد ہو گیا۔
    دوسرے دن اس پورے علاقے سے شرپسندوں کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ ریزرو جوان اور گاڑیاں بھی پہنچ گئیں۔ کچھ جوانوں کو نگڑ باڑی کی حفاظت کے لئے وہیں رہنے دیا گیا اور پنبہ کی طرف قدم بڑھا دیا گیا۔
    پاک فوج کے ایک دستے نے ایشر ڈی اور دوسرے نے دسوریا کو کلئیر کر لیا۔ اب صرف خشکی کا علاقہ کلئیر کرنا باقی تھا۔ پاک فوج راجشاہی کے ایک ڈویژن کو کلئیر کروا چکی تھی۔ یہ دستے آگے بڑھے تو دیکھا کہ باغیوں نے ریلوے کراسنگ پر ریل کے چالیس پینتالیس ڈبے کھڑے کر کے راستہ بلاک کر رکھا ہے جبکہ ان کو کراسنگ پار کر کے سڑک پر پیشقدمی کرنا تھی۔ ابھی یہ لوگ جائزہ ہی لے رہے تھے کہ باغیوں نے فائر کھول دیا۔ مارٹر گنوں اور مشین گنوں کے برسٹ بارش کی طرح برسنے لگے۔ پاک فوج کے جوانوں نے گاڑیاں چھوڑ دیں۔ دائیں طرف کے برساتی نالے میں چار فٹ پانی موجود تھا۔ ان لوگوں نے یہ نالہ عبور کیا اور باغیوں کو نشانے پر رکھ لیا۔ بیشتر باغی موت کے گھاٹ اتر گئے۔ چھ ،سات کو زندہ پکڑ لیا گیا۔ پندرہ بیس رائفلیں، ایک مشین گن اور خاصا ایمونیشن ہاتھ آیا جو باغی فرار ہوئے ان کا رُخ نٹور کی طرف تھا۔
    پاک فوج کے دستوں نے آرام کرنا مناسب نہ سمجھا۔ 11 اور 12 اپریل کی درمیانی شب ان جوانوں نے نٹور سے 25 میل مشرق میں گزاری اور 12 اپریل کو علی الصبح نٹور کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ان کے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی تھیں۔ ہر رکاوٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ فوجی دستے دن کے ساڑھے گیارہ بجے نتور پہنچے اور باغیوں کا صفایا شروع کر دیا۔ آدھ گھنٹے کے اندر اندر نٹور کا علاقہ شر پسندوں کے وجود سے خالی ہو گیا۔اگلا ہدف راجشاہی تھا۔
    نٹور سے نکلے تو کچھ آگے پھر باغیوں سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اس جھڑپ میں 30 سے 35 باغی ہلاک ہوئے۔ بارہ رائفلیں، ایک مشین گن اور کاصہ گولہ بارود ہاتھ لگا۔ پاک فوج کا ایک آفیسر اور ایک جوان معمولی زخمی ہوئے۔
    اب راجشاہی 18 میل دور تھا۔
    باغیوں نے بھارتی فوجوں کے اشتراک سے تارا پور میں بڑی مضبوط دفاعی لائن بنا رکھی تھی۔ دوپہر ڈھل رہی تھی اور شام سے پہلے پہلے باغیوں کی اس کمین گاہ نما چھاؤنی کا صفایا بے حد ضروری تھا۔
    جونہی باغیوں سے آمنا سامنا ہوا باغیوں نے فائر کھول دیا۔ وہ مارٹر سے گولے اور مشین گنوں سے گولیاں برسا رہے تھے۔ مقابلہ بے حد سخت تھا۔ میجر محمد اکرم شہید نے کچھ جوانوں کو اپنی کمان میں لے لیا اور بائیں طرف سے باغیوں پر حملہ کر دیا۔ حملہ اس قدر شدید تھا کہ باغی 25 لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ اپنے پیچھے انہوں نے 25 رائفلیں، دو مشین گنیں اور ایک مارٹر گن کے ساتھ بہت سا اسلحہ چھوڑا۔ اس جھڑپ میں پاک فوج کے چار جوان زخمی ہوئے۔
    صورتحال خاصی الجھی ہوئی تھی اس لئے رات وہیں گزارنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ باغی آگے کہاں مورچے بنائے بیٹھے ہوں، یہ رات کے اندھیرے میں پتہ نہ چل سکتا تھا اور اندھیرے کے تیر سے نقصان بھی ہو سکتا تھا۔
