محمداحمد ترازی۔ کراچی
اِس کہانی کا آغاز نینسی جے پال سے ہوتا ہے،جو 16 اگست2002ءسے5 نومبر2004ء تک پاکستان میں امریکہ کی سفیر رہی ہیں،بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں پاکستان میں تعینات کرتے وقت کچھ خصوصی حدف دیئے گئے تھے،جن میں ایک پاکستان کے نصاب تعلیم میں تبدیلی،دوسر حدود آرڈی نینس کا خاتمہ یا ترمیم،تیسرا قانون توہین رسالت کو ختم کرنا یا تبدیل کرنا،اور چوتھا امتناع قادینت آرڈیننس کی منسوخی،چنانچہ نینسی جے پال نے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی صدر،وزیر اعظم اور دیگر اہم شخصیات سے پہلے خفیہ اور بعدازاں ا علانیہ ملاقاتیں شروع کردیں،اُس وقت بعض باخبر اور محب وطن دانشور اِن ملاقاتوں کو خطرے کا الارم قرار دے رہے تھے،دور اندیشوں نے بھانپ لیا تھا کہ اندر ہی اندر کچھ کھچڑی پک رہی ہے،لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب امریکی استعمار کے ایجنڈے پر باقاعدہ کام شروع ہوا تو پوری تصویر نکھر کرسامنے آگئی،سب پہلے امریکی ایجنڈے کے مطابق ”نصابِ تعلیم میں تبدیلی“ پر کام شروع ہوا اور2003ءسے پاکستان کے نصابِ تعلیم میں تبدیلیوں کاآغاز ہوا جو2004ءمیں اختتام پذیر ہوا، ابتدائی طو رپر امریکہ نے پاکستان کے نظام تعلیم کی تبدیلی کیلئے پاکستان کو3 ارب90کروڑ روپے دیئے،یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ 5 فروری2005ءکو سابق صدر بش نے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ”پاکستان کا نصابِ تعلیم میرے کہنے پر تبدیل کیا گیا۔“

جس کے بعدسابق آمر پرویزمشرف نے ”انڈیا ٹوڈے“ کوایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”بھارت اور پاکستان کا نصابِ تعلیم مشترکہ ہونا چاہئے۔“ مئی2004ءکو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اُس وقت کی و زیر تعلیم زبیدہ جلال کا یہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”بیالوجی کی کتاب میں قرآنی آیات کا کیا کام ہے؟“ اور اگر مقدس مضامین کے سامنے کتے کی تصویر آگئی ہے تو اِس میں کیا مضائقہ ہے۔؟ اِس کے بعد حکومت نے نصاب سے سیرت رسول،غزوات،جہاد کی آیات، شہادت کا فلسفہ،صحابہ کرام کے واقعات،مسلم فاتحین کے حالات و واقعات،اُمہات المومنین کے تذکرے اور ہر ایسی بات نکال دی جس کو پڑھ کر ایک طالبعلم نظریاتی مسلمان،سچا پاکستانی اور اسلام کا مجاہد بن سکتا تھا ۔

نصاب تعلیم میں تبدیلی کے بعد دوسرا اہم ایجنڈا ”حدود آرڈیننس “ میں تبدیلی تھا،تاکہ پاکستان کے اسلامی کلچر کو یہود ونصاری کے مادر پدر آزاد معاشرے میں تبدیل کیا جاسکے،یہ لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر اِس ملک میں حدود آرڈ یننس باقی اور موثر رہا تو زناکاری اور بدکاری کا جنازہ نکل جائے گا،واضح رہے کہ جس معاشرہ میں زناکاری و بدکاری نہیں ہوتی،وہ کثرتِ اموات،کثرت امراض،معاشی تنگ دستی اور جنگ و جدل سے بچ کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں،جو انہیں کسی طور بھی گوارہ نہیں تھا،چنانچہ پاکستانی معاشرہ اور مسلمانوں کو غلاظت کی اِس دلدل میں دھکیلنے کےلئے سب سے پہلے حدود آرڈیننس کے خلاف اربوں ڈالر کے مصارف سے” کچھ سوچئے“ کے عنوان سے ایک میڈیا مہم چلائی گئی اور حدود آرڈیننس کے خاتمے کیلئے فی ممبر پچیس پچیس کروڑ روپے خرچ کیے گئے،تاکہ ملک میں فحاشی وعریانی کیلئے راہ ہموار ہو سکے،پوری قوم کو ذہنی طور پر حدود آرڈیننس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا،زنا بالجبر اور زنا بالرضا کی غلیظ ابحاث اٹھائی