صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 25

موضوع: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    ماھانہ رسالہ ارمغان ھندوستان سے بصد شکریہ ،
    [size=xx-large][align=center]نسیم ہدایت کے جھونکے (انٹرویو)[/align][/size]

    سدرہ ذات الفیضین (مثنیٰ)

    سدرہ ذات الفیضین ۔ ]مثنیٰ[ : السلام علیکم
    فاطمہ : وعلیکم السلام مثنیٰ باجی
    س : آپ مدھیہ پر دیش سے کل آنے والی تھیں نا، کل آگئی تھیں یا آج آئیں ؟
    ج : نہیں ۔ تو ہم کل ہی گئے تھے، کل نظام الدین میں حضرت کے ایک دوست کا گیسٹ ہاؤس ہے وہیں رک گئے تھے، کل شام حضرت سے ملاقات بھی ہو گئی تھی، حضرت نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آپ کے پاس آ کر ارمغان کے لئے انٹرویو دوں، اور نسیم ہدایت کے جھونکے جو اَب دنیا میں چل رہے ہیں ان میں، میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے خریداروں میں ایک بڑھیا کی طرح شامل ہوجائوں
    س : ماشاء اللہ ! آپ نے حضرت یوسف کا قصہ پورا سنا ہے، یا پڑھا ہے؟
    ج : مثنیٰ باجی، محبت کرنے والے سارے بڑے اپنے بچوں کی تربیت اور ان میں بڑا بننے اور ان کی ترقی کے لئے قصے سناتے ہیں، نانی، دادی، ماں اپنے بچوں کو بہادروں، بادشاہوں، بڑے عالموں، اور دنیا کے بڑے بڑے لوگوں کی کہانیاں سناتی ہیں کہ ہمارے بچے میں بڑا بننے کا اور دنیا میں کچھ کرنے شوق پیدا ہو، ہمارے اللہ سے زیادہ کون صحیح سمجھ سکتا ہے کہ بندوں کو کن بڑوں کی طرح بننا چاہئے ہمارے اللہ نے بار بار نبیوں کے قصے اپنے قرآن مجید میں دہرائے ہیں، وہ اسی لئے تو ہیں کہ ہم بار بار پڑھیں اور اس کے ایک ایک حصے اور پہلو پر غور کرکے اس سے سبق حاصل کریں، اور ان کی وہ صفات ہمارے اندر پیدا ہوں، قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو تواحسن القصص کہا ہے نا باجی، اس کو سیکڑوں بار پڑھ کر بھی جی نہیں بھرتا ۔
    س : قرآن میں تو بڑھیا کا ذکر نہیں ہے؟
    ج : یوسف علیہ السلام کی بِکری کا تو ہے، وشروہ بثمن بخس دراہم معدودۃ نہیں پڑھا آپ نے، تفسیروں میں تفصیل ہے نا ۔
    س : ماشاء اللہ آپ نے تفسیر پڑھی ہے، اچھا تو آپ یہ بھی بتائیے کہ آپ نے پڑھائی کہاں کی ہے؟
    ج : قطر کی ایک آن لائن یونیورسٹی ہے بلال فلپس چوکی میں، اس میں پڑھ رہی ہوں اور قرآن مجید حفظ بھی کررہی ہوں ۲۳؍ پارے الحمد للہ ہوگئے ہیں ۔
    س : ماشاء اللہ آپ اس میں کب سے پڑھ رہی ہیں ؟
    ج : پانچ سال سے پڑھ رہی ہوں ۔
    س : ماشاء اللہ آپ کا تلفظ بالکل بھی نہیں لگ رہاہے کہ آپ کسی ہندو فیملی سے آئی ہیں ۔
    ج : میں ہندو فیملی سے آئی کہاں ہوں، ہمارے نبی ﷺ کی خبر کے مطابق ہر بچہ فطرت اسلام پر پیداہو تا ہے، ہم لوگوں کی خاندا ن اور فیملی تو وہ ہوتی ہے جس پر بچہ پیدا ہو تا ہے، ہماری فیملی مسلمان ہوئی نا بہن۔ ہاں اصل میں نے پہلے تجوید پڑھی ہے انٹرنیٹ پر، اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔
    س : یہ بات تو ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو ہے کہ اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں، تو آپ کے والدین نے تو آپ کو ہندو بنایا تھا نا؟
    ج : ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے، اس طرح تو میں بالکل اسلام مخالف گھرانے، بستی اور صوبہ میں بڑی ہوئی ہوں ۔
    س : اس کی تفصیلات بتائیے؟
    ج : میں مدھیہ پردیش کے ضلع دھار کے ایک ایسے قصبہ سے تعلق رکھتی ہوں جس میں ایک گھر بھی مسلمان کا نہیں، میرے والد راجپوت ٹھاکربرادری سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بی جے پی کے بہت سر گرم کارکن رہے ہیں، اسلام کے خلاف جو بین الاقوامی پروپیگنڈہ چل رہا ہے، اس سے وہ حد درجہ متأثر رہے، ہر مسلمان ان کے خیال میں دہشت گرداور ہندوستان کا دشمن، پاکستانی دہشت گرد تھا، وہ پرائمری اسکول میں سرکاری ٹیچر تھے اور اب ہیڈ ماسٹر ہیں، ان کے تین کلاس کے ساتھیوں کے علاوہ کسی مسلمان سے ان کا ذاتی تعلق بھی نہیں، میرا ایک بڑا بھائی، ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی ہے۔اصل میں ہمارا گھرانہ رائے پور کی طرف کاہے، ہمارے دادا جی سرکاری ملازمت کی وجہ سے دھار میں آگئے تھے اس لئے میرے ایک چچا اور ایک تاؤ، بس ان کی اولادیں، پورے پریوار میں کل ملاکر( یعنی خونی رشتہ کے) ۱۹؍لوگ ہمارے قصبہ میں ہیں، رائے پور کے رشتہ داروں سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں، یعنی آنا جانا نہیں رہا۔
    س : آپ کی تعلیم پہلے کہاں ہوئی؟
    ج : اپنے قصبہ کے ایک پرائمری اسکول سے جہاں والد صاحب پڑھاتے تھے پانچویں کلاس پاس کی، اس کے بعدہائی اسکول ایک سرسوتی ودّیا پیٹھ سے کیا، وہیں سے انٹر میڈیٹ کیا، بعد میں ایک کمپیوٹر کا کورس بھی کیا، اسلام قبول کرنے کے بعد اسکول کی تعلیم متأثر رہی، مسلسل آزمائشوں سے جوجھتی رہی، اتنا کچھ بھی بس نہ جانے کیسے کرلیا۔
    س : اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتائیے؟
    ج : میرا اسلام قبول کرنا بس ایک پہیلی ہے، جس کے لئے کسی بوجھ بجھکڑ کی ضرورت پڑے گی، اصل میں پہیلی کیا سچی حقیقت یہ ہے کہ رات کی تاریکی سے صبح کی پو پھاڑنے والا یخرجہم من الظلمات الی النور (وہ اللہ ان کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالتا ہے ) کا فیصلہ ہر جگہ ہر گھر میں سب کی زندگی میں کرتا ہی رہتا ہے، اس کی ایک کرن ہمارے گندے خاندان پر بھی پڑ گئی۔
    س : کس طرح، ذرا تفصیلات بتائیے؟
    ج : تفصیلات ایسی گھناؤنی ہیں کہ ذکرکرنا بھی مشکل اور سننا بھی آپ کے لئے مشکل، اور لکھنا اور نقل کرنا شاید ناممکن ہوگا۔
    س : کچھ تو اندازہ ہے، ذرا اشارہ میں بتائیے؟
    ج : اصل میں بات میرے ایک محترم رشتہ دارحقیقی چچا کی شرم ناک حرکت سے شروع ہوئی، جو اَب خود اپنی حرکت پر اس قدر نادم ہیں کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں، اوراب وہ نہ صرف مسلمان بلکہ ایک دردمند داعی ہیں، اب اس کا ذکر یقینا اچھا نہیں مگر وہ حرکت ہی اس روشنی کا ذریعہ بنی، اور اس کے بغیر اللہ تعالی کی شان ہدایت کا ذکر ادھورا رہے گا، اس لئے بات تو وہیں سے شروع کرنی پڑے گی، اصل میں میرے ایک چچا بچپن میں غلط صحبت میں رہنے لگے تھے، اور ان کو شراب کی لت لگ گئی تھی، اب شراب پی کر انسان جو کرلیتا ہے اور جہاں تک پہنچ جاتا ہے، وہ اس انسان کا فعل نہیں بلکہ اس نجس شی کا اثر ہوتا ہے، اس لئے تو نشہ کی حالت میں نماز کی اجازت نہیں، اور ہوش و حواس جو کھوجائیں تو آدمی شرعی احکام کا مکلف نہیں رہتا، مارچ ۲۰۰۸ء کی بات ہے، میرے والد اسکول گئے ہوئے تھے، میری والدہ بھائی کو لے کر پڑوس میں چلی گئی تھیں، میں گھر میں اکیلی تھی، میرے چچا نشہ کی حالت میں آگئے، نہ جانے کون سا شیطان ان پر آیا، وہ ہم سے بہت محبت بھی کرتے تھے، کبھی خواب میں بھی ہمیں ان سے ایسی حرلت کی امیدنہیں تھی، بس شاید اللہ کو خاندان کی ہدایت منظور تھی، بس ان پر نشہ کا شیطان پوری طرح سوار ہوگیا، انھوں نے مجھے کمرہ میں بند کرلیا اور میرے ساتھ وہ سب کچھ کرنا چاہا جس کا وہ ہوش و حواس میں خواب بھی نہ سوچ سکتے تھے، میں اپنی عزت بچانے کی کوشش کرتی رہی، اور ایک گھنٹہ چیختی بھی رہی، مگر آواز کمرہ کے باہر نہ جا سکی، میرے سارے کپڑے پھٹ گئے، کئی بار میں ہمت ہار جاتی، کہ اب وہ منھ کالا کرکے چھوڑیں گے، مرتا کیا نہیں کرتا، بس میرا ان پر بس چل گیا اور وہ بے ہوش ہوگئے۔میں پھٹے کپڑے لپیٹ کر باہر بھاگی، باہر ایک بوری جسم کو چھپانے کے لئے لی، دوسرے کمرے میں چادرلی، اپنے تائے کے گھر گئی وہاں جاکر بہن کے کپڑے پہنے، اور میں نے گھراور قصبہ چھوڑنے کی سوچ لی، بس میں بیٹھ کر اندور گئی، راستہ بھر سوچتی رہی، مجھے کیا کرنا چاہئے، کئی بار خیال آیا کہ تھانہ میں جاکر ایف آئی آر درج کراؤں پھر خیال آیا کہ پولیس والے خود درندے ہوتے ہیں وہ مجھے اپنی کسٹڈی میں رکھیں گے، پھر کسی ناری نکیتن میں رکھیں گے، ایک ناری نکیتن کی گندی کہانی میں نے اخبار میں دودن پہلے پڑھی تھی، کبھی سوچتی یہ کرنا چاہئے، کبھی سوچتی وہ کرنا چاہئے، اپنے قصبہ، اپنے خاندان یہاں تک کہ پورے معاشرہ اور دھرم سے نفرت اور کراہیت میرے پورے وجود کو جلائے دے رہی تھی، اندور تک کے سفر میں میرے دماغ اور دل میں مختلف خیالات آتے رہے، اور آخری فیصلہ جس پر مجھے اطمینان ہوا یہ تھا کہ مجھے ایسے گھرانہ، خاندان اور معاشرہ کو چھوڑدینا چاہئے، اس کے لئے مضبوط فیصلہ یہ ہے کہ اسلام قبول کرلینا چاہئے۔
    س : اسلام کا خیال آپ کوکیوں آیا ؟
    ج : اصل میں میں نے توکہا اللہ کی رحمت تھی، مگر بظاہر گیند بہت زور سے لگی تھی، تو ری ایکشن بھی اسی رفتار سے تھا، بودھ دھرم تو ہندو دھرم کا حصہ ہے، عیسائی ہوکر بھی کچھ ہندو دھرم سے اتنا دور ہونا ممکن نہیں جتنا میرے اندر جذبہ تھا، پوری دنیا میں سارے مذاہب کی ضد بس اسلام میں تھی، تو انفعال میں اس وقت میرے ری ایکشن کے جذبات کی تسکین کامل معاشرہ کو جھلا دینے والا فیصلہ اسلام ہی ہوسکتا تھا، اس لئے میں نے جذبات میں یہ فیصلہ لیا اور فیصلہ لے کر جمے رہنا میرے اللہ نے میری فطرت کا خاص حصہ بنایا ہے، اس کے لئے مجھے کسی ایسے مسلمان کی تلاش ہوئی جو مجھے مسلمان کرسکے، اندور بس اڈہ پر اتر کر میں نے جامع مسجد کا پتہ معلوم کیا، لوگوں نے کہا یہاں بہت سی مسجدیں ہیں، ایک مسلمان نے مجھے آزاد نگر مدرسہ کا پتہ بتایا، میں وہاں گئی، مولانا صاحب ملے تو انھوں نے کہا مسلمان ہونے کے لئے آپ کو بھوپال قاضی کے پاس جانا پڑے گا۔
    س : آپ کے پاس خرچ کہاں سے آیا؟
    ج : یہ خود اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ ہے، میں گھر سے نکل رہی تھی تو میں نے دروازے کے باہر دیکھا کہ ایک پرس پڑاہے، میں نے دیکھا کہ وہ میری ماں کا پرس ہے، جو ان سے جاتے وقت گر گیا ہوگا، اس میں 5600/=روپئے تھے، جو میرے اللہ نے میرے اسلام کے انتظام کے لئے گروائے تھے۔
    س : تو پھر آپ بھوپال گئیں ؟
    ج : ہاں میں بھوپال گئی، اور وہاں قاضی صاحب کے پا س گئی، وہ بہت ہنسے، مجھے بہت دکھ بھی ہوا، انھوں نے مجھ سے مسلمان ہونے کی وجہ معلوم کی تومیں نے بتایا، مجھے اپنے خاندان اور معاشرہ سے نفرت ہو گئی ہے، انھوں نے کہا اس کے لئے مسلمان ہونا ٹھیک نہیں ہے، اسلام کو پڑھئے، آپ ابھی نابالغ ہیں بالغ ہوکر مسلمان ہونا ہوگا، میں نے کہامیرا دماغ، میرا دل بالغ ہے، آپ مجھے مسلمان کرلیجئے، مگرانھوں نے منع کردیا، میں تاج المساجد بھی گئی، بہت سے مسلمانوں اور مولانا لوگوں کے پاس گئی، لیکن کوئی بھی تیار نہیں ہوا، میراخیال تھاکہ میں دھن کی پکی ہوں، مایوس ہوکر کئی بار خیال آیا میں گھر واپس چلی جاؤں مگر میری انا مجھے روک دیتی، میری انا مجھ سے کہتی کہ فیصلہ لے کر واپس ہونا بہت بڑی ہار ہوگی، میرا نام لکشمی بائی میرے والد نے رکھا تھا۔
    س : آپ بھوپال میں کہاں رہیں ؟
    ج : شاہ جہاں آباد مرکزمیں گئی وہاں بھی مولانا نے منع کردیا، رات کا وقت تھا وہاں پر ایک بے چاری پریشان حال بیوہ ایک جھونپڑی میں رہتی تھی، انھوں نے مجھے اپنے گھر رکھا مجھ پر ترس کھایا، میں بھوپال میں دو مہینے ان کے گھررہی۔
    س : آپ کے گھروالوں نے آپ کوتلاش نہیں کیا؟
    ج : بہت تلاش کیا، پہلے اسلام قبول کرنے کی بات سن لیجئے
    س : سنائیے، پہلے آپ وہ بات پوری کرلیجئے ؟
    ج : رحمت آپا جن کے یہاں میں رہ رہی تھی، وہ مجھے لے کر ایک آپا جان کے یہاں گئیں جو جمعرات کو عورتوں کا اجتماع کرتی تھیں، انھوں نے جاکر میرے بارے میں بتایاوہ بھی ہنسنے لگیں، میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو وہ مجھ سے لپٹ گئیں، مجھے گود میں لے کر بہت پیار کیا، کہامیری بچی کیوں رورہی ہے، میں تجھے ضرورمسلمان بناؤں گی، پھر انھوں نے مجھے روتے روتے کلمہ پڑھوادیا، پھر مجھ سے معلوم کیا تم اپنا نام بھی بدلوگی؟ کیا نام رکھوں ؟ میں نے کہا، حضرت محمد ﷺ کی بیٹیوں میں سے کوئی نام رکھ دو، تو انھوں نے میرا نام فاطمہ رکھا۔انھوں نے کل پھر آنے کے لئے کہا، اور کہا آج مجھے ایک شادی میں جانا ہے، کل میں تمھیں کتابیں منگاکر دوں گی، اگلے روز دوپہرکو میں ان کے یہاں رحمت آپا کو لے کر گئی، تو انھوں نے نوکتابیں مجھے دیں : آپ کی امانت آپ کی سیوا میں، مرنے کے بعدکیاہوگا؟، بہشتی زیور، رہبر انسانیتﷺ، نسیم ہدایت کے جھونکے تین حصے، اسلام کے پیغمبر، اور اسلام کیا ہے؟ یہ میرے لئے مکمل نصاب تھا، ان کتابوں کو میں نے رحمت آپا کے یہاں رہ کر پڑھا، ان کو پڑھ کر میرے جذبات کا رخ بدل گیا، میں اپنے چچا کو بالکل بے قصورسوچ کراللہ کی طرف سے ان کو ہدایت کا ذریعہ سمجھ رہی تھی، مجھے گھر پریوار کو چھوڑنے کے بجائے ان کو دوزخ سے بچانے کی فکر سوار ہو گئی تھی، مجھے اپنے گھروالوں کی فکرہوئی، مجھے اندازہ تھا کہ میرے گھروالوں میں سے کسی کو میرے گھر سے نکلنے کی وجہ معلوم نہیں ہو گی، نہ جانے کیا کیا افواہیں میرے بارے میں اڑ رہی ہوں گی، گھروالے کسی لڑکے کے ساتھ جانے اور نہ جانے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے، مگر مرنے کے بعد کی دوزخ سے بچانے کے لئے یہ الزامات اور اس پر گھروالوں کا عتاب سب چھوٹی چیزیں تھیں، نسیم ہدایت کے جھونکوں میں ’’حرا‘‘ جو تقریبا میری عمر کی تھی، نے اپنی جان دے کر اللہ کی محبت میں ایمان کے لئے جل کر پورے گھرانہ کے لئے ایمان اور جنت کا راستہ کھولا، مجھے بھی قربانی دینی چاہئے، رحمت آپا مجھے منع کرتی رہیں اور اپنے بھتیجہ سے شادی کرکے اپنے بھائی کے گھر میں رکھنے کے لئے خوشامد کرتی رہیں، مگر میں نے فیصلہ کرلیا اور رحمت آپانے بھی مجھے اجازت دے دی، میں واپس گھر پہنچی۔
    س : گھر میں کیا خبریں تھیں ؟
    ج : میرے والد گھر آئے تو والدہ تو نہیں آئی تھیں، میرے چچا تین گھنٹے تک ننگے بے ہوش پڑے رہے، ان کی غلط صحبت اور شراب کی لت سے ان سے سب بد ظن تھے، مجھے گھرمیں نہیں پایا تومیری تلاش ہوئی، دوتین روز سب جگہ تلاش کے بعد میں نہیں ملی تو تھانہ میں رپورٹ درج کرائی، میرے اسکول میں تحقیق کی گئی کہ کسی لڑکے سے کوئی تعلق تو نہیں، مگر یہ بھی خیال تھا کہ چاچا نے کوئی حرکت کی ہو، میں گھر پہنچی تو پہلے تو گھروالے بہت غصہ تھے، مجھ سے وجہ معلوم کرتے تھے، میرے سامان کو ٹٹولا، تلاشی لی گئی تو اسلام پر کتابیں تھیں، سب برہم ہوگئے، اس لئے اپنی ماں کو چاچا کی حرکت بتانی پڑی، اور ساتھ ہی ساتھ میں نے اپنے اسلام قبول کرنے کی کہانی بھی بتائی، سب بھایئوں نے چاچا کو بلاکر بری طرح مارا، میں ان کو منع کرتی رہی کہ ان کی خطا نہیں ہے، میرے مالک نے مجھے سچی راہ دکھانے کے لئے ان پر شیطان چڑھاکر مجھے سچ کی راہ دکھائی، اس پر وہ مجھ پر غصہ ہوگئے اور مجھے بھی مارا، میں پٹتی رہی اور حرا کی نقل میں ان لوگوں سے کہتی رہی تم مجھے مار رہے ہو، مگر مرنے کے بعد ایک بڑی مار کا سامنا ہونے والا ہے، اس سے صرف اسلام ہی بچا سکتا ہے، میرا بھائی بڑے غصہ میں آیا اس نے لوہے کی کرسی اٹھاکر میرے سر میں ماردی، جس سے میرا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا، میرے تایا نے لوگوں کوروکا کہ یہ مر جائے گی، ابھی کچی عمر ہے سمجھانے کی کوشش کرو، پیار سے سمجھاؤ، ایک ایک کرکے مجھے گھروالے سمجھاتے رہے، ، میری ایک بہن جو مجھ سے زیادہ تعلق رکھتی تھی، میری ماں نے اسے بلوایا کہ وہ اب مجھے سمجھائے مگر اسلام اب میرے لئے ایسی چیز نہیں تھا کہ جسے چھوڑا جا سکے، میرے لئے حرا کا نمونہ تھا کہ خوشی میں اللہ کی محبت میں جل کر جان دے دی، یا پیارے نبی کی روشن زندگی کہ سب کچھ سہتے رہے اور قولو لا الہ الا اللہ کی خیر خواہی میں لگے رہے۔روز ایک نیا دن میرے ایمان کو بڑھانے کے لئے آتا، اور پھر مجھے اس مخالفت اور دشمنی میں اللہ کا نور نظر آتا، دو سال تک ہر دن کی ایک داستان ہے، جس کے لئے ایک کتاب چاہئے، گھر والوں کے ساتھ کبھی کبھی پڑوسی بھی شامل ہوجاتے، میرے ایک ماما مجھے رائے پور اپنے گھر لے گئے، وہاں بہت سے سیانوں سے ٹونے ٹوٹکے کروائے، جس کا اثر میرے دماغ پر ہوا، مجھے بھول کا مرض ہوگیا، مگر میں سورہ علق اور سورہ ناس پڑھتی رہی، اللہ نے اس کا اثر زائل کردیا، وہاں میرے ماما کی لڑکی نے اسلام قبول کرلیا، بھائی بھی کتاب پڑھنے لگاتو ماما نے مجھے واپس بھیج دیا کہ یہ تو سارے گھروالوں کو ادھرم کردے گی، گھر پر آکر پھر مار پیٹ، ایک بار مجھے زہر بھی دیا گیا، ایک بار میرے ہاتھ کی دونوں ہڈیاں توڑ دیں، دو روز تک ہاتھ ٹوٹا رہا، کوئی پٹی کرانے کو بھی تیار نہیں، میری بوا کو معلوم ہوا وہ آئیں اور پلاستر کر وا لائیں، ایک دفعہ میرے بھائی نے اس زور سے سریہ مارا کہ میری پنڈلی کی ہڈی میں فریکچر آگیا، مگر میری ہر چوٹ میرے اللہ بہت جلدی ٹھیک کردیتے، میرے اللہ کاکرم ہوا کہ جب بھی مجھے مارا جاتا، ستایا جاتا مجھے اچھے خواب دکھتے، ، کبھی جنت دکھائی جاتی کبھی کسی صحابی کی زیارت ہوتی، کبھی پیارے نبی ﷺ کی بھی زیارت ہوئی، گھر والے میری ثابت قدمی جسے وہ ضد اور ہٹ دھرمی سمجھتے تھے، سے عاجز آگئے۔
    س : آپ کے گھر والے سب اسلام میں آگئے، وہ کس طرح ہوا، ذرا بتائیے؟
    ج : ہاں بتارہی ہوں، میں ان کی ساری مخالفت کو فانہم لا یعلمون سمجھتی تھی، کیونکہ سیرت پاک کے روشن خطوط میرے ساتھ تھے، اس لئے میں راتوں کو اپنے اللہ کے سامنے بہت روتی تھی اور گھروالوں کے لئے ہدایت کی دعا کرتی تھی، کبھی کبھی اس کیفیت کے ساتھ دعا کرتی کہ میرا گمان ہو تا کہ آج اگر جنت کو زمین پر اتروانے کی ضد کروں گی تو میرے اللہ اتار دیں گے، دعا کے بعد میراسارا دکھ دور سا ہوجاتا، اللہ کے حضور اس بھکارن کی صدا کو قبولیت سے نوازا گیا، ایک دن میری ماں میرے پاس ایک بجے رات تک روتی رہی، اور بولی کہ لکشمی تو نے گھر کو کیسا نرک بنا رکھا ہے، تو واپس نہ آتی تو اس سے اچھا تھا، میں نے کہامیں پھر گھر سے جانے کو تیار ہوں، بس میری آپ سے ایک شرط ہے کہ دو کتابیں آپ کو دیتی ہوں آپ پڑھ لیجئے، اس کے بعد آپ اگر کہیں گی میں گھر سے چلی جاؤں گی، وہ اس پر راضی ہوگئیں، میں نے’ آپ کی امانت ‘اور’ نسیم ہدایت کے جھونکے‘ ان کو دی، وہ بولیں اب تو میرا دماغ تھک گیا ہے، اچھا کل پڑھوں گی، اگلے روز انھوں نے آپ کی امانت پڑھنا شروع کی، میں غور سے ان کے چہرہ کو دیکھتی رہی، ان کے چہرہ پر ان کے دل سے کفر و شرک کے چھٹنے کا اثر دیکھتی رہی، اور اس امید پر خوش ہوتی رہی، پڑھ کر اچانک وہ کتاب بند کرکے بولیں، بس لکشمی میں نہیں پڑھتی توتو مجھے مسلمان بنا دے گی، میں نے کہا آپ ایک راجپوت گھرانہ کی استری(عورت)ہیں آپ نے زبان دی ہے، یہ دونوں کتابیں آپ کو پڑھنا پڑیں گی، میں نے ان کے پاؤں پکڑ لئے، میری ماں میری بات مانو، ورنہ موت کے بعد بہت پچھتانا پڑے گا، میری خوشامد سے وہ پڑھنے لگیں، پوری کتاب پڑھ کر وہ بولیں لکشمی بات تو بالکل سچی ہے، مگر تیری طرح ہمت کون کرسکتا ہے، سب تو لکشمی بائی نہیں ہوسکتیں، میں نے کہااس کے لئے آپ کو دوسری کتاب پڑھنی پڑے گی۔نسیم ہدایت کے جھونکے پڑھنا شروع کیا، میں نے عبد اللہ اہیر کا انٹرویو نکال کر دیا، تھوڑی دیر میں میری خوشی کی انتہا نہیں رہی کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کے بعد میں نے دوسری کتاب سے زینب چوہان اور عائشہ کے انٹرویو پڑھوائے، بس ان کے دل کی دنیا بدل گئی، رات کو وہ دیر تک مجھ سے باتیں کرتی رہیں، اور میری ضد اور خوشامد پر کہ ماں جب آپ کی سمجھ میں آگیا ہے تو اب دیر کرنا ہرگز ٹھیک نہیں ہے، اب تک تو آپ اللہ کے یہاں یہ کہہ سکتی تھیں کہ مجھے معلوم نہ تھا، اب تو بات صاف ہوچکی ہے، نہ جانے صبح کو آنکھ کھلے گی کہ نہیں، ایک بجے رات کو میں نے ان کو کلمہ پڑھوایا، اب تو بیان نہیں کرسکتی کہ میری کیسی عید ہوگئی تھی، اب میرے لئے گھرمیں رہنا بالکل آسان ہوگیا تھا، ماں کے اسلام قبول کرنے کے بعدمجھے اپنی ساری دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین سا ہوگیا، میں نے دعا کے صدقہ کے طور پر اپنے والد کے اسلام کے قبول کرنے کی خوشی میں چالیس روزے رکھنے کی نذر مانی، اور دعا کا اہتمام کیا، ایک رات وہ بھی مجھ سے کہنے لگے، لکشمی شروع میں تو تو اپنے چاچا کی وجہ سے مسلمان ہوئی، مگر اتنی مشکل کے بعد اب تجھے اسلام پر کون سی چیز ہٹ دھرم بنارہی ہے، میں نے ان سے بھی آپ کی امانت آپ کی سیوا میں اور’ ہمیں ہدایت کیسے ملی؟‘ پڑھنے کو کہا، وہ لے کر کھول کر دیکھنے لگے، دو شبد پڑھے تو وہ پڑھنے لگے، رات کو سوئے تو انھوں نے اپنے کوداڑھی اورٹوپی میں نماز پڑھتے دیکھا اور جب وہ مسجد میں گئے تو ان کو ایسا لگا کہ آسمان سے ٹھنڈی پھوار جس میں نور بھی ہے، ان کے اوپر برس رہا ہے، انھوں نے اس میں عجیب سکون دیکھا اور مجھ سے لے کر’ اسلام کیا ہے؟‘ کتاب پڑھی، مرنے کے بعد کیاہوگا؟رہبرانسانیت، اسلام کے پیغمبر پڑھیں، اور نسیم ہدایت کے جھونکے تینوں حصے پڑھے، پھر مجھ سے کہا کہ مولانا کلیم صاحب سے مجھے کسی طرح ملوا دے، بہت کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا، اس کے بعد انھوں نے ایک اور خواب دیکھا، جس کے بعد وہ خود بھی مسلمان ہونے کو کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے کہ میں نے ان کو کلمہ پڑھوایا، بڑے بھائی ہم لوگوں کے فیصلہ سے ناراض رہے اور چھ مہینے کے لئے گھر چھوڑ کر چلے گئے، وہ گوالیر رہے، وہاں بہت پریشان رہے، ایک مسلمان لڑکے نے ان کے ساتھ بہت سلوک کیا، وہ گھر آئے اور دو تین سمجھانے کے بعد مسلمان ہوگئے، اور چھوٹا بھائی اور بہن تو والد صاحب کے ایک دو دن کے بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے، اب چاچا پر کوشش شروع کی اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ بھی ۲۰۰۸ء کے بھوپال اجتماع سے چالیس دن لگا چکے ہیں، میرے اللہ کا کرم ہے میرے خونی رشتہ کا کوئی قریبی عزیز ہمارے گھر انہ میں کافر و مشرک نہیں رہا۔
    س : ماشاء اللہ آپ واقعی بہت خوش قسمت ہیں، ارمغان میں بہت سے لوگوں کے انٹرویو شائع ہوتے ہیں مگر جس قدر آپ کے ساتھ اللہ نے کرم فرمایا، یہ بالکل انوکھا ہے۔
    ج : الحمد للہ میں اس اللہ کی رحمت کے قربان، کہ میرے چاچا پر شہوت اور درندگی کا شیطان سوار کراکے اللہ نے مجھے اور چاچا اور سارے خاندان کو دعوت دلواکر ہدایت سے نوازا، حضرت نے نسیم ہدایت کے جھونکے کے شروع میں واقعی کیسی سچی بات لکھی ہے : ہدایت کی کیسی ہوا اللہ نے چلائی ہے۔
    س : ابی سے آپ کا رابطہ کب سے ہے؟
    ج : پہلی ملاقات کل ہوئی، فون پرالبتہ ایک مہینہ پہلے ملاقات ہوئی تھی، ایک بار ہم بھوپال آئے تھے معلوم ہوا تھا کہ آنے والے ہیں، مگر حضرت کا پروگرام ملتوی ہوگیا تھا، مایوس ہوکر واپس گئے تھے، ہاں دل سے تعلق تو اپریل ۲۰۰۸ء سے ہے جب سے کتابیں پڑھی ہیں، مگر ملاقات پہلی بار کل ہوئی ہے۔
    س : ماشاء اللہ بہت خوب آپ کی داستان ہے، اللہ تعالی آپ کی استقامت کا کوئی حصہ ہمیں بھی عطا فرمائیں آپ ہمارے لئے ضرور دعا کریں ۔
    ج : میں وظیفہ سمجھ کر بلا ناغہ آپ کے خاندان اور نسلوں کے لئے دعا کر تی ہوں، اور مثنیٰ باجی شاید ہی کوئی بدقسمت مسلمان ہوگا جو آپ کے گھرانہ کو جانتا ہو اور آپ کے لئے دعا نہ کرتا ہو۔
    س : جزاکم اللہ خیرا، ارمغان کے قارئین کو کوئی پیغام دیں گی ؟آپ کی باتیں تو ایسی ہیں کہ سنتے ہی جائیں، یہ جی چاہتا ہے۔ مگر آپ بھی تھک جائیں گی اس لئے باقی پھر کسی وقت بات ہوگی ۔
    ج : جی بہتر ہے، ہمیں جانا بھی ہے گاڑی میں، بس میری درخواست تو ارمغان کے قارئین سے یہ ہی ہے کہ اگر آدمی اپنے نبی ﷺ کے اسوہ سے روشنی لیتے ہوئے دھن سوار کرلے کہ دوزخ سے انسانیت کو بچانا ہے تو اس وقت ہدایت کا فیصلہ اللہ کی طرف سے تھوک میں ہورہا ہے، نہ جانے کتنے خالد بن ولید، سیف من سیوف اللہ، اور کتنی لکشمی بائی فاطمہ اور رقیہ بن سکتی ہیں ۔
    س : واقعی بالکل سچی بات ہے، اللہ مبارک فرمائے، واقعی یہ سوچ خودبہت مبارک ہے۔ شکریہ بہن فاطمہ بہت شکریہ
    ج : شکریہ تو آپ کا بہن مثنیٰ، میرے لئے کس قدر خوشی کی بات ہے کہ نسیم ہدایت کے جھونکے کی ایک کڑی آپ نے مجھ گندی کو بنانے کا شرف بخشا۔
    س : اچھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ استودعکم اﷲ دینکم وخواتیم اعمالکم