    رات ایک بجے سے کچھ بعد کا وقت ہو گا کہ دو جیپیں باغیوں کو رسد پہنچانے کے لئے لدی پھندی آ پہنچیں اور پاک فوج کے ہتھے چڑھ گئیں۔ جیپوں میں سوار چاروں باغی جھڑپ میں مارے گئے۔ ان جیپوں سے جو سامان حاصل ہوا اس کی تفصیل یہ ہے:
    تین انچ دھانے کی تین مارٹر گنیں۔
    ایک مشین گن۔
    ایمونیشن کی خاصی بڑی مقدار۔
    اگلی صبح یعنی 13 اپریل 1971 کو جب فوجی دستوں نے پیش قدمی شروع کی تو وہ دو اطراف سے آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک دستہ سروہا کی طرف اور دوسرا راجشاہی کی طرف۔
    اب تک کی جھڑپوں کے بعد پاک فوج کے جوان باغیوں کے طریقہ جنگ سے آگاہ ہو چکے تھے۔ اس لئے آئندہ جب بھی ان کا سامنا باغیوں سے ہوا وہ ان کو انہی کے داؤ سے مارتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوجی دستوں کا کم از کم جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ باغیوں کا ہر طرح سے زیادہ سے زیادہ نقصان ہوا۔
    آگے بڑھنے پر پہلی جھڑپ میں 21 باغی ہلاک ہوئے۔ چھ گرفتار ہوئے۔ نو رائفلیں، ایک مشین گن اور ایک مارٹر گن مزید ہاتھ لگی مگر بدقسمتی سے اس جھڑپ میں پاک فوج کے بھی 3 جوان شہید اور دو شدید زخمی ہوئے۔
    دوسری جھڑپ جن باغیوں کے ساتھ ہوئی ان کے پاس 3 انچ قطر کی مارٹر گنیں تھیں۔ اس مقابلے میں پاک فوج کا ایک جی سی اور ایک جوان زخمی ہوا۔
    راجشاہی اب بلکل قریب تھا۔ باغیوں کو فرار ہونے کے سوا کوئی راستہ نہ سوجھ رہا تھا کیونکہ راجشاہی کے ایک حصے کو پاک فوج کلئیر کروا چکی تھی۔ ہاں ایک مشکل ضرور سامنے آئی کہ اس دستے کا رابطہ سڑک اور ریل سے کٹ گیا۔ دوسرے دو دستے جو دیگر اطراف سے راجشاہی کی طرف بڑھے انہوں نے باغیوں کا بڑی حد تک صفایا کیا اور 13 اپریل 1971 کی رات کو پاک فوج کے ان دستوں کو چند گھنٹوں کے لئے آرام کرنے کا موقع ملا۔ پانچ دن اور پانچ راتوں کے بعد یہ چند گھنٹے کا آرام نعمت غیر مترقبہ لگ رہا تھا۔ 14 اپریل کی شام کو فوجی دستے نئے عزم کے ساتھ پیش قدمی کے لئے تیار ہو گئے۔
    باغیوں کی شرپسندی کے خاتمے کی یہ کاروائی 18 اپریل 1971 تک جاری رہی۔ راجشاہی کے اردگرد کے دیہات سے شرپسندوں کا بیج ختم کر دیا گیا۔
    نواب گنج کے علاقے میں پاک فوج نے 23 اپریل کو اور سب گنج اور تبل کچی میں 26 اپریل کو آپریشن کیا اور شرپسندوں کا خاتمہ کر دیا۔

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    337
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: میجر محمد اکرم شہید

    21 جون کو یہ فوجی دستے نٹور پہنچے۔ امن و امان کی صورتحال خاصی اطمینان بخش ہونے لگی۔ سکول کالج دوبارہ کھل رہے تھے۔ ان فوجی دستوں نے کئی سکولوں کی دوبارہ کھلنے کی تقریبات میں شرکت کی۔
    نٹور کے علاقے میں ہندوؤں کا بہت اثر و رسوخ اور زور تھا اور افواہ تھی کہ اب بھی ان کے گھروں میں شرپسند اور باغی عناصر چھپے بیٹھے ہیں۔ گھر گھر تلاشی لے کر مفسدہ پردازوں کو ٹریس آؤٹ کرنا ایک بے حد مشکل کام تھا کیونکہ بے شمار افواہوں کے علاوہ باغیوں اور ہندوؤں نے یہ بے پر کی بھی اڑا رھی تھی کہ پاکستانی فوج سکولوں کے طالب علموں کو بطور یرغمال اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے گھر گھر تلاشی کی نام نہاد کاروائی کرنا چاہتی ہے۔ لوگ اس ڈر سے اپنے گھروں کے دروازے کھولنے کو تیار نہ تھے اور ذرا سختی کرنے پر مرنے مارنے کے لئے آمادہ ہو جاتے تھے۔
