نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: پانی، پیٹرول اور گیس کا متبادل

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    7
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    پانی، پیٹرول اور گیس کا متبادل

    [size=large]آج کل گیس و تیل کا بحران عروج پر ہے جس کے سبب سی این جی اسٹیشنز میں ہفتے میں دو سے تین دن لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ ایندھن کی کمی کے باعث پٹرول پمپس پر بھی پٹرول کی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی این جی اسٹیشنز اور پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ اب تو سی این جی اور پٹرول کی قیمتوں کو بھی آگ لگ گئی ہے۔ مستقبل میںسی این جی لوڈشیڈنگ کی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنے اور سستی توانائی سے گاڑی چلانے کے لئے گیس یا پٹرول کی کمی کو دور کرنے یا پھر کوئی دوسرا متبادل استعمال میں لانے کی ضروری تھی۔ ایسے میں لاہور کے شہری ڈاکٹر غلام سرور نے پانی سے گاڑی چلاکر لوگوں میں سی این جی اور پٹرول کی لوڈشیڈنگ سے بچنے کی ایک امید پیدا کر دی ہے۔ ڈاکٹر سرور کی تیار کردہ واٹر کٹ ٹیکنولوجی کی بدولت گاڑی صرف ڈیڑھ لیٹر پانی سے 40 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ڈاکٹر سرور نے اپنے جہلم (سرائے عالم گیر) میں واقع قائم نیشنل سائنٹفک اینڈ ایجوکیشنل ریسرچ سینٹر میں پانی سے چلنے والی دو گاڑی بنائیں ہیں اور یہ دونوں گاڑیاں 60 فیصد فیول کی بچت کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر سرور نے اس مقصد کے لئے ڈاکٹر سرور نے گاڑی بھی خود ڈیزائن کی ہے جسے ٹویوٹا کرولا موڈل کی کار کو درمیان سے کاٹ کر لی لیموزین کی شکل دی گئی ہے جبکہ اس کے انجن کی طاقت دو ہزار سی سی کے بجائے تین ہزار سی سی کر دی گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سی این جی کے برعکس پانی سے گاڑی چلاتے وقت گاڑی کے انجن کی پاور کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ پیٹرولیم فیول سے حاصل ہونے والی طاقت 19 فیصد جبکہ پانی سے حاصل ہونیو الی طاقت 140 فیصد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو سی این جی کی طرح گاڑی کے انجن پر دباﺅ پڑتا ہے اور نہ گاڑی کا انجن جلد خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ نئی ٹیکنولوجی ماحول دوست بھی ہے کیونکہ گاڑی چلتے وقت کاربن کے بجائے آکسیجن کی بھاری مقدار خارج کرتی ہے یعنی گاڑی جتنی زیادہ چلے گی ماحول میں فضائی آلودگی کی مقدار اتنی ہی کم ہوگی۔