گئیں اور کھلے عام بحث و مباحثے ہوئے،ٹی وی چینلز پراِس نازک اور شرم وحیا والے مسئلے پر بے ہودہ گفتگو کی گئی،جس میں حدود ختم کرنے پر زور دیا گیا،دلائل کے طور پر زانی عورتوں کو مظلوم اور کوڑے مارنے اور حد جاری کرنے کو ظلم قرار دیا گیا اور وہ حدود آرڈیننس جو زنا کے سدباب کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی،اُس کو ظلم و تشدد سے تعبیر کرایا گیا،یوں حدود آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کیلئے 2005ءمیں شروع ہونے والا کام 2006ءمیں اِس کے متبادل حقوق نسواں بل لانے اور زنا کاری کو تحفظ فراہم کرنے کاسبب بنا،صرف یہی نہیں ہوا بلکہ ایسے جوڑے جو بدکاری و زناکاری کے مرتکب تھے،انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے بیرون ملک شہریت دے کر اِس گھناونے جرم اور مجرمین کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی،جس کے بعد ملک میں عریانی،فحاشی اور بے حیائی کے دور غلیظ کا آغاز ہوا۔

اِس کے بعد اِن اسلام دشمن قوتوں کا اگلا ہدف قانون توہین رسالت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس تھا،منصوبے کے مطابق یہ کام2007ءمیں شروع ہونا تھا اور2008ءتک ختم ہونا تھا،مگر 9مارچ 2007ءسے سابق آمر پرویزمشرف حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، جس کی وجہ سے یہ کام کچھ عرصے کیلئے رک گیا،لیکن اب یہ کام امریکہ ہماری موجودہ حکومت سے لیناچاہتا ہے،حکومت اِس کی حامی بھر چکی ہے،صدر زرداری لندن میں اِس کی یقین دہانی بھی کرواچکے ہیں اور دل و جان سے عمل کرنے کیلئے مچل رہے ہیں،ہدف یہ ہے کہ2009ءسے2012ءتک تین سالوں کے دوران اِس تیسرے اور اہم ترین قانون توہین رسالت کو ختم یا غیر موثر کروایا جائے،جس پر کام کا آغاز گوجرہ، سمبڑیال اور ڈسکہ سانحات،دیوبندی بریلویوں میں اختلافات کو ہوا دے کر اور بعض لیڈروں کے بیانات سے ہوچکا ہے،ننکانہ کے نواحی علاقے اٹانوالی سے تعلق رکھنے والی45 سالہ عیسائی خاتون آسیہ کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے،جسے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295سی کے تحت 8نومبر 2010ءکو توہین رسالت کے جرم میں مقامی عدالت نے سزا ئے موت سنائی ہے،جس کے بعد بار پھر یہ قانون اِن قوتوں کے نشانے پر ہے اور نام نہاد حقوق انسانی کے تنظیموں،بیرونی سرمائے پر پلنے والی این جی اوز ،پوپ بینیڈیکٹ اور یہودی و صہیونی ممالک کی جانب سے اِس قانون کے خلاف بلا جواز واویلا اور منسوخی کا مطالبہ سامنے آرہا ہے ۔

گزشتہ دنوں صدر آصف علی زرداری نے بھی اِس قانون پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں اصلاحات کیلئے وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی (جو کہ اقلیتی حقوق کے چمپئن اور اپنی کمیونٹی کا بھرپور دفاع کرتے ہیں اور جو اِس قانون کو ظالمانہ قرار دے چکے ہیں) کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کاحکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اصلاحاتی طریقہ کار کی سفارش کیلئے دانشوروں اور ماہرین کی کمیٹی کیلئے نام تجویز کریں،تاکہ ذاتی اور سیاسی وجوہات پر توہین رسالت قانون کے غلط استعمال کو موثر طور پر روکا جا سکے، صدر کا کہنا تھا کہ اِس قانون کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کےلئے حکومت انتظامی،طریقہ جاتی اور قانونی اقدامات سمیت تمام تر مناسب اقدامات اٹھائے گی۔