    بہر حال کسی نہ کسی طرح آبادی کو سمجھا بجھا کر اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے بعد فوجی دستے ایشر ڈی روانہ ہو گئے جہاں پہلے سے پاک فوج کے کچھ دستوں نے پہنچ کر ایشر ڈی کو حصار میں لے رکھا تھا۔ پہلے سے وہاں موجود دستوں کا قیام پنبہ میں تھا۔
    جو دستے پنبہ اور ایشر ڈی پہنچے ان کی داستانِ شجاعت بھی ایک اپنا مزہ رکھتی ہے۔ پاک فوج کے یہ دستے مشرقی پاکستان میں پنبہ اور ایشر ڈی پہنچنے سے پہلے کراچی کے نواح میں تعینات تھے۔ 27 مارچ 1971 کو بعد دوپہر انہیں مشرق پاکستان کے لئے روانگی کا حکم دیا گیا۔ 30 مارچ کو یہ دستے ڈھاکا کے ہوائی اڈے پر اترے۔ 31 مارچ کی صبح کو یہ وطن کے سرفروش ہوائی جہاز کے ذریعے جیسور پہنچے۔ جیسور بھارت کے بے حد قریب واقع ہے ۔ اس کی سرحد بلکل کھلی تھی۔ یعنی بھارت اور پاکستان کے درمیان دریا، سمندر وغیرہ جیسی کوئی شے حائل نہیں۔ بھارتی ایجنٹوں نے اپنی ناپاک سرگرمیوں کے لئے سب سے پہلے جن علاقوں کو منتخب کیا ان میں جیسور، اس کے قریبی اضلاع کھلنا، باریسال اور کشتیا شامل ہیں۔ ان سب علاقوں کی سر حدیں مغربی بنگال بھارت سے ملتی ہیں۔ جیسور میں جو چھاؤنی تھی اس میں پاک فوج کے مسلح یونٹ موجود تھے۔ جونہی حالات بے قابو ہوئے چھاؤنی کمانڈر نے کھلنا، چالنا، جیسور میں کچھ فوج متعین کرنے کے بعد ایک چھوٹا سا فوجی دستہ کشتیا میں بھیج دیا تاکہ حالات کسی حد تک قابو میں رہیں۔ دوسرے لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ پاک فوج سو نہیں رہی، مستعد ہے۔ تیسرے یہ کہ اہم مقامات کا مکمل طور پر تحفظ اور دفاع کیا جا سکے۔ ان میں سب سے زیادہ ھساس مقامات دو تھے۔
    1:۔ جیسور چھاؤنی
    2:۔ ہوائی اڈا
    باغیوں اور فسادیوں کے شورش برپا کرنے کی صورت میں ڈھاکا سے مزید فوج صرف ایک ہی ذریعے سے منگوائی جا سکتی تھی اور وہ تھا فضائی راستہ جس کے لئے ہوائی اڈے کا محفوظ ہونا بنادی شرط تھی۔
    چالنا کی بندرگاہ اس لئے بے حد اہمیت کی حامل تھی اور اس کا دفاع اولین ترجیحات میں سے تھا کہ حالات کے مخدوش ہونے پر بحری راستے سے کمک حاصل کی جا سکے۔ دوسری وجہ اس علاقے کی مکمل حفاظت کی یہ بھی تھی کہ اگر خدانخواستہ چالنا، باغیوں کے قبضے میں چلا جاتا تو فوج مکمل طور پر ان کے محاصرے میں آ جاتی جو تباہی کا ایک ایسا راستہ کھول دینے والی صورتحال کو جنم دیتی جس کا اختتام ملک کی بربادی پر ہوتا۔
    ایسٹ پاکستان رائفلز میں بھرتی ہونے والے بنگالی جوان اگر بغاوت نہ کرتے اور مشرقی پاکستان کی پولیس اگر باغیوں کا ساتھ نہ دیتی تو باغی کھلنا کے علاقے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکتے لیکن مصیبت تو یہ تھی کہ ساز کی جڑیں اس قدر گہری تھیں جس کا ادراک ہونے تک زمین آسمان ایک ہو چکے تھے۔ باغیوں اور سازشیوں نے بغاوت پلان کے مختلف حصے طے کر رکھے تھے اور ہر حصے پر عمل کرنے کے لئے وقت مقرر تھا۔ اس پلان کے بنیادی احکامات میں سے اہم ترین یہ تھا کہ پاک فوج کو جس قدر نقصان پہنچا سکو، پہنچاؤ۔ جہاں فوج کے دستوں کو ذرا سا بھی کمزور دیکھو، خاموشی سے بغاوت کی تلوار نکالو اور ان کو موت کے گھاٹ اتار دو۔
