جی جیوٹی وی کے پروگرام آج کامران کے ساتھ 23 مارچ کا دیکھنے کا اتفاق ہوا اور اس میں پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے بتا گیا لیکن جو سب سے اہم چیز تھی وہ ابوالکلام آزاد کی وہ تقریر تھی جو انہوں نے 1946 میں پاکستان کے حوالے سے کی کہ ہندوستان برصغیر کی تقسیم سے صرف برصغیر نہیں بلکہ مسلمان ہی تقسیم ہونگے اور اس کے بعد پاکستان کے مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے اور مغرب کا غلبہ رہے گا نئی ریاست پر ساتھ میں ہندوستان کو بھی مغرب کو راسنہ دینا پڑے گا اور تو قرضوں کا بوجھ دولت کی لوٹ مار امیر ‘ امیر سے امیر تر ہوتا چلا جائے گا غریب غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا یہی نہیں نو دولتئے ملک کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہوں گے عام لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں گے اور علاقائی قوتیں سر اٹھائین گی اور تو اور انارکی کا دور دورہ ہوگا تقسیم در تقسیم ہوگی مغرب کے پسندیدہ حکمران حکومت کریں گے اور آج یہ پیننگوئیاں ٹھیک ثابت ہورہی ہیں چاہے پاکستان بنانے میں نیک نیتی کیوں نہ ہو لیکن ابو الکلام کی یہ تقریر آج کے حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ سے کم نہیں ہے- اس کے بعد اسی قسم کی تقریر پاکستان کے قیام کے بعد بھی کی گئی اور اسی قسم کے الفاظ ادا کئے گئے تو جناب کون ابوالکلام کی اس تقریر کو یا ان ک پیشن گوئیوں کو غلط ثابت کرے یہ لمحہ فکریہ ہے اور ان کو غلط ثابت کرکے ہم کو ایک قوم بننا ہے