نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

  1. #1
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

    [align=center][size=xx-large]حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان[/size][/align]
    [align=center][size=x-large]دفاع پاکستان کونسل نے امریکہ کی طرف سے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری یا گرفتاری میں مدد کےلیے رکھے گئے انعام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس موضوع پر بحث کی بجائے عدالتی کارروائی کے لیے حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت چاہتا ہے۔
    [/size]
    [/align]

  2. #2
    معاون
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    پيغامات
    73
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    RE: حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

    حافظ سعید پر انعام کا اعلان
    انتہائی کمینگی کا مظاہرہ ہے

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

    [align=center]http://www.youtube.com/watch?v=TwXvq...feature=relmfu[/align]
    اسے بھی دیکھیں۔

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

    [align=center]حافظ سعید کی بے خوف اخباری کانفرنس[/align]
    وہاں کوئی بھی ڈالروں کی لالچ میں نہیں آیا تھا اگرچہ ایک کروڑ ڈالر ان کے سامنے گھوم رہے تھے۔

    وہ سب صحافی تھے لہٰذا خبر ہی ان کا مقصد تھا لیکن ایک صحافی کا جملہ اس بابت ساری گفتگو پر بھاری رہا کہ ’ہُو وانٹس ٹو بی اے ملینیئر؟‘ ایک کروڑ ڈالر کی قیمت ایک روپے کے برابر بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
    ہ صورتحال تھی گزشتہ روز جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی راولپنڈی میں اخباری کانفرنس کے دوران۔

    ایک دن قبل ہی امریکیوں نے اچانک حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد دینے کے بدلے ایک کروڑ ڈالر انعامی رقم کا اعلان تھا اور یہاں دو درجن کیمروں کے سامنے تمام جلوے کے ساتھ وہ موجود تھے۔ نہ کوئی گھبراہٹ نہ کوئی خوف۔

    تمام شو بظاہر بڑی احتیاط سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے ہر پہلو سے دنیا کو ایک بھرپور پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اکثر جہادی رہنماؤں کے اردگرد آپ کم از کم دو تین مسلح محافظ ضرور دکھاتے ہیں۔ انہیں اس طرح دیکھنے کی عادت سے ہوگئی تھی معلوم نہیں یہ روایت کب ختم ہوئی۔ حافظ محمد سعید کے محافظ ہمراہ ضرور تھے لیکن اسلحہ نہیں تھا۔ احتیاط کے طور پر ایک عدد کلاشنکوف بھی نہیں دکھائی دی۔
    یکن جو پیغام راولپنڈی کے اس ہوٹل کے انتخاب سے کافی کھل کر سامنے آیا وہ اس مقام کی پاکستانی فوج کے ہیڈکواٹرز یعنی جی ایچ کیو سے قربت تھی۔

    جی ایچ کیو کے بالکل سامنے اس سرکاری ہوٹل کے انتخاب کا یقیناً ایک مقصد تھا، شاید امریکہ کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان کی طاقتور فوج ان کے خلاف کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ اس کا اظہار کافی تاخیر سے چند گھنٹوں بعد وزارت خارجہ نے بھی چار سطور کا ایک بیان داغ کر دیا کہ ’ٹھوس ثبوت‘ کی فراہمی تک ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں۔

    حافظ محمد سعید کو بھی اس ہوٹل آنے یا جانے کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ ایسا احساس ہوا جسے انہیں نا اپنے بارے میں اور نا اپنے مہمانوں کے بارے میں کوئی تشویش تھی۔

    یہ اخباری کانفرنس بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر بیت اللہ محسود کی موت سے قبل جنوبی وزیرستان میں پریس کانفرنس جیسی محسوس ہوئی جس میں میزبان تو پرسکون دکھائی دیے لیکن مہمان پریشان کہ ’یہ کیا ماجرہ ہے۔ سر پر ڈرون گشت کر رہے ہیں اور طالبان کو کوئی ٹینشن نہیں۔‘ یہاں بھی دنیا کی واحد عالمی طاقت نے اتنی بڑی رقم لگا دی اور یہاں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
    طالبان کے ساتھ ایک دوسری مماثلت بھی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ یہ بات ہے انیس سو اٹھانوے ننانوے کی جب امریکہ طالبان کی حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا راگ الاپ رہا تھا۔ جواب میں طالبان امریکہ سے شواہد کا تقاضا کرتے تھے اور بات آگے نہیں بڑھتی تھی۔ بلآخر نہ ثبوت آئے اور نہ طالبان کی تسلی ہوئی لیکن بی باون ضرور آ دھمکے۔

    ابھی ایسی کسی امریکی کارروائی کے اشارے تو نہیں لیکن تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر امریکہ نے انعام رکھ کر آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے تو پاکستان نے بھی لفٹ نہ کروا کر اُلٹی چپیڑ لگا دی ہے۔