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [size=xx-large][align=center]افریقی باکسرز اسلام کے سایہ میں[/align][/size]
    براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے 9 باکسرز نے کراچی میں بے نظیر بھٹوشہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ کے دوران عیسائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ۔
    مفتی نعیم کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کے بعد یہ نوجوان باکسرز بہت خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے ۔ان میں سے چھ کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک سے ہے اور تین کیمرون کے شہری ہیں ۔
    واضح رہے کہ یہ باکسرز بے نظیر بھٹو شہید انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنمنٹ میں شرکت کے لیے حکومت پاکستان کی دعوت پر اپنے کوچ اور باکسنگ فیڈریشن کے صدر کے ہمراہ کراچی آئے تھے ۔ کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس میں ان کے مقابلے جاری تھے ۔ یہ ٹورنمنٹ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیاجب 4 جنوری 2010 کی شب وسطی افریقن ریپبلک سے تعلق رکھنے والے 6 باکسروں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ بعد ازاں ان باکسرز کے لیے 5جنوری کی دوپہر2بجے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ممتاز عالم دین مفتی نعیم کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب تقریب کے منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ6وسطی افریقی باکسرز کے ساتھ کیمرون سے تعلق رکھنے والے تین باکسرز بھی اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ بعدازاں مفتی صاحب نے 9 باکسروں کو کلمہ طیبہ پڑھاکر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔ اس موقع پر مفتی نعیم کی جانب سے ان کے قبول اسلام کی ایک سند تیار کرکے نوجوانوں کو دے دی گئی ۔ قبول اسلام کی بابرکت اور روح پرور تقریب کے بعد مہمان باکسرز نے اپنے کوچ کے ہمراہ واپس کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس چلے گئے ۔ ”امت “ کی جانب سے نومسلم باکسرز اور ان کے کوچ سے خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا ۔ جب ”امت“ ٹیم کے پی ٹی اسپورٹس کامپلکس پہنچی تو وہاں مختلف ممالک کے باکسرز کے درمیان مقابلے جاری تھے اور رنگ کے اطراف موجود عام شائقین کے ساتھ نومسلم نوجوان افریقی باکسرز بھی بیٹھے ہوئے مقابلوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ وسطی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 6نومسلم نوجوان سفید کاٹن کے شلوار ، قمیص پہنے اور سروں پر سفید ٹوپیاں لگائے الگ ہی دکھائی دے رہے تھے ۔
    9 افریقی باکسرز کے قبول اسلام کا سارا کریڈٹ ان کے کوچ محمد کلام بے کو جاتا ہے ۔ ”امت ‘’ کی جانب سے انٹرویو کی خواہش ظاہر کرنے پر ان باکسرز کے کوچ محمدکلام بے نے ”امت “کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق سنٹرل افریقن ریپبلک کے شہر بنگوی سے ہے اور 1967ءسے باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ الحمد للہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں اور انہوں نے اپنی ٹیم کے عیسائی کھلاڑیوں کے ساتھ ہمیشہ برادرانہ اور دوستانہ رویہ رکھا جس کی وجہ سے باکسرز اسلام کی تعلیمات سے متاثر تھے ۔ محمد کلام کے مطابق جب وہ حکومت پاکستان کی درخواست پر اپنی ٹیم کے 6کھلاڑیوں کے ہمراہ کراچی پہنچے تو پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے عہدہ دار رات 2بجے ایر پورٹ پر استقبال کے لیے موجود تھے ۔ یہ افریقی کھلاڑی پاکستانی آفیشلز اور دیگر لوگوں کے حسن سلوک اور مہمان داری سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اگلی ہی رات انہوں نے اپنے کوچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کردی ۔ محمد کلام بے اپنے کھلاڑیوں کے اس فیصلے پر خوشی سے سرشار ہوگئے اور انہوں نے فوری طور پر پاکستان فیڈریشن کے حکام کو مطلع کیا وسطی افریقہ کے جن کھلاڑیوں نے اسلام قبول کیا ان کے افریقی نام اور مفتی نعیم کی جانب سے رکھے گئے اسلامی نام کچھ اس طرح سے ہیں :
    ٭ سیلی بانگے (اقبال حسین )
    ٭کبوڈو آئی گور (محمداکرام)
    ٭نیام بونگوی (عبیدالرحمن )
    ٭بانگوی (تیمور حسین )
    ٭این گو کو (محمدعلی)
    ٭ین ڈراسا (علی اکبر)
    جبکہ کیمرون سے تعلق رکھنے والے باکسرز کے نام
    ٭میمدوا (محمد یاسر)
    ٭کیچی می (محمد راشد)
    ٭ٹچ ویم (محمد احمد) رکھے گئے ہیں ۔
    وسطی افریقہ ٹیم سے تعلق رکھنے والے باکسرز کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کے اخلاق اور حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ یہاں جس گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا گیا اور بعد ازاں خلوص ومحبت کے رویے کو وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ہمیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تاہم وہ تمام مشکلات کو جھیلنے کے لیے تیار ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام باتیں ان کے ذہنوں میں موجود تھیں تاہم ان کے کوچ محمد کلام بے ان کی بہت ہمت افزائی کر رہے تھے اور اسلام سے متعلق بہت سی باتیں بھی سکھا رہے تھے ۔
    نومسلم باکسر محمد علی کا کہنا تھا یہ امکان بہت کم ہے کہ انہیں اپنے اہل خانہ یا دوستوں کی جانب سے کسی مخالفت یا رویے کا سامنا کرنا پڑے کیوں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے ملک میں خواتین اور مردوں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
    تمام نومسلم کھلاڑیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وطن جاکر تبلیغ دین کا کام کریں گے ۔ ان کھلاڑیوں کی عمریں24سے 30سال کے درمیان ہیں۔ان کے چہروں سے خوشی اور سکون جھلک رہا تھا ۔
    بشکریہ ۔ ماہنامہ مصباح ۔ الکویت

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]بھائی مزمل (سوہن ویر) سے دلچسپ ملاقات[/size][/align]
    س: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    س:مزمل بھائی آپ کا نمبر بھی آہی گیا؟
    ج : جی احمد بھائی ،میں نے آپ سے کتنی بار کہا کہ میرا انٹرویو بھی لے لو۔

    س:تمھارا حال تمھیں خود معلوم ہے کیسا تھا،کیا وہ اس لائق تھاکہ اسے چھپوایا جائے،وہ تو ایسا حال تھا کہ اسے چھپایاجائے بس،پھر یہ بات بھی تھی کہ ابی جس کے بارے میں فرماتے ہیں میں ان سے ہی بات کرتا ہوں،میں نے ابی سے تمھاری بات کہی تھی،تو ابی کہتے تھے ذرا انتظار کرلو اس کا حال ذرا اس لائق ہونے دو۔
    ج: مشہور ہے کہ بارہ برس میں کوڑی کے دن بھی بحال ہو جاتے ہیں،احمد بھائی مجھے بارہ برس اسلام قبول کئے ہوئے ہو گئے،بلکہ اگر میں کہوں کہ اسلام قبول کرنے کا ڈھونگ بھرے ہوئے ،تویہ بھی صحیح ہے۔

    س:مزمل واقعی ہم پر تمھارا احسان ہے کہ تمھاری وجہ سے ہم نے ابی کو پہچانا اور ہمیں معلوم ہو ا کہ کسی کو برداشت کرنا اور صبر کرنا کس کو کہتے ہیں،ورنہ اچھے اچھے ہمت ہار جاتے ہیں؟
    ج:احمد بھائی آپ حضرت کے گھر میں سب سے نرم، برداشت کرنے والے اور رحم دل ہیں،آپ نے بھی مجھے دو دفعہ پھلت سے بھگایا ،لیکن حضرت دونوں دفعہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھاکر ساتھ لے آئے۔

    س: اچھا اب ڈیڑھ سال سے تم نے کوئی ڈرامہ نہیں کیا، کہتے ہیں چورچوری سے جائے ،ہیرا پھیری سے نہیں جاتا،تو کیا اب تمھارے دل میں پرانی حرکتیں کرنے کی بات نہیں آتی۔
    ج: الحمدللہ میرے اللہ کا کرم ہے(روتے ہوئے)اب کچھ بھی نہیں آتی۔

    س:تمھیں کلمہ پڑھے ہوئے کتنے دن ہوئے؟
    ج:کون ساوالا کلمہ پڑھے ہوئے، میں نے توبیسو ں بار کلمہ پڑھا ہے۔

    س:تم نے اسلام قبول کرنے کے لئے کلمہ کب پڑھا؟
    ج: مولوی احمد! میں نے ہر دفعہ اسلام قبول کرنے کے لئے کہہ کر کلمہ پڑھا،سب سے پہلا ڈرامہ میں نے ۹جون ۱۹۹۸ء میں کلمہ پڑھنے کا کیا، جب تھانہ بھون کے ایک بڑے آدمی چودھری صاحب مجھے حضرت کی خدمت میں لے کر آئے تھے،اس کے بعد میں ضرورت کے لحاظ سے بار بارکلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا،لیکن ۳مارچ ۲۰۰۹ء کو مجھے حضرت نے جامع مسجد پھلت میں دس بج کر بائیس منٹ پر کلمہ پڑھوایاتھااس کے بعدسے کوشش کرتا ہوں کہ اس پر جمع رہوں، ہمارے حضرت کہتے ہیں کہ مجھے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ ایمان رہا کہ نہیں،اس خوف سے مغرب کے بعد اور فجر کے بعد ایک دفعہ روزانہ ایمان قبول کرنے کے لئے کلمہ پڑھتا ہوں،آپ نے تو سنا ہو گا،کوئی نومسلم آکر کہتا ہے کہ میں نومسلم ہوں،حضرت معلوم کرتے ہیں کب مسلمان ہوئے؟تووہ بتاتا ہے کہ دو مہینے ہوگئے،دو سال ہوگئے۔حضرت کہتے ہیں کہ آپ تو مجھ سے پرانے مسلمان ہو،میں نے ابھی فجر کے بعد اسلام قبول کیا ہے یا مغرب کے بعد، حضرت تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر بچہ سچے نبی کی سچی خبر کے مطابق مسلمان پیدا ہو تا ہے،تو اب آپ نو مسلم کہاں ہوئے آپ تو پیدائشی مسلمان ہیں،الحمد للہ ۹ جون سے روزانہ صبح وشام ایمان کی تجدید کرتا ہوں دن رات میں کبھی کبھی درمیان میں بھی کلمہ پڑھ لیتاہوں،کہ شاید ابھی موت کا وقت قریب ہو۔

    س:آج کل تم کہاں رہ رہے ہو؟
    ج:میں آج کل حضرت کے حکم سے سہارن پور کے ایک مدرسہ میں پڑھ رہا ہوں،یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ میں اگست ۲۰۰۹ء میں چارمہینے جماعت میں لگا کر آیا،اور قرآن شریف ناظرہ اور حفظ سات مہینے میں مکمل کیا،۵ اپریل ۲۰۱۰ء کو میرے حضرت ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے،میرے ختم قرآن کی دعا ہوئی،حضرت پر اس قدر رقت طاری تھی کہ تقریر کرنا مشکل ہوگیااور چالیس منٹ کی دعا کرائی،سارا مجمع روتا رہا،حضرت نے پروگرام کے بعدکھاناکھاتے ہوئے یہ بات کہی کہ آج مجھے مزمل کے حفظ کی جتنی خوشی ہوئی اگر اللہ نے بخش دیا اور جنت میں جانا ہوا تو شاید اتنی خوشی بس اس روز ہو گی،اس کے بعدمیں نے دَور کیا اور الحمد للہ میں نے جماعت میں عادل آباد میں وقت لگایا،اور ساتھیوں کو قرآن شریف سنایا،اس سال الحمد للہ عربی پڑھنی شروع کردی ہے،میں نے حضرت سے وعدہ کیا ہے کہ انشاء اللہ جلد حضرت کو عا لمیت کی سند دکھانی ہے ، ثم انشاء اللہ۔