    ڈاکٹر سرور کے مطابق ان کی واٹر کٹ کسی بھی عام گاڑی میں باآسانی لگائی جاسکتی ہے اور ابتدائی طور پر تیار کی جانے والی کٹ کو اگر مقامی طور پر کمرشل بنیادوں پر تیار کیاجائے تو اس مکمل کٹ کی قیمت بمشکل تیس سے چالیس ہزار روپے کے درمیان ہوگی۔ ڈاکٹر سرور نے برطانیہ کی مختلف جامعات سے اکنامی، انجینئرنگ اور ٹرانسپورٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کی ہیں اوروہ ملک کے توانائی بحران کو حل کرنے کے لئے اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور پانی سے چلنے والی گاڑی کی تیاری بھی اسی مقصد کی اہم کڑی ہے۔ ڈاکٹر سرور کے مطابق پانی سے گاڑی کے انجن کو چلانے کے لئے ایک بیٹری کے ذریعے الیکٹرولائٹ کی مدد سے پانی کو توڑاجاتا ہے اور اس میں موجود ہائیڈروجن اور آکسیجن کو علیحدہ کردیاجاتا ہے۔ پانچ سے چھ کلو گرام وزنی کٹ کے ساتھ منسلک پلاسٹک کی ٹینکی میں صرف دو لیٹر پانی ڈالا جاتا ہے جو ایک ہزار کلو میٹر کے بعد بھی حیرت انگیز طور پرصرف ایک چائے کی پیالی کی مقدار کم ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر سرور اپنے قائم کردہ ادارے قائم نیشنل سائنٹفک اینڈ ایجوکیشنل ریسرچ سینٹر میں بلامعاوضہ قوم کے بچوں اور بچیوں کو سائنسی فنون سکھا رہے ہیں۔ پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک میں سی این جی اور پٹرول کی کمی کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لئے گاڑیاں کی پانی سے چلنے والی ٹیکنولوجی اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت صرف سی این جی پر 35 لاکھ کے قریب گاڑیاں چل رہی ہیں جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر گاڑیاں الگ چل رہی ہیں۔ آج سی این جی یا پٹرول نہیں ہے مگر ہم پانی ڈال کر گاڑی چلا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم سی این جی کی طرح تمام گاڑیوں کو پانی پر منتقل کر دیں ، یوں تو ہم پانی کے بحران میں مبتلا ہو جائیں گے۔ پانی کو صرف گھریلو سطح پر استعمال ہونے والی گاڑیوں کے لئے مخصوص کر دیا جائے اور دیگر کمرشل گاڑیوں میں واٹر کٹس پر پابندی لگا دی جائے۔ اس طرح نہ تو سی این جی یا پٹرول کے شعبے پر بوجھ بڑے گا اور نہ پانی کے مسائل ہوں گے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ پٹرولیم شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری لوگ پانی سے چلنے والی ٹیکنولوجی کو ملک میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس طرح ان کے کاروباری منافع میں کمی آجائے گی جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی ہوگی۔ 1960ء میں جب امریکہ کے کچھ سائنسدانوں نے گاڑی کو پانی پر چلاتے ہوئے فیول کی تین فیصد تک بچت کرڈالی تو آئل کی بڑی کمپنیز کی جانب سے اس نظریے کی مخالفت کی گئی اور اس کو خطرناک قراردیا گیا کیونکہ بقول ان کے اس کٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم تیارکئے جاسکتے ہیں۔ یہ سائنسدان جب اپنی ریسرچ سے باز نہ آئے تو اس ریسرچ پرکام کرنے والے 25 سائنسدانوں کے ایک گروپ کو خاموشی سے موت کی آغوش میں پہنچا دیا گیا۔ اس تمام واقع کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عالمی اور ملکی دونوں سطح پر پانی سے چلنے والی ٹیکنولوجی کا خیرمقدم ہونا ناممکن ہے۔ لیکن اگر عوام چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے، یہ ٹیکنولوجی چاہے عام نہ ہو پر ڈاکٹر سرور جیسے لوگوں سے تربیت لے کر خود بنائی جاسکتی ہے۔ ہمیں اپنا بھلا سوچنا ہے ، ملک میں گیس اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے پٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ اگر یہی حالات رہے تو لوگ گاڑیوں کو چھوڑ کر پیدل چلنے لگیں گے۔
    ڈاکٹر سرور کی بنائی گئی پانی سے گاڑی چلانے کی ٹیکنولوجی سستی ٹیکنولوجی ہے اور اسے ملکی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

    تحریر: سید محمد عابد[/size]

    http://smabid.technologytimes.pk/?p=752

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: پانی، پیٹرول اور گیس کا متبادل