“ دوسری طرف پے درپے واقعات کے بعد زمین قدرے ہموار ہوچکی ہے،مگر یہ حکومت کےلئے اتنا آسان کام نہیں،گو کہ بازی گروں کے پاس حیلوں اور بہانوں کی کمی نہیں،ایک بہانہ جس کا بہت زیادہ امکان ہے،وہ یہ ہے کہ نظرثانی (ریویو) کے نام پر اِس قانون کو غیر معینہ مدت کےلئے سرد خانے میں ڈال کر عدالتوں کو اِس قانون کے تحت سزائیں دینے سے روک دیا جائے اور یہ دلیل دی جائے کہ ہم ناموس رسالت کے قانون کو بدلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے،فقط اِس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے قانون پر از سر نو نظر ثانی کررہے ہیں،یہ دراصل اُسی گہری مکروہ سازش کے تانے بانے ہیں،جس کی منادی نیو یارک اور تجدید لندن سے ہوئی اور جس کا ایجنڈا لے کرسابق امریکی سفیر نینسی جے پال پاکستان آئی تھی ۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ قانون توہین رسالت کے ذاتی،سیاسی اور غلط استعمال کا معاملہ ایک الگ انتظامی اور قانونی مسئلہ ہے،جس کا اِس قانون کی منسوخی کے مطالبے سے کوئی تعلق اور ربط نہیں،جہاں تک اِس قانون کے اقلیتوں کے خلاف استعمال کا معاملہ ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے،پچھلے بیس سالوں کے دوران توہین رسالت اور توہین قرآن کے الزام میں 700 سے زائد مقدمات درج ہوئے،جن میں نصف سے زیادہ مقدمات مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف درج کرائے،لہٰذا یہ دعویٰ بالکل ہی غلط ہے کہ 295 سی کا نشانہ صرف غیرمسلم اقلیت ہی بنتی ہے،اب رہ گئی بات اِس قانون کی منسوخی کی،تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بے گناہ فرد کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت قتل کے مقدمے میں ملوث کردیا جائے اور پھر اِس دفعہ کی منسوخی کی بات کی جائے،آج تک کسی جانب سے کبھی یہ مطالبہ سامنے نہیں آیا کہ دفعہ 302،304اور307کالا قانون ہیں،انہیں فی الفور ختم کیا جائے اور ملک بھر میں اِن دفعات کے تحت سزا یافتہ افراد کو صدر صاحب معافی دے کر یورپ،امریکہ اور جرمنی روانہ کردیں،حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت میں کوئی خامی نہیں ہے،جہاں یہ قانون توہین رسالت کے مرتکب افراد کیلئے سزا کا تعین کرتا ہے،وہیں توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والوں کیلئے بھی قانون میں سخت سزا کی دفعہ موجود ہے،اگر شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر اپنی دانست میں آسیہ کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو اُن کے کیلئے آسیہ کی سزا کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہوا ہے،وہ اِس سزا کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرتے،کیونکہ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں ہائیکورٹ نے توہین رسالت کے ملزمان کو الزام ثابت نہ ہونے پر رہا کیا ہے ۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہباز بھٹی اور سلمان تاثیر کے اقدامات کا اصل مقصد توہین رسالت کی مرتکب آسیہ کو بچاکر بے گناہ ثابت کرنا یا عادی مقدمہ بازوں کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں،بلکہ 295 سی میں ترمیم یا منسوخ کرانا ہے،یہ دراصل آسیہ کے نام پر ایک ایسے قانون کو بدلنے کی کوشش کی ہے،جو ملک کی نوے فیصد اکثریت کے جذبات و احساسات کا مظہر اور کسی ملزم کو عوامی غیظ و غضب سے بچانے کا ضامن ہے،جس پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اتفاق موجود ہے اورجو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے متفقہ طور پر منظورشدہ ہے،لہٰذا ایسے قانون کو کالا قانون قرار دینا اور اسے یکسر