    ان حالات میں احتیاط سب سے زیادہ ضروری تھی کیونکہ محض شک کی بنیاد پر ہر شخص کے خلاف کاروائی کا مطلب یہ تھا کہ بے گناہ اور محب وطن افراد کو بھی تہ تیغ کر دیا جائے۔ اس اندھی کاروائی سے بچنے کے لئے چھاؤنی کمانڈر نے حکم جاری کیا کہ جب تک کسی جگہ کھلی، واضح اور ثبوت کے ساتھ بغاوت کے آثار نہ ملیں، محض شک کی بناء پر کسی بنگالی یا غیر بنگالی کے خلاف فوجی آپریشن نہ کیا جائے بلکہ محض اپنے علاقے کی خاموش حفاظت کا فرض چابکدستی سے ادا کیا جائے۔
    21 اگست 1971 کا دن مشرقی پاکستان میں چند تبدیلیاں لے کر طلوع ہوا۔ اس روز مشرقی پاکستان میں سول انتظامیہ قائم کر دی گئی جس کے تحت ڈاکٹر ایم مالک گورنر مقرر ہوئے۔
    لیفٹینٹ جنرل ٹکا خان کی جگہ لیفٹینٹ جنرل اے کے نیازی کو مشرقی پاکستان کا مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا۔
    اس تبدیلی کا وقت بے حد غیر مناسب تھا اور اس بے وقت کی راگنی نے حالات کو سدھارنے کی بجائے مزید بگاڑ پیدا کر دیا۔
    جنرل نیازی کے کمان سنبھالتے ہی 4 ستمبر 1971 کو مشرقی پاکستان میں مجرموں کو عام معافی دے کر جیلوں سے ایک بڑی تعداد کو رہا کروا دیا گیا۔
    یہ صورتحال اندر ہی اندر کیا کھچڑی پکا رہی تھی اس کا اظہار 21 نومبر 1971 کو ہوا جب بھارت نے کسی اعلان جنگ کے بغیر مشرقی پاکستان پر پوری قوت کے ساتھ حملہ کر دیا۔
    پاک فوج کے جانباز اور جری دستوں نے جیسور کے شمال جنوب میں بھارتی حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ بھارتی فوج پسپا ہو گئی۔ اس مقام پر گھمسان کا رن پڑا جس میں بھارت کے سات ٹینک تباہ کر دئیے گئے۔ بھارتی فوج نے اپنے نوے سے زائد فوجیوں کی لاشیں اور 1600 سے زائد زخمیوں کی گرفتاری دیتے ہوئے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر چھوڑے اور پاکستانی علاقہ خالی کر کے اپنی سرحدوں کے کئی میل اندر تک سمٹ گیا۔
    اس خوفناک حملے میں بھارت کے دو بریگیڈ، پیدل فوج اور ایک ٹینک رجمنٹ شامل تھی۔ شدید گولہ باری کے باوجود بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ اب تک کے حملوں میں یہ اس کا شدید ترین اور سب سے بڑا حملہ تھا جو اس کے لئے نقصان ہی نقصان ثابت ہوا۔
    اس حملے میں ناکامی کے فوراََ بعد اسی روز بھارت نے کومیلا، میمن سنگھ، سلہٹ، رنگ پورا اور چٹاگانگ پر بھی اٹیک کر کیا۔ مذکورہ تمام مقامات پر اس کے حملے ناکام بنا دئیے گئے۔
    22 نومبر کو بھارت نے ایک بار پھر مشرقی پاکستان پر سہ طرفہ جارحانہ حملہ کیا جس میں اس کی تیس ڈویژن سے زیادہ فوج کے بکتر بند دستے اور ٹینکوں کی کئی رجمنٹوں نے حصہ لیا۔ بھارتی فضائیہ نے بھی اس حملے میں شرکت کی اور اس کے مگ اور ناٹ بمبار طیارے مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں پر بم برساتے رہے۔
    اس زبردست حملے کے جواب میں پاک فوج نے بڑی دلیری سے تین محاذوں یعنی چٹاگانگ، جیسور اور سلہٹ پر دشمن کی پیش قدمی روک دی۔ دشمن کے سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ زخمیوں کا شمار ممکن نہ تھا جبکہ پاک فوج کے 19 سپاہی شہید اور 57 زخمی ہوئے۔ بھارت کے لئے یہ بھی ناکامی ہی کی خبر ثابت ہوئی کہ تینوں محاذوں پر اس کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔
    26 نمبر 1971 کو بھارتی فوج نے دنیاج پور میں ہلی کے مقام پر اٹیک کیا اور یہ وہ معرکہ ہے جس کا تعلق خاص طور پر میجر محمر اکرم شہید سے ہے۔ اس عظیم الشان معرکے میں میجر محمد اکرم نے جو کارہائے نمایا سر انجام دئیے ان کی مثال تاریخ میں کم کم ملتی ہے۔
    بھارت نے اس مقام پر اپنی فوج کی بیسویں پہاڑی رجمنٹ کے بریگیڈ نمبر 165 اور 49 کو جھونک دیا۔ اس حملے میں بری فوج کی مدد کے لئے بھارتی فضائیہ کے جیٹ اور دو سکواڈرن ٹینک بھی موجود تھے۔
    تانگیل کے علاقے میں بھارت نے اپنی فوج کے چھاتہ بردار دستے 13 دسمبر 1971 کو اتار دئیے جن کی آمد سے ہلی کے محاذ پر بھارتی فوج کی تعداد اور عسکری قوت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔
    میجر محمد اکرم شہید اسی مقام پر دشمن سے نبرد آزما تھے۔
    میجر اکرم کا تعلق 4 فرنٹئیر فورس سے تھا اور وہ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ بھارتی فوج کے سیل بے پناہ کے آگے ڈٹے ہوئے تھے۔
    دنیاج پور کا محاذ ایک اور وجہ سے بے حد اہمیت کا حامل تھا اور وہ یہ کہ دشمن اس علاقے پر قبضہ کر کے مشرقی پاکستان کے باقی تمام حصوں کی سپلائی لائن کاٹ دینا چاہتا تھا اور اس کی اس کوشش کو ناکام کرنا ہی میجر محمد اکرم شہید کے فرائض میں اولین ترجیح تھی۔
    بھارتی فوجوں کو بکتر بند گاڑیوں اور انفنٹری کی مدد بھی حاصل تھی جبکہ یہ دونوں عسکری سہولتیں پاک فوج کو حاصل نہ تھیں۔ پچھلے کئی روز سے پاک فوج کے دستے ہلکی انفنٹری کے ساتھ دشمن سے بر سرِ پیکار تھے۔ جبکہ بکتر بند گاڑی کے نام پر ان کے پاس کچھ بھی موجود نہ تھا۔ اسلحہ بھی گنا چنا تھا۔ جو فوجی گاڑیاں موجود تھیں وہ تقریباََ ناکارہ تھیں۔ یہ صورتِ حال بے حد مخدوش وقت کا اعلان کر رہی تھی۔
    صبح کے تین بجے تھے جب دنیاج پور کے محاذ پر بھارت نے پہلا حملہ کیا۔ حملہ بے پناہ فوجی قوت کا حامل تھا مگر پاک فوج کے جیالوں نے یہ حملہ جان توڑ کوشش کے بعد پسپا کر دیا۔
    دوسرا حملہ بھارتی فضائیہ نے بری فوج کے ساتھ مل کر دن کے 12 بجے کیا۔ جیٹ طیاروں اور ٹینکوں کے سکواڈرن نے اپنی سی ہر کوشش کر ڈالی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کی دفاعی لائن توڑ کر بھاتی فوج اندر داخل ہو جائے مگر پاک فوج کے بہادروں نے کئی مقامات پر بھارتی فوج سے دو بدو جنگ بھی کر ڈالی۔ اس کے کئی ٹینک تباہ، سو سے زائد فوجی ہلاک اور بے شمار زخمی کرنے میں کامیاب رہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے قدم ایک بار پھر روک کر انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
    13 دسمبر 1971 کا دن ایک اور لحاظ سے بے حد اہم تھا۔ اس روز پاک فوج کے بری اور بحری دستوں کے تمام ریزرو اور ریٹائرڈ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر کے فوری طور پر ان کو ڈیوٹی پر لے لیا گیا۔ سارے ملک میں ڈیفنس آف پاکستان ایکٹ نافذ کر دیا گیا۔ اس ایکٹ کے ساتھ ہی ملک بھر میں موجود جرمن اور امریکن باشندوں نے بوریا بستر باندھ کر نقل مکانی شروع کر دی۔