    س:قرآن مجید توآپ کا الحمد للہ اب بالکل پکا ہو گیا ہے،مگر آپ نے بڑی عمر میں حفظ کیا ہے اس لئے یاد کرتے رہنا چاہئے؟
    ج :حضرت سے میں نے معلوم کیاتھا کہ ہمارے نبی صلی اللھ علیھ وسلم کا کتنا قرآن پڑھنے کا معمول تھاتو حضرت نے بتایا کہ ایک منزل روزانہ ،اور بہت سے صحابہ کرام کا بھی آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی اتباع میں اس معمول کا ذکر آتا ہے،میں نے عید کے بعد سے تہجد میں ایک منزل پڑھنا شروع کیا ہے،چند دنوں کے علاوہ جب مجھے ڈینگو ہوگیا تھا الحمد للہ ابھی تک ناغہ نہیں ہوا،ہمارے مدرسہ میں صفر گھنٹے میں ترجمہ قرآن پڑھایا جاتا ہے، الحمد للہ مجھے خاصا قرآن سمجھ میںآنے لگا ہے،کبھی کبھی بہت ہی مزا آتا ہے۔

    س:شروع میں جب ۱۹۹۸ء میں تم نے کلمہ پڑھا تھا تو اس وقت تمھارا ارادہ مسلمان ہونے کا تھا کہ نہیں؟
    ج :اصل میں آپ کو معلوم ہے، میں تھانہ بھون کے قریب ایک بھنگی خاندان میں پیدا ہوا،ہمارے خاندان والے گاؤں کے چودھریوں کے یہاں صفائی وغیرہ کرتے تھے،میرے پتاجی دسویں کلاس تک پڑھے ہوئے تھے،اور سوسائٹی میں ملازم ہوگئے تھے، میری ماں بھی پڑھی لکھی ہیں،وہ ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں انھوں نے ہی مجھے پڑھایا،میں بہت ذہین تھا،ہائی اسکول میں فرسٹ ڈویزن پاس ہوا،گیارہویں کلاس میں پہلے مجھے شراب کی لت لگی پھراور دوسرے خطرناک نشوں کا عادی ہوگیا،اوراس طرح کے لڑکوں کے ساتھ بری سنگتی (صحبت) ہوگئی،ان میں ایک دو مسلمان بھی تھے،انٹر پاس کرکے میری ماں مجھے ڈاکٹربنانا چاہتی تھیں،مگرمیں آوارہ لڑکوں کے ساتھ لگ گیا،کچھ رفتار میری ایسی تیز تھی کہ جدھر جاتا آگے نکل جاتاتھا،تھانہ بھون میں ایک گوجر زمین دار کے بیٹے کے ساتھ میرے تعلقات بڑھے جو نشہ کی وجہ سے بنے تھے،ان کے یہاں حضرت ایک بار ناشتہ کے لئے آئے تھے،میں وہاں موجود تھا،حضرت سے چودھری صاحب کے بڑے بیٹے نے میری ملاقات کرائی،تو حضرت نے ان کے بیٹے جو میرے ساتھی تھے الطاف سے کہاکہ اپنے دوست کی خبر لوورنہ یہ تمھیں دوزخ میں پکڑ کر لے جائے گا،الطاف کے بڑے بھائی نے مجھ سے کہا: سوہن ویر کب تک تو اچھوت رہے گا مسلمان ہوجا،میں نے کہا اگر میں مسلمان ہو جاؤں گاتومسلمانوں میں میری شادی ہو جائے گی؟ اس نے کہا: ہو جائے گی۔میں نے سوچا: چلو دیکھتے ہیں،ایک دفعہ مسلمان ہو کر دیکھتے ہیں،اگر جمے گا تو اچھا ہے ورنہ پھر اپنے گھر آجاؤں گا۔میرے پتاجی (والد)کا تو شراب کی لت میں 25 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا،میری ماں میری وجہ سے بہت پریشان رہتی تھی،الطاف کے بڑے بھائی مسرور مجھے لے کر پھلت پہنچے،حضرت نے مجھے کلمہ پڑھوایا، میرٹھ بھیج کر میرے کاغذ بنوائے اور مجھے جماعت کے لئے دہلی مرکز بھیج دیاگیا،ہماری جماعت بھوپال گئی،حضرت نے یہ کہہ کر پیسے اباّالیاس سے دلوائے کہ یہ قرض ہے،جماعت سے واپس آکر تم کام پر لگو گے تو واپس کرنے ہیں،جب یہ جیب خرچ ختم ہو گیا تو میں نے امیر صاحب سے کہا کہ میں نے گھر فون کیا تھا ،میری ماں بہت بیمار ہے مجھے بلایا ہے،امیر صاحب سے سترہ سو روپئے لے کر میں جماعت سے واپس آگیا،سترہ سو روپئے شراب اور گولیوں وغیرہ میں خرچ کئے اور تھانہ بھون پہنچا،وہاں لوگوں سے کہاکہ جماعت سے مجھے امیر صاحب نے بھگا دیا کہ تم نو مسلم ہو ہمیں مرواؤگے کیا؟ تمھارے گھر والے ہمارے سر ہوجائیں گے، یہ کہااور مجھے بھگا دیا،مجھے کرایہ کے پیسے بھی نہیں دئیے،الطاف نے حضرت کو فون کیا حضرت نے کہا کہ ہم معلوم کریں گے، ایسا نہیں ہو سکتا،پھر بھی اگر کوئی جماعت علاقہ میں کام کررہی ہو، اس میں جوڑ دیں،انھوں نے تھانہ بھون مر کز جاکر معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ کیرانہ کے علاقہ میں ایک اچھی جماعت کام کر رہی ہے،مجھے جماعت کے ایک ساتھی لے کر کیرانہ جاکر دوسری جماعت میں جوڑکرچلے آئے،جماعت میں امیر صاحب نے خرچ کی رقم امانت کے طور پر ایک ماسٹر صاحب کے پاس رکھ دی تھی،تین روز تومیں ہمت کرکے جماعت میں رہا،مگر میرے لئے مشکل تھا کہ میں اتنی محنت کروں،میں نے رات ماسٹر صاحب کے جواہر کٹ سے پیسے نکالے اور فرار ہو گیا،جب تک پیسے رہے تفریح کرتا رہا اورپھرپھلت پہنچا،حضرت سے بڑی مشکل سے وقت لے کر تنہائی میں ملاقات کی،حضرت سے معافی مانگی اورکہا کہ پہلے میری شادی کرادیں،حضرت نے مجھے سمجھایا کہ جب تک تم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو گے کون اپنی لڑکی دے گا،تم خود سوچو،ا گر تمھاری کوئی بیٹی ہو توتم بے روزگار لڑکے سے شادی کیسے کروگے؟کچھ صبر کرو،اپنے حال کو بناؤ،دیکھو تمھاری زندگی کا یہ اہم موڑ ہے، ہمیں تم سے صرف تمھارے مستقبل کے لئے تعلق ہے،تم اچھی زندگی گذاروگے تو خوشی ہوگی،مجھے بہت سمجھایا،مگر میری سمجھ میں بات نہ آئی، واپس آیااوردینک جاگرن کے دفتر میں کھتولی جاکر ایک خبر بنوائی:’’شادی کا وعدہ پورا نہ ہونے پر ہندو جوان نے اسلام لوٹایا‘‘ اور اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکٹ ایک لڑکے کے ہاتھ حضرت کے پاس بھجوادیااور حضرت سے کہلوادیا کہ اسلام مجھے نہیں چاہئے،گھر واپس چلا گیا،ماں مجھے دیکھ کر بہت ناراض ہوئی،لیکن جب میں نے دینک جاگرن دکھایا کہ اسلام چھوڑ کر آیا ہوں تو بہت خوش ہوئی۔گھر رہ کر پھر وہی کام ماں کو لوٹنا،شروع میں ماں جھیلتی رہی مگر ایک روز جب میں نے زیادہ نشہ کرکے گاؤں کے ایک لڑکے سے لڑائی کی تو وہ بہت پریشان ہوگئی اور بولی بس سوہن مجھے ایسے بیٹے سے اچھا ہے کہ میں بغیر بیٹے کے رہوں ،اور میرے گھر سے منھ کالا کرکے مجھے نکال دیا، ایک دوروز میں گھر سے اِدھر اُدھر رہا،مجھے کہیں ٹھکانہ نہیں ملا تومیں نے ہمت کرکے حضرت کو فون کیا،اتفاق سے فون مل گیا،حضرت سے میں نے کہا کہ میں مزمل آپ کا بھگوڑا بول رہا ہوں،حضرت نے کہا:ہمارا بھگوڑاکون ہو تا،میرا بیٹا مزمل بول رہا ہے،حضرت نے پوچھا: کہاں ہو؟میں نے کہا:مظفر نگر،حضرت نے کہا:پھلت آجاؤ، ملاقات پر بات ہو گی،میں نے کہا پھلت میں مجھے کون آنے دے گا ،حضرت نے کہا آجاؤ میں آج پھلت میں ہوں،پھلت پہنچا،حضرت نے گلے لگایا، رات کو دیر تک سمجھاتے رہے،اور بولے بیٹاجو کچھ تم اچھا برا کررہے ہو اپنے ساتھ کررہے ہو،تم ہمیں ستربار دھوکہ دوگے ہم فخر کے ساتھ دھوکہ کھائیں گے،اور حضرت عمر کا واقعہ سنایا،حضرت عمر فرماتے تھے دین کے نام پر کوئی ہمیں دھوکہ دے گا تو ہم ستر مرتبہ فخر سے دھوکہ کھائیں گے،مجھے زور دیتے رہے کہ تم جماعت میں ایک پورا چلہ لگالو،میں نے آمادگی ظاہر کی،میرے کاغذات تلاش کرائے تو نہیں مل سکے، دوبار ہ میرٹھ بھیج کر کاغذات بنوائے اور مجھے مرکز نظام الدین بھیج دیا گیا،اس بار ایک جاننے والے ساتھی کو سمجھا کر میرے ساتھ کیا، جماعت میں میرا وقت متھرا میں لگا،نشہ کی عادت میرے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا،میں بہت ہمت کرتا تھا مگر رکا نہیں جاتاتھا،دوبار میں نے باہر جا کر شراب پی لی،امیر صاحب نے حضرت کو فون کیا،حضرت نے ایک صاحب کو مظفر نگرسے نشہ چھڑانے کی دوا لے کر بھیجا،اس کو کھانے سے نشہ کا مسئلہ حل ہوگیا،مگر اپنی آزاد طبیعت کی وجہ سے میں پورے چلہ میں نے ساتھیوں کی ناک میں دم رکھا،مگر امیر صاحب حضرت کے ایک مرید تھے،ان سے حضرت نے کہہ دیاتھا، اگرآپ نے مزمل کا چلہ پورا لگوادیاتو آپ کو داعی سمجھیں گے ورنہ آپ فیل ہوجائیں گے،انھوں نے لوہے کے چنے چبائے مگر جماعت سے واپس نہیں کیا،چونکہ میرا ذہن بہت اچھا تھا،بالکل نہ کرنے کے بعد بھی میں نے نماز مکمل مع نماز جنازہ کے یاد کرلی،اور کھانے کے،سونے کے آداب،مختلف دعائیں یاد کرلیں،چلہ لگا کر آیا تو حضرت بہت خوش ہوئے، امیر صاحب کو بہت مبارک باد دی اور مجھے دہلی میں ایک جاننے والے کے یہاں نوکری پر لگوادیا،چار ہزار روپئے ماہانہ اور کھانا رہنا طے ہوا،ریسپشن پر ڈیوٹی تھی،وہا ں پر ایک لڑکی سے میرے تعلقات ہوگئے،اورمیں اسے لے کر فرار ہو گیا،لڑکی کے گھروالوں نے کمپنی کے مالک اور میرے خلاف ایف آئی آر کردی،سب کو پریشان ہونا تھا،حضرت نے کسی طرح افسروں سے سفارش کرکے کیس کو ڈیل کیا،لڑکی ایک برہمن کی تھی،میں نے اسے کلمہ پڑھوایا اور الہ آبادلے جا کر قانونی کاروائی کروائی،کمپنی میں تین اور نومسلم کام کرتے تھے،کمپنی والوں نے حضرت سے کہا کہ ان سبھی کو کہیں اور کام پر لگا دو،حضرت نے کہا ان کو رزق دینے والے اللہ ہیں، آپ جیسے کتنے لوگوں کو اللہ نے ان کی خدمت کے لئے مالدار بنایا ہے،حضرت ان تینوں کو لے کر آگئے اوراسی دن کوشش کرکے ان تینوں کو کام پر لگوادیا،میری یہ شادی زیادہ دن نہیں چل سکی اور میں نے اس لڑکی کو چھ مہینہ بعد طلاق دے دی۔

    س: ان دنوں آپ کہاں رہے؟
    ج :میں نے حضرت کا نام لے کر کان پور میں ایک صاحب کو اپنا باپ بنالیاتھا اور ان کے یہاں ہم دونوں رہے۔

    س:انھوں نے ایسے میں تمہیں رکھ لیا
    ج :میں حضرت کے تعلق کے لوگوں کو نگاہ میں رکھتا تھا، حضرت سے کوئی ملنے آیافورا فون نمبر لے لیا،ایک دو فون خیریت اور دعا کے لئے کرتا تھا حضرت بھی بیٹا بیٹا ان کے سامنے کرتے تھے ، لوگ سمجھتے کہ یہ حضرت کا بہت خاص ہے،بس میرا کام نکلتا رہتاتھا۔

    س:اس طرح اندازاً تم نے کتنے لوگوں سے پیسے اینٹھے ہوں گے؟
    ج :لاکھوں روپئے میں نے حضرت کے تعلق سے لوگوں سے وصول کئے اورسیکڑوں ایسے لوگ ہو ں گے جن سے میں نے فائدہ بلکہ حقیقت میں نقصان اٹھایا،دسیوں معاملے تو آپ کے سامنے بھی آئے،دوبار آپ نے ،ایک بار شعیب بھائی نے مجھے پھلت سے بھگادیا،آپ نے تو وارننگ دی تھی کہ آج کے بعد تمھیں پھلت میں دیکھا تو اپنی موجودگی میں منھ کالا کرکے نکال دوں گا۔

    س:اس لڑکی کا کیاہوا؟
    ج:اس کا اسلامی نام میں نے آمنہ رکھاتھا،گھروالے اسے مارنا چاہتے تھے،طلاق کے بعد اس کے لئے پھلت کے علاوہ کوئی جگہ نہیں تھی،حضرت کے پاس وہ پہنچی،حضرت نے اس کو میرٹھ کے کسی مدرسہ میں بھیجا،کچھ روز پڑھایا،عدت کا وقت گذرنے کے بعدغازی آباد کے ایک جاننے والے کے بیٹے سے اس کی شادی کردی۔

    س:اس کے بعد کیا ہوا؟
    ج:مجھ پر ایک بہت شاطر شیطان سوار تھا،روز روز نئے کھیل سجھاتا تھا،میں نے حضرت سے کچھ بڑی رقم اینٹھنے کی سوچی میں نے مظفر نگرانٹلی جینس کے دفتر میں رابطہ شروع کیا اور وہاں ایک راجپوت انسپکٹر سے دوستی کرلی،اورکہاپھلت میں دھرم بدلوانے کاکام ہوتا ہے،اور بڑی رقم ان کے پاس باہرسے آتی ہے۔

    س:کیا تم سمجھتے ہو کہ ایسا ہے؟
    ج : مجھے خوب معلوم ہے کہ حضرت کا مزاج تو یہاں کے لوگوں سے بھی چندہ کرنے کا نہیں ہے،بس ویسے ہی شیطانی میں میں نے ایسا کہا،میں نے کہا کہ میں وہاں سے آپ کو بڑی رقم دلواسکتا ہوں، مگر اس میں سے25%مجھے دینا ہوگا،وہ تیار ہو گئے انھوں نے ایک آئی بی کارکن کو جس کا پاؤں ایک حادثہ میں کٹ گیا تھا، میرے ساتھ بھیجا،اور ایک اور ساتھی کو ساتھ لیا، میں تو راستہ میں رک گیا اور ان کو وہاں بھیج دیا،ابا الیاس صاحب اور ماسٹر اکرم کاپتہ بتادیا،وہ دونوں پھلت پہنچے کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں، حضرت تو نہیں ملے،ماسٹراکرم کے پاس گئے ،ان سے باتیں ہوئیں،انھوں نے مولانا عمر صاحب سے ان کو ملوایا،محمودبھائی بھی آگئے، انھوں نے ان کو اسلام کا تعارف کروایااور بتایا کہ ہم لوگ تو پیسے لے کر مسلمان کرتے ہیں،ہم توکلمہ پڑھواکر اسلام دیتے ہیں،اس کے لئے کوئی رقم دینے یا شادی وغیرہ کا کیا تک ہے،ہمارے یہاں تو اگر آپ سرٹیفکٹ لیں گے تو پانچ سو روپئے فیس ہے،وہ دینی پڑے گی،ہم آپ کو مدرسہ کی رسید دیں گے،یہ لوگ اور بحثیں کرتے رہے ،وہاں پر کچھ ملا نہیں تومایوس ہوکر واپس آئے،مجھ پر بہت برسے ،وہاں سے’’ آپ کی امانت‘‘لے کر آئے،اس کو پڑھ کر بہت متأثر تھے،میں نے کہا اتنی آسانی سے بات بننے والی نہیں،وہ میرے اصرار پر دو تین مرتبہ گئے،کچھ ہاتھ نہیں آیا انھوں نے مجھے دھمکایاکہ تمھارے خلاف مقدمہ بنادیں گے،میں مایوس واپس آیا،پھرمیں نے بجرنگ دل اورشیوسینا والوں کو بھڑکانے کی کوشش کی،شیو سینا والوں نے پھلت کہلوایا بھی کہ پھلت والے یہ دھرم بدلوانے کا کام یاتو بند کردیں ورنہ ہم انتظام کریں گے،حضرت نے ان کے پاس ساتھیوں کو بھیجا،اور ان سے کام کا تعارف کرایااور دفتر والوں سے پھلت آنے کو کہا، باری باری وہ لوگ آتے رہے اور پھر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا،

    س: اس کے بعد ایک بار ’پور قاضی ‘میں بھی توتم نے شادی کی تھی؟
    ج :حضرت کے تعلق کے ایک قاضی جی سے میں نے بہت رو روکر اپنا حال سنایا اور ان سے کہا کہ میں نے حضرت کو بار بار نہ چاہتے ہوئے بھی دھوکہ دیا،اب میں اس وقت تک حضرت کو منھ نہیں دکھانا نہیں چاہتا جب تک ایک اچھا مسلمان نہ بن جاؤں، قاضی جی نے مجھ پر ترس کھاکر مجھے اپنے گھر رکھ لیا، ان کے یہاں کوئی اولاد نہیں تھی،میں ان کی دوکان پر بیٹھنے لگا،انھوں نے بجنور ضلع کے ایک گاؤں میں اپنے رشتہ داروں میں میری شادی کرادی بے چاروں نے خودہی شادی وغیرہ کے انتظامات کئے۔

    س:انھوں نے آپ کے بارے میں تحقیق نہیں کی؟
    ج:انھوں نے حضرت سے معلوم کیا تھا،حضرت نے کہا ہم داعی ہیں،اور داعی طبیب ہوتا ہے،آخری سانس تک مایوس ہونا اصول طب کے خلاف ہے،کوشش کیجئے،کیا خبر اللہ نے اس کی ہدایت آپ کے حصہ میں لکھی ہو۔

    س:اس کے بعد کیا ہوا؟ اس لڑکی کو بھی تم نے طلاق دے دی ہے نہ؟
    ج :بس آٹھ مہینے میں اس کے گھر والوں کا اور قاضی جی کے سارے خاندان والوں کا ناک میں دم کرکے،مار پیٹ کر تین طلاق دے کر بھاگ آیا۔

    س:اس کے بعد کیا ہوا؟
    ج :میں دربدر بھٹکتا رہا،اس دوران ایک بارہمت کرکے پھلت پہنچا،ماسٹر اسلام مجھے مل گئے، حضرت تو نہیں تھے، انھوں نے مجھے ڈرایا،بہت برا بھلا کہا کہ تو نے سب لوگوں کا اعتماد ختم کردیا، ہر نومسلم مہاجرسے یہاں کے لوگ بدظن ہوگئے ہیں،میں ان سے بہت لڑا اور چلا آیا،کئی بار غلط لوگوں کے ساتھ لگا،دوبار دودو مہینہ کی جیل میں بھی رہا،حضرت کے کسی جاننے والے نے ضمانت کرائی،اللہ کا شکر ہے کہ جن لوگوں نے مقدمہ کرایا تھا حضرت کی سفارش سے انھوں ے واپس لے لیا،جیل میں البتہ میں نے دولوگوں کو کلمہ پڑھوایا،حضرت سب لوگوں سے کہتے تھے کہ دیکھو اس کی وجہ سے پانچ لوگ جیل میں اور ایک برہمن کی لڑکی آمنہ مسلمان ہوئی،اب ان کی نسلوں میں قیامت تک کتنے لوگ مسلمان ہوں گے،اب اگر یہ ہماری زندگی کو جیل خانہ بھی بنادے تو ہم نے محنت وصول کرلی۔

    س:سب گھر والے اور تعلق والے تمھاری وجہ سے ابی سے بحث بھی کرتے تھے،ابی اکثر،بگڑے ہوئے لوگوں اور نو مسلموں کے لئے کہتے ہیں کہ جیسی روح ویسے فرشتے،نیک لوگوں کے پاس نیک لوگ آتے ہیں،بدوں کے پاس بد آتے ہیں،ہم فاسق و فاجردھوکہ باز دھونگیوں کے پاس پاک باز اور نیک لوگ کہاں رہنے لگے،دیکھو شرابیوں کے پاس شرابی،جواریوں کے پاس جواری جمع ہوتے ہیں،ہم جیسے بدکاروں کے پاس کہاں نیک لوگ جمع ہونے والے ہیں،امی جان کا انتقال ہوا تو فرمانے لگے کہ امی جان نہیں رہیں تو ہمیں کیسی کمی محسوس ہورہی ہے،حالانکہ اپنے گھرکے سارے عزیز بھائی بہن بیوی بچے موجود ہیں،یہ بیچارے نومسلم ان کا کوئی بھی نہیں،اپنا سگا بیٹاکتنے عیبوں میں پھنس جاتا ہے،کبھی کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا،نہ گھر سے نکالتا ہے، یہ بیچارے دربدر پھرتے ہیں، ذرا سی بات ان سے ہوجائے تو لوگ انھیں نکال دیتے ہیں،پرانا مسلمان سارے عیب کرے تو کوئی خیال نہیں،یہ کل کا مسلمان سوچتے ہیں کہ فرشتہ بن جائے اور سب دھتکارتے ہیں،یہ کہہ کر ابی بار بار رونے لگتے ہیں۔
    ج :ایک روز جب میں پچھلی بار آیا تھا،تو میں حضرت سے ملا تو میں نے یہ بھی کہاکہ آپ نے مجھے اتنی بار ایسی بری حرکت کرنے کے باوجود بار بار موقع دیا،حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بری حرکت کون کرنے والا ہوگا،میرے بیٹے تم مجھ سے تو ہزار درجہ بہتر ہو،بس اللہ نے میرے عیب چھپا رکھے ہیں۔

    س:اس دوران تم کتنی بار جماعت میں گئے؟
    ج :ان بارہ سالو ں میں مجھے سترہ بار جماعت میں بھیجا گیا، ایک بار چلہ لگایااور آخر میں تین چلے تو پورے کئے ،ورنہ دھوکہ دے کر بھاگتا رہا،اسی زمانہ میں مجھے ۲۱ بار کام سے لگایا،یا کاروبار کرایا،مگر میں کوئی کام کرنے کے بجائے دھوکہ دیتا رہا۔