    بہت خوب جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں تو آج سے ہی تمام پٹرول،ڈیزل اور سی این جی سے چلنے والی چیزوں میں پانی ڈال دیتا ہوں اگر کئے کرائے پر پانی نہ پھرا تو ضرور یہ تمام چیزیں بھی بھاگنے دوڑنے لگیں گی۔ :blush:
    بھاپ کی ٹیکنالوجی سب سے اچھی تھی ایسے ہی خوامخواہ پٹرول، ڈیزل وغیرہ کو استعمال کیا جانے لگا۔ بچپن میں میں نے میلے سے ایک چھوٹی سی گاڑی خریدی تھی جس کے آگے رسی باندھ کر اسے بھگایا کرتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ پانی پر چلنے والی کشتی لی جس میں بھاپ والی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی اس میں پانی ڈال کر نیچے سے شعلہ دکھایا جاتا تو وہ پانی پر خودبخود ہی بھاگنے لگتی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ یہ ٹیکنالوجی اپنی اکلوتی گاڑی پر استعمال کروں چنانچہ گاڑی کے نیچے چند پلاسٹک کی گراریاں بنا کر لگائیں اور ایک چھوٹا سا ٹین کا ڈبا پیٹیاں بنانے والے بابا سے بنوا کر لایا اور گاڑی پر لگا دیا اس میں سے ایک چھوٹی سی نالی بڑی والی گراری کے اوپر نکالی تاکہ بھاپ جب اس باریک سی نالی سے پریشر کے ساتھ نکلے تو وہ اس بڑی والی گراری کو گھمائے جو آگے پہیے کے ساتھ لگی چھوٹی گراری کو گھما کر گاڑی میں حرکت پیدا کرے۔ کافی دنوں کی محنت کے بعد جب بنیادی ڈھانچہ مکمل ہو گیا تو پہلا تجربہ کرنے کا سوچا۔ چھوٹی سی ٹینکی میں بھاپ بنائی مگر وہ اتنا پریشر نہ بنا سکی کہ گراری کو گھما سکے کچھ مایوسی ہوئی مگر کوشش جاری رکھی بہت سے تجربات کئے گاڑی کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا مگر گاڑی نہیں چلی۔ ایک دن ایسے ہی خیال آیا کہ آخری کوشش ہی سہی تو چھوٹی ٹینکی میں پانی ڈالنے کے لئے جب پانی لینے گیا تو دیکھا کہ اماں بی کپڑے دھو رہی ہیں اور پانی میں صابن ملا ہوا ہے وہی صابن ملا پانی لا کر ٹینکی میں ڈالا اور شعلہ دکھا کر انتظار کرنے لگا۔ اور پھر خوشی سے اچھل پڑا کیونکہ گاڑی نے حرکت شروع کر دی تھی گو کہ بہت آہستہ سے چل رہی تھی مگر مجھ جیسے نکے سائنسدان کے لئے یہ تجربہ بھی بہت بڑا تھا۔ اور پھر اس تجربے کی وجہ سے میری عزیز و اقارب اور دیگر ہم عمر بچوں میں قدر و منزلت بڑھی اس کا احساس ہی بہت مزے کا تھا۔:blush:
    ایسے نکے موٹے تجربات تو میں ایسے ہی کرتا رہتا تھا مگر اب شئیر کروں گا تو آپ لوگ بھی سائنسدان بن جائیں گے اس لئے مٹی پاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواب دیکھو اور سائنسدان بنو

متشابہہ موضوعات

  1. یہ چُبھن اکیلے پن کی، یہ لگن اداس شب سے
    By این اے ناصر in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 05-10-2012, 01:57 PM
  2. وہ بولی، دل کو کوئی بے یقینی ہے محبت میں
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-13-2012, 06:41 PM
  3. اجنبی پیٹروں کے سائے میں محبت ہے بہت
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-13-2012, 04:07 PM
  4. ایک جگنو ہی سہی،
    By سیما in forum شعر و شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 06-17-2011, 09:57 AM
  5. پی این ایس نیول بیس پر حملہ
    By بےباک in forum آج کی خبر
    جوابات: 9
    آخری پيغام: 05-29-2011, 08:20 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University