    اگلے دن بھارت نے تین نئے محاذ کھول دئیے۔ یہ محاذ کھلنا، کشتیا اور سلہٹ تھے جن پر پچھلے چند دن سے امن و امان تھا۔ اسی روز پاک فوج نے مومن شاہی میں کمال پور اور ہلی کے علاقے میں بھارتی درندوں کو عبرت ناک سبق سکھا کر واپس ان کی اپنی سر حدوں میں پھینک دیا۔
    میجر محمد اکرم شہید کی مختصر سی کمپنی کے مقابلے پر بھارت نے پوری ایک بٹالین فوج اور ایک سکواڈرن ٹینک جھونک دئیے۔ پچھلے کئی روز سے میجر محمد اکرم دشمن کے زبردست حملوں کا شدید دباؤ میں رہ کر مقابلہ کر رہے تھے مگر 13 دسمبر 1971 کا دن تو ان کے لئے ہر پل نئے حملے کا اعلان کر رہا تھا۔ میجر محمد اکرم شہید نے محاذ کا بنظر غائر جائزہ لیا پھر ان کی قائدانہ صلاحیتوں نے انگڑائی لی اور اس نازک مرحلے پر وہ ایک بے حد اہم فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ فیصلہ تھا دشمن کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا بازو توڑنے کے لئے ٹینک شکن ہتھیاروں کا استعمال۔
    انہوں نے اپنے جوانوں کو ہدایات جاری کیں اور ان کی طرف سے فائرنگ میں نمایاں کمی آ گئی۔ بھارتی دستے سمجھے کہ میجر اکر شہید کی کمپنی کے پاس اسلحہ کی کمی واقع ہو چکی ہے لہٰذا وہ دیوانہ وار آگے بڑھنے لگے۔ مکمل خاموشی نے ان کا حوصلہ مزید بڑھا دیا اور اس نے بے خوف ہو کر میجر اکرم شہید کی کمپنی پر ریڈ کر دیا لیکن۔۔۔۔۔۔دوسرے ہی لمحے اس پر آتش فشاں نے منہ کھول دیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے ہینڈ گرینیڈوں کا آزادانہ استعمال کیا۔ رائفلوں کے ٹریگر مسلسل دبنے لگے۔ سنگینوں نے قریب آنے والے پر مکار فوجی کا سینہ چھید دیا۔ ہر طرف آگ، دھماکے، دھواں، چیخیں اور دشمن کے ٹینکوں اور فوجیوں کے اڑتے ہوئے پرخچے تھے۔ پھٹتے ہوئے گولوں میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ دشمن کو اپنی غلط فہمی مہنگی پڑی مگر اس خوفناک تباہی اور شکست کے باوجود اس کی عسکری قوت میں کوئی خاص کمی نہ ہوئی۔
    اس کا ثبوت میجر اکرم شہید نے یہ دیکھ کر حاصل کیا کہ ایک گوشے سے دشمن کے منچورین ٹینکوں کی ایک قطار ان کی طرف بڑھتی چلی آ رہی ہے۔ ضائع کرنے کے لئے ایک پل بھی پاس نہ تھا۔ میجر محمد اکرم نے فوری اقدام کا فیصلہ کیا۔ اپنے چند ساتھیوں کو ہمراہ لیا اور چھوٹے ٹینک شکن ہتھیار سنبھال کر دشمن کے ٹینکوں کی طرف لپکے۔
    “ساتھیو۔۔۔۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر“
    میجر محمد اکرم شہید نے فلک شگاف نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے اپنے جوانوں کو سگنل دیا اور خود سب سے آگے ہو گئے پھر دشمن پر فائرنگ کرتے ہوئے وہ اس قدر آگے بڑھ گئے کہ دشمن کی زد میں، اس کے نشانے پر آ گئے۔ انہوں نے دشمن کے چوتھے ٹینک پر ہینڈ گرینیڈ پھینکا اور زمین پر گر پڑے۔ ٹینک کے پرخچے اڑ گئے مگر ساتھ ہی میجر محمد اکرم شہید نے بھی شہادت کی منزل کو چوم لیا۔
    ان کے شہید ہوتے ہی میجر حوالدار عبدالغنی نے جوانوں کی قیادت سنبھالی اور اپنے کمانڈر کا مشن پورا کرنے میں لگ گئے اور تب تک بھارتی فوج کو روکے رکھا جب تک جنرل نیازی نے سرنڈر کی دستاویز پر دستخط نہیں کر دئیے۔