    امریکہ نے اپنے وضاحتی بیان میں اب کہا ہے کہ یہ انعامی رقم حافظ سعید کی موجودگی کے بارے میں اطلاع کے لیے نہیں بلکہ ان کے ممبئی حملوں سمیت دیگر حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں ایسے شواہد فراہم کرنے والے کو دئیے جائیں گے جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار کر کے سزا دلوائی جاسکے۔ یعنی ایک طرح سے امریکہ نے شواہد کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے ’شرلاک ہومز‘ بننے کی ذمہ داری پاکستان میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ عوام پر ڈال دی ہے۔

    اخباری کانفرنس میں حافظ سعید نے اپنے آپ کو پر امن فلاحی کارکن کی حیثیت سے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سے اب بھی بڑی تعداد میں لوگ متفق نہیں۔ ان کا اصرار رہا کہ ’ہم بےگناہ عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہیں۔ ہم دیگر ممالک میں بھی امن کے خواہاں ہیں۔‘

    یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن حافظ سعید نے ان دو جملوں کے آگے لیکن اگر مسلمانوں پر مظالم ہوتے ہیں ان کے حقوق چھینے جاتے ہیں تو پھر ان کا موقف کیا ہوگا اس بارے میں انہوں نے بات کرنے سے جان بوجھ کر مکمل اجتناب کیا۔ یہ موقع ایسی متنازعہ موضوع چھیڑنے کا نہیں تھا۔

    لمبی سیاہ داڑھیوں اور اونچی شلواروں والے کارکنوں پر مشتمل جماعت الدعوۃ اپنے آپ کو ایک پرامن فلاحی تنظیم کے طور پر پیش کر رہی تھی لیکن خدشہ یہی ہے کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہوتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔ اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی امریکی اور بھارتی مداخلت پر پریشان ہے ایسے میں دفاع پاکستان کونسل اہم کردار ادا کرنے نکل پڑی ہے۔