    س:اب تمھارے دل میں وہ باتیں نہیں آتیں؟
    ج : الحمد للہ نہیں آتیں،مجھے ایسا لگتا ہے وہ شیطان جو مجھ پر سوار تھا وہ میرے حضرت کی برکت سے مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے، ۲ مارچ ۲۰۰۹ء کو پھلت کے ایک صاحب نے میری ایک حرکت پرمجھے بہت مارا،حضرت سفر سے رات کو دیر سے تشریف لائے، صبح دس بجے مجھے دیکھا، میرا پورا جسم زخمی تھا،حضرت مجھے پکڑ کر جامع مسجد لے گئے،مسجد جاکر دورکعت نماز پڑھی،اور مجھے دیکھتے رہے اور باربار چومتے رہے،میرے بیٹے کب تک تم ایسی ذلت برداشت کرتے رہوگے،اور اگر اسی طرح رہے تو پھر دوزخ کی مار کس طرح سہوگے،چلو آؤ اللہ سے دعا کریں بہت دیر تک دعا کی،میں آمین کہتا رہا،پھر بولے مزمل آؤ دونوں سچے دل سے توبہ کریں بس،ایسی توبہ جس کے بعد لوٹنا نہ ہو،مجھے توبہ کرائی،ایمان کی تجدیدکرائی،اور مجھ سے وعدہ لیاکہ بس اب مسلمان داعی بن کر میری عزت کی لاج رکھوگے،اور سب کو دکھادوگے کہ انسان کبھی بھی اچھا بن سکتا ہے،میں نے وعدہ کیا اگلے روز چار مہینے کی جماعت میں چلاگیا،اور الحمد للہ جماعت میں داڑھی رکھی اورخوب دعا کا اہتمام کیا،حضرت نے جماعت سے واپس آکر کام پر لگنے کو کہا،میں نے حافظ عالم بننے کی خواہش کا اظہار کیا،داخلہ ہوگیا ، الحمد للہ حفظ مکمل ہوگیا،انشاء اللہ بہت جلد عا لمیت کا نصاب مکمل کرلوں گا،میرا ارادہ ہے کہ عالمینی داعی بنوں، اس کے لئے ایک گھنٹے میں نے انگریزی اچھی کرنے کے لئے پڑھنی شروع کردی ہے الحمد للہ اس وقفہ میں میرے مدرسہ میں سب لوگ خصوصا اساتذہ اور ذمہ دار مجھے بہت چاہتے ہیں بلکہ مجھ سے دعا کراتے ہیں ۔

    س:ماشاء اللہ، ارمغان کے قارئین کیلئے کوئی پیغام دیں؟
    ج:بس حضرت کی بات ہی میں کہوں گاکہ ہر مسلمان ایک داعی ہے اور ہر داعی ایک طبیب ہے،کسی مریض سے آخری سانس تک مایوس ہونا یا مرض کے برا ہونے کی وجہ سے مریض کو اپنے در سے دھتکارنا اصول طب کے خلاف ہے،ہر انسان اللہ کی بنائی ہوئی شاہکار مخلوق ہے اس کو احسن تقویم پر اللہ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے،اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے،بس اس کے لئے دل میں درد رکھ کراس کی اصلاح اور اسے دعوت دینے کی فکر رکھنی چاہئے،شاید مجھ سے زیادہ برا انسان تو اللہ کی زمین میں کوئی اور ہو؟جب میں اپنے لئے انسان بننے کا ارادہ کرکے یہاں تک آسکتا ہوں تو کسی سے بھی مایوس ہونے کی کیا وجہ ہے،دوسری درخواست قارئین ارمغان سے دعا کی ہے، کہ اللہ تعالی موت تک مجھے استقامت عطا فرمائے اور میرے حضرت نے جو مجھ سے ارمان بنائے ہیں اور حضرت فرماتے بھی ہیں کہ میری حسرت ہے کہ مزمل اللہ تعالی تمھیں پیارے نبی کے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے میری تمنا ہے کہ اللہ تعالی مجھے پیارے نبی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔

    س:شکریہ بھائی مزمل! واقعی ایک زمانہ تھا کہ تمھارا نام سن کر ہم سبھی کو غصہ آجاتا تھا،مگر الحمد للہ اب تم سے ملنے کی بے چینی رہتی ہے۔
    ج : جی احمد بھائی! میں اسی لائق تھااور ہوں، بس میرے اللہ کا کرم ہے کہ اس نے دل کا رخ موڑ دیا ہے۔

    س:شادی کے بارے میں تمھارا کیا ارادہ ہے؟
    ج: اب شادی میرے لئے کوئی بات نہیں رہی،الحمد للہ میرے اللہ نے میرا دل اپنی طرف پھیر دیا ہے،اب مجھے خلوت میں اپنے رب کے حضور راز ونیاز کا مزا میرے رب نے مجھ گندے کو لگادیاہے،قرآن یہ کہتا ہے: ان قرآن الفجرکان مشہودا،صبح کا قرآن مجید تو آمنے سامنے کا ہے، بس ایسے جمیل محبوب سے سامنا ہو نے لگے تو ساری حسینائیں اندھیرا لگتی ہیں، الحمدللہ میرے اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت میرے اللہ نے مجھے عطا فرمادی ہے،اس کی وجہ سے ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے میرے اللہ نے مجھے بچالیا ہے۔

    س:آج کل اخراجات وغیرہ کس طرح چل رہے ہیں؟
    ج :اللہ کے کرم سے نالہ نیم شبی کی بادشاہت نے دل کو مال دارکردیا ہے، اس کی برکت سے ہاتھ پھیلانے سے اللہ نے بچالیا ہے، الحمد للہ اب مجھے خرچ کی ضرورت نہیں،میں چھٹی میں مزدوری کرلیتا ہوں،میں نے امتحان کی چھٹی میں مزدوری کی، اور ایک ہزار روپئے حضرت کی خدمت میں ہدیہ کئے،کب سے حضرت آپ کو لوٹتا رہا یہ حقیر ہدیہ قبول کر لیجئے، حضرت نے بہت گلے لگایا اور بڑی قدر سے قبول کرلیا،اب ہاتھ اوپر کرلیا ہے اور اللہ سے سوال کیا ہے کہ اللہ اب کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلوائیں، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اب کسی کا محتاج نہ کریں گے۔

    س:اچھا بہت شکریہ السلام علیکم
    ج : وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بشکریہ: ارمغان http://www.armughan.in/

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]’سوشیلا‘ سے ’سمیرہ‘ بننے تک[/size][/align]

    صفات عالم محمد زبیرتیمی (کویت)

    ملک نیپال کے مشرقی حصہ میں واقع ضلع مورنگ کی رہنے والی 28 سالہ خاتون ’سوشیلا‘ تین سال قبل روزگارکی تلاش میںکویت آئیں، اس عرصہ میں شاید معاشی حالت کوئی خاص بہتر نہ ہوسکی تاہم ایمان کی گرانمایہ دولت سے ضرور مالا مال ہوئی ہیں۔ماہ رواں کے اوائل میں انہوںنے اسلام قبول کیا ہے، اور اپنا نام’ سوشیلا ‘سے ’سمیرہ ‘ منتخب کیا ہے ،قبول اسلام کے وقت ان کا ایمانی جذبہ ،دینی حمیت اور دعوتی رغبت دیکھ کرایسا محسوس ہورہا تھا گویا یہ کوئی دینی گھرانے کی پروردہ خاتون ہے ، ناچیز کے لیے ان کے قبولِ اسلام کا منظربیحد ایمان افزا تھا ۔ قبول ِ اسلام کے فوراً بعد اس نومسلمہ کے کیسے دینی جذبات تھے‘ اسے جاننے کے لیے ہم ذیل کے سطور میں ان سے کی گئی گفتگو کا خلاصہ پیش کررہے ہیں ۔

    سوال :آپ اپنے خاندانی پس منظر کی بابت کچھ بتائیں گی ۔

    جواب: میں ہندوگھرانے میں پیدا ہوئی ،میرے ماں باپ ہندو ہیں، باپ کی مذہبی رسوم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی تاہم ماں پابندی سے ”مہیش “ کی پوجا کرتی تھیں ، پر شروع سے ہی میری طبیعت ایسی واقع ہوئی کہ میں نے پوجا وغیرہ سے بالکل رغبت نہیں رکھا ۔

    سوال :کیسے آپ اسلام سے متعارف ہوئیں ؟

    جواب : جب میں پہلی بار کویت آئی توجس آفس نے مجھے بلایا تھا وہاں کچھ مسلمان کام کرتے تھے،ان کے واسطے سے مجھے نیپالی زبان میں IPCکی دعوتی مطبوعات ملیں ، میں نے پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ اسلام بہت اچھا دھرم ہے ،اس میں ساری عبادتیں محض ایک اللہ کے لیے انجام دی جاتی ہیں ۔ میں نے نیپالی زبان میں ”جزءعم“ اور” قرآن کیا ہے ؟ “ کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب طرح کا سکون ملنے لگا ۔

    سوال : آپ نے گویا قرآن کا بھی مطالعہ کیا ہے ؟

    جواب : صرف تیسواں پارہ کا مطالعہ اب تک کرسکی ہوں، البتہ میری خواہش ہے کہ مکمل قرآن کا مطالعہ کروں ، کاش کہ نیپالی زبان میں بھی قرآن دستیاب ہوتا۔چھ ماہ قبل میں ایک مسلمان سے گذارش کی تھی کہ مجھے نیپالی زبان میں قرآن چاہیے، اس نے کہا : چھ دینار میں ملے گا ، میں نے کہا: کوئی بات نہیں تم مجھے لاکر دو۔ لیکن پھر بھی وہ نہ لاسکا اور اب تک میںقرآن سے محروم ہوں ۔

    (ابھی میں آپ کو قرآن لاکر دیتا ہوں،میں اٹھا اور فوراً نیپالی زبان میں ترجمہ قرآن لاکر اس کے ہاتھ میں تھمادیا ، قرآن پاتے ہی ایسا لگا جیسے اسے اپنی کوئی گم شدہ چیز مل گئی ہو۔ خوشی سے اس کا چہرہ دمکنے لگا، عالم بے خودی میں قرآن کو لے کر چومنے لگی،ایسا کرتے ہوئے سمیرہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں اور زبان پر ’تھینک یو ، تھینک یو ‘کے الفاظ جاری ہوگئے ،” آپ کی میں بہت بہت شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے قرآن دیا“سمیرہ نے کہا ۔سمیرہ کے یہ الفاظ کیا تھے گویامیرے لیے تازیانہ عبرت ،میں تھوڑی دیر کے لیے سکتے میں پڑگیا اور قرآن کے تئیں اپنے معاملے پر نظر ثانی کرنے لگا ،پھر اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اس سے پوچھا :)

    سوال : آپ نے ابھی چند منٹوں قبل اسلام قبول کیا ہے ، آپ کے پاس اسلام کی معلومات بھی زیادہ نہیں ہے پھربھی آپ کے دل میں قرآن کے تئیں ایسی محبت وعقیدت ؟

    جواب:جہاںتک میرے اسلام کی بات ہے تو کلمہ اگرچہ ابھی پڑھی ہوں تاہم دل میں اسلام دوسال سے بیٹھا ہوا ہے۔گویامیںدوسال سے مسلمان ہوں، میںنے گذشتہ رمضان میںروزے بھی رکھنا شروع کیا تھا لیکن میری کفیلہ مجھے منع کرتی رہی کہ تم مسلمان نہیں ہوروزہ مت رکھو ، چنانچہ میں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ قرآن میرے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہواہے، قرآن کی آیتوں سے میں بیحد متاثر ہوئی ہوں ،جب کبھی مجھے گھریلو ٹینشن ہوتا ہے تیسواں پارہ کا ترجمہ پڑھنے بیٹھ جاتی ہوں جس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے ۔

    سوال : آپ نے اسلام قبول کرلیا اور آپ ماشاءاللہ اسلام کے تئیں اچھا جذبہ رکھتی ہیں تو کیا آپ کی خواہش نہیں ہوتی کہ آپ کے گھر والے بھی اسلام اپنائیں ۔

    جواب : جہاں تک میرے والدین کی بات ہے تو میری پوری تمنا ہے کہ والدین اسلام قبول کرلیں ،ابھی میں اسلام کے متعلق ان کو نہ بتائی ہوں البتہ میں نے اپنے شوہر سے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا ہے اس بات کو سن کر انہوں نے مجھے دھمکی بھی دی ہے کہ اگر اسلام قبول کرلی تو نیپال میں لوٹ کر نہیں آسکتی ۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے ،اللہ پاک نے مجھے نرک (جہنم ) سے بچالیا ہے ،اس لیے اب میں ہرطرح کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں ۔

    سوال :آپ کی کیا خواہش ہے ؟

    جواب :میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں قرآن عربی زبان میں پڑھنا سیکھ جاؤں ،میں سمجھتی ہوں کہ شاید آپ لوگ اس سلسلے میں میرا تعاون ضرور کریں گے،اگر مجھے بھی عربی پڑھنا سکھادیں تو میں اپنے رب کے کلام کو عربی زبان میں پڑھ سکتی ہوں ۔

    سوال : اور بھی کوئی خواہش ہے آپ کی ؟

    جواب : میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک مجھے جنت میں جگہ دے ۔ اگر وہ مجھے جہنم میں ڈال دے تو میں کچھ اعتراض نہیں کرسکتی لیکن مجھے اللہ سے پوری امید ہے کہ وہ مجھے جنت میں ضرورداخل کرے گا ۔

    سوال: آپ کی دوستی کیسی عورتوں سے ہے ؟

    جواب : میری کچھ نیپالی سہیلیاں اسلام قبول کر چکی ہیں ،ان کو میں پسند کرتی ہوں ۔ اور جولڑکیاں مسلم نہیں ہوتی ہیں ان سے مجھے کراہیت سی محسوس ہوتی ہے ۔میں کبھی کبھی اپنی سہیلیوں کو اسلام کی دعوت دیتی ہوں اور کہتی ہوں کہ اسلام بہت اچھا مذہب ہے ،یہاں تک کہ دعوتی کتابیں بھی پڑھ کر سناتی ہوں ۔ ان میں سے کچھ تو دلچسپی لیتی ہیں جب کہ اکثر مذاق اڑانے لگتی ہیں ایسی لڑکیوں کو میں سخت ناپسند کرتی ہوں ۔

    عزیز قاری ! اسلام کے تئیں یہ جذبات ہیں ایسی خاتون کے جس نے اب تک اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہیں کیا ہے،ہم نے اس کی باتوں کو بلاکم وکاست آپ کے سامنے پیش کردیا ہے اب اپنا احتساب کریں کہ اسلام کے تئیں ہم نے کیا کیا ؟ قرآن سے ہمارا کیسا لگاؤ ہے ؟ غیروں تک ہم نے کس حد تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے ؟ کل قیامت کے دن یہ کفار ومشرکین جب ہمارا دامن پکڑیں گے تو اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا۔ ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بشکریہ ۔ماہانہ مصباح الکویت

  5. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]جیل سے ہدایت تک۔ پون کمارکیوٹ عرف محمد عمر[/size][/align]

    مولانا اعجازالرحمن شاہین قاسمی

    ایڈیٹر ماہنامہ ”سروشانتی “دہلی

    جیل سے ایڈیٹر ماہنامہ ”سروشانتی “دہلی کے نام ایک نومسلم کا خط جو ابھی جیل میں سرگرم داعی ہے اور اب تک اکیس لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بن چکا ہے

    آج ہماری صفوں میں انتشار کیوں ہے ؟ اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی ہم بے وزن کیوں ہیں؟ ہر طرف کیوں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟ ہمارے دینی شعائر داڑھی ،برقعہ اور مذہبی شخصیتوں کا مذاق کیوں اڑایا جا رہا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جومسلم عوام کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں ؛ اور یہ وہ حالات ہیں جن سے امت مسلمہ کا ہر طبقہ جوجھ رہا ہے۔

    آج امت کی پستی اور بدحالی کا سبب یہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے اصل کام کو چھوڑ چکی ہے ،اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ چکی ہے۔ آج اسلام کی طرف دعوت دینے کے بجائے مسلک کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ قرآن وحدیث کی بلا واسطہ نشرواشاعت کے بجائے مسالک کے قالب اور حلیے میں اسلام کو پیش کیا جا رہا ہے۔ آج کفروشرک کی تردید و تکفیر کی جگہ ایک مسلک دوسرے مسلک کی تردید و تکفیر پر اپنا پورا سرمایہ اور طاقت صرف کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری صفوں میں انتشار ہے اور اسی رویہ نے ہمیں دشمنوں کے لیے اور زیادہ لقمہ تر بنا دیا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے بنا کسی تاخیر کے دعوت کا کام شروع کر دیں، سب کے لیے دعائيں کريں اور کسی مسلک کو نشانہ بنا کر جنگ وجدال کا ذريعہ نہ بنائیں ،اللہ رب العزت سے اصلاح کے لیے دعا کریں۔ ہم دنیا میں جنگ و جدال اور فساد پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے، ہمارا کام دنیا سے جنگ و جدال اور فساد کو ختم کرنا تھا، ہم نے جب یہ کام چھوڑ دیا تو ہم خود ہی اختلاف کے شکار ہو گئے۔ ہمارا کام دنیا کو کفر و شرک ، زنا، جھوٹ، چوری اور دوسری برائیوں سے بچانا تھا ،ہم نے جب یہ کام چھوڑ دیا تو ہم خود ہی ان برائیوں کے شکار ہو گئے۔ ہمارا مشن ،ہمارا مقصد اور ہمارا کام صرف اور صرف ایک ہے ۔ اسلام کی دعوت ، اسلام کی ضیافت ، اسلام کی اشاعت۔

    ذیل کایہ خط ایک ایسے غیر مسلم قیدی کاہے جو جیل سے ہمارے ہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ کے دفتر ميں لکھا گیا ہے۔ ہندوستان کے جیلوں میں بند مسلم وغیرمسلم قیدیوں کو بڑی تعداد میں یہ ہندی ماہنامہ بھیجا جاتا ہے اورہمیں ان کے تاثرات بھی موصول ہوتے رہتے ہیں، جو ہمیں شدت کے ساتھ اس بات کا احساس کراتے ہیں کے ہمیں دعوت الی اللہ کا کام اورزیادہ تیزی سے کرنا چاہیے۔ کاش امت مسلمہ اس کام کی اہمیت وضرورت اوراسکی حکمت کو سمجھتی اور اس کے لیے اپنی زندگی اور وسائل کو وقف کر دیتی۔(اعجازالرحمن شاہین قاسمی)

    اورنگ آ باد جیل سے پون کمار کيوٹ کی طرف سے ہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ کے ایڈیٹر مولانا اے آر شاہين قاسمی صا حب اور نگرا ں حضرت مولانامحمد کلیم صدیقی صاحب کی خدمت میں تسلیمات!

    ایڈیٹرصاحب! آپکاہندی ماہنامہ’ سرو شانتی‘ اس جیل میں شا ہد انصا ری بھائی کے پاس آتا ہے،اللہ کے کرم سے مجھے پڑھنے کے لیے شاہد بھائی بھيج ديتے ہیں۔ يہ رسالہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔لوگوں کو دین دنيا کی سچائی کی پہچان کرانے کا بہت اچھا ذریعہ ہے۔اس لیے میں اپنی سچی کہانی لکھ کر بھیج رہا ہوں تاکہ جولوگ سچ جاننے کی کوشش میں لگے ہیں انہیں سچائی کی پہچان ہو سکے۔

    میرا نام پون کمار کیوٹ ہے ، میں یوپی میں مہارراج گنج ضلع کا رہنے والا ہوں، میری پیدائش ایک کیوٹ خاندان کے ہندودھرم میں ہوئی ہے ۔ میں اپنی کہانی جیل سے شروع کررہاہوں، میں اپنے دھرم کا کٹر تھا ، ہندودھرم کے حساب سے ہر دیوی دیوتا کو بھگوان کے روپ میں مانتا تھا لیکن سب سے زیادہ بجرنگ بلی کی پوجا کرتا تھا ۔ ہر منگل کو اپواس (روزہ ) بھی رکھتا تھا۔ مسلمانوں کے رویے کی وجہ سے مجھے اسلام اور مسلمانوں سے سخت نفرت تھی ۔ اسکے پہلے میں ہندو یووا وا ہنی کا ممبر بھی تھا ۔

    2005ءمیں جیل میں آیا،میرے اوپر ڈکیتی کے کئی کیس تھے ۔ایک دن جیل میں اپنے دوست وجے کے ساتھ گھوم رہاتھا کہ دیکھا سبھی مسلمان قیدی اکٹھے ہورہے ہیں،پتہ لگانے پر معلوم ہوا کہ آج ان کی عید کا دن ہے ،دل نے کہا تم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجاو ،پھر اپنے دل کی بات اپنے دوست وجے سے بتادی ۔وہ بھی تیارہوگیا،ہم دونوں وہاں گئے،ان میں سے ایک مسلمان جس کا نام نواب تھا اس سے ہم نے نماز میںشرکت کی خواہش ظاہر کی تو اس نے کہا:کیوں نہیں ضرور شریک ہوسکتے ہو۔ میں نے کہا :مجھے توپڑھنا نہیں آتا۔ انہوں نے کہا: پڑھا تو بہت کچھ جاتا ہے ،لیکن آپ لوگ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنااور اس کا مطلب بھی بتایا جواچھا لگا۔اس طرح ہم ان کے ساتھ شریک ہوگئے ،ایک مولاناتقریرکرنے کے لیے آئے تھے ، ان کی باتیں سن کر کچھ مسلمان رو بھی رہے تھے ۔ان کی باتیں مجھے بہت اچھی لگ رہی تھیں ،اس سے پہلے میں نے ایسی باتیں نہیں سنی تھیں ۔

    نماز کے بعد سب لوگ شیر خرمہ پینے لگے ،ایک کٹوری میں تین تین لوگ جھوٹا کرکے کھاتے تھے ،مجھے تھوڑی دیر کے لیے یہ منظر اچھا نہیں لگا پھر دل میں خیال آیا کہ ان میں کتنی محبت ہے کہ اونچ نیچ اور چھوت چھات نہیں دیکھتے چنانچہ میں نے بھی شیر خرمہ پی لیا ۔

    نواب بھائی سے میں نے سوال کیا کہ مسلمان کتنی طرح کے ہوتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا:مسلمان ایک ہی طرح کا ہوتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کا حکم مانتا ہے ۔

    اب میں زیادہ تر نواب بھائی کے ساتھ گھومتاتھا ۔ نواب بھائی نماز پڑھتے تو میں ان کے پاس بیٹھا رہتا تھا اور قرآن پڑھتے تو میں بھی سنتا تھا ۔ مجھے نماز اور قرآن پڑھنے کا یہ منظر بڑا اچھا لگتا تھا ۔