    ہلی کا محاذ آج بھی گواہ ہے کہ میجر محمد اکرم شہید نے اپنے اسلاف کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی بلکہ اس کا وار اپنے سینے پر لیا۔ ان کا زخموں سے چھلنی سینہ اسی قابل تھا کہ اس پر پاک فوج کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشانِ حیدر سجایا جاتا۔
    میجر محمد اکرم شہید کا خاندان فوج سے بڑا گہرا تعلق رکھتا تھا۔ ان کے دادا صوبیدار راجہ خان نے بیس برس تک فوج میں ملازمت کی۔ پہلی جنگِ عظیم میں حکومت کی طرف سے مختلف محاذوں پر سرگرم رہے۔ ان کی خدمات کے عوض حکومت برطانیہ نے اعزازات کے ساتھ ساتھ ان کو ضلع ملتان میں دو مربع زمین انعام میں دی تھی۔
    میجر محمد اکرم شہید کے والد ملک سخی محمد بھی فوج ہی میں تھے۔ ان کے تایا صبیدار ملک گودڑ خان بھی فوج سے منسلک تھے۔ ان کے چچا جیون خان اور وزیر خان بھی فوج ہی میں ملازم تھے۔ وزیر خان صاحب نے 14۔1 پنجاب رجمنٹ میں اپنی اٹھارہ سالہ زندگی کے دوران کئی حسن کارکردگی کے میڈل حاصل کئے۔
    میجر محمد اکرم شہید کے 5 میں سے چار بھائی فوج میں تھے۔ مشرقی پاکستان میں میجر محمد اکرم اکیلے ہی دشمن سے برسرِ پیکار نہ تھے بلکہ ان کے دو بھائی صوبیدار ملک حفیظ اللہ اور لانس نائیک محمد افضل بھی 1971 کی جنگ میں مغربی پاکستان کے محاذ پر بھارت کے دانت کھٹے کر رہے تھے۔ ان کےپانچویں بھائی وہ واحد بھائی ہیں جو فوج کی بجائے محکمہ تار و ڈاک سے وابستہ تھے۔
    میجر محمد اکرم شہید اپنے ننھیالی قصبہ ڈنگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سخی محمد موضع تکا کلا کے رہنے والے تھے۔ وہ ٹلہ اس گاؤں کے قریب ہی واقع ہے جو گرو بالناتھ سے وابستہ ہے اور جس پر رانجھے نے جوگ لے کر کان پھڑوائے تھے۔ آج بھی اس ٹلے پر رانجھے کے کانوں سے بہہ نکلنے والے خون کے داغ موجود ہیں۔
    سخی محمد صاحب کی شادی محترمہ عائشہ بیگم سے ہوئی جن کا خاندان ڈنگہ میں آباد تھا۔ میجر محمد اکرم شہید نے پانچ سال کی عمر میں اپنے گاؤں تکاکلاں کے سکول میں داخلہ لیا۔ چوٹھی جماعت کے بعد ان کو ڈی اے وی سکول چکری میں داخل کرا دیا گیا۔ چھٹی جماعت انہوں نے یہاں سے پاس کی اور پھر سرائے عالمگیر آرمی سکول میں داخلہ لے لیا۔
    1951 میں میجر محمد اکرم شہید بوائے رنگروٹ بھرتی ہوئے۔ باقی کی تعلیم انہوں نے اسی رنگروٹ ہونے کے دور میں حاصل کی۔ یہیں سے وہ 8 پنجاب رجمنٹ میں چلے گئے۔ فوجی کیڈٹ کورس پاس کرنے کے بعد مختلف درجوں پر ترقی کرتے کرتے بلآخر لانس نائیک ہو گئے۔
    میجر محمد اکرم شہیدنے 1961 میں ریگولر کمیشن حاصل کیا اور ملٹری اکیڈمی کاکول چلے گئے۔ یہاں انہوں نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کیڈٹ سارجنٹ کا عہدہ حاصل کیا اور 13 اکتوبر 1963 میں کمیشن لے کر 4۔ایف ایف رجمنٹ جائن کر لی۔
    یہاں پانچ سال کے عرصے میں ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے وہ وہ میجر ہو گئے۔ میجر محمر اکرم شہید بہترین نشانہ باز تھے۔ ان کی نشانہ بازی کی دھوم بڑی دور دور تک تھی۔ “رائزنگ کریسنٹ“ ان کے بارے میں لکھتا ہے۔
    “ میجر محمد اکرم شہید باکسنگ اور ہاکی کے عمدہ کھلاڑی تھے۔ اپنے ماتحتوں سے گھل مل کر رہنا اور ان سے ہر موضوع پر گفتگو ان کا خاص مشغلہ تھا۔ انہوں نے نشانہ بازی اور ہاکی میں متعدد انعامات حاصل کئے۔“