ختم کرنے کے اعلانات کرنا صرف عدالتی فیصلے کی ہی تذلیل نہیں بلکہ عامة المسلمین کے جذبات کی توہین اورمسلمانوں کے بدن سے روح محمدصلی اللہ علیہ وسلم نکال کر متاع دین و ایمان سے محروم کرنے کا سوچا سمجھا شرمناک منصوبہ ہے،جس سے ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھے گی،اب رہ گئی بات عیسائی خاتون آسیہ کی سزا کی،تو یہ بات پر ریکارڈ پر موجود ہے کہ دوران تفتیش اُس نے ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری اور مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُس سے غلطی ہوگئی ہے،لہٰذا اُسے معاف کردیا جائے،جس کے بعدایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قانون کے مطابق کو آسیہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی ۔

قارئین محترم،اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ قانون ایسے موذیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،جو اپنے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر مقدس شخصیات خصوصاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہیں،بلاشبہ قانون توہین رسالت حضرات انبیاءکرام اورمقدس شخصیات کے خلاف بھونکنے والی ایسی زبانوں کو روکنے بلکہ انہیں لگام دینے کا موثر ہتھیار ہے،لہٰذا اِس قانون کو غیر موثر بنانے کی خاطر جان بوجھ کر ایسے موذیوں کودریدہ دہنی پرآمادہ کیاجاتا ہے،جو اسلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کے خلاف جان بوجھ کر دریدہ دہنی کے مرتکب ہوتے ہیں،گزشتہ حالات اِس بات کے گواہ ہیں کہ اِس قسم کے واقعات میں اِن عناصر نے باقاعدہ طے شدہ منصوبے کے تحت اِس کو فساد کی شکل دی اور قتل وغارت اورجلاؤ گھراؤ کے ذریعے جنگ و جدل کا بازار گرم کیا،دنگا فساد برپا کرنے کےلئے جانبین پر حملے کرائے اور توہین رسالت کے مرتکب موذیوں اور گستاخوں کی صفوں میں گھس کر مسلمانوں کو اور مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اِن موذیوں کو مارا،زخمی اور قتل کیا،بلکہ ہر دو جانب سے فائرنگ کا ڈھونگ رچاکر مسلمانوں کو ظالم اور اعدائے اسلام کو مظلوم باور کراتے ہوئے اِس کو قانون توہین رسالت کو غلط استعمال کے کھاتے میں ڈالا،اور اپنے زر خریدغلاموں کے ذریعے پر زور مطالبے اور بیان دلوائے گئے کہ چونکہ یہ سب کچھ قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوا ہے،لہٰذا قانون توہین رسالت کوختم ہونا چاہئے،دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اُسی منظم سازش اور مہم کا حصہ ہے جس میں طے کیا جا چکاہے کہ قانون توہین رسالت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس ہر حال میں ختم ہونا چاہئے،چنانچہ پاکستان بھرمیں جہاں جہاں عیسائی مسلم اورقادیانی مسلم فسادات کی خبریں آتی ہیں،اُس کے پیچھے دراصل یہی عنصرکارفرما ہوتاہے ۔

لہٰذااگر خدانخواستہ قانون توہین رسالت منسوخ یا تبدیل ہوگیا تو اِس کے بعد ان اسلام دشمن قوتوں کا اصل اور نہایت ہی خطرناک حدف 7ستمبر 1974ءکو متفقہ طور پر منظور ہونے والی وہ آئینی ترمیم ہوگی،جسے قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی کے تحرک پر پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کرکے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا،قارئین محترم ،اوپر بیان کئے گئے حالات وواقعات، آثاروقرائن اورملکی وبین الاقوامی لادین لابیوں،افراد،جماعتوں اوراسلام دشمن این جی اوز کے بیانات اورمطالبات سے اس اَمر کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ایک باقاعدہ اور منظم منصوبہ تشکیل دیاجاچکا ہے،جس کے تحت پاکستان اور بیرون پاکستان کے نام نہاد سیکولر زعماءبیرونی سرمائے اور اشاروں پر پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کے خلاف اِس گھناؤنے مشن میں مصروف ہیں،جس میں بطور خاص پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر،وزیر اقلیتی امور شہبازبھٹی اور ایک خودجلاوطن لیڈر سر فہرست ہیں ۔