    قریب ایک مہینہ تک میں اسلام سے متعلق جانکاری لیتا رہا ۔ ایک دن میں نے نواب بھائی سے کہا : مجھے مسلمان بننا ہے ، یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے ،میں نے کہا: میرا ختنہ کرادو ، تو بولے : ختنہ کرانے سے کوئی مسلمان نہیں بنتا ہے ۔ بلکہ سچے دل سے گواہی دینے سے مسلمان بنتا ہے کہ ” اللہ ہی عبادت کے لائق ہے اس کے سواکوئی لائق عبادت نہیں اور محمد صلى الله عليه وسلم اللہ کے رسول ہیں‘ ‘ ۔

    نواب بھائی نے مجھے نہلایا ‘ پھر کلمہ پڑھا دیا اورمیرا نام محمد عمر رکھا اور کہا تمہاری کہانی حضرت عمر رضي الله عنه سے ملتی جلتی ہے۔ اس ليے تمہارا نام عمر مناسب ہے۔ اسلام قبول کرنے کا وہ دن میری زندگی ميں بہت اہم دن ہے ۔ ميں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اسلام کی گرانقدر دولت سے نوازا ہے۔ 2006ءميں پھر اورنگ آباد جیل ميں آگیا ۔ اللہ کے کرم سے یہاںنماز پانچوں وقت کی ہوتی تھی۔ ميں نے الحمدللہ یہاں پر تین بار قرآن معنی کے ساتھ پڑھا ۔ قرآن کے مطالعہ سے مجھے بہت ساری معلومات ہوئیں،بہت ساری سچائیوں کی جانکاری ملی ۔ تاہم اس وقت تک ميں داعی نہيں تھا ۔اسلام پر عمل کرتااوربس۔ لیکن اس وقت میری زندگی میں اہم موڑ آیا جب ميں نے محمد صلى الله عليه وسلم کی سیرت پاک پڑھی، مجھے بہت رونا آیا کہ انہوں نے اسلام پھیلانے کے ليے کتنی تکلیفیں سہیں تب جاکر اسلام پوری دنیا ميں پھیلا۔ بالآخراللہ تعالی اس گنہگار بندے سے بھی اپنے دین کا کام لینے لگا ۔ ميں نے جیل ميں اسلام کی دعوت کھلے عام دینا شروع کردیا ۔ میرا مقصد اتنا تھا کہ ميں اپنے رب کا دین لوگوں تک پہنچا دوں۔ ایک دن ميں پانچ پانچ ‘ چھ چھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتا ،پھر شام تک ان سے جواب مانگتا ۔ جب ان ميں سے کوئی ایمان نہيں لاتا تو ميں اسے صرف اتنا کہتا کہ گواہ رہنا :ميں نے تم تک اللہ کا پیغام پہونچا دیا۔ رفتہ رفتہ میری باتوں کا لوگوں پر اثر ہونے لگا ۔ لوگ ایمان لانے لگے ،لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے موقع اور وقت مانگتے تھے ۔ ميں نے سوچا کہ اسلام قبول کرنا کوئی کھیل نہيں ہے چنانچہ ميں ٹائم دینے لگا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ 21 لوگوں نے میرے ہاتھ پر اسلام قبول کیا (تازہ رپورٹ کے مطابق مزید2 کا اضافہ ہوا ہے )۔ ان21 لوگوں ميں بہت سے ایسے لوگ تھے جومیرے قبولِ اسلام کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرتے تھے ۔جب کوئی مجھ سے اسلام کے تعلق سے سوال کرتاہے توميں اسے یہی کہتا ہوں کہ اگر تم سچے ہندو ہو تو کم سے کم اپنے دھرم کے وید وں اورپُرانوں کی باتوں کو تو مانوجس میں واضح طورپربتایا گیا ہے کہ اللہ (ایشور) ایک ہے، صرف وہی پوجا کے لائق ہے۔ اسلام دھرم ہمارا بھی دھرم ہے۔ محمد صلى الله عليه وسلم ہمارے بھی رہبر ہيں۔

    آج بھی ميں اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، ليکن يہاں ایسا ماحول ہو گیاہے کہ اگر کوئی ہندو میرے ساتھ بيٹھتا یا بات کرتا ہے تومتعصب قسم کے لوگ اس کے ذہن میں طرح طرح کے وساوس ڈالتے ہیں” پون کے پاس مت بیٹھوورنہ وہ تمہيں مسلمان بنا دے گا“ ۔ یہاں تک کی اسلام کی کتابيں بھی پڑھنے سے منع کرتے ہيں۔ کیونکہ انہيں معلوم ہے کہ اگر پون کے ساتھ دس دن رہا تو ضرور اسلام قبول کر لیگا، متعددبار ایسا ہوا کہ ان کے منع کرنے کے باوجود بھی کئی لوگ ميرے پاس بیٹھتے رہے اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

    اسلام سچا دھرم ہے، اس لبے ميں اسکے بارے ميں بتانے سے کسی سے نہيں ڈرتا اگر ميرے دل ميں آیا کہ فلاں آدمی کو اسلام کی دعوت دینا ہے تو ميں اسے اچھے اخلاق کے ساتھ دعوت دیتا ہوں۔ ميں نے اپنے گھر والوں کو بھی خط کے ذریعہ اسلام کی دعوت دی ہے۔ ميرے گھر والوں کو سمجھ ميں آیا ہے۔ ميری امی کہتی ہے: تیرے آنے کے بعد ہم سوچیں گے۔ امید ہے کہ میرے گھروالے اسلام قبول کر ليں گے۔اللہ انہيں ہدایت دے۔( آمبن)

    میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کی اسلام کوئی نیا دھرم ، یا صرف مسلمانوں کا دھرم نہیں ہے۔ بلکہ اسلام ہی سناتن دھرم ہے محمد صلى الله عليه وسلم صرف مسلمانوں کے پیغمبر نہیں ہیں بلکہ ہر ہندو کے رہنما اور پیغمبر ہیں اس بات کی تصدیق ویدوں اور پرانوں نے کیاہے ۔ اگر میری بات جھوٹ لگ رہی ہو تو ڈاکٹرایم اے شری واستو کی کتاب ”حضرت محمدصلى الله عليه وسلم اور بھارتیہ دھرم گرنتھ “پڑھ سکتے ہیں سچائی خود بخود ہر ہندو کے سامنے آجائے گی۔

    مجھے اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے زیادہ مسلمانوں سے تکلیف پہونچی ہے۔ ميں سوچتا ہوں کہ محمد صلى الله عليه وسلم کے زمانے ميں اسلام قبول کرنے والوں کو غیروں سے تکلیف پہونچتی تھی‘ لیکن آج مسلمانوں سے تکلیف ہو رہی ہے۔ خیر مجھے صبر اس بات سے ہے کہ جن مسلمانوں سے تکلیف ہورہی ہے ‘ انہيں اسلام کے بارے ميں علم نہيں ہے۔ قرآن ميں کیا لکھاگیا ہے‘ نبی صلى الله عليه وسلم نے کیا کہا ہے ؟ یہ بھی انہيں پتہ نہيں ہے۔ اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ايسے مسلمان بہت کم ملے ہيں۔ زیادہ تر سچے مسلمان ہی ملتے ہيں۔ انہيں مجھ سے مل کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ میری ہر مسلمان سے گذارش ہے کہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ قرآن کو ترجمہ و تشریح کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں۔اور نبی صلى الله عليه سلم کی حدیثوں کابھی مطالعہ کریں، غیر مسلموں اور نومسلموں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں، نومسلموں کی مدد کریں۔ا نہیںپناہ دیں‘ انہیں اپنا بھائی سمجھیں اوراللہ کے دین کو لوگوں تک پہونچائيں۔

    مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میں اسی مہینے میں رہا ہو جاﺅں گا پھر بھی میری رہائی کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے (آمین)

    اللہ حافظ

    پون کمارکیوٹ عرف محمد عمر

  6. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]سونیا جین کے قبول اسلام کی کہانی[/size][/align]

    میرا نام سونیا جین تھا، چاندنی چوک دہلی میں جین مت کے ایک مذہبی گھرانے میں۲جون ۱۹۷۵ء کو میں پیدا ہوئی ۔ میری ماں مومنہ خاتون (سابقہ نرملا جین) کا قبول اسلام کے بعد دو سال قبل انتقال ہوا۔ ( اللہ تعالی اپنے سایہ رحمت میں ان کو جگہ دے۔آمین)جب کہ میرے والد پون کمار جین میرے بچپن ہی میں چل بسے تھے۔ میری بہن انورادھا جین جو فی الحال گجرات میں اپنے بال بچوں کے ساتھ مقیم ہیں، ان پر بھی اسلام کی سچائی واضح ہوچکی ہے۔ اس کا وہ بار بار اظہار کر چکی ہیں ، لیکن اپنے شوہر کی وجہ سے پس و پیش میں ہیں۔ اللہ تعالی انہیں جلد ہی ہدایت کی توفیق دے۔ آمین ہم سب ان کے ليے دعا کر رہے ہیں۔ میرا ایک بھائی بھی ہے جس کا نام پلے پارول کمار گپتا تھا، اب مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد محمد عمران ہے۔ میں نے چاندنی چوک کے جین اسکول میں بارہویں پاس کی۔ اس کے بعد تعلیم ترک کردی، البتہ گھر پر رہ کر کچھ کچھ پڑھ لیا کرتی تھی۔ میں اپنی ماں اور دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ جین مندر بھی جایا کرتی تھی، جہاں ہم سب پاٹھ میں شرکت کرتے، پوجاکرتے، پری کرما کرتے،(پھیرے لگاتے) ۔

    ہمارا ماحول اس وقت پورا جینی تھا۔ کسی دوسرے ماحول کی ذرا بھی جانکاری نہیں تھی، جین مندروں میںجب ہمارے رشتہ دار بالکل ننگے سادھوﺅںکے چرنوںکو چھوتے تومیں ہمیشہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتی۔ میری نگاہیںشرم کے مارے زمین میں گڑجایا کرتی تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کرتا تھا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ لیکن چونکہ ہمارے رشتے دار ایسا کرتے تھے اور ہم دیکھتے آرہے تھے، اس ليے میں چپ سادھ لیتی۔

    اسی طرح زندگی کے دن گزرتے رہے حتی کہ میں ۱۹ سال کی ہوگئی۔ میری ماں ان دنوں ایک کمپیوٹر ڈیزائننگ اینڈ پروسیسنگ کمپنی میں کام کرتی تھیں۔ اس کمپنی کے پروپرائٹر محترم عشرت صاحب تھے، جو اب میرے رفیق حیات ہیں۔ عشرت صاحب کا رویہ اپنے اسٹاف کے ساتھ مساویانہ تھا۔ وہ سارے اسٹاف کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر لنچ کیا کرتے تھے، جہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی شامل ہوتے تھے۔ ان میں شاکا ہاری ( سبزی خور)بھی تھے اور مانساہاری(گوشت خور)بھی۔ ہم لوگ شدھ شاکاہاری ( خالص سبزی خور) تھے، لیکن میری ماں نے سب کے ساتھ کھانے پر کمپرومائز کرلیا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہاں ایک آسامی نکلی تومیری ماں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی ان کے ساتھ کام کروں ۔ یہ جنوری ۹۵ ۱۹ءکی بات ہے ، جب میں پہلے روزوہاں کام کرنے آئی تو میری ماں اس بات پر کافی پریشان تھیں کہ میں کس طرح سب کے ساتھ مل کر لنچ کروں گی ؟ جبکہ وہاں دوسرے اسٹاف مانساہاری( گوشت خور)بھی ہیں، اس ليے انہوں نے سب سے پہلے عشرت صاحب سے بات کی کہ میں تو آپ لوگوں کے ساتھ مل کر کھالیتی ہوں ،لیکن میری بیٹی سونیا جین بڑی مذہبی ہے اور شدھ شاکاہاری( خالص سبزی خور ) ہے، وہ ہمارے ساتھ کھانا کھانے کے ليے رضامند نہیں ہے، اس ليے وہ الگ تھلگ کھالیا کرے گی۔ عشرت صاحب نے ان کی بات سن کر مجھے آفس میں طلب کیا اور پوچھا :

    آپ کو گوشت یوں ہی نا پسند ہے یا آپ کے نزدیک یہ پاپ ہے ؟

    ” یہ تو بہت بڑا پاپ ہے “۔ میں نے اپنے علم کے مطابق جواب دیا، جو میں اپنے پرکھوں سے سنتی آئی تھی۔

    ” اگر یہ پاپ دنیا سے ختم ہوجائے اور سارے ہی لوگ سبزی کھانے لگیں تو کیسا رہے گا ؟ “۔عشرت صاحب نے پوچھا

    ” یہ تو بہت اچھا رہے گا۔ “ میں نے جواب دیا: انہوںنے کہا: ” اچھا یہ بتاﺅ کہ اس وقت آلو کا کیا بھاﺅ ہے ؟ “ میں نے کہا : ” یہی کوئی چار پانچ روپے کلو۔ “ انہوںنے کہا : ” اگر سب لوگ گوشت خوری ترک کردیں اور ساگ سبزی کھانے لگیں تو آلو سو روپے کلو ہوجائے گا، کیوں کہ۵ ۹ فیصد لوگ مانساہاری( گوشت خور ) ہیں، پھر بتا ئيے کہ سب کے جیون (زندگی) کی گاڑی کیسے چلے گی اور لوگ کس طرح سے اپنا پالن پوسن (گزر بسر) کریں گے ؟ “

    ان کی بات سن کر میری عقل کی پرتیں کھل گئیں اور میری سمجھ میں آگیا کہ جو بات وہ کہہ رہے ہیں صحیح کہہ رہے ہیں۔ یہی میرا ٹرننگ پوائنٹ تھا ‘جب میں نے عقیدت سے نہیں عقل سے سوچا۔ میں نے اسی دم سب کے ساتھ مل کر کھانے کے لیے حامی بھر لی اور اتنا ہی نہیں ، بلکہ جب کھانے پر بیٹھی تو عشرت صاحب کے ٹفن میں سے مرغ کی ٹانگ بھی حلق سے اتر گئی۔

    عشرت صاحب اس کے بعد وقتاً فوقتاًمجھے اسلام کے بارے میں بتاتے رہے اور میں ان کی باتوں کو بڑے غور سے سنتی اور اپنی عقل کااستعمال کرتی تو عقل بھی انہیں کی باتوں کی تصدیق کرتی ۔دھیرے دھیرے اسلام کے ليے میري دلچسپی میں اضافه ہونے لگا۔ ایک دن عشرت صاحب نے دنیا کے نقشے کو سامنے رکھ کر بتایا کہ مکہ دنیا کا مرکز ہے ، جہاں سے اسلام کی روشنی برابر دنیا کے کونے کونے میںپہنچتی ہے، جس طرح کمرے کے سنٹر میں بلب روشن ہوتواس کی روشنی کمرے کے ہر جانب برابر جاتی ہے، اس کے بر عکس جین دھرم صرف ہندوستان میں محصور ہے اور اس کا پھیلاﺅ ممکن نہیں۔ یہ بات میرے دل کو چھوگئی۔ پھر میرا ضمیردن بہ دن مجھے کچوکے لگانے لگاکہ میں غلطی پر ہوں اور اسلام ہی اصل سچائی ہے ۔ جب بھی عشرت صاحب مجھے کوئی بات بتاتے تووہ اس سلسلہ میں عقلی اور منطقی استدلال ﭘﯾﺶ کرتے اور یہی وہ بات تھی، جس کے آگے مجھے ڈھیر ہونا پڑا۔ دوسری بات یہ تھی کہ خود عشرت صاحب کا رویہ اپنے اسٹاف کے ساتھ بڑا نرم تھا۔ وہ سب کے ساتھ مساویانہ سلوک روا رکھتے اور ہر ایک کے ساتھ بڑی شفقت ومحبت کا معاملہ کرتے۔ ان کا اخلاق بڑا کریمانہ تھا۔ انہوںنے جین دھرم میں مہاویر سوامی کی پرتیما(مورتی) کی جو تشریح کی ‘میںاس سے بہت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خود کا پہناواننگ (عریانیت)تھا اور وہ دوسرے لوگوں کو کپڑے پہننے کے ليے کہہ رہے ہیں۔ یہ قول و عمل کا تضاد میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ ان سب وجوہات کی بناءپر میرا دل اسلام کی طرف مائل ہونے لگا۔

    ۴۱ مارچ۱۹۹۵ءمیری زندگی کا وہ مبارک دن تھا، جب میں مشرف بہ اسلام ہوئی۔ عشرت صاحب کا یہ معمول تھا کہ وہ ہر جمعہ کو آفس بند کرکے سورئہ کہف كي تلاوت کرتے تھے۔ میرے اندر تجسس ابھر ا کہ وہ اتنے اہتمام سے کیا پڑھتے ہیں ؟ جب میں نے ان کو سورئہ کہف کی تلاوت کرتے سنا تو میرے دل کی اندرونی کیفیت کچھ عجیب سی ہوگئی۔ ایک طرح کی بیداری پیدا ہوگئی۔ پھر عشرت صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم آگ کا ایندھن بننے سے کب بچوگی ؟ میں نے از خود رفتگی میں کہا کہ بہت جلد انہوںنے کہا کہ کیا خبر ، یہ سانس جو تم لے رہی ہو ، آخری ہو ؟ پھر اچانک میں بڑے جوش میں بولی کہ ابھی اور اسی وقت ! پھر عشرت صاحب نے مجھے کلمہ پڑھایا اور میں مسلمان ہوگئی۔ میں نے اسی دم یہ دعا کی ” اے اللہ! جس طرح تو نے مجھے آگ سے بچایا ہے، اسی طرح میری ماں اور میرے بھائی کو بھی بچالے “۔ اللہ تعالی کے یہاں میری یہ دعا بھی قبول ہوگئی۔ شروع میں تو میری ماں اور بھائی دونوں نے میری مخالفت کی ۔ میرا بھائی تو عشرت صاحب کا جانی دشمن ہوگیا، لیکن جب میں نے ان کو خود اسلام کے بارے میں کچھ معلومات دیں اور بتایا کہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھا یا ہے ، پھر ان کے سامنے نماز وغیرہ پڑھنے لگی تو وہ بہت متاثر ہوئے اور دونوں نے ہی اللہ کے فضل سے اسلام قبول کرلیا۔

    میری ماں نے میری شادی عشرت صاحب سے کردی، جن کی بیوی کا کینسر کے مرض میں شادی کے تین چار سال بعد انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے تین بچے تھے۔ ان بچوں سے مجھے جو پیار ملا اور کہیں نہیں ملا۔ میرا ان سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ میں اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کرتی ہوں کم ہے ۔ میری ابھی ایک بچی ہے، جس کا نام ناز ہے اور میں اسے اسلام کی اشاعت کے ليے تیار کر رہی ہوں ، کیونکہ جب میں نے اسلام قبول کرلیاتو اب ایک بہت بڑی ذمہ داری کو قبول کیا ہے اور اپنے اوپر اسلام کی تبلیغ کو فرض کرلیا ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ لوگ حلقہ اسلام میں زیادہ سے زیادہ آئیں۔ ہم اپنے اخلاق سے،اپنے کردار سے قرآن کا مکمل نمونہ بنيں تاکہ لوگوں میں اسلام کی سچائی جاگزیں ہو۔ میں اسلام سے متعلق مختلف کتابوں کا بھی مطالعہ کرتی رہتی ہوں ۔ قرآن مجید کو میں نے سمجھ کر پڑھا اور مجھے لگا کہ حقوق العباد پر اسلام کا بہت زور ہے اور یہی حقوق العباد اسلام کا دائرہ وسیع کرنے میں بھی بہت معین ہے۔ ہمیں اپنی دعوت میں خوش اخلاقی کو مقدم رکھنا چاہيے۔ ا ب تک اللہ کے فضل سے میری ماں اوربھائی کے علاوہ تین اور لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ یہ میمونہ خاتون(سنینا کپور) محمد یوسف (راجن کپور) اور محمد زید( ستیش کمار ) ہیں ۔ میری اپنی کوشش ہے اور تمام لوگوں سے استدعا ہے کہ ہم میں سے ہر شخص داعی بنے اور دعوت کو جاری رکھے، اپنے بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کرے تاکہ وہ اسلام کے داعی بن کر ابھریں۔

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]میں نے اسلام کیوں قبول کیا ؟
    سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ کا قبولِ اسلام
    [/size][/align]
    انگریزی سے ترجمہ: عبدالجلیل منشی (کویت)
    ajmunshi@yahoo.com

    ”میں اسلام قبول کرنے کے لیے ہرگز سرگرم نہ تھی، نہ ہی میں اسلام کا مطالعہ کر رہی تھی، بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ ایک مسلم معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان رہ کرایک طویل عرصے سے کام کر رہے ہوں تو لامحالہ ان سے روزمرہ کی گفتگو کے دوران اُن کے دین اور قرآن کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوتی ہی رہتی ہیں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں نے اتفاقاً مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے تھوڑا بہت قرآن کے بارے میں جانا، اس دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ اگر آپ نے اسلام میں دلچسپی لیتے ہوئے اسکے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہرکی تو مسلم اُمہ کی تمام تر محبت،یگانگت اور خلوص کو آپ یقینا محسوس کئے بنا نہ رہ سکیں گے“۔

    اپنے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے 43 سالہ لورین بوُتھ نے کہا کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسلام،مسلمانوں کی محبت اور دوستی میں قبول نہیں کیا بلکہ جن حالات میں میں مسلمانوں کے درمیان رہ کر اک طویل مدت تک کام کرتی رہی ہوں اس دوران نہ جانے کس وقت میرا اللہ سے ربط قائم ہو گیا ، میں نے اللہ کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کی اور اب میں امید کرتی ہوں کہ میں اپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوسکی ہوں۔

    اسلام کی جانب یہ سفر میری زندگی کانہایت خوشگوار سفر ہے،مجھے نہیں معلوم کہ میں کب اس راہ کی مسافر بنی، حالات سازگار ہیں اور ساتھی مسافر گرمجوش، اس سفر میں میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہوں اور وقت کی گرم آندھی اور راہ کی تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلام کے راستے پر میرا یہ سفر تیزی سے گامزن ہے۔

    اگر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ ایک انگریز صحافی، ایک تنہا دو بچوں کی ماں نے مغربی میڈیا کے سب سے ناپسندیدہ مذہب کو کس طرح قبول کیاتو اس کے جواب میں میں اپنے اس انتہائی روحانی تجربے کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گی جو مجھے ایران کی ایک مسجد میں ہواجس نے میرے دل کی دنیا بدل دی ،مگر اسلام قبول کرنے کے حوالے سے اگر ماضی میں جھانکا جائے تو اسکی بنیاد غالباً اس وقت پڑ گئی تھی جب میں جنوری 2005ء میں اکیلی فلسطینی علاقے ویسٹ بنک (مغربی کنارہ) میں برطانوی جریدے ’دی میل‘کے لیے فلسطینی صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے پہونچی تھی، یہاں میں یہ بات واضح کر دو ں کہ اپنے اس سفر سے پہلے مجھے کبھی بھی مسلمانوں یا عربوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا

    جب میں نے اپنا مشرقِ وسطی کا یہ سفر شروع کیا تھا تو میرا ذہن مغربی میڈیاکے اس پروپگنڈہ کی وجہ سے سخت مخدوش تھا جو اس نے دنیا کے اس حصے کے لوگوں کے بارے میں جو محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والے تھے جاری رکھا ہوا تھا اور انہیں بنیاد پرست ، متعصب،مذہبی انتہاءپسند، خودکش حملہ آور، ا غوا کاراور جہادی قرار دیاجاتا تھا جبکہ میرا یہ تجربہ ان تمام تصورات کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔

    میں فلسطینی مغربی کنارے کے علاقے میں اس حال میں داخل ہوئی تھی کہ میرے جسم پر میرا کوٹ بھی نہیں تھا کیونکہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حکام نے میرا سوٹ کیس اپنے قبضے میں لے لیا تھا، اور میں ’رام اللہ‘ کے مرکزی علاقے میں شدید سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی چلی جا رہی تھی کہ یکایک ایک بوڑھی فلسیطینی خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا، تیزی سے عربی زبان میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہ مجھے ملحقہ گلی میں واقع ایک گھر میں لے گئی، سب سے پہلے میرے ذہن میں جس خدشے نے جنم لیا وہ یہ تھا کہ کیا میں ایک بوڑھی عورت کے ہاتھوں اغواء ہوگئی ہوں،کئی منٹ تک میں خاموشی سے اسے اپنی بیٹی کے کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتی رہی ، بالآخراس نے الماری سے ایک کوٹ،ایک حجاب اور ایک ٹوپی نکالی اور مجھے دیکر دوبارہ اسی گلی میں چھوڑ دیا جہاں سے وہ مجھے اپنے گھر لے گئی تھی۔میرے سر پر گرمجوشی سے بوسہ دیا،اور اپنی راہ ہولی، حیرت کی بات یہ ہے اس سارے عمل کے دوران ہمارے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہ ہوا۔

    یہ سخاوت اور فیاضی کی ایک زندہ مثال تھی جسے میں کبھی نہ بھول پاؤں گی اور جس کا مجھے اس کے بعد وہاں رہتے ہو ئے کئی موقعوں پر بارہا تجربہ ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری عملی زندگی میں روحانی گرمجوشی کا ایسا مظاہرہ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

    اس سفر کے بعد آنے والے تین برسوں میں میرا مقبوضہ علاقوں میں متعدد بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ابتداً میرا وہاں اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں جانا ہوتا رہا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے وہاں کے سفر کی نوعیت میں تبدیلی آتی گئی اور پھر میں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور انکے لیے امدادی کام کرنے والے گروپوں کےساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنا جانا شروع کردیا۔

    اس دوران میں نے وہاں ہر مذہب اور عقیدے کے حامل فلسطینیوں کی بدحالی اور تکالیف کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اوردل سے محسوس کیا۔یہاں میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی عقیدے کے لوگ بھی جو تقریباً دو ہزار برس سے ارضِ مقدس پر رہ رہے ہیں وہ بھی مسلمانوں کی طرح اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں۔

    وہاں آتے جاتے اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوئے ان شاءاللہ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے کلمات میری زبان کا حصہ بنتے رہے جو فلسطینی مسلمان اپنے روزمرہ کی گفتگو میں شکر ، تعریف اور امید کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس سرزمین کے لوگوں کے حوالے سے مغربی میڈیا نے جوخوفناک تاثر مغرب کے لوگوں کے اذہان میں پیدا کردیا ہے اور جسکا دہشتناک تصور لے کر میں پہلی بار اس خطے میں آئی تھی اب اتنا عرصہ ان لوگوں میں رہنے کے بعد وہ تاثر یکسر غائب ہوگیا تھا ۔ اب میں بغیرکسی خوف و تردد کے مختلف مسلم گروپوں سے ملنے لگی تھی ا ور اس طرح اس سرزمین کے ذہین،عقلمند اور سب سے بڑھ کر مہربان اور فیاض لوگوں کے درمیان مجھے رہنے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔

    فلسطین کی مسلمان خواتین‘ اسلام سے میری خصوصی لگن اور پسندیدگی کا سبب بنیں، آپ اندازہ کریں کہ سر سے پیر تک برقع میں ملفوف خواتین کو ایک انگریز عورت نے کس نظر سے دیکھا ہوگا۔ اسکے برعکس یورپ میںپیشہ ور خواتین اپنی خوبصورتی اور ظاہری وضع قطع کی زیادہ سے زیادہ نمائش میں خوشی محسوس کرتی ہیں اور وہاں ایسا کرنا روزمرہ کے معمولات میں شامل ہے ،بالکلمعیوب نہیں سمجھا جاتا۔

    جب کبھی مجھے کسی پروگرام کو نشر کرنے کے لیے ٹیلیویژن سٹیشن پر مدعو کیاجاتاتھا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی تھی کہ خواتین میزبان پندرہ منٹ کے دورانیہ کے سنجیدہ نوعیت کے پروگرام پیش کرنے سے پہلے گھنٹہ بھر تک بالوں کی تزئین وآرائش اور میک اپ پر صرف کیا کرتی تھیں۔کیا اسی کا نام آ ز ادی ہے؟ میں سوچتی ہوں کہ اس آزاد مغربی معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو کتنا حقیقی احترام دیا جاتا ہے۔

    2007 ءمیں مجھے لبنان جانے کا اتفاق ہوا، میں نے وہاں چار دن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ گزارے جو سب کی سب حجاب پہنی ہوئی تھیں اور جن کے سر کے بال تک نظر نہیں آتے تھے۔ وہ خوبصورت، خودمختار اور صاف گوتھیں۔ا ور قطعاً ایسی ڈرپوک اور بزدل نہیں لگ رہیں تھیں کہ کوئی زبردستی انکی مرضی کے برخلاف انہیں پکڑ کر انکی شادی کر دیتا جیسا کہ میرے ذہن میں تصور تھاجو میں نے مغرب کے اخباروں میں پڑھ کر قائم کیا تھا۔

    جتنا زیادہ وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں گزار رہی تھی اتنی ہی زیادہ تبدیلی میں اپنے اندر محسوس کر رہی تھی،میں انہیں خود کومسجد میں لے جانے کے لیے کہتی ، اپنے آپ کو میں یہ کہہ کر مطمئن کرلیتی کہ میں سیاحت کررہی ہوں مگر درحقیقت مساجد مجھے بے حد دلکش لگتی تھیں، مجسموں سے پاک اور خوبصورت غالیچوں سے آراستہ۔

    لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے اب تک کتنا قرآن پڑھا ہے اور میں یہ کہتی ہوں کہ میں نے اب تک صرف سو صفحات کا باترجمہ مطالعہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کہ میری اس بات کو کوئی طنزیہ نظروں سے دیکھے میں صرف یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اس عظیم کتاب کی ایک وقت میں دس لائنیں پڑھنا چاہیے، مکمل تدبرکے ساتھ۔ اسطرح کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہوں اس کو اچھی طرح سمجھ بھی رہے ہوں اور اگر ممکن ہو تو ان دس لائنوں کو زبانی یاد بھی کرلینا چاہیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قرآن کو اللہ کی نازل کی ہوئی کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھنا چاہیے نہ کہ کوئی رسالہ سمجھ کر۔میں ان شاءاللہ عربی زبان بھی سیکھنے کی کوشش کروں گی مگر اس میں خاصہ وقت لگے گا۔

    اسلام کی تعلیمات سے واقف ہونے کے لیے بہت زیادہ مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے، شمالی لندن کی چند مساجد سے میرا رابطہ ہے اور پُرامید ہوں کہ میں کم از کم ہفتہ میں ایک بار وہاں جایا کروں۔

    لباس کے بارے میں بات کرتے ہوے لورین صاحبہ کہتی ہیں کہ اعتدال پسند انہ لباس کا انتخاب اتنا مشکل معاملہ نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ حجاب پہننے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ باہر پہلے سے بھی زیادہ کم وقت میں جاسکتے ہیں کیونکہ حجا ب کی وجہ سے آپ کو بہت سارا وقت بالوں کی آرائش میں ضائع نہیں کرنا پرے گا۔ چند ہفتے قبل جب میں نے پہلی بار اپنے سر پرحجاب باندھا تو مجھے بہت شرم سی محسوس ہوئی تھی۔ چونکہ ان دنوں سردی کا موسم تھا تو میراحجاب پہننا کسی نے محسوس نہ کیا البتہ گرمی کے موسم میں حجاب پہن کر نکلناایک چیلنج ہے،مگر بریطانیہ ایک روادار ملک ہے اور ابتک مجھے کسی نے حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھا،حجاب کے ساتھ نقاب میں اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتی مگر برقع مجھے زیادہ موزوں محسوس ہوتاہے۔

    اسلام قبول کرنے کے بعد میڈیا میں ردّعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے میرے اس عمل سے انہیں موقع ہاتھ آگیا اور بہتان اور دشنام طرازی کا سلسلہ شرو ع ہوگیا مگر حقیقتاً ان کا ہدف میری ذات نہیں تھی بلکہ اسلام کا غلط تصور جو انہوں نے اپنے ذہنوں میں قائم کر لیا ہے دراصل وہی سوچ اس سارے قصے کے پیچھے کارفرما تھی،مگر میں نے زیادہ تر منفی تبصرے نظرانداز کردئے کیونکہ کچھ لوگ روحانیت کے معنوں سے ناآشنا ہوتے ہیں اور اس موضوع پر انکے ساتھ کسی قسم کا بحث ومباحثہ انہیں مزیدخوفزدہ کردیتا ہے۔

    میرے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایک مشورہ مجھے اچھا لگا اور میں نے اس پر عمل بھی کیا کہ میں ایسے مواد کامطالعہ نہ کروں جو ناگوار خاطر گزریں،نہ ہی بلاگس (Blogs)میں موجود منفی تبصروں پر کان دھروں ۔ اسطرح میں نے بہت سی تصوراتی اور ناخوشگوار باتوں کی طرف مطلق دھیان نہ دیابلکہ اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مبذول کر لی ہے کہ مسلم امہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پیار اور تعلق کو مضبوط ومربوط کیا جائے۔

    اپنے پیشے کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے انکا سوال یہ تھاکہ کیا حجاب پہن کر وہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے ۔ مجھے علم ہے کہ بہت ساری مسلم خواتین نے ٹیلیویژن اور صحافت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ شائستہ مغربی لباس پہنتی ہیں،میں ابھی اسلام میں نئی نئی داخل ہوئی ہوں اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہی ہوں، اسلام سے میرے تعلقات کی نوعیت الگ قسم کی ہے۔ میرا قطعاًیہ نظریہ نہیں ہے کہ اسلام کے بعض اصول تو میں اپنا لوں اور بعض کو نظر انداز کردوںبلکہ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہوں۔مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی حالات کا شکار ہوں، میں روزانہ ہی کچھ نہ کچھ اپنے اندر تبدیلی اور ایک نیاپن محسوس کرتی ہوںاور سوچتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ۔

    اپنے معاشرتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا اسلام قبول کرنا میرے اہم ترین رشتوں پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہوا ہے۔ میرے اس فیصلے سے میرے غیر مسلم دوستوں کا ردّعمل تجسسانہ تھا نہ کہ مخالفانہ اور معاندانہ۔وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم بدل جاؤگی؟ کیا ہماری دوستی برقرار رہ سکے گی اور کیا ہم اب بھی شراب نوشی کے لیے جاسکیں گے؟ انکے پہلے دو سوالوں کا جواب تو میرے پاس اثبات میں ہے مگر تیسرے سوال کا جواب قطعا انکار میں۔جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے تو وہ میری خوشی میں خوش ہیں۔



    میرے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ میں کسی مرد سے تعلقات کے بارے میں سوچوں،میری ازدواجی زندگی انحطاط کا شکار ہے اور یہ طلاق پر منتج ہونے جا رہی ہے ، کسی مناسب وقت پر اگر میں نے دوبارہ شادی کے بارے میں سوچا تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی اور میرا ہونے والا شوہر یقینا ایک مسلمان ہوگا۔

    یہ تھی برطانیا کی اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بات چیت۔

    آئیے ہم سب ملکر اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ اس نومسلم بہن کواسلام پر ثابت قدم رکھے اور حالات کی سختیاں اور بادسموم کے مخالف جھونکے ان کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہ کرسکیں بلکہ انکے عزم اورحوصلے روز افزوں جواں اور ہمت بلند سے بلند ہوتی جائے اور یہ دین کی داعی اوزبردست مجاہدہ بنے اور خصوصاً بریطانیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے تقویت ملے ۔ آمین ثم آمین۔


  8. #8
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]ابراہیم بھائی کی قربانی[/size][/align]

    قربانی خواہ صوری ہو یا معنوی ‘ ہے آخر قربانی ہی ، اسلام کی خاطرقیامت تک کفر و شرک سے اٹے ماحول میں پرورش پانے والے نومسلم مردوخواتین قربانی وفدائیت کا نمونہ پیش کرتے رہیں گے۔ ایسی ہی ایک قربانی پیش کی ہے ipc کے شعبہ دعوت سے منسلک ہمارے ابراہیم بھائی نے ، تولیجیے ان کی قربانی کاقصہ ہم انہیں کی زبانی قلمبندکر رہے ہیں ۔ (گفتگوپرمبنی…. صفات عالم )

    میرا تعلق نیپال کے ترائی علاقے کے ضلع بارا سے ہے ، پیدائشی نام کدار ناتھ کھریل ہے، برہمن طبقہ کے کھریل خاندان میں پیدا ہوا ، خاندانی روایات کے مطابق مذہبی طورطریقے پر میری پرورش ہوئی،سترہ سا ل کی عمرمیں آٹھویں جماعت کاطالب علم تھاکہ نیپالی فوج میں ملازمت مل گئی،چنانچہ میں نے نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی ،اسی بیچ میٹرک کے ا، آئی اے کیا اور سترہ سال تک محکمہ افواج میں ملازمت کرتا رہا ۔ وہاں سے ریٹائرڈ ہونے کے بعدایک سال تک ذاتی کاروبار کیا، پھر مجھے 2004 کے اوائل میں ملازمت کے لیے کویت آنے کا موقع ملا جہاں مجھے قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔

    میرے قبول اسلام کا قصہ بڑاعجیب ہے، میرا ایک بنگلادیشی ساتھی تھا جو تلاوتِ قرآن کی بیحدپابندی کرتا تھا اور گاہے بگاہے مجھے بھی بٹھا کرقرآن سنایا کرتا تھا ، میں نے ایک دن اس سے پوچھا : ” تم لوگ کس کی پوجا کرتے ہو ؟ “اس نے مجھے مختصرلفظوںمیں بتایا کہ ” ہم مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں کسی مورتی کی پوجا نہیں کرتے“ ۔یہ محض اس کا جواب نہیں تھا بلکہ میری زندگی کے لیے پہلا ٹرننگ پوائنٹ تھا ۔

    ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی نیک صفت بزرگ مجھے کہہ رہے ہیں:” تم اسلام میں آجاؤ“ ، میں نے جواب دیا : ”میںہندو ہوں اور میرے گھر والے اس سے راضی نہیں ہوسکتے“ ، اس نے کہا : ”تم پہلے اپنی فکرکرو اور سچائی قبول کرلو“۔ اسی کے بعد میرے اندر ایک طرح کا تجسس پیدا ہوگیا ،مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا گویامیری کوئی شے کھوچکی ہے ،میں بار بار مسلم دوستو ں سے اسلام کے بارے میں پوچھتا رہتا ،جب مجھے اسلام کے تئیں بالکل اطمینان ہونے لگا تو ایک دن میں نے ایک کویتی سے کہا کہ ”میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں“ ، اس نے بلاتاخیر مجھےipc پہنچا دیا ، یہاں میری ملاقات مولانا صفات عالم محمد زبیرتیمی صاحب سے ہوئی ،ان سے میں نے اپنا پورا قصہ سنادیا ، اولاً تو انہوں نے مجھ سے عرض کیا کہ محض خواب کی بنیاد پر اسلام قبول کرناکوئی معنی نہیں رکھتا ،بلکہ پہلی فرصت میں آپ کو اسلام کی کھوج کرنی چاہیے کیونکہ اسلام ہی آپ کا دھرم ہے جسے آپ کے خالق ومالک نے آپ کے لیے اورساری انسانیت کی رہبری کے لیے آخری شکل میں اتارا ہے، اسلام قبول کرنا دھرم بدلنا نہیں بلکہ اپنے پیدائشی دھرم کو پانا ہے ۔

    پھر انہوں نے سنہرے انداز میںمیرے سامنے اسلام کا تعارف کرایا ، ان کی ایک ایک بات میرے دل میں اترتی گئی بالآخرمیں نے ایک گھنٹہ کی گفتگو کے بعد اسی وقت اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔

    اس کے بعد میں ہمیشہ مولانا صفات عالم صاحب سے استفادہ کرتا رہا ،ہفتہ واری دروس میں حاضر ہوتا اور دیگراوقات میں بھی‘جب کبھی کسی طرح کااشکال پیدا ہوتا فوراً مولانا سے رابطہ کرکے تشفی بخش جواب حاصل کرلیتا ۔جب مولانا کرم اللہ تیمی صاحب ipc میں بحیثیت نیپالی داعی تشریف لائے توایک عرصہ تک ان سے بھی استفادہ کرنے کا موقع ملا، میں آئے دن اپنی معلومات میں اضافہ کرتا رہا ، میری دعوتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ipc کے ذمہ داران نے مجھےipc میں کام کرنے کا زریں موقع فراہم کیا ،چنانچہ میںنے کمپنی چھوڑ دی اور تقریباً تین سال سے ipc میں بحیثیت داعی کام کررہاہوں ۔ فللہ الحمد والمنة

    اس اثناءمیں نے اپنی اہلیہ کومتعدد بار اسلام کی دعوت دی، بالخصوص جب دوسال قبل دوماہ کے لیے گھر گیاتو پہلی فرصت میں ‘میںنے ان کواسلام بتایا اور انہوں نے اسلام قبول بھی کرلیا لیکن جب دومہینہ گزرنے کے بعدکویت آیا تو میرے سسر نے اس پر دباؤ ڈالا اور قسم کھالی کہ جب تک وہ اسلام سے نہ پھرے گی تب تک میں اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا ،حتی کہ وہ میرا مردہ منہ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔ اب کیاتھا،وہ اپنے شیطان باپ کے جذبات کا خیال کرتے ہوئے مرتد ہوگئی، اس بیچ میںنے بارہا کوشش کی کہ وہ اسلام کو اپنالے لیکن اب وہ ماننے کو تیارنہ تھی حالانکہ میں اس سے بےحد محبت کرتا تھا۔میرے پاس ایک سترہ سال کی لڑکی ہے جو نرسنگ کی تعلیم حاصل کررہی ہے، ایک بیٹا آٹھویں جماعت میں زیرتعلیم ہے جبکہ دوسرا بیٹا ابتدائیہ میں پڑھتا ہے ، میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میرے گھر والے اسلام کو گلے لگالیں لیکن ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے کوشش کے باوجود ناکام رہا ۔

    ایک ماہ قبل میں سفرپرگیا اس امید کے ساتھ کہ میرے اہل خانہ اسلام قبول کرلیں گے کیونکہ ان کی باتوں سے مجھے توقع بندھنے لگی تھی ،حالانکہ انہوں نے منظم پلاننگ کے ساتھ مجھے بلایا تھا تاکہ دوبارہ کویت نہ لوٹ سکوں۔ جس روز گھر پہنچا، بیوی اور بچوں کوبٹھا کر دو گھنٹہ تک سمجھایا لیکن بیوی اپنی بات پر مصر رہی کہ وہ اسلام میں نہیں آے گی بالآخر میںنے اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ رات گذاری، صبح میں بھی میں نے اہلیہ کو سمجھایا اور تاکید کی کہ اسلام نے ہم دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی ہے، ازدواجی زندگی گذارنااسی وقت ممکن ہے جب تم اسلام میں آجاؤ ، میںدومہینہ کی فرصت لے کرگیاتھالیکن معاملہ اس قدر پیچیدہ ہوا کہ تقریبا ً ہفتہ عشرہ کے بعد ہی مجھے گھر سے نکلنا پڑا ۔ پہلے ہی دن میری سترہ سالہ بچی نے اپنی ماں کے اشارے پر میرے موبائل سے کویت کے سارے نمبرات ڈیلیٹ کردی ، میری بیوی خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ،اس کے ایک بھائی امریکہ میں اور ایک بھائی بلجیم میںرہتے ہیں ، میرے سسرال والوں کی پلاننگ تھی کہ کسی طرح میں ان کے دھرم میں لوٹ آؤں اور دوبارہ کویت نہ آسکوں ، امریکہ میں مقیم میرے نسبتی برادر نے مجھے سبز باغ دکھانے کی کوشش کی کہ چند سالوں تک گھر پرآرام کروں اوروہ مجھے اس اثناءکویت کی میری سالانہ آمدنی سے کہیںزیادہ رقم مہیا کریںگے ،پھر اس کے بعد مجھے امریکہ بلا لیں گے ،لیکن میں نے ان کی بات کو خاطر میں لائے بغیر دوٹوک جواب دیا کہ ایسا قطعاً ممکن نہیں ہے ،میں نے اسلام کو گلے لگایا ہے تو تادم حیات اس پر قائم رہوں گا اور کوئی طاقت مجھے اسلام سے پھیر نہیں سکتی۔

    اسی بیچ دسہرہ کا تہوار آگیا اور میرے گھر والے مجھ پر زور ڈالنے لگے کہ میں بھی ان کے تہوار میں شرکت کروں، میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میں کسی صورت میں ان کا ساتھ نہیں دے سکتا، اِدھر بیوی رو رہی تھی تو اُدھر بچے رو رہے تھے،بلکہ سب نے کھانا تک نہیں کھایا لیکن میں اپنی بات پر اٹل رہابالآخر تھک ہار کر سب نے دوسرے دن کھانا کھا یا ۔

    ہفتہ عشرہ تک میں نے دسیوں بار اہل خانہ کو اسلام کی دعوت دی ، اپنی محبت کا واسطہ دیا اور علیحدگی کی صورت میںمعاشرتی بگاڑ اور بچوں کے مستقبل کی بربادی سے ڈرایا لیکن میری بیوی اپنے بھائیوں اور باپ کے بہکاوے میں آکر دین میں میرا ساتھ نہ دے سکی، جب مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ میرے خلاف یہ لوگ سازشیں کررہے ہیںکیونکہ دو سال قبل مجھے اس کا تجربہ ہوچکا تھاکہ چندشرارت پسندوں نے میری بیوی کی بیوقوفی سے مجھے جسمانی اذیت پہنچانی چاہی تھی‘ لیکن اسی وقت میرا ایک دیرینہ دوست پہنچ گیا جس سے میں بال بال بچ گیا، اس بار بھی اس طرح کے آثار دکھائی دینے لگے تو میں ایک دن خفیہ طور پر استعمال کے کپڑے لیے ،گھر سے نکل پڑا اور چند کلو میٹر دور میرے ایک دوست کا گھر ہے جہاں ایک ہفتہ چھپا رہا ، اس بیچ ٹکٹ کا انتظام کیا اور دو بارہ کویت آگیا ۔

    واقعہ یہ ہے کہ میرے سسرال والوں نے ہی سارامعاملہ خراب کیا ہے جن کی میرے اہل خانہ کو پوری پشت پناہی حاصل ہے۔ مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ میں اپنے اہل خانہ اور اولاد سے بچھڑ گیا ہوں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اسلام سے محروم رہ گئے ہیں ۔اخیرمیں قارئین سے میری درخواست ہے کہ وہ اللہ تعالی سے میرے اہل خانہ کی ہدایت کے لیے دعا کریں ۔