    15 جولائی 1971 کو انہوں نے مشرقی پاکستان سے اپنے والد ملک سخی محمد کو ایک خط لکھا جو ان کے جذبہ حب الوطنی، ایمان و اسلام پر شیفتگی اور شوقِ شہادت کا منہ بولتا شاہکار ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    “ اسلام، قوم اور ملک کی حفاظت کے لئے ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی جانیں قربان کر دیں اور یہ اہم ترین فریضہ آج پاک فوج ادا کر رہی ہے۔ اب کس کی قربانی اللہ کے حضور قبول ہوتی ہے یہ کسی کو علم نہیں مگر جب بھی ہم میں سے کوئی شہید ہوتا ہے تو باقی کے لوگ اپنی جانیں اللہ کے راہ میں قربان کر دینے کا عزم بالجزم کرتے ہیں۔
    ہم سب کے لئے آپ دعا کرتے رہا کریں۔ ہم عزم کر چکے ہیں کہ پاکستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کر کے ہی دم لیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں اس کام کی توفیق عطا فرمائے آمین!“
    ان کی ڈائری کا ایک ورق دیکھئے جس کی تحریر میں ایک حساس مسلمان کا دلی دکھ چھلکتا ہے۔ یہ تحریر اس وقت کی ہے جب یہودیوں نے مسجدِ اقصٰی کو آگ لگائی تھی۔ اپنے غم و غصے اور دکھ کا انتقامی اظہار ان کے الفاظ میں کیا شعلہ فشانی کرتا دکھائی دے رہا ہے، ذرا ملاحظہ کیجئے:
    “مسجد اقصٰی کو آگ لگانے کا سانحہ پورے عالم اسلام کے خلاف دشمنی اور جارحیت کا اعلان ہے۔ اس سانحے پر ساری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مسلم ریاستوں میں ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے مسجدِ اقصٰی ان کے ایمان و اعتقاد کی ایک زندہ علامت ہے۔ یہ سانحہ اسرائیل کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ بیت المقدس سے مسلم یادگاروں کو ختم کرنے کے لئے کر رہا ہے۔ مسلم سربراہانِ مملکت کو ایک مجوزہ کانفرنس میں فوری طور پر اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ بیت المقدس کو صیہونی تسلط سے آزاد کرایا جا سکے۔“
    اسلام کے اس شیدائی کی شہادت خبر جب ان کے بوڑھے والدین کو ملی تو ان کے سر بارگاہِ ایزدی میں شکرانے کے لئے جھک گئے۔ آفرین ہے ان والدین پر جنہوں نے ایسے مایہ ناز سپوت کو جنم دیا۔
    “نشانِ حیدر“ کا اعزاز آج بھی میجر محمد اکرم شہید کی لازوال قربانی کا مظہر ہے اور آنے والے ہر دن کی صبح اس جیالے شہید کی یاد دامن میں لئے طلوع ہوتی رہے گی جس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے لئے شہادت کا انتخاب کیا۔

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: میجر محمد اکرم شہید

    زبردست شیئرنگ ہے علی عمران جی بہت شکریہ

  4. #4
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    55
    شکریہ
    4
    21 پیغامات میں 29 اظہار تشکر

    RE: میجر محمد اکرم شہید

    بہت ہی شکریہ اتنی عمدہ شئیرنگ کا

  5. #5
    معاون
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    62
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: میجر محمد اکرم شہید

    زبردست شیئرنگ ہے۔

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: میجر محمد اکرم شہید

    خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University