    بی بی سی اردو سروس

  5. #5
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان

    [size=x-large]امریکاکے ایک اعلان سے جماعتہ الدعوۃ کے امیرحافظ محمدسعید اچانک خبروں‘ کالموں اور تجزیہ کا موضوع بن گئے ہیں ان پرٹاک شوزہورہے ہیں اور یہ سوال اٹھایاجارہاہے کہ آخرامریکا نے حافظ سعید کے سرکی قیمت کیوں لگائی ہے۔ سرکی قیمت تو اشتہاری مجرموں اورلاپتامفروروں کی لگائی جاتی ہے اور انہیں زندہ یا مردہ پکڑوانے والوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ حافظ سعید صاحب تو پاکستان کے ایک معزز شہری ہیں۔ امریکا اوربھارت کی شہہ پرجنرل پرویز مشرف کی حکومت نے انہیں پابندسلاسل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان پر دہشت گردی کا لیبل بھی چسپاں کیاگیاتھا لیکن حافظ صاحب نے اپنی نظربندی کو عدالت میں چیلنج کردیا اورپابندی لگانے والوں سے کہاکہ اگران کے خلاف کوئی ثبوت ہوتو عدالت میں پیش کریں۔ ظاہرہے کہ مشرف حکومت تو امریکا اوربھارت کی فرمائش پر عمل کررہی تھی اس کے پاس ثبوت کہاں تھا چنانچہ حکومت کو عدالت کے آگے سرنڈرکرنا پڑا اور حافظ صاحب باعزت بری ہوگے وہ ایک دینی وفلاحی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ ہیں جس کا نیٹ ورک پورے ملک میںپھیلاہواہے اس تنظیم کے زیراہتمام فلاح انسانیت فائونڈیشن کے نام سے خدمت خلق کا ایک وسیع شعبہ قائم ہے۔ زلزلہ ہو‘ سیلاب ہو یا کوئی اورقدرتی آفت‘ اس کے رضاکارہمہ وقت دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے تیاررہتے ہیں۔ جب سے دفاع پاکستان کونسل قائم ہوئی ہے ان کی مصروفیات اور بڑھ گئی ہیں اس لیے کہ وہ اس کونسل کے نہایت اہم رکن ہیں وہ کونسل کے اجتماعات میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہیں پورا ملک جانتاہے کہ وہ دعوت جہاد کے علمبردارہیں وہ اللہ کے رسول (فداہ امی وابیؒ) کے اس فرمان پر عمل پیراہیںکہ جہاد تا قیامت جاری رہے گا اورجب مسلمان جہاد ترک کردیں گے تو ان پر ذلت ورسوائی مسلط ہوجائے گی۔ پچھلے دنوں دفاع پاکستان کونسل نے ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے چاروں صوبوں میں بڑے بڑے اجتماعات منعقدکیے اگرچہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے ان اجتماعات کو بڑی حدتک نظرانداز کیا لیکن امریکا پاکستان میں ہونے والی سیاسی‘ سماجی اورمذہبی سرگرمیوں پرکڑی نظررکھتاہے وہ دفاع پاکستان کونسل کے اجتماعات کو نظرانداز نہ کرسکا۔ اس نے ارباب اختیارسے مطالبہ کیاکہ دفاع پاکستان کونسل کی سرگرمیوں پرپابندی لگائی جائے اوراس میں شامل کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ہمارے وزیرداخلہ رحمن ملک کو تو امریکاکا اشارہ چاہیے انہوں نے فوراً جہادی تنظیموں کے خلاف بیان داغ دیا۔
    جہاں تک جماعتہ الدعوۃ کا معاملہ ہے تو امریکا اگرچہ اسے کالعدم تنظیموں میں شمارکرتاہے لیکن پاکستان میں اس پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے عدالتیں اسے کلیئرکرچکی ہیں اور وہ قانون کے مطابق اپنی معروف سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اصل میں امریکا اوربھارت کا مخمصہ یہ ہے کہ حافظ محمدسعید جماعت الدعوۃ کے قیام سے پہلے جہادی تنظیم لشکرطیبہ کے امیرتھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کھلم کھلا مجاہدین کشمیرکی مددوحمایت کررہاتھا ہرطرف جہادکشمیر کا غلغلہ تھا‘ پاکستان میں کئی جہادی تنظیمیں سرگرم عمل تھیں جن کے ذریعے پاکستانی نوجوان بھی مقبوضہ کشمیرجاکر اپنے کشمیری بھائیوں کے دوش بدوش جہاد میں حصہ لے رہے تھے۔ ان تنظیموں میں لشکرطیبہ بھی ایک معروف جہادی تنظیم تھی جس کے سربراہ حافظ محمدسعید تھے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکا نے جہاد پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کردیا اور جنرل پرویزمشرف نے بھی امریکا کی اطاعت کرتے ہوئے جہادی تنظیموں پرپابندی لگادی تو لشکرطیبہ بھی اس پابندی کی زدمیں آگئی۔ حافظ محمدسعید نے حالات کا رخ بھانپتے ہوئے جماعت الدعوۃ کے تحت اپنی سرگرمیوں کا رخ موڑدیا۔ وہ جہادکی تو علی الاعلان حمایت کرتے رہے لیکن جماعت الدعوۃ کے پرچم تلے وہ دینی تبلیغی اورفلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے البتہ لشکرطیبہ نے پاکستان میں کالعدم ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں اپنی جہادی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں اور اپنا تنظیمی ڈھانچہ بھی مقبوضہ علاقے میں منتقل کرلیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھی اگرچہ تمام جہادی تنظیمیں کالعدم ہیں لیکن وہ قابض بھارتی فوج کے خلاف اپنی بساط کے مطابق برسرجہادہیں۔ حافظ محمدسعید کا مقبوضہ کشمیرکی جہادی تنظیم لشکرطیبہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بھارت اور امریکا اب بھی انہیں لشکرطیبہ کا سربراہ سمجھتے ہیں۔ ممبئی حملے کا الزام بھی ان پرلگارکھاہے لیکن کوئی ثبوت نہیں ہے کوئی دستاویزی شہادت حافظ صاحب کے خلاف نہیں ہے اس کے باوجود تواترکے ساتھ ان کے خلاف الزام تراشی کی جارہی ہے۔ بھارت نے انہیں نہایت مطلوب افرادکی فہرست میں شامل کررکھاہے ۔وہ حکومت پاکستان سے انہیں حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کرچکاہے۔ اب امریکا نے بھی خود کو اس مطالبے سے ہم آہنگ کرلیاہے۔ امریکاکی جانب سے حافظ سعید کے سرکی کی قیمت لگانے کی خبراخبارات میں چھپی اور الیکٹرانک میڈیا سے نشرہوئی تو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ قیمت حافظ صاحب کے سرکی نہیں بلکہ ان کے خلاف خفیہ معلومات فراہم کرنے کی رکھی گئی ہے۔ ایسی معلومات جن کی بنیادپر ان کے خلاف امریکی یا کسی بیرونی عدالت میں مقدمہ چلایاجاسکے۔
    ہم کہتے ہیں کہ امریکا کو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے وہ کسی ثبوت اور شہادت کے بغیر حافظ صاحب پرمقدمہ چلانے کا اعلان کردے ۔اس نے افغانستان اور عراق کے خلاف جس ننگی جارحیت کا ارتکاب کیاہے اس کے لیے اس نے کہاں سے ثبوت اور شہادتیں جمع کی تھیں اس نے لاکھوں انسانوں کا جو خون بہایا ہے اور بہارہاہے اس کا قانونی جواز اس نے کہاں سے فراہم کیاتھا۔[/size]

    (روزنامہ جسارت)

متشابہہ موضوعات

  1. محمد سعید انور صاحب کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 02-28-2013, 10:33 PM
  2. حکیم محمد سعید ☤
    By ابوسفیان in forum تاریخ اور تاریخی شخصیات
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 01-04-2013, 08:28 PM
  3. سعید بن عامر رضی اللہ عنہ
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 12-12-2012, 07:12 PM
  4. سعیدہ میر
    By سقراط in forum پاکستانی ہیروز
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 06-09-2012, 03:19 AM
  5. سعید فلاحی جی کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 02-21-2012, 04:37 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University