اِس ساری صورت حال کا تکلیف دہ اور اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ جس قوم نے انگریزی دور سے اب تک دین و مذہب اور نفاذ اسلام کےلئے اپنا تن،من اور دھن قربان کرنے کو اپنے لئے سرمایہ اعزاز و افتخار سمجھا،اعدائے اسلام،باغیانِ ملت اور موذیانِ رسول کے خلاف ہر محاذ پر چومکھی لڑائی لڑی اور جس نے لاکھوں جانوں،عزتوں،عصمتوں اور املاک کی قربانی دے کر محض اِس لئے یہ خطہ زمین حاصل کیا کہ اِس میں نفاذ اسلام ہوگا اور وہ آزادی سے شعائر اسلامی کے مطابق اپنی زندگی بسر کرسکیں،مگر افسوس ! صد افسوس! کہ آج وہ قوم خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،دوسری طرف پاکستان کے دین دار طبقات اور اسمبلی میں موجود نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وابستگی کے دعویدار،نہ صرف گو مگو کا شکار ہیں،بلکہ اِس قدر حساس مسئلے اور دین و مذہب کے بنیادی اور اساسی معاملات پر زد پڑنے کے باوجود بھی بے حس و حرکت دکھائی دے رہے ہیں،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ اِس کو ذرہ بھر کوئی اہمیت دینے یا اِس پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار کرنے کے روادار نہیں ہیں،سوال یہ ہے کہ عاشقانِ رسول اورمحبانِ دین ومذہب ہونے کے دعویدار کب جاگیں گے؟ کیا یہ اُس وقت کاانتظار کررہے ہیں جب پانی سر سے گزر جائے گا اور جب سارا کھیل ختم ہوجائے گا؟تب یہ خواب غفلت سے جاگیں گے،سڑکوں پر نکلیں گے،احتجاج کریں گے،جلسے جلوس نکالیں گے اور پھر آہستہ آہستہ حالات معمول پر آجائیں گے ۔

بالکل اُسی طرح جس طرح نصابِ تعلیم میں تبدیلی اور حدود آرڈیننس کے خاتمے کے وقت ہوا تھا،لہٰذا اگر پاکستان کے غیور مسلمان چاہتے ہیں کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون اور امتناع قادیانیت آرڈیننس موجود رہے تو پھر اُنہیں ابھی سے پاکستان کی سا لمیت،اُس کی دینی،ملی اور مذہبی شناخت کے خاتمے کے اِس بھیانک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے باہمی مل کر حکمرانوں اور امریکی ایجنٹوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگااور اِس کام کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام وپاسبان ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کواپنااپنا کردار ادا کرنا ہوگا،وگر نہ اِسی طرح صدر کو حاصل معافی کے مخصوص اختیار کے تحت توہین رسالت کے مجرموں کو معاف کرکے بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ جاری رہے گا،یاد رہے کہ جہاں توہین رسالت سے فساد پھیلتا ہے،وہیں قانون توہین رسالت پر صحیح عملدرآمد سے فساد کے تمام راستے مسدود بھی ہوتے ہیں،لہٰذاقانون توہین رسالت کو بدلنے اور ملک کے اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کے بجائے حکومت کا فرض ہے کہ وہ قوم کے جذبات و احساسات کی پاسداری کرتے ہوئے اُن کی ایمان و عقیدے کے مطابق قانون سازی،عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور ملکی آئین و قوانین کا بھر پور دفاع کرے،کہ یہی علامت محبت رسول اور تقاضہ ایمان ہے ۔