  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    [align=center][size=xx-large]اور جناردن پرساد بنے محمد سہیل[/size][/align]

    عبدالصبور عبدالنور ندوی (سعودی عرب)

    گزشتہ سات سال قبل جناردن پرساد ورما کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آئی اور وہ محمد سہیل بن گئے، 18 برسوں سے سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے محمد سہیل نے اپنی زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ، قبول اسلام کے بعد انہوں نے بڑے مشکل حالات کا سامنا کیا ، اسلام کا آفاقی پیغام غیر مسلم بھائیوں تک پہونچانے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر درجنوں افراد اسلام قبول کر کے سعادت بھری زندگی گزار رہے ہیں، ذیل میں ان سے کی گئی گفتگو کے اہم نکات پیش کئے جارہے ہیں۔

    سوال: مختصر تعارف اور فیملی بیک گراونڈ؟

    جواب: میرا نام جناردن پرساد ورما تھا، ہندو گھرانے میں جنم لیا، چار بھائی اور چار بہن ہیں، آٹھ برس کی عمر سے ہی ملازمت شروع کی، گھر کی خستہ حالت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ پڑھائی اور کام دونوں ساتھ کروں گا۔ اترپردیش کے خلیل آباد سے نکل کر ممبئی گیا اور پڑھائی کے ساتھ ملازمت جاری رکھا، کچھ دنوں بعد میں نرنکاری ہو گیا اور پورے گھر کو بھی نرنکاری بنا دیا۔

    سوال:نرنکاری بننے کا خیال کیسے آیا؟

    جواب: جن دنوں میں ممبئی میں تھا، ڈرائیونگ کے پیشہ سے منسلک تھا، ایک روز چیمبور کے علاقے سے گزر رہا تھا، دیکھا ایک وسیع پنڈال میں جلسہ ہورہا ہے، میں رکا اور لوگوں سے اس کی تفصیل پوچھی، تو لوگوں نے بتا یا کہ نرنکاریوں کا جلسہ ہے،یہ لوگ پیڑ پودوں یا پتھروں کی پوجا نہیں کرتے،انہیں بھگوان نہیں مانتے، ان کا عقیدہ ہے کہ ہر شخص کے اندر بھگوان سمایا ہو اہے، لیکن ہم اسے دیکھ نہیں سکتے،اور جسے دیکھ نہیں سکتے وہی بھگوان ہے۔اسی لیے یہاں ہر ایک شخص بغیر کسی امتیاز کے ایک دوسرے کے پاوں چھوتا ہے،والدین اپنے بچوں کے اور بچے اپنے والدین کے پاوں چھوتے ہیں، یہ عقیدہ مجھے اس وقت بہت بھایا، پھر میں نرنکاری ہوگیا ،گاوں لوٹ کے آیا تو سارے گھر والوں کو نرنکاری بنا دیا، میرے گھر والے ابھی بھی نرنکاری ہیں۔

    سوال:نرنکارسے اسلام کی طرف میلان کب بڑھا؟

    جواب: جب میں ممبئی میں تھا تو نرنکاری بننے کے بعد اسلامی جلسوں میں جانے کا اتفاق ہوا، ایک مرتبہ ایک جلسہ کے خطیب نے کہا: آسمانی دھرم کو ہی ماننا چاہئے، اس کتاب پر عقیدہ مضبوط ہونا چاہئے جو آسمان سے اللہ نے اتارا ہے۔ اور وہ قرآن ہے، میں چونک پڑا، پھر برابر مسلمانوں کے جلسوں میں جاتا رہا، میں نے کئی مسلمانوں سے وہ کتاب مانگی کہ میں اسے پڑھنا چاہتا ہوں، کتاب کی دکان پر بھی گیا، لیکن سب نے یہ کہا کہ تم ہندو ہو، اس لیے یہ مقدس کتاب تمہیں نہیں دے سکتے۔ اسی دوران میں سعودی عرب ڈرائیونگ پیشہ کے لیے پہونچا، یہاں چند ہی دن گزرے تھے کہ میرے ساتھ ایک حادثہ ہوا اور میری گاڑی سے ایک شخص کی موت ہوگئی، مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، ڈیڑھ سال کی قید ہوئی تھی، جیل میں ہی تھا کہ رمضان کا مہینہ آگیا، لوگوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر دل میں ہلچل مچی ، کہ مجھے بھی روزہ رکھنا چاہیے، پھر میں نے تجربہ کے طور پہ روزہ رکھنا شروع کیا، دلی سکون ملا، اس طرح میں نے 27 روزے رکھے، لوگوں نے مجھے ٹوکا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ، صرف روزہ کیوں رکھتے ہو؟ میں نے انہیں کسی طرح ٹال دیا، پھر جیل سے رہائی کے بعد اسلام کے بارے میں ریسرچ شروع کیا۔اور نرنکار سے نفرت کی ابتدا ءہوئی۔

    سوال:نرنکار سے نفرت کی وجہ؟

    جواب: اسلام کا مطالعہ جوں ہی شروع کیا ، نرنکار سے نفرت ہونے لگی کیونکہ دونوں نظریات کے ما بین بڑا فرق پایا، انسانوں (مرد و خواتین) کا جو احترام اور عزت اسلام میں نظر آیا ، ان کے یہاں بالکل نا پید ہے، ایک چیز سے مجھے سخت نفرت ہوئی کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے پاوں پکڑیں کیونکہ دونوں کے بدن میں بھگوان ہے، یہ فلسفہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا، مجھے لگا کہ یہ تو بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، اللہ معاف کرے میں نے دیکھا کہ کھلنڈرے نوجوان لڑکے، لڑکیوں کے پاوں پکڑنے کی حد پار کرجاتے ہیں، ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت کے طالب ہیں۔

    سوال:اسلام کے بارے میں ریسرچ کے دوران کن چیزوں کا سامنا کرنا پڑا؟

    جواب: سب سے پہلے میں نے قرآن مجید کا ہندی ترجمہ حاصل کیا، کچھ کیسٹیں خریدیں، پڑھنا اور سننا شروع کیا، عام مسلمانوں سے اسلام کے بارے میں جب کچھ پوچھتا تو وہ لوگ مجھے دھتکار دیتے ، کہتے تم ہندو ہو، خاموش رہو، میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ بڑا برا سلوک کیا، ہندو سمجھ کر بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں نے مجھے بہت دکھ دیے، میرے پینے کے برتن میں گندے پانی کی آمیزش کر دیتے، میرے بستر پر کوڑا ڈال دیتے، حقارت بھری نگاہوں سے مجھے گھورتے، میں نے صبر کا گھونٹ پی کر اسلام کی حقانیت کے بارے میں تحقیق جاری رکھی، اس دوران مجھے مدینہ منورہ کا ٹرپ ملنے لگا، مدینہ شہر کا نان مسلم روڈ(حدود حرم کے باہر ) میری گزرگاہ تھا۔ اسی روڈ سے متصل ایک اونچی پارکنگ تھی، اور وہاں سے مسجد نبوی کے منارے دکھائی دیتے تھے،وہیں اپنی گاڑی روکتا اور مناروں کو تکتے تکتے سوجاتا، پھر رات میں خواب نظر آتا کہ دو سفید پوش باریش بزرگ آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو میرے ساتھ چلو، اتنے میں میری نیند کھل جاتی ہے، یہ خواب اسی جگہ پر میں نے بارہ مرتبہ دیکھا۔

    سوال:: اس خواب کا آپ کے دل پر کیا اثر ہوا؟

    جواب: مدینہ منورہ سے محبت بڑھتی گئی، جب بھی میں مدینہ سے گزرتا تو ایک رات وہاں قیام ضرور کرتا، اسلام کی طرف میلان بڑھتا گیا، سیرت نبوی کا مطالعہ کیا، اس طرح تحقیق کے سات سال گزر چکے تھے، اسلام قبول کرنے کی ٹھانی، اور ریاض کے سُلَی اسلامک سینٹر میں پہنچ کر اپنے اسلام کا اعلان کیا۔

    سوال:: ماشاءاللہ ، اسلام کی کون سی خصوصیت نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟

    جواب: عقیدہ توحید نے سب سے زیادہ متاثر کیا، ہندو دھرم میں جب کسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لیے مخصوص بھگوان کو پکارا جاتا ہے، بارش کے لیے الگ خدا ہے تو دولت کے لیے الگ، من کی مراد پوری کرنے والا کوئی اور ہے، کچھ اسی طرح کے نظریات نرنکار میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن اسلام میں ہر چیز کے لیے صرف ایک ہی اللہ ہے، اسی سے سب کچھ مانگنا ہے، اسی سے لو لگاناہے، ہندووں میں کروڑوں دیوی دیوتاوں کی پوجانے مجھے ہندو مت سے بیزار کردیا تھا، ایک اللہ کی عبادت اور اسی پر ایمان ویقین کا مضبوط عقیدہ نے مجھے اسلام کا دیوانہ بنا دیا۔ دوسری چیز اسلام میں خواتین کاجو مقام و مرتبہ ہے، اتنا بلند ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس کی مثال نہیں ملے گی، خواتین کے پردے کی حکمت نے بھی مجھے بہت متاثر کیا۔

    سوال: قبول اسلام کے بعد خاندان کا کیا رد عمل رہا؟

    جواب:ابتداء میں تو والدین اور بھائیوں نے وعدہ کیا کہ آپ گھر آئیں ، جیسا کہیں گے، ویسا کرنے کو ہم سب تیار ہیں، گھر جانے کے بعد سب کو اسلام کی دعوت دی، مگر سب اپنے وعدے سے مکر گئے ، گھر والوں نے میرے گرد گھیرا تنگ کردیا، مجھے نماز سے روکنے کے لیے اڑچنیں ڈالتے، ایک ہفتہ مسلسل کھڑے ہوکر نماز پڑھی، گھر والے میرے چاروں طرف کھڑے رہتے اور ڈراتے دھمکاتے، نماز کے وقت ہینڈ پمپ کا ہتھا نکال دیتے تھے تا کہ میں وضو نہ کرسکوں، میری جائے نماز غائب کردیتے، میں نے کھیتوں میں نماز پڑھنا جاری رکھااور پورے خاندان کو سمجھاتا رہا، مگرو ہ ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے۔

    سوال: آپ کی بیوی اور بچوں کا رد عمل کیا رہا؟

    جواب: پہلے بیوی نے تو اسلام قبول کرنے کی حامی بھر لی، میں نے اسے اسلام کی ساری تعلیمات بتائیں،مگراچانک اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ آج کل کر کے ٹالتی گئی، اور خاندان کی دوسری خواتین اسے اکساتی رہیں اور وہ میرے خلاف بغاوت کرتی گئی، بچے بھی میرے مخالف ہوگئے، میرا بڑا لڑکا جس کا نام کنہیا لال ورما تھا،اب محمد ابراہیم ہے، میرے ساتھ آیا، اور وہ اس وقت میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، کچھ دنوں کے بعد جب خاندان والوں کو لگا کہ میں سب کو مسلمان بنا کے چھوڑونگا، تو میری بیوی اور والد صاحب نے کرایہ پر غنڈے لے کر مجھے جان سے مارنے کی سازش رچی، میں ساری زمین جائداد اور دولت چھوڑ کر خالی ہاتھ نکل پڑا، میرے بڑے بچے کے علاوہ کوئی اور ساتھ نہیں آیا۔

    سوال: گھر چھوڑنے کے بعد آپ نے کیا کیا؟

    جواب: چونکہ میں سعودی عرب میں برسر روزگار ہوں، وہاں سے سعودی عرب واپس آگیا۔ اور یہاں اپنے علاقے کے کچھ مخلص بھائیوں سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حوصلہ دیا، میری شادی کرادی، اور سدھارتھ نگر کے ایک قصبہ میں بسا دیا، وجزاہم اللہ خیرا۔

    سوال:اسلام نے اخوت اور بھائی چارے کا جو درس دیا ہے، اس سے کتنا متاثر ہوئے؟

    جواب: مجھے کسی بھی دھرم میں اخوت اور بھائی چارے کا وہ درس نہیں ملا ، جو اسلام میں ملا،مگر حیرت اس وقت ہوئی جب اسلام کے پیروکاروں میں اسلام کا یہ درس عظیم مفقود ملا، مجھے نہیں لگتا کہ عام مسلمانوں کو دیکھ کر کوئی اسلام قبول کرے گا، مسلمانوں کو اپنی حالت میں تبدیلی لانی ہوگی، اخلاقی طور پہ اپنا کردار بلند کرنا ہوگا، تبھی اسلام کی نشر و اشاعت کا دائرہ مزیدوسیع ہوگا، مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اسلام پوری رفتار کے ساتھ دنیا میں پھلتا پھو لتا رہے گا۔

  10. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: نو مسلموں سے انٹرویو ۔ وہ کیوں مسلمان ہوئے ؟؟

    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    [size=xx-large][align=center]مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی[/align][/size]
    یہودیت سے مسلمان ہونے تک ۔۔۔مارگريت ماركیوس سے مریم جمیلہ تک ۔۔

    مریم جمیلہ (پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس) معروف مصنفہ، صحافی، شاعرہ اور مضمون نگار ہیں جو 23 مئی 1934ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے شائع ہونے والے مسلم ڈائجسٹ کے لیے تحاریر لکھنے کے بعد انہوں نے 24 مئی 1961ء کو اسلام قبول کر لیا۔ جمیلہ اسلام کے حوالے سے دو درجن سے زائد کتب کی مصنفہ ہیں۔ وہ پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھیں۔ اس لیے اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان میں سکونت اختیار کی۔

    ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ مسلم ڈائجسٹ میں سید مودودی کا چھپنے والا مضمون حیات بعد الموت تھا جس کے بعد انہوں نے 5 دسمبر 1960ء کو سید ابو الاعلیٰ مودودی سے بذریعہ خط پہلا رابطہ کیا۔

    مودودی اور جمیلہ کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ 1962ء تک جاری رہا۔ ان خطوط کا موضوع اسلام اور مغرب ہوتا تھا۔ دونوں کے خطوط بعد ازاں مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت نامی ایک کتاب کے ذریعے شائع کیے گئے۔
    ان کا پہلا خط جو مولانا مودودی رحمة اللہ کو لکھا ،انگلش میں ہے یہاں پڑھیے
    http://www.islamunveiled.org/eng/ebo.../maryamj_1.htm
    باقی خطوط یہاں پر دستیاب ہیں ،
    http://www.islamunveiled.org/eng/ebo...mj/maryamj.htm
    1962ء میں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں ہی محمد یوسف خان نامی شخص سے شادی کی۔ اس زمانے کے کرشن نگر، لاہور (اب اسلام پورہ) کے جماعت اسلامی کے کونسلر یوسف خان کے ساتھ قرار پائی۔ اور یاد رکھیے مریم جمیلہ یوسف خان صاحب کی دوسری بیوی بنی ،

    وہ محمد پکتھال کے ترجمہ قرآن اور محمد اسد کی یہودیت چھوڑ کر اسلام کی کہانی سے بے حد متاثر تھیں۔

    وہ آج کل لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔

    مریم جمیلہ کی کہانی خود ان کی زبانی نیاز سواتی سرسید احمد خان اور ابوالکلام آزاد کے ماڈرن ازم سے تعلق کے بارے میں مریم جمیلہ کی کتاب ”اسلام اینڈ ماڈرن ازم“ کے دو مضامین کے تراجم جسارت میگزین میں شائع ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں تراجم ایک انکشاف کے طور پر لیے گئے اور قارئین جسارت نے اپنی ای میلز کے ذریعے مطالبہ کیا کہ مریم جمیلہ کی زندگی، ان کے کام اور ان کے قبولِ اسلام کے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ زیادہ بہتر سمجھا گیا کہ روایتی تعارف کے بجائے ان کے ایک ایسے دلچسپ اور ایمان افروز انٹرویو کا انتخاب کیا جائے جو تعارف کے ساتھ ان کی شخصیت کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہو۔ زیرنظر انٹرویو اسی خواہش کا مظہر ہے۔ ....

