نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: کراچی کے لیے ایک نظم

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    کراچی کے لیے ایک نظم

    [size=x-large][align=center]کئی دن سے ناراض ہیں یہ ستارے
    کسی سے کوئی بات کرتے نہیں ہیں

    بلاتے نہیں سرمئی بادلوں کو
    سرِ شام دل میں اترتے نہیں ہیں

    ٹھہرتے نہیں نیلگوں پانیوں پر
    سڑک یا گلی سے گزرتے نہیں ہیں

    اداسی نے رکھے ہیں رستے میں پیالے
    ستارے خوشی اُن میں بھرتے نہیں ہیں

    نظر میں جو اک دشت پھیلا ہوا ہے
    اسے روز و شب پار کرتے نہیں ہیں

    دروبام پر رات چھائی ہوئی ہے
    پرندوں بھری صبح آتی نہیں ہے

    ستاروں کے ناراض ہونے کے باعث
    محبت کہیں گھر بناتی نہیں ہے

    شاعر نامعلوم
    [/align][/size]

  2. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    RE: کراچی کے لیے ایک نظم

    واہ واہ واہ بہت خوب اور زبردست

    شکریہ اس بہترین غزل کے لیے

    :heart::heart::heart:

  3. #3
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: کراچی کے لیے ایک نظم

    واہ بہت خوب۔ شکریہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University