نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: نفس نیکی میں بھی شیطان سے جا ملتا ہے

  1. #1
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    نفس نیکی میں بھی شیطان سے جا ملتا ہے

    ہم سے کہاگیا ہے کہ’ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘ یعنی کسی کو بھی اور کسی بھی وقت یہ دُشمن ہم پر وار کر سکتا ہے۔ مگر’ ہم جیسے لوگ‘ اکثر اوقات اپنے علم کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں اور( علم بھی کیا!) مذکورہ بالا قول فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ دراصل ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ علم کے ذریعے بھی شیطان اپنا کام کر سکتا ہے بلکہ کرتا ہے۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ جس کے راوی ہمارے ایک بزرگ ہیں، انہوں نے بتایا کہ حضرت ؒ اپنی طویل عبادت و ریاضت کے بعد چِلّے سے اُٹھے، رات ہو چکی تھی، دیکھا کہ آسمان پر جہاں تک نظر جاتی ہے ایک نور ہی نور کا سلسلہ ہے ، حضرت ، آسمان کے اس نور کی طرف متوجہ ہی تھے کہ، ندائے غیبی نے اُنھیں چونکایا،جس میں ان کا نام لے کر انھیں مخاطب کیا گیاکہ” ہم تمہاری عبادت و ریاضت سے خوش ہوئے ، جاو¿، آج سے تم پر نماز موقوف کی جاتی ہے۔“ حضرتؒ نے سر جھکایا تو خود کلامی ہوئی کہ ت¾و کس منصب پر ہے؟ جب رسول کریم پر نماز موقوف نہیں ہوئی بلکہ یہ قول صادق بھی انہی کا ہے کہ” نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔“ تو میں کیا اور میری عبادت و ریاضت کیا حضرت نے ایک ثانیہ بھی ضائع کیے بغیر لاحول وِلا قوة پڑھا نتیجے میں آسمان سے آن کی آن وہ نور کافور ہوگیا۔ پھر ایک ندا آئی کہ اے عبد القادر! تجھ کو آج تیرے علم نے بچا لیا“ حضرت نے اُسی طرح ایک لمحے کا زیاں کئے بغیر فرمایا: “نہیں میرے علم نے نہیں میرے اللہ کے فضل نے مجھے بچا یا ہے۔“ اس واقعے یا اس روایت سے مقصود یہی ہے کہ ہمیں ہر وقت اور ہر معاملے میں چوکنا رہنا چاہئے کہ کہیں ہم اپنے کھلے ہوئے دشمن کے جال میں نہ پھنس جائیں۔ گزشتہ بدھ کو ہم نے تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں کچھ عرض کیا تھا کہ اب اس شعبے کو بھی تجارت سے نہ صرف آلودہ کر دیا گیا ہے بلکہ فروغِ تعلیم کی آڑ میںتجارت کے فروغ کا سامان کیا جا رہا ہے۔ معاملہ یوں ہے کہ ہم فرنگیوں (انگریزوں) کو گالیاں تو دیتے ہیں مگر ہمارا سارا نظام انگریزوں کی نقالی سے عبارت ہے۔ یہاں بہت تفصیل میں نہ جاتے ہوئے صرف ایک مثال دیتے ہیں کہ یہ جو انگریزی میڈیم اسکولوں میں مدت دراز سے ڈونیشن کا سلسلہ ہے۔ تو اب ہمارے بھائی بند جب اس پیشے ( جی اب یہ خدمت نہیں رہی پیشہ ہی بن گئی ہے)میں آئے تو انہوں نے کہیں تو ڈونیشن کو اس کے اصل نام سے ہی رِواج دِیا اور جو دین کے نام لیوا تھے یا ہیں اُنہوں نے نام بدل کر کام چلانے کی ترکیب استعمال کی کہ وہ اپنے کھلے ہوئے دشمن کی ترکیبِ جدیدہ کی زد میں آگئے، وہ شاید یہ نہیں جانتے تھے شیطان کوئی بھی روپ بہروپ اختیار کر لیتاہے۔ وہ علم اور خیر کے راستے سے بھی آکر اُنھیں راہ ِخیر سے ہٹا کر راہِ بد پر لگا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو تو علم کے فروغ میں کسی بھی طرح کے امتیاز یا کسی بھی طرح کی تفریق سے بہر طور بچنا ہوگا کہ اس کے بر عکس ہم ’ علم‘ کے تعلق سے اسلام کے اس اصول کی نفی کر بیٹھےں گے کہ علم ہر مومن( مرد و زن) پر فرض ہے۔ ہمیں ہر حال میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ملت کا ہر فرد وہ چاہے غریب ہو یا امیر کسی بھی سطح پر علم سے محروم نہ رہنے پائے اور فی زمانہ سب سے زیادہ ملت کے اس کمزور طبقے میں یہ کام کرنے کی ضرورت ہے جو، ہر طرح سے پسماندہ ہے۔ کوئی بھی مالدار آدمی اپنے بچےّ یا بچّی کو اگر پڑھا نا چاہتا ہے تو اس کے لئے ہر جگہ اسکول کھلے ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ان لوگوں کا ہے جو مالی اور ذہنی طور پر بری حالت میں ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تعلیم کے نام پر جو کام ہو رہا ہے اس میں خاصی تعداد میں ’ تعلیمی تجّار‘دَر آئے ہیں اور وہ اپنے اسکول اور(پیشہ ورانہ تعلیم کے) کالجز کھول کر کہیں ڈونیشن تو کہیں ڈپازٹ کے نام پر’وصولی‘ میں لگے ہوئے ہیں اور ہمارے سادہ لوح قسم کے مخلص حضرات اُن کے قُرّم نہ سہی مگرکارِندے ضرور بن گئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار کو اگر ملک کو قوم کی حقیقی ترقی مطلوب تھی تو اُسے تعلیم کا تمام تر شعبہ’ قومیا‘ لینا چاہئے تھا۔ مگر یہاں تو ہمارے سیاسی لوگ ’آقا اور غلامانہ‘ نظام کو بصورتِ دیگر زندہ رکھنا چاہتے تھے( ہیں) لہٰذا بڑے سلیقے سے تعلیم کو بھی’ہائی جیک‘ کر لیاگیا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ملک کے کتنے ہی لیڈر ایسے ہیں جن کے نہ جانے کتنے اسکول اور کالج چل رہے ہیں اور وہ تعلیم کے فروغ کے نام پر خوب تجارت کر رہے ہیں۔ افسوس تو اس کا زیادہ ہے کہ اس تجارت میں ہمارے” بھائی “بھی پیچھے نہیں ہیں کہ اس میں کچھ سادہ لوح قسم کے برادرانِ ملت بھی کام آگئے ہیں۔ ہم انہی لوگوں سے مخاطب ہیں کہ وہ اپنے کھلے ہوئے دشمن کی ’ترکیبوں‘ سے بے خبر نہ رہیں اور اللہ سے پناہ اور اس کا فضل مانگتے رہےں ،جو اُس کو اس کے خوف کے ساتھ یاد رکھتے ہیں وہ کبھی خسارے میں نہیں رہیں گے۔

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: نفس نیکی میں بھی شیطان سے جا ملتا ہے

    جزاک اللہ ..نائس شیئرنگ

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 2
    آخری پيغام: 09-29-2012, 04:48 PM
  2. دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
    By ایم-ایم in forum احمد فراز
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:31 AM
  3. تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
    By ایم-ایم in forum احمد فراز
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:28 AM
  4. کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
    By ایم-ایم in forum امجد اسلام امجد
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:03 AM
  5. کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
    By تانیہ in forum شعر و شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-01-2012, 06:24 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University