    ....٭٭٭........ سوال:۔ اسلام کے بارے میں آپ کو کیسے دلچسپی پیدا ہوئی؟

    مریم جمیلہ:۔ میرا سابقہ نام مارگریٹ مارکیوس ہے۔ مجھے بچپن ہی سے موسیقی سے گہرا شغف تھا، خاص طور پر کلاسیکل اوپیرا اور سم فونی ((Somphony بہت پسند تھے جو کہ مغرب میں اعلیٰ نفاست کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ اسکول میں موسیقی میرا پسندیدہ مضمون تھا اور میں نے ہمیشہ اس میں اچھے نمبر لیے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ایک مرتبہ میں نے ریڈیو پر عربی موسیقی سنی، یہ موسیقی مجھے بھاگئی۔ اس تجربے نے مجھے مزید عربی موسیقی سننے پر مجبور کردیا۔ میں نے اپنے والدین کو اُس وقت تک چین نہیں لینے دیا جب تک کہ میرے والد صاحب نے مجھے نیویارک سے عرب موسیقی کا ایک ذخیرہ نہ خرید کر دے دیا۔ میرے والدین، رشتے داروں اور پڑوسیوں کے لیے عربی اور عرب موسیقی اس قدر تکلیف دہ ثابت ہوئی کہ جب بھی میں عرب موسیقی سنتی تو یہ سب مطالبہ کرتے کہ میں اپنے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرلوں تاکہ وہ کم سے کم متاثر ہوں۔ 1961ءمیں اسلام قبول کرنے کے بعد نیویارک کی مسجد میںگھنٹوں بیٹھ کر مشہور مصری قاری عبدالباسط کی تلاوت کی ریکارڈنگ سنتی۔ ایک دن ہم مسجد میں مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو تھے۔ چھوٹے قد، دبلے جسم اور سادہ لباس میں ملبوس ایک سیاہ فام نوجوان نے اپنا تعارف زنجبار (افریقہ) کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کروایا اور سورة رحمن کی تلاوت کی۔ میں نے اس قدر خوش الحان تلاوت نہیں سنی تھی، حتیٰ کہ قاری عبدالباسط کی بھی نہیں۔ اس افریقی نوجوان کی تلاوت سن کر مجھے ایسا لگا کہ شاید حضرت بلال ؓ کی آواز بھی اسی طرح کی ہوگی۔ اسلام میں میری دلچسپی کا آغاز دس سال کی عمر سے ہوتا ہے جب میں یہودیوں کے سنڈے اسکول میں پڑھ رہی تھی۔ مجھے یہودیوں اور عربو ں کے مابین تاریخی روابط سے بے انتہا دلچسپی پیدا ہوگئی۔ مجھے اپنی نصابی کتب کے ذریعے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ عربوں اور یہودیوں کے جدِّامجد ہیں، میں نے یہ بھی پڑھا کہ کس طرح قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی زندگی عذاب بنادی گئی، جب کہ مسلم اسپین میں یہودیوں کو خوش آمدید کہا گیا۔ یہ اسلامی ثقافت کی برتر سخاوت تھی جس کی بدولت عبرانی زبان و ثقافت اپنے اعلیٰ ترین معیار تک جاپہنچی۔ صہیونیت کی اصل فطرت سے ناواقف ہونے کی بناءپر میرے ذہن میں یہ معصومانہ خیال آیا تھا کہ یہودی فلسطین واپس پلٹ کر اپنے سامی بھائیوں(عربوں) سے اپنے ان تعلقات کو مضبوط کریں گے جو حضرت ابراہیم ؑ کے توسط سے دونوں کے درمیان موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اس بات کا بھی یقین تھا کہ یہودی اور عرب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ثقافت کے ایک نئے عہد کا آغاز کریں گے۔ یہودیت کی تاریخ سے اپنی انتہائی دل چسپی کے باوجود میں سنڈے اسکول میں خوش نہ تھی۔ اس تاریخی مطالعہ کے دوران میری تمام تر ہمدردیاں یورپی یہودیوں کے ساتھ رہیں جنہیں نازی دور میں شدید مصائب سے گزرنا پڑا، مگر یہ دیکھ کر مجھے شدید ذہنی دھچکا لگا کہ میرے ناصرف ہم جماعت بلکہ ان کے والدین بھی اپنے مذہب کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔ یہودی عبادت گاہ میں بچے اپنی مذہبی کتابوں میں مزاحیہ کہانیاں رکھ کر پڑھتے رہتے اور اپنی مذہبی رسوم پر ہنستے رہتے۔ سنڈے اسکول میں تعلیم کے دوران بچے اس قدر شور مچاتے کہ اساتذہ کے لیے انہیں نظم وضبط میں لانا اور تدریس جاری رکھنا بے حد مشکل ثابت ہوتا۔ دینی تعلیمات پر عمل کے سلسلے میں ہمارے گھر کا ماحول بھی کوئی خوش گوار نہ تھا۔ میری بڑی بہن سنڈے اسکول سے شدید نفرت کرتی تھی، حتیٰ کہ اتوار کے دن میری والدہ کے سخت الفاظ اور آنسوﺅں کے بعد ہی اسے بستر سے نکال کر اسکول بھیجنا ممکن ہوپاتا تھا۔ بالآخر میرے والدین نے تھک ہار کر اسے سنڈے اسکول چھوڑنے کی اجازت دے دی۔ یہودیوں کے انتہائی مقدس دنوں میں معبد میں جاکر عبادت کرنے یا یوم کپور کا روزہ رکھنے کے بجائے میں اور میری بڑی بہن اپنے خاندان کے ساتھ تفریح اور بہترین ہوٹلوں میں تقریبات سے لطف اندوز ہوتے۔ جب ہم دونوں نے والدین کو قائل کرلیا کہ سنڈے اسکول کی تعلیمی حالت ناگفتہ بہ ہے تو انہوں نے ہم دونوں کو ایک الحادی اور انسان پرست تنظیم کے تعلیمی ادارے میں داخل کرادیا جو ”ایتھیکل کلچر موومنٹ“ کہلاتی تھی۔ یہ تنظیم انیسویں صدی میں فیلکس ایلڈر نے قائم کی۔ یہودیت کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ فیلکس اس بات کے قائل ہوتے گئے کہ اخلاقی تعلیمات اضافی اور انسان کی تخلیق کردہ ہیں۔ اس سلسلے میں روحانیت کے مکتبہ فکر اور مذاہب غیر ضروری ہیں۔ ان نتائج پر پہنچنے کے بعد فیلکس نے ایک ایسا مذہب تشکیل دیا جو جدید دنیا سے زبردست مطابقت رکھتا تھا۔ اس تحریک کے سنڈے اسکول میں، میں نے گیارہ سال کی عمر سے پندرہ سال کی عمر تک پڑھا۔ اس اسکول کے زیر سایہ میرے خیالات بھی اس نہج پر ڈھلتے چلے گئے اور میں تمام روایات اور مذاہب کو فضول سمجھنے لگی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں، میں نے صہیونی نوجوانوں کی مقامی تنظیم ”میزراکی ہزائر“ میں شمولیت اختیار کرلی، مگر جب مجھے احساس ہوا کہ صہیونیت کی فطرت ہی وہ چیز ہے جس نے یہودیوں اور عربوں کے درمیان حائل خلیج کو ناقابل عبور بنادیا ہے تو یہ تنظیم میں نے ازخود بے اطمینانی کے ساتھ چھوڑ دی۔ بیس سال کی عمر میں، میں نے نیویارک یونیورسٹی میں دورانِ تعلیم ”اسلام میں یہودیت“ کو اختیاری مضمون کے طور پر لیا۔ میرے استاد پروفیسر ربی ابراہام کاش تھے جو شعبہ عبرانیات کے سربراہ بھی تھے۔ پروفیسر صاحب اپنے تمام یہودی طلبہ کو یہ بات ذہن نشین کروانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے تھے کہ اسلام یہودیت سے اخذ شدہ ہے۔ ہماری درسی کتاب جو مذکورہ پروفیسر صاحب کی تصنیف تھی، اس میں یکے بعد دیگرے قرآنی آیات کو انتہائی جاں فشانی سے یہودی کتب سے اخذ کردہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اس طرح پروفیسر صاحب کا حقیقی مقصد اسلام پر یہودیت کی برتری ثابت کرنا ہوتا تھا۔ مگر ہوا یوں کہ ان کی اس کوشش کے نتیجے میں، میں قرآن کی حقانیت کی قائل ہوتی چلی گئی۔ جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ صہیونیت، یہودیت کا ایک نسلی اور قبائلی پہلو ہے۔ جدید سیکولر قوم پرستانہ صہیونیت میری نگاہوں میں اس وقت گر گئی جب مجھے علم ہوا کہ صہیونی قائدین میں شاید ہی کوئی ایک یہودیت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو، اور راسخ العقیدہ یہودی تو ان میں کوئی بھی نہیں۔ اس طرح روایتی یہودیت کو اسرائیل میں بھی شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب میں نے دیکھا کہ امریکہ کے تمام اہم یہودی رہنما صہیونیت کے نہ صرف حمایتی ہیں بلکہ وہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں پر ہونے والی زیادتیوں پر ذرا سا دکھ بھی محسوس نہیں کرتے تو میں نے قلبی طور پر اپنے آپ کو یہودی سمجھنا چھوڑ دیا۔ نومبر 1954ءکی ایک صبح پروفیسر کاش نے اپنے خطاب میں منطقی دلائل سے پُر نظریہ پیش کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کردہ توحید اور ان پر نازل شدہ خدائی قوانین ہی اعلیٰ اخلاقی اقدار کی بنیاد ہیں۔ اگر اخلاقیات کو انسانی ساختہ مانا جائے جیسا کہ اس تحریک اور دیگر اس طرح کے ملحدانہ فلسفوں کا ماننا ہے تو اخلاقیات کو محض ارادہ ¿ انسانی، فوری ضرورت، سہولت اور حالات کے مطابق تبدیل ہوجانا چاہیے۔ مگر اس سب کا نتیجہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں ابتری اور تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ عقیدہ آخرت پر یقین (جیسا کہ ربی تلمود پڑھاتے ہوئے بتاتے ہیں) کے بارے میں پروفیسر کاش نے کہا کہ یہ محض خوش کن خیال نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص روزِ آخرت جواب دہی کا حقیقی احساس رکھتا ہی، دراصل وہ اپنی تمام زندگی، اس کی عارضی خوشیوں کی قربانی کے لیے تیار رہتا ہے۔ ایسا شخص مشکلات کو آسانی سے برداشت کرتا ہے اور ابدی جنت کے حصول کے لیے قربانیاں دیتا ہے۔ یہ پروفیسر کاش کی جماعت تھی جہاں میں ایک انتہائی غیر معمولی اور حد درجہ شوق رکھنے والی لڑکی زینیٹا سے ملی۔ پہلی مرتبہ جب میں پروفیسر کاش کے کمرہ جماعت میں داخل ہوئی تو میں نے دو عدد خالی کرسیاں پائیں، ان میں سے ایک کرسی پر یوسف علی کے ترجمہ و تفسیر کی تین عدد خوب صورت جلدیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں بھی وہیں بیٹھ گئی۔ میرے دل میں اس تفسیر کے مالک کے بارے میں تجسس کا شعلہ بھڑک اٹھا۔ پروفیسر کاش کی آمد سے تھوڑی دیر قبل طویل قد، سفید رنگت اور سرخی مائل بھورے بالوں والی ایک لڑکی میرے برابر والی نشست پر بیٹھ گئی۔ میں نے سوچا یہ ترکی، شام وغیرہ سے آنے والی کوئی غیر ملکی لڑکی ہوگی۔ زیادہ تر طلبہ جو راسخ العقیدہ یہودی سیاہ ٹوپی پہنے ایسے لڑکے تھے جو یہودی ربی بننا چاہتے تھے۔کمرہ جماعت میں صرف ہم دو لڑکیاں تھیں۔ ایک دن جب ہم کافی دیر کے بعد دارالمطالعہ سے باہر نکل رہے تھے تو اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا تعلق ایک راسخ العقیدہ یہودی خاندان سے ہے۔ اس کے والدین 1917ءکے اشتراکی انقلاب سے چند سال قبل روس سے فرار ہوکر امریکہ پہنچے۔ میں نے محسوس کیا کہ میری نئی دوست غیر ملکیوں کی طرح انتہائی نپے تلے انداز میں انگریزی بولتی ہی، میرے اندازوں کی تصدیق اس نے یہ بتاکر کی کہ اس کے خاندان کے افراد اور دوست احباب آپس میں صرف ییڈش (جرمن یہودیوں کی زبان) میں گفتگو کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اسکول جاکر ہی انگریزی سے واقف ہوئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کا نام زینیٹا لیبرمین تھا مگر حال ہی میں، زیادہ سے زیادہ امریکی بننے کے لیی، اس کے والدین نے اپنے خاندانی نام کو مختصر کرکے لیبرمین کے بجائے لین کردیا ہے۔ اس کے باوجود کہ اس کے والد نے ہمیشہ اسے عبرانی کی تعلیم دی، زینیٹا نے اپنا زیادہ تر وقت عربی پڑھنے میں لگادیا۔ بہرحال، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے زینیٹا نے کلاس چھوڑ دی اور نصاب کے اختتام تک کبھی پلٹ کر واپس نہ آئی۔ کئی مہینے گزر گئے اور میں اسے بھول چکی تھی کہ اچانک مجھے اس کا پیغام ملا جس میں اس نے مجھ سے میٹرو پولیٹن میوزیم میں ملنے اور عربی خطاطی اور قرآن کے قدیم قلمی نسخوں کی نمائش میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ اس نمائش کو دیکھتے ہوئے زینیٹا نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے دو فلسطینی دوستوں کے سامنے اسلام قبول کرچکی ہے۔ میں نے پوچھا ”تم نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیسے کرلیا؟“ اس نے بتایا کہ گردے میں انفیکشن کی وجہ سے اس نے پروفیسر کاش کی کلاس ترک کردی تھی۔ زینیٹا کی حالت اس قدر دگرگوں تھی کہ اس کے والدین اس کی زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ”ایک دن جب میں بخار سے جل رہی تھی کہ مجھے اپنے برابر والے بستر کے سرہانے قرآن مجید ملا، میں نے اسے پڑھنا شروع کردیا۔ قرآنی آیات نے میرے دل کو اتنا متاثر کیا کہ میں رونے لگی۔ اسی لمحے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید میں ٹھیک ہوجاﺅں گی۔ اس وقت میرے اندر اتنی ہمت پیدا ہوگئی کہ میں نے بستر سے اتر کر اپنے دو مسلم دوستوں کو بلایا اور کلمہٴ شہادت پڑھ لیا۔“ زینیٹا اور میں شامی ریستورانوں میں کھانا کھانے لگے۔ جب بھی ہمارے پاس رقم ہوتی ہم اس ریستوران میں آ کر بھنے ہوئے دنبے کے گوشت اور چاول یا دیگر عرب کھانوں سے لطف اندوز ہوتے۔ جب پروفیسر کاش ہمیں پڑھا رہے ہوتی، تو میں اپنے ذہن میں ”عہدنامہ قدیم“ اور ”تلمود“ کا قرآنی آیات اور احادیث سے تقابل کرتی تو یہودیت کو مسخ شدہ پاتی، نتیجتاً میں نے اسلام قبول کرلیا۔ سوال:۔ آپ کو کبھی یہ خدشہ محسوس ہوا کہ مسلمانوں میں آپ کو قبول نہیں کیا جائے گا؟ مریم جمیلہ:۔ اسلام اور اسلامی نظریات کے لیے میری بڑھتی ہوئی ہمدردی نے میرے اردگرد موجود یہودیوں کو مشتعل کردیا۔ ان کا خیال تھا کہ میں انہیں گمراہ کررہی ہوں۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ تمہاری یہ شہرت تمہارے آباو اجداد کے لیے شرم کا باعث اور تمہارے خاندان کے لیے نفرت کا سبب بنے گی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم نے اسلام قبول کرنے کی کوشش کی تو تمہیں مسلمانوں کے ہاں کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ خدشات میرے قبولِ اسلام کے بعد یکسر بے بنیاد ثابت ہوئے کیونکہ کسی مسلمان کی طرف سے مجھے میری یہودی وراثت سے کبھی وابستہ نہیں کیا گیا۔ قبولیت ِاسلام کے فوراً بعد مجھے اسلامی برادری نے انتہائی جوش و خروش سے خوش آمدید کہا۔ سوال:۔ آپ کے خاندان نے اسلام کے مطالعے پر اعتراض نہیں کیا؟ مریم جمیلہ:۔ میں 1954ءہی سے اسلام قبول کرنا چاہتی تھی مگر میرے خاندان نے مجھے اس سے باز رکھا۔ مجھے تنبیہ کی گئی کہ اسلام میری زندگی کو الجھاکر رکھ دے گا۔ کیوں کہ اسلام عیسائیت اور یہودیت کی طرح امریکی منظرنامے کا حصہ نہیں، مزید یہ کہ اسلام مجھے اپنے خاندان اور برادری سے الگ تھلگ کردے گا۔ اُس وقت میرا عقیدہ اس قدر پختہ نہ تھا کہ میں یہ دباﺅ برداشت کرسکتی۔ بہرحال کچھ دیگر وجوہات اور کچھ اندرونی کش مکش کے نتیجے میں، میں اس قدر بیمار ہوگئی کہ مجھے کالج کو خیرباد کہنا پڑا۔ اگلے دو سال تک میں اپنے گھر میں زیر علاج رہی اور میری حالت خراب ہوتی چلی گئی۔ 1957ءسے 1959ءتک، انتہائی مایوسی کے عالم میں میرے والدین مختلف نجی اور حکومتی ہسپتالوں میں میرا علاج کرواتے رہی، جہاں میں نے یہ تہیہ کرلیا کہ اگر صحت یاب ہوگئی تو اسلام قبول کرلوں گی۔ جیسے ہی میں صحت یاب ہوکر گھر پہنچی، میں نے نیویارک کے مسلمانوں سے ملنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ خوش قسمتی سے میری ملاقات چند بہترین مسلم خواتین و حضرات سے ہوئی اور میں نے مسلم جریدوں میں مضامین و مقالات تحریر کرنا شروع کردیے۔ سوال:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کے والدین اور دوستوں کا کیا رویہ رہا؟ مریم جمیلہ:۔ میں نے اسلام قبول کیا تو میرے والدین، رشتے داروں اور دوستوں نے اسے جنون سمجھا، کیوں کہ میں اسلام کے علاوہ کسی موضوع پر بات کرنے اور سوچنے کو تیار نہ تھی۔ لیکن تبدیلیٴ مذہب ان کے خیال میں خالصتاً ذاتی معاملہ تھا۔ اسے وہ ایک ایسا معاملہ سمجھتے تھے جسے مشغلے کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے میں نے قرآن کا مطالعہ کیا یہ بات عیاں ہوتی گئی کہ اسلام کوئی مشغلہ نہیں بلکہ خود ایک زندگی ہے۔ سوال:۔ قرآن آپ کی زندگی پر کس طرح اثرانداز ہوا؟ مریم جمیلہ:۔ ایک شام میں جب عجیب سی اکتاہٹ اور بے خوابی محسوس کررہی تھی تو میری والدہ نے میرے کمرے میں داخل ہوکر پوچھا کہ وہ لائبریری جارہی ہیں اگر مجھے کوئی کتاب منگوانی ہو تو بتادوں۔ میں نے کہا کہ قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ تلاش کریں، اگر مل جائے تو لے آئیں۔ ذرا سوچیں! مجھے کئی سال سے عربوں کے بارے میں جاننے کا جنون کی حد تک شوق تھا اور میں نے کتب خانے میں موجود عربوں سے متعلق ہر کتاب پڑھ ڈالی تھی، مگر یہ سوچا تک نہ تھا کہ قرآن مجید میں کیا لکھا ہے۔ بہرحال میری والدہ میرے لیے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ لے آئیں۔ قرآن کے لیے میں اس قدر بے چین تھی کہ میں نے یہ نسخہ ان کے ہاتھ سے تقریباً جھپٹ لیا اور اسے ایک رات میں ختم کرلیا۔ قرآن میں مجھے وہ قصص بھی ملے جو میں بچپن سے بائبل میں پڑھ چکی تھی۔ اپنی آٹھ سالہ ابتدائی مدرسے اور چار سالہ ثانوی مدرسے کی تعلیم اور ایک سالہ کالج کے زمانہ طالب علمی کے دوران میں نے انگریزی قواعد و انشائ، فرانسیسی، ہسپانوی، لاطینی، یونانی، حساب، جیومیٹری، الجبرا، یورپی و امریکی تاریخ، ابتدائی سائنس، حیاتیات، موسیقی اور فنون لطیفہ غرض کیا کیا نہیں پڑھا.... مگر نہیں پڑھا تو خدا کے متعلق کچھ نہ پڑھا۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ میں اس معاملے میں کس قدر لاعلم تھی کہ میں نے پاکستان میں اپنی ایک قلمی دوست کو لکھا کہ میں اس لیے ملحدانہ خیالات رکھتی ہوں کہ میں اس بات پر یقین نہیں لاسکتی کہ خدا ایک باریش اور بزرگ آدمی ہے جو جنت میں اپنے تخت پر بیٹھا ہے۔ جب دوست نے پوچھا کہ یہ فضول معلومات تمہیں کہاں سے حاصل ہوئیں؟ تو میں نے سسٹین چیپل اول کا حوالہ دیا جو میں نے مائیکل اینجلو کے رسالی”لائف“ میں ”تخلیق“ اور ”حقیقی گناہ“ کے ضمن میں پڑھا تھا، لیکن جب میں نے قرآن پڑھا تو معلوم ہوا (یہاں دونوں حوالوں کا اردو ترجمہ لگائیں)۔ قرآن کا مطالعہ کرنے کے بعد جو سب سے پہلا خیال میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ یہ سچا دین ہی.... مکمل طور پر خالص.... جو گھٹیا مصلحتوں اور منافقت سے بالاتر ہے۔ 1959ءکا سال میں نے اپنا بیشتر فارغ وقت نیویارک پبلک لائبریری میں اسلام کے بارے میں پڑھتے ہوئے گزارا۔ وہیں میں نے مشکوٰة المصابیح کی چار بھاری جلدوں کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے نتیجے میں، میں نے جانا کہ قرآن کا حقیقی و تفصیلی مطالعہ متعلقہ حدیث کے جانے بغیر ناممکن ہے۔ قرآنِ مقدس کی تشریح آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کیسے کی جاسکتی ہے جب کہ قرآن نازل ہی آپ پر ہوا۔ جب مشکوٰة کا مطالعہ کیا تو میں نے مانا کہ قرآن ایک الہامی کلام ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ مجھے یہ یقین کیسے ہوا کہ قرآن اللہ کا نازل کردہ ہے نہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تحریر کردہ (نعوذباللہ) تو میں کہوں گی کہ کائنات کے بنیادی سوالات کے بارے میں اس کے اطمینان بخش جوابات سے۔ یہ جوابات مجھے کہیں اور سے کبھی نہ مل سکے۔ بچپن میں، میں ہمیشہ موت سے خوف زدہ رہتی تھی، خاص طور پر اپنی موت کے بارے میں۔ موت سے متعلق ڈراﺅنے خواب دیکھنے کے بعد کبھی کبھی میں اپنے والدین کو چیختے ہوئے جگا دیتی اور ان سے پوچھتی کہ میں کیوں مروں گی اور مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ وہ محض یہی بتاتے کہ موت ناگزیر ہے اور تمہیں اس کو قبول کرنا ہوا۔ مگر یہ صبر آزما سوال ہے۔ طبی علوم اس قدر حیرت انگیز طور پر ترقی یافتہ ہوچکے ہیں کہ ہوسکتا ہے میں سو سال کی عمر تک زندہ رہوں! میرے والدین، خاندان، ہمارے تمام دوست احباب موت کے بعد زندگی کو محض وہم سمجھ کر ٹھکرا چکے ہیں۔ ان کے خیال میں روزِ قیامت اور جنت و دوزخ کی جزا و سزا دور گزشتہ کے تصورات ہیں۔ اپنی لاحاصل کوشش کے دوران میں نے ”عہدنامہ قدیم“ کے تمام اسباق کا مطالعہ کیا تاکہ حیات بعدالممات کا کوئی واضح جواب پاسکوں، مگر ندارد۔ بائبل میں مذکورہ تمام انبیاءعلیہم السلام کو جزا وسزا اسی دنیا میں ملی۔ خاص طور پر حضرت ایوب علیہ السلام کے قصے میں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جائداد اور پیارے سب مشیت ِالٰہی سے تباہ ہوگئے اور خود انہیں اذیت ناک بیماری لاحق ہوئی تاکہ ان کے ایمان کی آزمائش کی جائے۔ حضرت ایوب ؑ (بائبل کے مطابق) سخت تکلیف میں خدا سے سوال کرتے ہیں کہ آخر ایک صالح شخص کو اتنی تکلیف اور صعوبت سے کیوں گزارا گیا؟ بالآخر خدا، ایوب ؑ کے تمام نقصانات کا ازالہ کردیتا ہی، مگر پورے قصے میں آخرت میں جزا کا خانہ مکمل طور پر غائب ہے۔ بہرحال حیات بعدالممات کے متعلق میں جو کچھ بائبل کی”عہد نامہ جدید“ میں پاسکی وہ قرآن میں اس موضوع پر موجود آیات کے مقابلے میں ایک مبہم اور الجھا دینے والا مواد تھا۔ مجھے یہودیت کی روایتی اور راسخ العقیدہ تعلیمات میں بھی حیات بعد الممات کے متعلق کوئی مواد نہ مل سکا بلکہ اس کے برعکس تلمود کی تعلیمات کے مطابق بدترین زندگی کو بھی موت کے مقابلے میں بہتر کہا گیا۔ میرے والدین کے فلسفے کے مطابق ہر شخص کو موت کے سوال سے بچتے ہوئے زندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونا چاہیے کیونکہ زندگی کا دورانیہ مختصر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زندگی کا مقصد خوشیوں کا زیادہ سے زیادہ حصول ہی، اور یہ مقصد اپنی صلاحیت کے زیادہ سے زیادہ اظہار، اپنے خاندان سے محبت، بہترین دوستوں کے ساتھ، بہترین معیار زندگی اور مختلف قسم کی تفریحات سے حاصل ہوتا ہے جن سے امریکہ بھرا پڑا ہے۔ میرے والدین زندگی کے بارے میں اپنی اس سطحی سوچ کا مسلسل اور دانستہ اظہار کرتے رہتے تھی، گویا یہ نظریہ اُن کے نزدیک ان کے بہترین مستقبل اور ابدی خوشیوں کی ضمانت تھا۔ زندگی کے تلخ تجربے کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ عیش و عشرت کا طرزعمل درماندگی اور خستہ حالی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بجائے تکمیل ذات کا مقصد بغیر جدوجہد اور قربانی کے ناقابلِ حصول ہے۔ بچپن ہی سے میں اہم اور نمایاں ترین اہداف کو سامنے رکھتی تھی اور اپنی موت سے قبل بھی میں صرف یہ اطمینان اور ضمانت چاہوں گی کہ میں نے اپنی زندگی گناہوں اور فضول مقاصد کے حصول میں ضائع نہیں کی۔ میں نے اپنی پوری زندگی انتہائی سنجیدگی سے بسر کی ہے۔ غیرسنجیدگی اور سطحیت جو جدید دور کی ثقافت کا خاصہ ہی، میرے لیے ہمیشہ ناپسندیدہ اور قابلِ نفرت رہی ہے۔ ایک مرتبہ میرے والد نے اپنے غیر تسلی بخش دلائل کے ذریعے مجھے اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ دنیا میں دیرپا اور دائمی اقدار نام کی کوئی چیز نہیں، اور جدید دور کے تمام لوگ نئے رجحانات کو لازمی سمجھ کر قبول کرچکے ہیں، لہٰذا ہمیں بھی انہی کے مطابق ڈھل جانا چاہیے۔ میں تو بہرحال دائمی اور ابدی اہمیت کے حامل مقاصد اور خوشیوں کی پیاسی رہی ہوں۔ یہ صرف قرآن ہے جہاں سے مجھے اس مقصد کا حصول ممکن نظر آیا۔ ہر وہ صالح عمل جو رب کی خوشنودی کے لیے کیا جائے کبھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ ایسا شخص جو دکھاوے کا طلب گار نہ ہو، اس کا صلہ آخرت میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ اس کے برعکس قرآن بتاتا ہے کہ جو لوگ محض دنیاوی فائدے کے حصول، نمود و نمائش اور آزادی کی خواہش سے ہٹ کر کوئی اخلاقی مقصد سامنے نہیں رکھتے وہ روزِ جزا خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے خواہ انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں کتنی ہی کامیابیاں کیوں نہ حاصل کرلی ہوں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف اپنی توجہ مبذول کرلینی چاہیے اور ایسی تمام بے مقصد سرگرمیوں کو ترک کردینا چاہیے جو اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں۔ قرآن مجید کی یہ تعلیمات جن کی موثر وضاحت احادیث مبارکہ کے ذریعے ہوتی ہی، میرے مزاج سے مماثلت رکھتی ہیں۔ سوال:۔ اسلام قبول کرنے کے بعد عربوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہی؟ مریم جمیلہ:۔ ماہ وسال گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت درجہ بدرجہ مجھ پر منکشف ہوتی گئی کہ یہ عرب نہ تھے جنہوں نے اسلام کو عظمت بخشی بلکہ یہ اسلام ہی تھا جس نے عربوں کو عظمت اور وقار عطا کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بارے مریم جمیلہ کہ مکمل کہانی روزنامہ امت سے نقل کی جائے گی ،انشاءاللہ




صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 196
    آخری پيغام: 07-12-2013, 12:45 AM
  2. نفاذِ شریعت ؟؟
    By ابوسفیان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 02-24-2013, 02:28 AM
  3. جوابات: 3
    آخری پيغام: 10-16-2012, 12:42 AM
  4. آج کی خاص معلومات ۔۔۔؟؟
    By اذان in forum سیاسیات
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 08-07-2012, 01:33 AM
  5. آج کا سوال؟؟
    By اذان in forum طنز و مزاح
    جوابات: 10
    آخری پيغام: 05-29-2012, 11:14 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University