[align=center]مجھےجستجوترےعشق کی، تری قربتوں کاسوال ہے
نہیں عشق سے ابھی آشنا، مرے دوستوں کا خیال ہے

مرا خامہ اس کا گواہ ہے ، مری شاعری بھی دلیل ہے
مری سانس ہے جو رواں دواں، تری چاہتوں کا کمال ہے

تو نگاہ سے مری دور ہے ، دل وجاں سے پھر بھی قریب ہے
یہ فراق ہے نہ وصال ہے ، تری شفقتوں کا یہ حال ہے

تجھے زندگی میں ہے کیا ملا، یہی عشق تو نہیں زندگی
تو نہ ان کی بات کا خوف کر، ترے دشمنوں کی یہ چال ہے

جونہ مل سکاوہ تو کیا ہوا، کسی اور کا وہ نصیب تھا
نہیں ہار یہ ترے عشق کی ، تری الفتوں کا زوال ہے

مری منزلیں تو ہیں دور پر، مری جستجو کو دوام ہے
مری عاشقی ہے جدا نصر، کوئی مثل ہے نہ مثال ہے

محمد ذیشان نصر[/align]